Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خواتین کا عالمی دن اور مسائل کی حقیقت

March 8, 2020 0 1 min read
Women’s Day
Women’s Day
Women’s Day

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن دنیا بھر میں اتفاق رائے اور پاکستان میں مناظرہ بازی کی پر انتشا ر فضاوں میں منایا جاتا ھے، جسمیں خواتین کے مسائل اور حقوق پر بات کی جاتی ہے،یہ سلسلہ ایک صدی سے چلتا آرہا ہے،مگر عورت آج تک کما حقة اپنے تمام حقوق اور مراعا ت حاصل نہیں کر سکی جسکی وہ حقدار تھی ،یہ فرق ترقی یافتہ ممالک میں بھی کسی حد تک آج بھی موجود ہے، یعنی تعلیم ترقی وکاروبار اور ملازمتوں میں اس کا تناسب اب بھی مردوں سے کم ہے لیکن اسکو بطورر صنف کافی حد تک کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں؛انیسویں صدی میں جب مغربی دنیا میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا،شہر وں کی آبادی بڑھنے لگی، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، سر مایہ داروں کی آمدن میں اضافہ ہوا ،قدر زائد نے نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کا بھی استحصال شروع کر دیا،تو اس وقت آزادی حقوق نسواں کی تحریکوں نے جنم لینا شروع کیا۔ جسمیں انکے بنیادی سیاسی و معاشی حقوق سر فہرست تھے۔ ١٩٠٨ کو امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی کی سر براہی میں پندرہ ہزار خواتین نے احتجاجی ریلی نکالی جسمیں اپنے بنیادی حقوق حق رائے دہی اور مردوں کے برابر تنخواہوں کا مطالبہ کیا گیا،اسی دورانیہ میں امریکہ میں ایک سو چالیس کام کرنے والی خواتین فیکٹری میں ناقص انتظامات ہونے کیوجہ سے جل کر خاکسٹر ہو گئی تھیں۔

عورتوں کی یہ تحریکیں صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں بلکہ انکا دائرہ کار دنیا بھر تک پھیل گیا،لندن میں احتجاج کی تیاریوں کے سلسلہ میں اس تحریک کی روح رواں رہنما سلون کو چئرنگ کراس پر گرفتار کر دیا گیا تاکہ قریب ٹریفالگر اسکوائر میں یہ جلسہ نہ کر سکیں۔ اسے عورتوں کی معاشرے میں کمتر حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انکو اپنی آواز بلند کرنے کا حق برطانیہ میں بھی نییں تھا باقی دنیا کے ممالک میں بھی حالت ایسے ہی تھی،برطانیہ میں جب پہلی بار ١٩٠١٩ کو خاتون ممبر پارلیمنٹ کا انتخاب ھوا تو اسکا تعلق بھی ورکنگ کلاس سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک جاگیر دارخاتون تھی،مگر خواتین کے حقوق کے حصول کے لئے چلنے والی تحریکوں میں روس کے سوشلسٹ انقلاب نے اہم کردار ادا کیا،سوشلسٹ انقلاب میں عورت اور مرد کو ایک کھاتے میں ڈالا گیا ،سرمایہ دارانہ نظام کیوجہ سے ورکنگ کلاس کو استحصال زدہ قرار دیا گیا جسمیں عورت مظلوم بطور ایک صنف نہیں تھی بلکہ بطور ایک طبقہ تھی،سوشلسٹ انقلاب نے خواتین کے بنیادی حقوق بطور ایک طبقہ شروع سے ہی حاصل کر لئے تھے اب وہاں خواتین بہتر زندگی گذارنے کے لئے بطور ایک طبقہ مردوں کیساتھ جدوجہد کر رہی تھیں، اس عرصہ میں عورتوں نے سوشلسٹ تحریکوں کے زیر اثر دنیا بھر میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی اور انکو ان میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل ہویئں۔جبکہ سرمایہ دار مغربی ممالک میں خواتین کے احتجاج کرنے کا انداز قدرے مختلف تھا،یہ بطور طبقہ احتجاج نہیں کرتی تھیں بلکہ بطور ایک صنف کے حق رائے دہی برابر تنخواہ،یکساں معاشی مواقع کے حصول کے لئے جدو جہد کرتی تھیںجبکہ مزدور کلاس کا بطور طبقہ ہر جگہ استحصال ہو ا اور ہنوز جاری ہے مگر خواتین کا نہ صرف بطور طبقہ بلکہ بطور صنف استحصال مختلف شکلوں میں ہوا اور یہ سلسلہ کم وبیش دنیا بھر میں جاری ہے۔

