Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عورت اور خود ساختہ افکار و نظریا

July 14, 2014July 14, 2014 0 1 min read
Asif Iqbal
Women
Women

ہندوستانی معاشرہ میں خصوصاً اور عموماً تمام ہی معاشروں میں عورت کی عزت نفس سے کھلواڑاور مسلسل ہو رہے ظلم و زیادتیوں کے پیچھے غالباً تین بنیادی نظریات و تصورات کار فرما ہیں۔i) معاشرتی اعتبار سے عورت ایک حقیر شے ہے، لہذا ظلم و زیادتی ایک لازمی امر ہے۔ii)مرد کی شہوانی خواہش کے پیش نظر ہر ممکن طریقہ سے عورت کا استحصال کیا جا سکتا ہے۔iii)خاندان کی عزت مقدم ہے۔

لہذ اعورت کی جانب سے ہر اس عمل کے خلاف جو معاشرہ میں خاندان کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنے،غیرت کے نام پر عورت پر تمام طرح کی بندشیں لگائی جا سکتی ہیں یہاں تک کہ قتل (honour killing)کا جواز بھی بنتا ہے۔ان تین بنیادی تصورات پر مبنی معاشرہ میںقوانین کے رکھوالے،صنف نازک پر جاری ظلم وستم کی روک تھام میں کس حد تک اپنا کردار ادا کریں گے،اس کا اندازہ متذکرہ تصورات کی روشنی میں باخوبی لگایا جا سکتا ہے۔درحقیقت ہندوستانی معاشرہ میں عورتوں کو وہحقوق حاصل نہیں ہیں جو مطلوب ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ شہروں میں موجود “روشن خیالوں “نے خواتین کے حقوق کے پس پردہ اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے میں بھی کسی قسم کاپاس و لحاظ نہیں رکھا ہے۔یہ وہ دو مختلف الانواع گروہہیں جنھوں نے خواتین و بچیوں کو معاشرہ میں حد درجہ نہ صرف کنفیوژ کیا بلکہ صحیح و غلط کی تمیز میں بھی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔نتیجتاً فحاشی و عریانیت کو فروغ ملا اور اخلاقی زوال نے فرد واحد کے ساتھ ساتھ خاندان اور معاشرہ میں بے شمار مسائل پیدا کیے ہیں۔انتہا یہ کہ انسانوں کے بنائے قوانین نے انسانوں ہی کے گلے میں طوق ڈالنے کی ناکام کوشش کی ۔جس کے سبب نہ اخلاقی اور نہ ہی قانونی بالا دستی برقرار رہ سکی ۔مسائل دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں ،اور ہر دو سطح پر “دقیانوسی اورتہذیب و ثقافت سے عاری افراد و معاشرہ “اور وہ بھی جو خود کو “روشن خیال و مہذب سمجھتے ہیں۔

مسائل پر گرفت کرنے سے قاصر ہیں۔ایک فساد ہے جو چہار جانب برپا ہے،ہر شخص نجات کا بھی خواہاں ہے،اس کے باوجود کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ گزشتہ مضمون (بعنوان:میڈیا اور ہندوستانی تہذیب کے کھوکھلے دعوے)میں ہم نے ہندوستانی معاشرہ میں عورت کے منووادی تصور کو پیش کیا تھا۔یہاں ہم کوشش کریں گے کہ یونانی، رومی، فارسی، عیسائی، اور دور جاہلیت میں عورت کی حیثیت کا مختصراً تذکرہ آجائے۔یونانی معاشرے میں عورت کی حیثیت:یونانی فلسفہ جوآج بھی دنیا میں مشہور ہے اس کی تاریخ عصر میں مرد نے عورت کو صرف اپنی نفسانی تسکین و مسرت کا ذریعہ اور آلہ کار سمجھا۔ یونانیوں کے نزدیک عورت ”شجرة مسمومة” ایک زہر آلود درخت اور ”رجس من عمل الشیطان” کے مطابق عورت شیطان سے زیادہ ناپاک سمجھی جاتی تھی۔ ایک عام خیال یہ بھی تھا کہ وہ فطرتاًمرد سے زیادہ معیوب، حاسد، بدکردار، آوارہ اور بدگفتار ہوتی ہے۔رومی تہذیب میں عورت کی حیثیت:رومن قوم یورپ میں ایک عظیم الشان روایت کی حامل قوم تھی، جس کو قانون سازی میں وہی امتیاز حاصل ہے جو یونان کو فلسفہ میں۔ حتی کہ رومن قانون آج بھی دنیا کے مختلف ممالک کے قوانین کا سنگِ بنیاد ہے۔ اس اعلیٰ ترین قانون میں عورت کی حیثیت پست و کمزور تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ ”عورت کے لئے کوئی روح نہیں بلکہ وہ عذاب کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ عورت شادی کے بعد شوہر کی زرخرید غلام ہو جاتی تھی، عورت کسی بھی عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتی تھی، گویا کہ تمام بنیادی حقوق سے اس کو محروم رکھا گیا تھا۔فارسی تہذیب میں عورت کی حیثیت:فارس کی تہذیب بہت پرانی ہے، یہاں بھی عورت کی وہی زبوں حالی تھی، باپ کا بیٹی اور بھائی کا بہن کو اپنی زوجیت میں لینا وہاں کوئی غیر موزوں بات نہ سمجھی جاتی تھی، شوہر اپنی بیوی پر موت کا حکم لگا سکتا تھا۔ اسے اپنی عیش و عشرت کیلئے استعمال کرنا وہاں کے بادشاہوں اور صاحب ثروت کا محبوب مشغلہ تھا۔عیسائی معاشرہ میں عورت کی حیثیت:عیسائیوں میں رہبانیت کی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ عیسائی عورت کو قابل نفرت سمجھنے لگے۔طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔

