Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مغرب کے ”بھاڑے ” پر پلنے والی این جی اوز کے گماشتے

March 2, 2015 0 1 min read
Save the Children
Save the Children
Save the Children

تحریر : نعمان قادر مصطفائی
اسلام آباد میں 13 سے زائد این جی اوز کے بارے میں حساس اداروں کی رپورٹ کے بعد پہلے مر حلے میں پابندی عائد کی جائے گی غیر قانونی اور ملک دشمن سر گر میوں میں ملوث این جی اوز کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے ان ملک دشمن این جی اوز میں سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل، پارٹنر ایڈ انٹرنیشنل، (پی اے آئی) سیو دی چلڈرن، یو ایس اے، کیتھولک ریلیف سروسز، آنسفیم گلگت بلتستان و دیگر شامل ہیں۔

بد قسمتی سے ہماری سیاسی قیادت ہر فرنٹ پر فیل ہو رہی ہے اپنی نالائقی کو چھپانے کے لیے وہ ہر مہم پر فوج کو سامنے لا کر خود اس کے پیچھے چھپ جااتی ہے زلزلہ ہو یا سیلاب ، پولیو ہو یا مردم شماری ، الیکشن ہو یا دہشت گردی ، امن ہو یا ایمر جنسی اقدام اگر تو یہ تمام کام فوج نے کرنے ہیں تو پھر سیاسی حکومتیں اور قیادتیں کیا کرنے جا رہی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ فوج کے بغیر ہمارے حکمران کسی کام کو سلیقے سے کرنے کے اہل نہیں رہے ، موجودہ حکومت ہی کو دیکھئے ۔۔۔اس پارلیمان نے آج تک کتنی قانون سازی کی ہے ۔۔۔۔؟اسمبلی ممبران صرف اور صرف اپنے مراعات بڑھانے اور سیاسی دائو پیچ کرنے میںاور سینٹ الیکشن میں ممبران کی خریدو فروخت میں وقت گزاری کر رہے ہیں دوسری طرف ملک کے اندر سول سوسائٹی (این جی اوز)کے نام سے ایسے کردار موجود ہیں جن کا سیاسی فرنٹ اور میڈیا چینلز پر پورا قبضہ ہے اگرچہ یہ نہایت قلیل اقلیت ہے تاہم وہ اپنے سیکولر اور بے خدا نظریات کی بدولت پورے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کر رہے ہیں یہ طبقہ مسلح افواج کو بھی بد نام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا آدمی حیران رہ جاتا ہے ایک طرف ہمارے سیاستدان فوج کو ہر گند میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف نام کی یہ ”سول سو سائٹی ”فوج پر سول اداروں میں مداخلت کا پروپیگنڈہ کر رہی ہے آپ ذرا وائس آف امریکہ کے ریڈیو چینلز پشتو کا ”ڈیوا ریڈیو ”اور اُردو پرو گرام ”ان دی نیوز ”چند دن باقاعدگی سے سنیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہاں سے ایک منظم طریقہ سے نظریہ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف ”مہمان شرکاء ”کے انٹرویوز اور سوال و جواب کے ذریعے با قاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے یہاں سے علاقائیت ، نسل پرستی ، صوبائیت اور بعض قومیتوں کے حقوق کے نام پرپا کستان کے اتحاد اور اس کے بنیادی نظریے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے ان چینلز پر اکثر ایسے لوگوں کو بطور ”مہمان ”بلایا جاتا ہے جو نظریاتی طور پر پاکستان کے خلاف ہوں (الا ما شا ء اللہ ) کچھ عرصہ پہلے ہماری ضلعی حکومت (لیہ )نے بھی مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والی اسلام دشمن اور ملک دشمن این جی اوز پر پا بندی عائد کر کے ایک تاریخی کا ر نامہ سر انجام دیا تھا مگر وہی ہوا جو 67سال سے اس قوم کے ساتھ اس دھرتی پر ہوتا آیا ہے بس ایک ”فون کال ” پھر کیا پابندی اُٹھا لی گئی !ضلع لیہ کے اِن بونے اورمغرب کی ”ذہنی غلام ” این جی اوز کے نمائندگان نے ضلع لیہ کی غریب عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور ہمیشہ اپنی خالی تجوریوں کو بھرا ہے ضلع لیہ کے یہ لُٹیرے این جی اوز کے نمائندگان ڈینگی مچھر سے بھی زیادہ خطر ناک ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی شعوری سپرے کے ذریعے اِن مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والے اسلام دشمن اور وطن دشمن” مچھروں” کا خاتمہ بہت ضروری ہے اگر ڈینگی نما مچھروں اور مگر مچھوں کا صفایا نہ کیا گیا تو یہ ہر دور میں اپنی اسلام دشمنی ،وطن دشمنی اور کرپشن کا ڈنگ غریب عوام کو مارتے ہی رہیں گے جس کی مثال مغرب کی ایک لے پالک این جی او ہے جس نے ضلع لیہ کی تعمیر و ترقی کے لیے اربوں روپے کی گرانٹ وصول کی مگر وہ ساری گرانٹ دوبئی اور پاکستان کے مختلف بینکوں میں ان کے ذاتی اکائونٹس میں جمع ہے اور آج تک قوم کو اس کا حساب نہیں دیا گیا قوم ان لُٹیرے نمائندگان سے عوامی گرانٹ کا حساب مانگتی ہے کہ وہ اربوں روپے کہاں اور کس مد میں خرچ کیے گئے ہیں؟۔