مغربی ممالک میں خواتین اپنے حقوق لینے میں کامیاب ہوئیں مگر انکی صنفی کمزوری کا فائدہ ابھی تک مرد اٹھا رہے ہیں۔اب انکو حق رائے دہی بھی مل چکا ہے،یکساں معاشی ترقی کے مواقع بھی مل چکے ہیں،آزادی رائے کا حق بھی مل چکا ہے،اپنی مرضی سے عائلی زندگی گزارنے کے لئے بھی راہ ہموار ہو چکی ہے،جنسی اور گھریلو تشدد سے بھی نجات مل چکی ہے۔سماجی سرگرمیوں اور کلچرل ایونٹ میں بھی اسکی شرکت یقینی ہو چکی ہے،جائیداد میں بھی برابر کی مالک ہے اور یہ حق ملکیت مسلمان معاشروں کی طرح صرف کتابوں میں درج نہیں ھے بلکہ عملی طور پر اسکو حاصل بھی ہے،سرمایہ دار معاشروں میں سیاسی اور سماجی ارتقا نے عورت کو بعض امور میںبرتری بھی دلائی ہے،جسکے بعض جگہوں پر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔مساوی ترقی کے مواقعوں کی فراہمی نے اسکوایک بازاری جنس بھی بنا دیا ہے، جہاں جنسی تشدد و استحصال سے محفو ظ رہنے کے لئے قانون سازی اور ریگولیشن ھو چکی ہے ۔ اب جسم فروشی ایک اخلاقی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اسکو سیکس ورکر کا نام دیا گیا کہ یہ بھی ایک روزی کمانے کاذریعہ ہے اب جہاں یہ بطور جنس بھی متعارف ہوئی ہے گرچہ اسکا ایک طویل تاریخی تسلسل بھی ہے۔مگر بہ حیثیت مجموعی عورت روایتی قبائلی و جاگیردارانہ معاشرے کے جبر سے آزاد بھی ہوئی ہے اور اسکو بطور ایک صنف کے حقوق بھی حاصل ہوئے ہیں۔

جبکہ پسماندہ سماج میںیہ آج بھی ہر طرح کی سماجی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔
تقدیس ثنا خوان مشرق عورت کی آزادی اور اسکے حقوق کی باز یابی کو بے حیائی اور بے غیرتی سے تعبیر کرتے ہیں جسمیں انکی اپنی انا اور ذاتی فائدہ و لالچ و برتری کا زعم نمایاں ہوتا ہے۔ ملا وصوفی کا دین ذاتی تسکین وائدہ تک محدود ہے ۔جاگیرداری وقبائلی روایات و پسمنظر رکھنے والے عورت کا جائیداد میں حصہ دینے کے لئے تیار نہیں اورچادر وچار دیواری کا پائمال ہونے کا رونا روتے ہیں،اسمیں کوئی شک نہیں کہ غیر ترقی یافتہ معاشروں میں عورت کا وجود خطرے کی زد میں ہے،معاشرہ کلی طور پرسائنسی ترقی کے نظم میں نہیں ڈھلا ہے،جہاں اسکی آزادانہ حمل و حرکت کو خطرات لا حق ہیں ،مگر چادر وچار دیواری کا قدیم روائتی تصور جدید ٹیکنالوجی کے ہاتھوں پاہمال ہو چکا ہے،اب لٹھ لیکر کوئی اسکے جذباتی ونفسانی اظہار پر پہرے نہیں بٹھا سکتا۔اب اگر اسکو احسن انداز سے آزادی نییں دی جا سکتی تو یہ ریت کی دیواریں ٹیکنالوجی کے سیلاب کے آگے خود بخود ڈھیر ہو جایئں گیاسلام نے بھی عورت کو پہلی بار تاریخ عالم میں برابر کے حقوق دیے،مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ حقوق عورت کو حاصل ہیں۔

