
کیسی سخت طبعیت پائی ہے اس نے
پھول مارو تو پھتر سے جواب دیتا ہے
کبھی جوپو چھ لو، کہاں رہے اب تک
ایک ایک لمہے کا مگر تلخ حساب دیتا ہے
بات سنتا ہی نہیں محبت کی
سمجھانے بیٹھو تو اُلٹے سیدھے جواب دیتا ہے
جیتنا ممکن کہاں دلائل سے
کم عقلی کے خطاب دیتا ہے
کیسے اُس کے غرور کو توڑوں
ہر جواب ہی لا جواب دیتا ہے

تحریر:مسز جمشید خاکوانی