آئے روزاپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر پر سیمینارز کا انعقاد کر کے اسلام کے آئیڈیاز اور تصورات کی غلط انداز میں تشریح کرنا اِن مغربی لے پالکوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اور ضلع لیہ کے گوٹھوں ، قصبوں ، دیہاتوں حتیٰ کہ شہروں میں بھوک و مفلسی کا راج ہے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ نہایت ہی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور گزشتہ سے پیوستہ سیلاب نے تو ضلع لیہ کے قصبات اور دیہاتوں کی حالت ہی بدل کے رکھ دی تھی سیلاب کے دوران ہی مغرب کے راتب پر پلنے والے یہ اسلام دشمن ایجنٹ اپنے چہرے پر ”ہمدردی ” کا لیپ چڑھا کر میدان میں آگئے اور غریب و سادہ لوح عوام کے نام پر اپنے مغربی ”باسز” سے اِن سادہ لوح سیلاب زد گان دیہاتیوں کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے اور آج تک ان کا کوئی حساب نہیں ہے بھوک اور مفلسی کے مارے اِن غریبوں کے لیے تو کچھ بھی نہیں کیا یہ لوگ آج بھی کسی جینوئن مسیحا کی راہ تک رہے ہیں اور ضلع لیہ میں ہزاروں ایسے گھرانے ہیں جن میں بچیاں ”بابل ”کی دہلیز سے” پیا ”تک کی دہلیز کا سفر طے کرنے کی منتظر ہیں اور اِن کے سروں میں چاندی اُتر آئی ہے اور وہ دل ہی دل میں سہاگن بننے کی خواہش لیے ہر لمحہ یوں تڑپتی رہتی ہیں بقول ساحر لدھیانوی
مِلیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بُنتی ہیں۔

کہ دُخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
چمن کو اس لیے مالی نے خون سے سینچا تھا
کہ اِس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں

مگر آج تک کسی عوامی ڈویلپمنٹ کے منصوبوں پر کام کرنے والی این جی اوز ودیگر ویلفیئر سوسائٹیز کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اِن گھرانوں سے رابطہ کرکے اِن کی بچیوں کے لیے جہیز کا بندوبست کیا جا سکے تاکہ وہ با عزت طریقے سے اپنے ”پیا ” کی سہاگن بن کر خوش وخرم زندگی گزار سکیں مگر اِن کا تو سارا زور اور” فوکس ”بس نکاح ، طلاق اور نکاح خواں پر ہی صرف ہو رہاہے اور آئے روز اسلامی قوانین کے پیچھے مغربی لَٹھ لے کر اپنے باسز کی خواہشات کو عملی جامہ پہنا نے کے لیے سر گرداں ہیں ، کبھی تو ”خواتین کے عالمی ” دن کے موقع پراپنی جہالت کی بنیاد پر شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ ”اسلام میں مرد و عورت کا رتبہ برابر ہے ”اور کبھی بہادر کیمپس میں سوشیالوجی کے پیریڈ میں نام نہاد لیکچرار ”پردہ ” کے خلاف خرافات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اُنہیں نہ تو کچھ دِکھا ئی دے رہا ہے اور نہ ہی اُنہیں کچھ سُجھائی دے رہا ہے اِن مغربی ایجنٹوں نے اپنے کا نوں پر کاگ اور آنکھوں پر بے حسی ، بے غیرتی و بے شرمی کی پٹی باندھی ہوئی ہے ، کیا ضلع لیہ سے بھوک و مفلسی ، بے روز گاری ، جہالت ، عدم تحفظ کا خاتمہ ہو گیا ہے ؟ لوگ خوش حالی کی زندگی بسر کرنے لگے ہیں ؟ہر گھر میں چہل پہل ہو گئی ہے ؟سوچنے والی بات ہے کہ اِن این جی اوز کو سوائے طلاق و نکاح کے کوئی اور مسئلہ نظر ہی نہیں آرہا ہے، اِن مغربی این جی اوز کے بھاڑے پر گزر بسر کرنے والے ”نمائندگان ” کے بینک بیلنس بھی چیک کیے جائیں کہ اِن کے پاس این جی اوز میں شامل ہونے سے پہلے کتنے اثاثے تھے اور اب یہ کتنے اثاثوں کے مالک ہیں ؟اگر اِن کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹوٹی پھوٹی سائیکل پر سفر کرنے والے آج ٹوڈی گا ڑیوں کے مالک ہیں اور کروڑوں کی جائیداد اِن کی ملکیت میں ہے آخر یہ سارا پیسہ کہاں سے آیا ہے اور اس کے ذرائع کیا ہیں ؟کبھی کسی نے بھی اس طرف دھیان نہیں دیا ،جن ویلفیئر سو سائٹیز نے ضلع لیہ میں حقیقی معنوں میں کام کیا ہے اور سیلاب زدگان کی امداد کی ہے اُ ن میں منہاج ویلفیئر سو سائٹی، اُمید ویلفیئر ٹرسٹ، الخدمت فائونڈیشن سرِ فہرست ہیں جنہوں نے ضلع لیہ کی سسکتی ، بلکتی اور تڑپتی عوام کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے اور اسلام کے اصلی حُسن خدمت خلق کے جذبے کو اُجاگر کیا ہے ضلع لیہ کی عوام اب شعور کی منازل طے کر رہی ہے اور آہستہ آہستہ اِن لُٹیرے اور وڈیرے ناسوروں کو پہچان رہی ہے جنہوں نے غریب عوام کی خو شیوں کو لوٹا ہے اور اب غریب عوام اِن لُٹیروں کا احتساب کرے گی اور لُوٹی گئی رقم کا حساب طلب کرے گی سُننے میں آیا ہے کہ ایک ٹرسٹ بہت جلد اِن لُٹیروں سے نجات کے لیے ایک ڈاکو منٹری کے ذریعے ”شعوری مہم ” کا آغاز کر رہا ہے جس میں اِن ملک دشمن ایجنٹوں کے بھیانک چہروں کو عوام کے سامنے لا یا جائے گا جنہوں نے عوام کا پیسہ لُوٹ کر اپنے ذاتی بینک بیلنس میں اضافہ کیا ہے۔