مجھے تو کہیں نظر نہیں آتا کہ خواتین کووہ تماتر قانونی حقوق کی بازیابی ایک عادت کی طڑح حاصل ہے اسکے کچھ مظاہر شہروں میں نظر آتے ہیں مگر عورت قبائلی وخاندانی رسم ورواج کے اندر رہنے پر مجبور ہے اسکی بڑی وجہ قانون کا سقم نہیں،معاشرے میں وسیع طبقاتی تقسیم،بورژوازی کلچر، مذہبی انتہا پسندی ،فرسودہ نظام تعلیم ا ور معاشی ترقی کے مواقعوں کی عدم دستیابی ہے،ہمارے جاگیردارنہ نظام میں عورت کی تمامتر زندگی بھائیوں کی جایئداد اور انکی ناک کی بھینٹ چڑ جاتی ہے،جب تک جاگیر دارانہ نظام باقی ہے عورت تو کیا مرد بھی بدترین استحصال کا شکار رہیں گے۔یہاں صرف عورت کے حقوق اور آزادی کا مسلہ نہیں بلکہ مرد اور عورت کو ایک ہو کر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے،بطور ایک استحصال زدہ طبقہ ، استحصالی طبقے کے کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا ہے،کیونکہ پاکستان میںجاگیردار سیاسی طبقہ کا ہر جگہ مکمل کنٹرول ہے۔سیاسی راہنما اپنے مفادات کے لئے کہیں لبرل اور کہیں ترقی پسندوں کی شکل میں اکھٹے ہوئے ہیں۔یہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ عام ورکنگ کلاس کا بھی استحصال کرتے ہیں۔موڈریٹ مذہبی طبقہ کی فکر تصوراتی حقوق دینے تک محدود ہے،یا ماضی کا کوئی ایک واقعہ بیان کر دیتے ہیں۔

مسلمانوں نے ابھی تک عورت کو وہ حقوق نہیں دیئے جو اسلام چودہ سو سال پہلے دے چکا تھا، سعودی عرب میں بمشکل اب عورت کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی ہے اب ترقی یافتہ دور میں سورج سے آنکھیں ملاتے ہوئے انکی آنکھیں چندھیا ھنے لگی ہیں،جو عورت کے سماجی تفاعل اور سرگرمیوں کو تہذیب اور عائلی زندگی کی شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔قانون کی کتاب میں عورتوں کے حقوق متعین کرنے سے اسکو آزادی نہیں مل سکتی جب تک معاشی اور قانونی نظام میں وسیع انقلابی سطح پر اصلاحات نہیں کی جا سکتیں،معاشی ثمرات کے حصول کے بغیر عورت کی با اختیار وجودی آزادی کا تصور ناممکن ہے،اور یہ آزادی کا تصور ایک احساس زمہ داری کے دائرے کا بھی متقا ضی ہے،مشرقی تہذیبی اقدار اور سماجی ڈھانچہ کی تشکیل نو اسکے اندر رہ کر کرنا ہو گی،نہ کہ ہر معاملہ میں مغرب کی نقالی کیونکہ تصادم اور انتشارو ہاں پیدا ہو رہا ہے جہاں ہمارا نام نہاد لبرل طبقہ اپنی اقدار کو یکسر بھول جاتا ہے،مغرب میں عورت مکمل طور پر اپنے خاندان سے بغاوت کر کے رہ سکتی ہے اسکو سماجی تحفظ حاصل ہے جبکہ ہمارے ہاں سماجی تحفظ جاگیر دار،سرمایہ دار،قدامت پسند اور قبائلی طبقہ کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے،جہان اپنے حقوق کی جنگ لڑنے میں پہلے اپنی شہادت دینی پڑتی ہے۔اور صرف اس سسٹم میں عورتں استحصال کا شکار نہیں بلکہ مرد بھی برابر سطح پر متاثر ہو رہے ہیں۔

