
الیکشن کا کھیل زور شور سے جاری ،تمام سیاسی پارٹیاں پوری تیاری سے میدان سیاست میں اتر چکی ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ہی میں عوام کے مسائل کا حل مضمر ہے اگر ایسا ہی ہے تو یہ اِس صدی کے تیسرے انتخابات ہونگے اگر تو 2002اور 2007 کے الیکشن عوامی عوقعات پر پورے نہیں اترے تو موجودہ الیکشن سے ایسی توقعات رکھنا محض خود فریبی ہوگی ،کچھ نہیں ہوگا ،نہ پہلے بدلا نہ اب کچھ بدلے گا،کہ عوامی خدمت کا لبادہ اوڑے وہی لوگ ہیں جن کی سرشت میں لوٹ مار رچی بسی ہے۔
گزشتہ انتخاب8 2007/0،میں بھی عوام کی آمریت کے مقابلہ میں جمہوریت سے بہتر توقع تھی …لیکن آمریت کے مقابلے میں جمہوریت سے مایوسی کہ سوا کچھ نہیں ملا اوراب،پی پی پی بلند بانگ دعوے کر رہی ہے حالانکہ تاریخ کا بد ترین یہی دور ہے ،18 دسمبر کو وزیر آعظم ہاؤس میں ،ممبران پارلیمنٹ اور میڈیا کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے حادثاتی وزیر آعظم نے کہا ”پانچ برسوں میں بے مثال ترقیاتی کام کئے ..راجہ صاحب کو یہ کہتے رتی بھر شرم نہیں آئی ،کون کہے گاراجہ صاحب ننگے ہو بے شک سپریم کورٹ نے وارنٹ…. ”یقینا”بے مثال ” ترقی ہوئی کہ ماضی کی تاریخ اِس ترقی کے سامنے شرمندگی کے خول میں سمٹتی جا رہی ہے۔
گندم 1200 ١ ،روپئے من تک پہنچی، اور ہاں مستقبل میں اِس ترقی پر مباحثے ،مذاکرے اور سیمینارز ہونگے کے اِ س جمہوری عہد میں دسمبر اور جنوری کی چلچلاتی سردی میں بھی بجلی کی بے مثال 12 گھنٹے سے زئد لوڈشیڈنگ ،لیکن عوام کو بل میں کمی نہیں…کرپشن ترقی کرتے ہوئے انتہائی سطح تک پہنچ گئی کہ ایک دن میں 7 سے 10 ،ارب تک کی کرپشن کا یہ ریکارڈ،مشرف دور میں بیرونی قرضوںکا حجم30 ،ارب ڈالر کے قریب تھا اب 68 ارب سے زائد، اور ہر پاکستانی 61 ، ہزارروپئے کا مقروض کہا جاتا ہے۔
یہ بھی تو ترقی ہے کہ پاکستان میں بنیادی سکہ جو بے وقعت ہو چکا صرف نصابی کتب میں یا ،جیسے پٹرول ایک روپئیہ 23 پیسے ،اب یہ پیسے تحریر اور صرف کاغذوں میں ،بازار میں جو سکہ زیر گردش ہے پانچ روپئے کا، نئی نسل کا گریجویٹ وہ بنیادی سکے سے لا علم ہے، امریکا کے مقابل ہماری ترقی وہاں کرنسی نوٹ 100 ڈالرکا اور ہمارا کرنسی نوٹ پانچ ہزار کا تو ہماری ترقی بے مثل ہے اگر تو مسقبل کا غیر جانبدار مورخ آمریت اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ لکھے گا تو ‘اِس دور میںکسی کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ نہیں 2 عوام یعنی کیڑے مکوڑوں کے لئے صحت کی بنیادی سہولتیں نہ پید ہیں۔