Women
Women

فرانس میں تو سنا تھا کہ حجاب کے حوالے سے پابندی کا بل پیش ہوا تھا اور فرانس نے حجاب پر پابندی کا بل منظور کرکے اپنے خبث باطن اور تعصب کا مظاہرہ کیا تھامگر کیا خبر تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی کچھ گماشتے ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ماڈریٹ ،اپ ٹو ڈیٹ اور لبرل ثابت کرنے کے لیے اسلامی شعائر کا مذاق اُڑانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں حالانکہ حجاب ہمارے اسلامی کلچر کا لازمی جزو ہے پاکستان میں ہر مذاہب کے ماننے والوں کواپنے کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے مگر اسلامی اقدار سے اظہارِ نفرت کیوں ؟ فرانس میں حجاب پر پابندی دراصل مسلمان بچیوں کے لیے حصول ِ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف تھافرانس میں نئے قا نون کے تحت عوامی مقامات اور عدا لتوں میں چہرہ چھپانے پر پا بندی لگا ئی گئی ہے ایسا کرنے والی کسی بھی عورت کو پو لیس اسٹیشن بلا کر نقاب اُتارنے کو کہا جائے گا حکم عدولی پر ڈیڑھ سو یو رو جر مانہ کیا جائے گااس موقع پر مقامی مسلمانوں نے نئے قا نون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا مسلم خواتین کا موقف تھاکہ وہ نقاب پہن کر اپنا کام جاری رکھیں گی فرانس میں 2ہزار سے زائد خواتین برقع پہنتی ہیں فرانس چہرے پر نقاب پر پابندی پر عمل کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا حجاب پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ فرانس میں اس وقت 60لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں وہ یہاں سب سے بڑی اقلیت ہیں فرانس کی حکومت کو اقلیت کا احترام کر نا چاہیے تھاپا کستان دنیا میں واحد ملک ہے جہاں اقلیت محفوظ ہے اور اُن کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے ہم نے آج تک احتجاج نہیں کیا کہ اقلیتیں مسلمانوں والا لباس استعمال کریں حتیٰ کہ گرجا گھروں میں اپنے مذہب کے مطا بق عبادت کرنے والی نن ز اور رہبائیں بھی آزاد ہیں کہ وہ اپنے مذہبی لباس میں عبادت کریں ،سکھ اپنے لباس میں اور ہندو اپنے لباس اور کلچر کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ہماری طرف سے کبھی بھی تعصب کا اظہار نہیں کیا گیا جس طرح زمانہ جاہلیت میں عورت کی مظلوم ذات ذلت اور بے بسی کا شکار تھی،عزت و توقیر کا کوئی لفظ اس کے لیے وضع نہیں ہواتھا۔ابن آدم کی ہوس کا نشانہ بننے والی یہ صنف نازک مجروح جسم اور تارتار دامان عصمت کے ساتھ اپنی عزت و ناموس اور حقوق کے لیے سر گر داں تھی ۔آفتاب رسالت ۖجلوہ گر ہوا تو اس کی تابناک کرنوں نے نجاست و غلاظت سے لتھڑی ہوئی نسوانیت کو ماں، بہن،بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے شرف و وقار کے دیدہ زیب تاج پہنائے،اسلام نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں کا احتساب و مواخذہ کیا وہاں عورت کے حقوق و فرائض بھی متعین کیے۔اس کے ساتھ ساتھ کچھ احکامات میں عورت کو بھی پابند کیا گیا جن میں سے ایک پردہ ہے۔

