
تحریر: اصغر علی جاوید کامریڈ
ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ 3 اکتوبر 2016 کو اپنی تمام تر رنگینیوں ،ہنگامہ خیزیوں اور ٹیموں کی معرکہ آرائی کے بعد ایک نئے ریکارڈ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا اور بہت سی تلخ و شیریں یادیں شائقین کرکٹ کے لئے چھوڑ گیاویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد فائنل میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کر لی 2016 میں ویسٹ نذیز کی ٹیم پرقسمت کی دیوی مہربان رہی اس نے چار ماہ کے دوران آئی سی سی کے تین بڑے ایونٹ جیت کر کامیابیوں کی ہیٹرک مکمل کر لی ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ جیت کر ایک ریکارڈ قائم کردیا یہ دن ویسٹ انڈیز کی جیت کا دن تھا اسی روزویمنزکرکٹ ٹیم نے بھی آسٹریلا کی کرکٹ ٹیم کو شکست دیکر کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔
ویسٹ انڈیز مین اور وویمنزکرکٹ ٹیموں نے ایک ہی روز کرکٹ کے دو ورلڈ کپ جیت کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے 2016 ویسٹ انڈیز کی کامیابیوں کا سال ہے ویسٹ انڈیز کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے فائنل میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا تیسری مرتبہ ورلڈ کپ فائنل جیتنے کا خواب چکنا چور کردیا اس میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دو ماہ قبل ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے بھارت کی ٹیم کو فائنل میں ہراکر انڈر 19 ورلڈ کپ کافائنل جیت لیا تھا یوں فتح کی دیوی ویسٹ انڈیز پر مہربان نظر آتی ہے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 155 رنز بناسکی اس میں روٹ کے 54 بٹلر 36 اور ویلی کے 21 رنز قابل ذکر ہیںاس کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے مقررہ ہدف 19.4 اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز بناکر فائنل اپنے نام کرلیا۔

ویسٹ ایڈیز کی ٹیم کو آخری اوورز میں جیتنے کے لئے 19 رنز درکار تھے انگلینڈ کی ٹیم جیت کے قریب تھی اور اس کے کھلاڑی جیت کا جشن منانے کے لئے تیار تھے لیکن کہتے ہیں کہ کرکٹ اتفاقات کا کھیل ہے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے وہ کر دکھایا جو ناممکن تھا شیر کے منہ سے نوالہ چھیننے والی مثال قائم کردی آخری اوورز میں 19 رنز بنانے کے لئے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی برائتھ وائٹ کریز پر تھے اور انگلینڈ کی طرف سے بائولر بین سٹوکس آخری اوور کرنے کے لئے آئے تو پھر ویسٹ انڈیز کے بلے باز برائتھ وائٹ نے اس کی چار گیندوں پر مسلسل چھکے لگاکر ناممکن کوممکن کر دکھایا انگلش ٹیم کے بائولر بین سٹوکس چار گیندوں پر مسلسل چھکے کھانے کے بعد وکٹ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے تو اس کے ساتھیوں نے اس کو تسلی دیکر اٹھایا برائتھ وائٹ مسلسل چار گیندوں پر چھکے لگانے والے پہلے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی بن گئے۔
کرکٹ کی تاریخ میں کوئی بھی ٹیم ایک سال میں تین آئی سی سی ٹورنامنٹ نہیں جیت سکی یہ منفرد ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے حصے میں آیا ہے اس کے علاوہ ایک اور ریکارڈ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے بنایا ہے انگلینڈ کی ٹیم تین مرتبہ آئی سی سی ایونٹ میں ویسٹ انڈیز کے مد مقابل آئی تینوں مرتبہ اس کو شکست کا سامنا کر نا پڑا ورلڈ کپ 1979 میں چیمپئینز ٹرافی 2004 اور ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی ، 2016 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ساتھ تنازعات میں الجھنے کے باوجود آئی سی سی کے تین بڑے ٹورنامنٹ کو جیت لیا ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ساتھ تنازعات کے باعث کئی سینئرز کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کردیا گیا اس کے باوجود ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کی کارکردگی قابل تحسین ہے جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی کرکٹ بورڈ کنٹریکٹ اور مراعات حاصل کرنے کے باوجود ایشاکپ اورٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ میںعوامی خواہشات کے مطابق کارکردگی نہ دے سکے جوکہ کسی بھی کے عہدے داروں اور کھلاڑیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

تحریر: اصغر علی جاوید کامریڈ