]3[لوڈ شیڈنگ اور گیس کی وجہ سے بے روز گاری اور کمر توڑ مہنگائی نے کروڑں عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے 4 95 فی صد وسائل پر 5فی صد کا قبضہ ہے ،اور صرف 5فی صد وسائل پر کیڑے مکوڑے جنہیں عوام کہا جاتا زندہ رہنے پر مجبور ہیں]5[امیر امیر تر اور غریب غربت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے ]6[ دشت گردی قتل و غارت گری اور بدامنی کا دور دورہ ہے]7[ پاکستان ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے کشکول لئے پھر رہا ]8[پاکستان وسائل سے مالا مال ملک،مگر عوام کے حصے میں سبز باغ ]9[اندرونی و بیرونی سازشوں سے ملک کی سالمیت خطرے سے دو چار ہے]10[ دشت گردی کے حوالے سے بھی قوم تقسیم ہے۔
ترقی کی فہرست مزید طویل ہے ہر ایک ان مسائل کے حل کے لئے انتخابات کو ضروری قرار دیتا رہا ، اب چند دن کے بعد الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوگا مگر سوال ہے یہ الیکشن نفسا نفسی کے اِس دور میں قومی،ملکی اور عوامی مسائل حل کرکے عوامی توقعات پوری کریں گے ؟،کہ یہ انتخاب تو 2008 میں بھی ہوئے اور کامیاب ہونے والوں نے اپنے پانچ سال پورے کئے عوام کو انتخابات اور حکومت نے حد درجے مایوس کیا ؟ حادثاتی وزیر آعظم اور تمام حکومتی کارندے اور نمائندے مع صدرمملکت کا اسرار ہے کے اِس دور میں بے پناہ ترقی ہوئی لیکن زمینی حقائق اِن کے دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
دوسری طرف اقتدار میں آنے کے خواہش مند ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ پی پی پی اور اِس کے اتحادیوں نے مسائل میں اضافہ کیا ہے، ہم عوام کی توقعات پوری کر کے ملک سے تمام گند صاف کریں گے ،ہر شخص کا استدلال ہے (بلکہ میرا بھی ) کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہی درست ہے مگر سچ یہ ہے کہ ایسا نہیں ،سچ تجربہ کا محتاج ہے ۔ جناب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ملک میں آئے اُن کی آمد اور جلسے کے بارے میں بڑی زوردارمہم چلائی گئی جلسے میں عوام کی بڑی تعداد شریک دکھائی گئی الیکٹرانک میڈا نے کہہ سکتے ہیں بھر پور کورج دی ،اور پھر متزاد خبریں اور تبصرے آ تے رہے ، لبِلباب یہ تھا کہ وہ کسی ایجنڈے ،یا کسی کے ایجنڈے پر آئے ہیں۔
یہ تجزئے اُن کے طویل خطاب سے اخذ کئے گئے ، اُن کا زوراِس نعرے پر کہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ ،عالی جناب شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہم ایسی سیاست کو نہیں مانتے(2002میں اسی سیاست اور نظام کے تحت انتخاب میں حصہ لیا اور جس میںقتل و غارت گری،اغوا،ڈکیتی اور دشت گردی ہو،ہم ایسی سیاست کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیںجس میںعوام پانی و بجلی اور گیس سے محروم اور خود کشیوں پر مجبور ہوں،، عوام (کیڑے مکوڑے جن کی تعداد کروڑوں میں)کی ڈیمانڈ میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ (جسے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے)،موٹر وے، میٹرو بس نہیں ،اسکی ڈیمانڈ ضروریاتِ زندگی اُسکی پہنچ میں ہوںبے شک فٹ پاتھ ہی سوئے۔

اور اگر یہ سب کچھ عوام کو ایک وقت میں دے دیا ، تو پھر اگلی دفع کون سا سبز باغ دکھائیں گے جس ملک میں قادری صاحب ریائش پذیر ہیں وہاں کے نظام اور عوام کی خوشحالی کا گہرا مطالع کیا اور چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کو بھی ایسا ہی ماحول میئسر ہو، اور اِس کے لئے اُنہوں نے کرپٹ نظام بدلنے کا نعرہ لگایا، اگر یہ نظام نہ بدلہ تو پھر .. انہوں نے اُس نظام کی کھل کر وضاحت نہیں کی جس میں وہ عوام کو وہ سب کچھ دینا چاہتے جس کا وژن اُن کے ذہن میں ،یورپ کے جس نظام سے وہ متاثر ہیں وہ دنوں میں نہیں بلکہ صدیوں کی جاںگسل مسافت طے کر کے پہنچا ہے۔
وہاں کے عوام ،جو خدا کا ہے وہ خدا کو ادا کرتے ہیں اور قیصر(ریاست )کا وہ قیصر کو ادا کرتے ہیں ،مگر یہاںایسا نہیں ،قیصر کا (اربوں)ہڑپ کر جاتے ہیں،اور جو خدا کا ہے وہ بھی دکھاوے کے لئے، انہیں بھی یہاں پہنچنے کے لئے صدیاں لگی ہیں آپ کو یاد ہو کے 16ویں صدی میں چرچ ریفارم کے نام سے انقلاب آیااور یہ اُس انقلاب کا ثمر…..اور امریکہ میں اوبامہ کو وائٹ تک پہنچنے کے لئے تین صدیوں سے زیادہ عرصہ لگا… اور کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کے عوام کو محض چنددنوںمیں ایسا ماحول مل جائے۔
] خواب ہے[ اس کے لئے وقت جو ہماری زندگیوں میں ممکن نہیں کہ پاکستان ایک ملی جلی بھیڑ جس میںکئی زبانیں کئی نسلیں، خطے اور رنگ ،اگر تو خاں صاحب اور علامہ صاحب آپس میں مل کر لٹیروں کا مقابلہ کریں تو نہ صرف برسوں پھیلا سیاسی گند صاف ہوگا قوم کو اِس سے نجات مل جائے گی ورنہ جہاں تک ا لیکشن سے وابسطہ عوامی توقعات کا تعلق ہے، سیاسی لٹیروں کی توقعات پوری ہوں گی، مگر، عوام کی توقعات اگلے الیکشن کے لئے؟. سولہ یا ستررہ کروڑ عوام (یہ دو پائے کیڑے مکوڑے) کو اِس سہانے خواب میں محوخواب ہی رہنا ہوگا۔

تحریر : بدر سرحدی
03054784691
