غنیمِ شب نے اگر کچھ بچا دیا ہوتا
فریب گاہِ سحر پہ لٹا دیا ہوتا
تیری طرح سے اگر شوقِ رنگ و بو رکھتے
تیری قسم تجھے دِل سے بھلا دیا ہوتا
ساحل منیر

غنیمِ شب نے اگر کچھ بچا دیا ہوتا
فریب گاہِ سحر پہ لٹا دیا ہوتا
تیری طرح سے اگر شوقِ رنگ و بو رکھتے
تیری قسم تجھے دِل سے بھلا دیا ہوتا
ساحل منیر
Start typing to search...