قرآن مجید میں ارشادربّانی ہے!”اے نبی ۖ !آپ اپنی بیویوں،صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرمادیجئے کہ(جب باہر نکلا کریں تو) اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ امر ان کے لیے موجب شناخت و (امتیاز )ہو گا تو کو ئی ان کو ایذا نہ دے گا اللہ تعالیٰ عزوجل بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے”(الاحزاب۔59) مگر افسوس کہ آج دخترانِ اسلام حکمِ ربانی کو فراموش کر چکی ہیںمکینِ گنبدِ خضرٰی ۖکی آفاقی تعلیمات کو چھوڑ کر مغرب کے بنائے ہوئے قوانین میں تلاشِ سکون کے لیے سر گرداںہیں۔یورپ کی اندھی تقلید میںپردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ہندو کلچر کی دلدادہ ہو کر اسلامی روایات سے ناطہ توڑ رہی ہیں۔آزادی نسواں کے نام پر چراغِ خانہ کی بجائے شمع ِمحفل بننے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی زمانے کی نظر آج وہ رونق ِ با زار نظر آتے ہیں اندیشہ ہے کہ عریانی،فحاشی، بے حیائی،نام نہاد روشن خیالی اور بے پردگی کا یہ سیل رواں ہماری پہچان ، ہمارا تشخص ، ہماری حمیت ، ہماری غیرتِ ملی اور ہماری متاع ِایمانی کو بہا کر نہ لے جائے۔ مغرب کا ”تھنک ٹینک ”الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے عورت کی عصمت و پاکیزگی کو تار تار کر نے میں مصروف عمل ہے اور حجاب کی اہمیت و افادیت اور شناخت کے خاتمہ کے لیے اپنے تمام تر مادی ذرائع بروئے کار لا رہا ہے اور مختلف ممالک میں حجاب پر پابندی کے بل منظور کرانے میں سر گرم عمل ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں میں شرم و حیاء کے فروغ اور اہل مغرب کی گھنائونی سازش کو بے نقاب کر نے کے لیے آفاقی پیغام انقلابی کتاب قرآن مجید کی روشنی میں عوام الناس تک پہنچا یا جائے۔