صنفی امتیاز بھی گرچہ قائم ہے مگر یہ جدوجہد بطور ایک طبقہ کی جانی چائیے نہ کہ بطور ایک صنف کے۔موجودہ حکومت بھی جاگیردار اور سرمایہ دار زاغوں کے نر غے میں ہے،مگر اسکی ترقی اور آگے بڑھنے کاامکان موجود ہے کیونکہ تحریک انصاف کا سیاسی فلسفہ اصلاحات کیساتھ رد تشکیل کی طرف گامزن ہے جسے فرسودہ ڈھانچہ ژکست وریخت کا شکار ہو رہا ہے،تحریک انصاف میں بھی خواتین کا ایک طبقہ منصحہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے،جسکے مظاہر ایک نمائشی جنس سے زیادہ کچھ نہیں مگر پھر بھی ان سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ متمول خواتین کا طبقہ شہروں سے زیادہ دیہی خواتین کی محرومیوں،غربت،گھریلو تشددبے روزگاری کا خاتمہ،جبری شادیاں،آبادی میں اضافے، جنسی امتیاز ،ہراساں کرنے کا رجحان، وراثت میں حق جائیداد سے محرومی جیسے مسائل کے لئے نہ صرف جدوجہد کریں گی بلکہ دیہی علاقوں میں اس موضوع پر خواتین کا ایک الگ پلیٹ فارم بھی بنائیں گی۔ اور انکے حقوق کی باز یابی کے لئے متحرک بھی ھوں گی۔،تبدیلی یکسر نہیں آتی اسکا عمل سست رو اور بتدریج ہوتا ہے۔پہلے اسلام نے عورت کو جو حقوق دئیے ہیں انکو تو یقینی بنایا جائے،مغربی عورت کی آزادی کے تصور اور جدوجہد کو مورد الزام ٹھرانا تو بعدکی بات ہے۔

مرد اور عورت کی جنسی اور فطری تفریق سرے سے ایشو نہیں ہے اور نہ ہی ایک کی دوسرے پر برتری کا سوال کیونکہ تمدنی ترقی میں دونوں کا یکساں کردار ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد بھی کی جاتی ہے کہ نہیں ،گھریلو تشدد کے واقعات سے میڈیا کا پیٹ بھی بھر دیا جاتا ہے۔جنسی تشدد پر قانون بھی حرکت میں آجاتا ہے۔جایئداد میں اسکا حصہ بھی متعین کیا جاتا ہے،قانونی طور پرصنفی امتیاز کا بل بھی منظور ہو جاتا ہے۔مذہبی طبقہ اسکو ایک مقدس تصوراتی صنف کے طور پر بھی متعارف کرا دیتا ہے،جو ایک ریت کے طور پر پہلے سے چلا آرہا ہے بلکہ یہ لوگ تو اسکی شناخت مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔تو کیا عورت کو اپنے تماتر حقوق حاصل ہو جائیں گے۔اسکے امکانات بہت کم ہیں۔معاشرے میں عورت ہو یا مرد اسکی صنفی اور طبقاتی تفریق و امتیاز کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشی سطح پر عدل اجتماعی قائم نہیں ہو جاتا،اور حکومت انقلابی سطح پر کم از کم ٹیکس کے نظام کو موثر بنا کر متاثرہ محروم طبقات تک معاشی شمرات نہیں پہنچاتی۔کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر ارادے شعوراور وجود کی آزادی کا احساس نہیں پیدا ہوتا اور کسی بھی ،معاشرے میں یہ آزادی اسوقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک وسیع طبقاتی خلیج کا خاتمہ نییں ہو جاتا۔

Professor Mohammad Hussain Chohan
Professor Mohammad Hussain Chohan

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

Share this:
Tags:
Development problems reality women World Day ترقی حقیقت خواتین عالمی دن مسائل
Women March
Previous Post اور کیا کیا دکھانا چاہتی ہو؟
Next Post لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کو 8 وکٹ سے شکست دے دی
Lahore Qalandars - Karachi Kings

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close