Women Violence
Women Violence

یہاں تک کہ عورت کے وجود کو تسلیم کرنا بھی اْن کے نزدیک گناہ سمجھا جانے لگا۔ حتی کہ 576ء میں فرانسیسیوں نے ایک کانفرنس صرف اس مسئلہ کے حل کے لئے منعقد کی کہ عورت میں روح ہے یا نہیں؟ دوران کانفرنس ایک پادری نے سوال کیا کہ عورت کا شمار بنی نوع انسان میں بھی ہے یا نہیں؟ خود اس نے عورتوں کو انسانوں میں شامل کرنے سے انکار کردیا۔ آخر کار کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ عورت صنف انسانی سے تعلق رکھتی ہے مگر صرف اس دنیاوی زندگی میں مرد کی خدمت کرنے کے لئے اور قیامت کے روز تمام عورتیں غیر جنس جانداروں کی شکل میں ظاہر ہوں گی۔دور جاہلیت میں عورت کی حیثیت: اس دور میں لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کی دی گئی تعلیمات کو فراموش کرکے مختلف قسم کی برائیوں میں ملوث تھے۔عربوں میں مرد کے لیے عورتوں کی کوئی قید نہ تھی، بھڑ بکریوں کی طرح جتنی چاہتے، عورتوں کو شادی کے بندھن میں باندھ لیتے۔ کتب احادیث میں ان اشخاص کا ذکر موجود ہے جو قبول اسلام سے پہلے چار سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے۔ حارث بن قیس کہتے ہیں کہ میں اسلام لایا تو میری آٹھ بیویاں تھیں، میں نے نبیۖ سے اس کا ذکر کیا تو آپۖ نے فرمایا ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔(ابودائود)۔حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو دور جاہلیت کی اْن کے پاس دس بیویاں تھیں، پس وہ بھی اسلام لے آئیں ۔حضور اکرمۖ نے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو۔(ترمذی )۔”عربوں میں عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ تھا کہ میراث کا حق صرف ان مردوں کو پہنچتا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے وارثوں میں جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا تھا وہ بلاتامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا”( سیرت سرور عالم از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی )۔بلاد عرب کے حالات بھی یورپ سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے، وہاں بھی عورتیں دوسرے مال منقولہ کی طرح مرد کی ملکیت سمجھی جاتی تھی، اس کی حیثیت بالکل چوپائیوں کی سی تھی اور چوپائیوں کے ساتھ ہی اکثرجہیز میں دی جاتی تھی، اسے محض لذت کشی کا آلہ تصور کیا جاتا تھا۔

ناجائز تعلقات کی وسعت کی وجہ سے موجودہ یورپ کی طرح وہاں کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا تھا، ان کا طرز نکاح بے غیرتی کا پورا آئینہ تھا(عورت انسانیت کے آئینہ میںاز ایم عبدالرحمن خان )۔دراصل یہ وہ حقیقت ہے جو عورت کے تعلق سے مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں نہ صرف رائج رہی بلکہ یہ پورا منظرہم اپنی آنکھوں سے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی مختلف افکار و اعمال اورکردارمیں با خوبی دیکھ سکتے ہیں۔