مملکت خداداد میں اسلام کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق شرم و حیاء کے فروغ کے لیے جدوجہد کر نا ہے جس کے لیے مندرجہ ذیل اغراض و مقا صد رکھے جائیں تو بہتر ہو گا اور مثبت نتائج نکل سکتے ہیں مسلمان خواتین کو یہود و ہنود کی تہذیب سے بچا کر مصطفوی تہذیب کے سانچے میں ڈھالنا چاہیے، ان کو قرآن و سنت کے مطابق پردے کی ترغیب دلانا اور چادر اوڑھنے کے لیے چارہ جوئی کرنا،معاشرے میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اور بے راہ روی کو روکنے کے لیے عملی جدوجہد کرنا، مرد حضرات میںنہ صرف بے پردگی کے خلاف عزت و غیرت کے جذبے کو ابھارنا بلکہ خواتین کی عزت و احترام کا بھی جذبہ بیدار کرنا،خواتین میں خود اپنی پاسداری کی حفاظت کا جذبہ پیدا کرنا اور شرم و حیاء اپنانے کے جذ بے کوپروان چڑھانا، دینی اجتماعات میں چادر یں تقسیم کر کے ہر طبقہ کی خواتین کو دین کی جانب رغبت دلانا اور انہیں دین کی طرف سے دیئے گئے تحفظ کااحساس دلانا دینی اجتماعات میں خواتین و حضرات کے باہمی حقوق و فرائض کو بیان کرنا،گھریلو ناچاقیو ں، شبہات ، شکوہ جات کے ماحول کو شیر و شکر کے ماحول میں تبدیل کرنے کے لئے ذہن سازی کرنا،قانونی طور پر ملکی سطح پر سکارف کو لازم قرار دلوانے کی کوشش کرنا،عالمی سطح پر پردے کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کا ہر فورم پر نہ صرف دفاع کرنا بلکہ اس کا مؤ ثر جواب دینا،گھروں کے ماحول کو اسلامی ماحول میں تبدیل کرنا اورحصول برکات کے لیے لازم قرار دیں کہ گھروں میں روزانہ بعد نماز مغرب صرف آدھا گھنٹہ ٹی وی آف کر کے گھر کے تمام افراد با وضو ہو کر 313با ررسولِ رحمت ۖ کی بار گاہ اقدس میں درودو سلام کا نذرانہ پیش کریں ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور رسول رحمت ۖ کی نگا ہ ِ کریمی سے تمام قسم کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا خاتمہ ہو جائے گا ،اولاد کو والدین کی فر مانبرداری ، احترام ، ادب اور خدمت کا درس دینا ،نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ”ترکِ منشیات تحریک ” کا آغاز شامل ہے اگر ہر فرد انفرادی سطح پر ان نکات پر کام شروع کر دے تو فحاشی و عریانی کا خاتمہ ہو سکتا ہے ،ملوکیت کے پیکر میں ڈھلے حکمرانوں کو ان کے ایوانوں سے جاری کی گئی رسوم ِ بد سے روکنا اور بڑھتے ہوئے گندگی و غلاظت کے سیلاب کا رخ موڑنے کے لیے دو قومی نظریے کا پر چارک ضروری ہے اور دو قومی نظریے کی بنیاد حضرت امام ربانی ،شیر یزدانی ،واقف ِ رموز ِ آیاتِ قرآنی ، قندیلِ نورانی ،محبوب ِ حقانی ،دو قومی نظریہ کے بانی حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی فا روقی ما تریدی رضی اللہ عنہ ہی نے رکھی تھی جس کی دعوت پر برِ صغیر کا مسلمان متحرک ،خوابِ غفلت سے بیدار اور بر سرِ پیکار ہوایہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کی متبرک تحریک ہی کے اثرات تھے جو 1857ء میں جنگ آزادی 1930ء میں مطالبہ پاکستان اور 1947ء میں مملکت خداداد پاکستان کی صورت میں نمودار ہوئے اور نہ صرف مسلما نانِ ہند کو ایک با وقار قوم کی حیثیت دے گئے بلکہ خود حضرت مجدد الف ثانی کے لیے بھی حیاتِ جاودانی کا سبب بن گئے ،آج اس مملکت کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے جہاں مذہبی تفرقہ بازی اور مسلمانوں کے در میان اختلاف کی خلیج وسیع کرنے کے لیے غیر مسلم طاقتیں اپنے باطل کا جال پھیلا رہی ہیں وہاں پر مسلمانوں کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی سوچ کو با قاعدہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا بھی جا رہا ہے الہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی کے افکار و نظریات کی روشنی میں ایک منظم تحریک بپا کی جائے تاکہ دیارِ اغیارسے برآمدہ کلچر کو دیس نکالا دیا جا سکے اور نوجوان نسل کو مغربی ثقافت سے بچا کر سیرت مصطفوی ۖ کے سانچے میں ڈھالا جائے اور قوم کی مائوں کی گودکو سیرت فاطمتہ الزہرہ کا گہوارہ بنایا جائے تاکہ اس کی گود سے حسینی افکار کے محافظ ، حضرت مجدد الف ثانی کی پاکیزہ سوچ کے وارث اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی گفتار و کردار کے پہریدار جنم لے سکیںجہاں آپ کو جگہ جگہ فحاشی و عریانی کے اڈے نظر آئیں ،مغربی تہذیب سانپ کی طرح پھن پھیلائے معصوم انسانیت کو ہڑپ کرنے کے لیے بے تاب ہو،غلاظت میں لتھڑے اور کثافت سے بھر پور ایسے تعفن زدہ ماحول میں چادر اور چار دیواری کی بات کرنابہت ہی کمال اور جرات کا کام ہے اور یقیناایسی آفاقی فکر کے پیچھے گنبد خضراء ۖ کے مکیں کی تائید و نصرت کا حاصل ہو نا لازمی امر ہے کیو نکہ حضور نبی کریم ۖ کی شفقت و تائید کے بغیر اتنا بڑا منصوبہ پا یہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا ،اس وقت امت مسلمہ کو ہنود و یہود نے ہر جہت سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور کوئی بھی میدان ایسا نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنا گھنائونا کھیل نہ کھیلا ہو، شاطر اور مکار کھلاڑی امت مسلمہ کو چاروں شانے چت گرانے کے چکر میں سر گر داں ہیں یہ سب کچھ امت مسلمہ کے پاس تعلیم یافتہ ،بہادر ،نڈر ،باشعور ،گنبد خضراء کو اپنا محور و مرکز سمجھنے والی با اصول اور با حیاء قیادت کے نا پیدہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے آج کا نوجوان کنفیوزڈ ہے ،فرسٹریشن کا شکار ہے اس کے سامنے کوئی واضع منزل نہیں ہے نہ تو سیاسی جماعتوں نے آنے والی نو جوان نسل کے لیے کچھ کیا نہ ہی مذہبی تحریکوں نے اس کو گا ئیڈ لائن مہیا کی ،سیاسی جماعتوں کی بونی قیادتوںنے ہمیشہ اپنی عوام کے ساتھ انہونی شطرنج کا کھیل کھیلا کچھ اس سے ملتی جلتی رام کہانی سماجی تنظیموں کی ہے انہوں نے بھی فارن پیڈ اور فارن میڈ ایجنڈے پر کام کیا ، مغرب نے پری پلان سازش کر کے امت واحدہ کے تصورکا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ہے کبھی تو وہ قرآن کی آفاقی اور عا لمگیر تعلیمات میںاپنی مرضی کی تحریف کر کے ,,الفرقان،، نامی کتاب کا پلندہ مارکیٹ میں لے آتاہے اور کسی وقت رسولِ رحمت ،پیغمبر انسانیت حضور نبی کریم ۖ کی پا کیزہ شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تے ہوئے آقا کریم ۖ کے نعوذ با اللہ خاکے بنا کر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل چا ہتا ہے جب مغرب کے تھنک ٹینک نے یہ محسوس کیا کہ وہ ان دونوں شیطانی محاذوں پر نا کام ہو چکا ہے کیو نکہ قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ خود رب ذوالجلال نے اٹھا یا ہوا ہے ,,انا نحن نذلنا الذکر و انا لہ لحفظون،، اور اپنے پیارے محبوب حضور نبی کریم ۖکی شان میں کسی جگہ ا رشاد فرمایا ,,واللہ یعصمک من الناّس ،، اور کہیں فر مایا ,,ورفعنا لک ذکرک ،،اور اب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کی اولین درس گاہ ,,ماں کی گود ،،کو مغربی تعلیمات کے سانچے میں ڈھا ل کر اور اس کے سر سے عصمت و پا کیزگی کی چادر اتار کر اسے سر با زار رسوا کرنے اور گھر سے برہنہ نکال کرتماشائی بنا نا چاہتا ہے یہود و ہنود کے ٹکڑوں پر پلنے والے حاشیہ نشین ممالک نے با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے سکولوں ،کالجزاور یو نیورسٹیزمیں مسلمان بچیوں کے سکارف پہننے پر پا بندی عائد کر دی ہے ا ور فرانس جیسے ملک میں تو جہاں مسلمانوں کی خاصی اکثریت ہے اور ہر سال اللہ پاک کے فضل و کرم سے 20ہزار لوگ مسلمان ہو رہے ہیں وہاں سکارف اوڑھنا ایک جرم ڈیکلیئر کر دیا گیا ہے حالانکہ پردہ ایک مسلمان ماں ،بہن اور بیٹی کے لیے عصمت و طہارت کی علامت ہے بلکہ اب تو میڈیکل سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ پردہ اور حجاب اوڑھنے والی خواتین بہت سی خطرناک قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں اور اسی چیزکی افادیت کو دیکھتے ہوئے مغرب کے ماحول میں پر ورش پانے والی کثیر تعداد میں خواتین دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی ہیںکیو نکہ اسلام اور بانی اسلام حضور نبی کریم ۖ کی ہر بات میں حکمت و دانائی کے پھول اور افادیت کے موتی ملیں گے ،چادر اوڑھ تحریک نے قوم کی مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کے سروں پر عصمت و طہارت کی چادر اوڑھا کر ثابت کر دیا ہے کہ ابھی بھی اس دھرتی پر ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی مائوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ممی ڈیڈی این جی اوز لاکھ کوششیں کرتی پھریں مگر جنہوں نے بازار مصطفیٰۖ میں اپنا سودا کر لیا ہے دنیا کے کسی اور بازار میں ان کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔

Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

کچھ عرصہ پہلے اچانک اخبار کے صفحہ اول پر ایک تصویر نظر سے گزری جس کو دیکھ کر راقم پہلے تو چونک اُٹھا تھامگر جب حکمرانوں کی تاریخ پر نظر دوڑائی تو یہ معمول کی کاررروائی نظر آئی جس میں سابق وزیر خارجہ حناربانی کھر بڑے تپاک سے فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملا رہی ہیں اور ساتھ ہمارے سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی پھیکا پھیکا مسکرا رہے تھے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سابق وزیر حنا ربانی کھر کا فرانس کے دورہ میں فرانسیسی صدر سے ہاتھ ملانا اُمت مسلمہ کی غیرت کو مٹی میں ملانے کے مترادف ہے اس موقع پر حضرت غوث الاعظم کی اولاد ہونے کے دعویدار جناب ِ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مسکرانا اس بات کی دلیل تھا کہ ہمیں اپنی اسلامی اقدار کا کوئی احترام نہیں ہے اور ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ایسی ہی صورتحال کے پیش نظر نباض ِ اُمت ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ ہیں مسلمان جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ہما رے ”سُوٹڈ بُوٹڈ ”حکمرانوں کو ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ فرانس کے صدرسر کولیزی سے اسلامی اقدار بالخصوص حجاب پر پابندی کے حوالے سے خالی خولی احتجاج ہی کر سکیں ،احتجاج کیسے کرتے اور کس منہ سے کرتے ؟ جنہوں نے ہمیشہ غیروں کے ٹکڑوں پر اپنی زندگی کی سانسیں باقی رکھی ہوں اُن کی غیرت اور اسلامی حمیت کب سلامت رہتی ہے ؟وہ اور تھے جنہوں نے یورپ کی سرزمین میں ببانگ ِ دہل کہا تھا کہ

