لوگ ایسے ہوتے نہیں، جیسے نظر آتے ہیں
منظر وہی رہتے ہیں ،پس منظر بدل جاتے ہیں
منتظر رہتی ہیں آ نکھیں خوابوں کی
ملتے نہیں جو حقیقت میں ،خوابوں میں نظر آتے ہیں
زندگی کا سفر بہت کٹھن لگتا ہے مگر
ہمسفر ہو کوئی تو فاصلے سمٹ جاتے ہیں
بہتے پانی میں بھی صرف عکس اپنا نظر آتا ہے
سرابوں کی دنیا میں ،بہت دور نکل جاتے ہیں
دل سے مجبور ہیں ،لفظوں کا ستم سہتے ہیں
لفظ بھی آپ ہی ہونٹوں پہ مچل جاتے ہیں
تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