1980کی دہائی میں وقوع پذیرہونے والی اصطلاح “گلابلائزیشن”کے علمبرداروں کایہ احساس تھا کہ اس کے ذریعہ دنیا سکڑ ے گی،دوریاں ختم ہوں گی اورتمام ہی ممالک تیزی سے بہتری وترقی کی جانب گامزن ہوں گے۔وہیں گلابلائزیشن کے تعلق سے یہ خیال ِعام بھی تھاجوبہت حد تک آج بھی موجود ہے کہ اس کے ذریعہ بین الاقوامی مسائل پر گرفت کرتے ہوئے فرد اور معاشرے کو آسانیاں بہم پہنچائی جا سکیں گی۔لیکن گزشتہ چند دہائیوں میںجس تیزی سے خواتین پر ظلم و زیادتیوں میںاضافہ ہوا ہے،اس نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں قومی خواتین کمیشن کی ایک رپورٹ میں عورتوں پر دن بدن پڑھتی زیادتی کیلئے گلوبلائزیشن اور کھلی اقتصادیات کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں عورتوں کی خرید وفروخت کا بازار تیزی سے بڑھا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں سیاح جسم فروشی کے کاروبار میں نہ صرف تعاون بلکہ فروغ کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں ۔کمیشن نے پچھلے کچھ برسوں میں مردوں کے مقابلہ عورتوں کی آبادی کا تناسب کم ہونے اور عورتوں کے خلاف جرائم مثلاً عصمت دری، اغوا، چھیڑ چھاڑ وغیرہ کی وارداتوں میں اضافہ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کا تجزیہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ اقتصادی طور پر متمول ہونے کیلئے دیہاتوں ، قصبوں اور چھوٹے شہروں سے کافی تعداد میں مواقع کی تلاش میں عورتوں کی بڑے شہروں کی طرف منتقلی ایک وجہ ہے تو وہیںلڑکیوں کے تناسب میں کمی اور گلوبلائزیشن کی پالیسی کے نتیجہ میں ایک نیا اقتصادی رجحان سامنے آیا ہے، جہاں عورتوں کو صرف استعمال کی شئے تصور کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں اقتصادی آزاد روی کے نافذ ہونے کے٢٠-٢٢ سال بعد عورتوں کے تعلق سے گلوبلائزیشن اور کھلی اقتصادیات کے بارے میں کیا گیا یہ تبصرہ نہ صرف قابلِ غور بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ قومی خواتین کمیشن کی مذکورہ رپورٹ میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں آدیباسی خواتین کے جنسی استحصال، تامل ناڈو، آندھرا اور کرناٹک ریاستوں میں جسم فروشی کی بڑھتی لعنت نیز پورے ملک میں عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف جرائم کے گراف میں غیر معمولی اضافہ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جہاں درج فہرست ذات اور قبائل کے لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلئے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا انتظام ہے۔ وہیں آدیباسی اکثریت کے حامل جھارکھنڈ میں تقریباً٥٠ فیصد نوکر پیشہ آدیباسی خواتین کے کام کرنے کے مقامات پر اپنے افسر کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار بننے کی خبریں بھی قابل تشویش ہیں۔یہ وہ موجودہ صورتحال ہے جو سماج کے سوچنے سمجھنے والوں کو نہ صرف تشویش میں مبتلا کررہا ہے بلکہ مستقبل قریب کے حالات کی بھی ایک منفی تصویر پیش کرتا ہے۔اس پورے پس منظر میں اگر فرد اور سماج ،موجودہ صوتحال اور عورت کے تعلق سے خود ساختہ افکار و نظریات پر مبنی نظام کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔تو لازم ہے کہ متبادل نظام کے لیے منظم سعی و جہد کی جائے۔ایک ایسی تبدیلی کا آغاز جہاں نہ صرف عورت بلکہ ایک مثالی خاندان بھی وجود میں آئے۔ مثالی خاندان کے نتیجہ میں مسائل پر گرفت حاصل کی جا سکے گی ،ملک میں امن و امان قائم ہوگااور عورت کو بھی ایک بار پھر وہ عزت و شرف حاصل ہوگا جو اس کا حق ہے۔تبدیلی کے آغاز میں جہاں ایک جانب سرکردہ افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے وہیں میڈیا جو عوام کی رائے تبدیل کرنے کا اہم ذریعہ ہے،اسے بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔

Asif Iqbal
Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
based systems theories women عورت مبنی نظام نظریات
Gulu Butt
Previous Post لاہور: گلو بٹ مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
Next Post پاکستانی دباؤ کے باوجود افغانستان نے طالبان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی نہیں کرائی
Pak,Afghanistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close