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش ِ فرہنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ میں خاک ِ مدینہ و نجف

گزشتہ دنوںکراچی یونیورسٹی کی ایک دردِ دل رکھنے والی ، اسلامی اقدار کی محافظ ،حجاب کی پابندی کرنے والی اور اسلامی شعائر کی ترویج کرنے والی محب ِ وطن بیٹی نے ملک کے مقتدر کالم نگاروں ،دانشوروں اور مشائخ عظام کو ایک خط لکھا جس میں اُس باحیا اور باوقار بیٹی نے امت مسلمہ بالخصوص پاکستانی حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ” ا سلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جس شدت سے بے حیائی اور مغربی ثقافت کو فروغ دیا جا رہاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ کراچی یو نیورسٹی کی طالبات کو کلاس رومز میں ڈانس پر مجبور کرنے اور دورانِ انٹرویو ز چہرے سے زبر دستی نقاب اُتارنے کو کہا جا رہا ہے اور ساتھ دھمکی بھی دی جارہی ہے کہ اگر نقاب نہ اُتارا تو نمبرز کاٹ لیے جائیں گے کیونکہ اس سے چہرے کے ایکسپریشنز صاف ظاہر نہیں ہو رہے اور طلبہ سے پوچھے گئے سوالات میں یہ بھی سوال شامل ہو تا ہے کہ” آپ کی کتنی گرل فرینڈز ہیں ؟”اور آپ نے داڑھی کیوں رکھی ہوئی ہے ؟آپ پانچ وقت کی نماز کیوں پڑھتے ہیں ، کیا اس سے آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوتا ؟وغیرہ وغیرہ ،دردِ دل رکھنے اور اسلامی شعائر کی پابند میری بیٹی نے اس موقع پر انٹرویو لینے والے کو کہا کہ بے شک آپ میرے نمبر کاٹ لیں مجھے اپنے تعلیمی ادارے میں داخلہ نہ دیں مگر میں چہرے سے نقاب کبھی بھی نہیں اُتاروں گی ہم فرانس اور بلجیئم کو روتے ہیں ہمارے اپنے وطن میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال اور اسلامی شعائر کی تضحیک کی جا رہی ہے تعلیمی اداروں میں مخلوط سسٹم نے ہماری اخلاقی اقدار اور اسلامی شعائر کی دھجیاں اُڑا کے رکھ دی ہیں ”یہ کراچی یونیورسٹی کا ہی قصہ نہیں ہے بلکہ اسلامی جمہوریہ کے کم و بیش تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کا یہی حال ہے ،جس کا واضع ثبوت گزشتہ مہینے لیہ کے بہادر کیمپس میں نظر آیا کہ کس طرح ایک لبرل ازم کے پرچارک ، دینی شعائر سے نا بلد لیکچرار نے پردہ کی توہین کی ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں ٹیبلو شو زاور مینا بازار کے نام پر فحاشی و عریانی کو کھلم کھلا فروغ دیا جا رہا ہے پنجاب گورنمنٹ نے تو خادم اعلیٰ پنجاب جناب میاں شہباز شریف کے حکم پر ٹیبلو شوز پر پابندی لگا دی ہے جو کہ نہایت ہی مستحسن فیصلہ ہے مگر وفاقی حکومت نیند کی میٹھی گو لیاں کھا کے سو رہی ہے نصاب سے مجاہدین کے کارناموں کو خارج کیا جا رہا ہے نوجوان نسل کو سلطان صلاح الدین ایوبی ، سلطان ٹیپو شہید ، سلطان محمود غزنوی اور محمد بن قاسم کے کارناموں سے دور کیا جا رہا ہے دو قومی نظریہ کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے اور ہندو بنیئے کے ساتھ اکھٹے رہنے کو پھر سے مہم شروع کی جا رہی ہے مادر پدر آزاد سوسائٹی شترِ بے مہار کی طرح ہے جو جس کے جی میں آتا ہے اُسی طرف چل پڑتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے خلاف محراب و منبر سے بھی توانا آواز آنی چاہیے اور ہمارے علماء کرام اپنے خطبوں میں عوام کو فحاشی و عریانی کے مضر اثرات سے آگاہ کریں ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی فحاشی و عریانی کی اس بد بودار فضا کو عام کرنے میں اپنا ”خاص”رول پلے کر رہا ہے کیونکہ ہم سراپاکمرشلائز ہو کر رہ گئے ہیں ہر ادارہ عورت کو اشتہارات کی زینت بنا کر اُس کی تذلیل کر رہا ہے اور عورت بھی ہوس کے طبلے کی تھاپ پر سرکاری و اشتہاری محفلوں میں رقص و سرور میں مصروف ِ عمل نظر آتی ہے وہ عورت جو کبھی چادر اور چار دیواری کی آبرو ہوا کرتی تھی اور اُس کے گھر کی دہلیز پر شرم و حیا باندی بن کر کھڑے ہوا کرتے تھے تو پھر اُس کی پاکیزہ گود سے حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے مردانِ حُر جنم لیتے تھے آج جب سے عورت غیروں کی ثقافت اپنانے لگی ہے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے لگی ہے اس کی گود سے لُٹیرے ، فصلی بٹیرے ، نیب زدہ ،بدعنوان ، چور اُچکے ، بد معاش ، بد کردار اور اسلامی اقدار و شعائر کی پا مالی کرنے والی نسل ِ بد پیدا ہونے لگی ہے فحاشی و عریانی کے بڑھتے ہوئے اس سیلاب کے آگے اگر حیا و پاکیزگی اور طہارت کا بند نہ باندھا گیا تو پھر آنے والی نسل کو یہ بد تہذیبی اور بد تمیزی کا طوفان بہا کر لے جائے گا اس پر وطن عزیز کی تمام تر دینی ، سماجی اور سیاسی تحریکیں چُپ سادھ لیے ہوئے ہیں خانقاہوں کے سجاد گان بھی لمبی تان کے سو رہے ہیں جبکہ یورپ اور مغرب ہماری ثقافت کی دھجیاں بکھیرنے پہ تُلا ہوا ہے مادر پدر آزاد این جی اوز مختاراں مائی کے مسئلے پر تو آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہیں اور پلے کارڈ لے کر ”پلے بوائز ” و ”کال گرلز ” کا تحفظ کرنے کے لیے پریس کلبز کے باہر ہنگامہ کھڑا کر دیتی ہیں اور پھر ڈالرنائنز ڈ این جی اوز کی حمایت میں امریکی سفارت خانہ بھی حرکت میں آجاتا ہے امریکی راتب پر پلنے والوں کی ”حالت زار” دیکھ کر ٹیلی فون کی گھنٹیاں کھڑکنے لگ جاتی ہیں اور ہمارے حکمرانوں کے دل بھی ساتھ ساتھ دھڑکنے لگ جاتے ہیں مگر تعلیمی اداروں میںاسلامی اور اخلاقی روایات کو پامال کیا جا رہا ہے اس پر اس طرح کی خاموشی چہ معنی دارد ؟

”امن کی آشا ” والے بھی اس بے حیائی کے فروغ پر چُپ سادھ لیے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں فحاشی و عریانی باقاعدہ حکمرانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے اور کیبل سسٹم نے ہماری اخلاقی اور دینی اقدار کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے اور حکمران فقط اپنے ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے ایک دوسرے کے ہاں حاضری ہی کو منزل ِ مقصود تصور کر رہے ہیں اور اپنے کیسز کو ختم کرانے کے لیے کل کے حریف آج کے حلیف بنے ہوئے ہیں غریب عوام کا کوئی پر سانِ حال نہیں ہے جب تک اس ملک سے فحاشی و عریانی کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک وطن عزیز کے قیام کے حقیقی مقاصد کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا ، آج تک وزیر اعظم نے فحاشی و عریانی کی مخالفت میں اور اس کی روک تھام میں کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا ایوانِ وزیر اعظم اور ایوان ِ صدر نے فحاشی و عریانی کے حوالے سے ”چُپ کا روزہ ” رکھا ہوا ہے اور نہ معلوم یہ خاموشی و چُپ کا روزہ کب کھُلے گا ؟ روز بروز بڑھتا ہوا شراب نوشی اور ہیروئن فروشی کا سیلاب بھی نوجوان نسل کو بہا کر لے جا رہا ہے ،حکمران بھی کاش ہوس کے طبلے کی تھاپ پر رقص کرنے والی کے پائوں میں پہنی پائل کی جھنکار سے خواب ِ غفلت سے بیدار ہو جائیں اور فحاشی و عریانی کے خلاف عملی قدم اُٹھا سکیں۔

Nouman Qadir
Nouman Qadir

تحریر : نعمان قادر مصطفائی
03314403420

Share this:
Tags:
Crackdown Muhammad (PBUH) NGOs Nouman Qadir West این جی اوز کریک ڈائون مغرب
Abdul Rashid Khan Visit Register Check
Previous Post عبدالراشد خان نے کورنگی زون کے تمام ڈیپارٹمنٹ کا اچانک دورہ حاضری رجسٹر چیک کئے
Next Post حکومت کا مفتی سعید کے بیان سے کوئی تعلق نہیں، راجناتھ سنگھ
Rajnath Singh

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close