Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تین مائیں، چار بیٹے

June 26, 2014 0 1 min read
Ali Imran Shaheen
Afzal Guru
Afzal Guru

”افضل گورو شہید نہیں ہوا مجھے تو ایسا لگا جیسے میرا پانچواں بیٹا شہید ہوا ہے لیکن آزادی تو قربانیاں مانگتی ہے۔ افضل کی شہادت نے ہماری تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے”۔ یہ الفاظ ایک ایسی ماں کے ہیں جس کی عمر 78 سال ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے قصبہ ترہگام کی رہنے والی اس ماں کا نام شاہ مالی بیگم ہے جنہیں شاہ بیگم بھی کہا جاتا ہے۔
بھارت کیخلاف سینہ سپر اس ماں ایک بیٹا مقبول بٹ تھا جسے 11 فروری 1984ء کو بھارت نے اپنی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ تحریک آزادی کا آغاز اسی پھانسی سے ہوا… اسی لئے تو بھارت مقبول بٹ کے جسد خاکی سے بھی اس قدر خوفزدہ ہے۔

وہ اسے بھی اس کے وارثوں کے حوالے کرنے کو تیار نہیں اور مقبول بٹ کا جسد خاکی دفن کرنے کے بعد بھی اس پر تہہ در تہہ پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ شاہ بیگم کا ایک بیٹا شہید ہوا تو انہوں نے ساری اولاد کو اسی راہ میں لٹانے کا ارادہ کر لیا۔ یوں ان کے دوسرے بیٹے حبیب اللہ بٹ کو بھارتی افواج اٹھا کر لے گئیں کہ اس کا تعلق مجاہدین سے ہے اور بھائی مقبول بٹ سے ملنے جانے والا حبیب اللہ بٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ”لاپتہ” ہو گیا۔ ان کا تیسرا بیٹا غلام نبی بٹ اور چوتھا بیٹا منظور احمد بٹ سرینگر اور ترہگام میں بھارتی افواج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ پانچواں بیٹا ظہور بٹ بھی ”جرم جہاد” میں جیل کاٹ چکا ہے۔

شاہ بیگم عمر کے اس حصے میں بھی جب بھارت کو للکارتی ہیں تو نئی دہلی کے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔ کشمیری قوم انہیں مادر ملت اور مادر تحریک آزادی کہہ کر پکارتی ہے کیونکہ وہ آج بھی تحریک آزادی میں پیش پیش ہیں۔ گزشتہ سال 2013ء کے ماہ جنوری کا وہ منظر تو سب کے سامنے ہے کہ جب شاہ بیگم شہداء کے خون کی آواز دنیا بھر تک پہنچانے کے لئے جیل بھرو تحریک میں سرینگر پہنچی تھیں تو انہیں بھارتی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر کے جیل منتقل کیا تھا۔

جی ہاں! یہ ہے وہ کشمیری قوم کہ جسے شکست دینے کے لئے بھارت اپنے تمام تر لائو لشکر اور اپنے سارے شیطانی دوست اور حربے لے کر میدان میں 27 سال سے اترا ہوا ہے لیکن رسوائی اور شکست ہی اس کا مقدر ہے اور کیوں نہ ہوں یہاں ایک ایسی ماں شاہ بیگم ہی نہیں ہیں یہاں تو ایسی بے شمار مائیں ہیں۔ انہی مائوں میں سے ایک سرینگر کی سعیدہ بیگم بھی ہیں۔

40 سال پہلے کی بات ہے۔ سعیدہ بیگم کے شوہر ایک ٹریفک حادثے میں چل بسے۔ سعیدہ بیگم کو سسرال چھوڑنا پڑا تو وہ اپنے ننھے بچے لے کر میکے آ گئیں جہاں انہیں رہنے کے لئے ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی ملی۔ سعیدہ بیگم نے اس کوٹھڑی میں رہ کر اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے چار بیٹے پال پوس کر جوان کئے۔ بیٹے کمانے کے قابل ہوئے تو مقبوضہ کشمیر کی مسلح تحریک آزادی تیز تر ہو گئی۔ سعیدہ بیگم نے ایک ایک کر کے تین بیٹے نذیر احمد، طارق احمد اور مشتاق احمد راہ جہاد میں روانہ کر دیئے جو باری باری شہید ہو گئے۔ چوتھا بیٹا نثار احمد بھارتی مظالم کے نتیجے میں پہلے ذہنی مریض بنا اور پھر بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار اور پھر ہمیشہ کے لئے لاپتہ ہو گیا تو سعیدہ ہمیشہ کے لئے تنہا ہو گئیں۔

سعیدہ نے 25 سال کا عرصہ لالٹین کی روشنی میں گزارا تو ان کی بینائی بھی ختم ہو گئی اور آج سعیدہ بیگم نے اپنے سہارے اور کشمیر کی تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے رشتہ داروں سے ایک 7 سالہ بچہ گود لیا ہے اور وہ اسے جیسے تیسے پال رہی ہیں اور آخری سانس تک اس کی حفاظت کا عہد کر رہی ہیں تو بھارتی قبضے کے خاتمے کے لئے دعا بھی کر رہی ہیں۔

کشمیر یوںکے ان جذبوں کی یہ کہانیاں یہیں تک نہیں ۔ گزشتہ ہفتے ہی کی تو بات ہے،لشکر طیبہ کے ڈویژنل کمانڈر بلال للہاری جام شہادت نوش کر گئے۔ ان کا جسد خاکی ان کے گھر پہنچا تو کہیں آنسو نہ تھے۔ معصوم بہن اپنے بھائی کے مسکراتے لاشے کے پاس مطمئن بیٹھی تھی۔ ایسی کتنی لاشیں روزانہ کشمیر میں آج بھی اٹھ رہی ہیں۔ روزانہ معرکے پہ معرکے لڑے جا رہے ہیں لیکن سبھی شہداء کے لواحقین مطمئن… سبھی پرسکون… بھارت کی مسلح افواج اپنی تمام تر توانائیاں انہی جذبوں کو کچلنے، مسلنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں لیکن کچھ بن نہیں پا رہا۔

Kashmiri People
Kashmiri People

اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والوں کی جانوں کی قربانیاں بھارت کو پہلے سے زیادہ دہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ کشمیری قوم بھی کیسی قوم ہے کہ جس کے قائدین جیلوں میں پڑے ہیں۔ ساری قوم پر مقدمات بنے پڑے ہیں، کوئی گھر ایسا نہیں جہاں سے کوئی لاشہ نہ اٹھا ہو… جہاں کوئی زخمی یا اپاہج یا جہاں کا کوئی فرد لاپتہ نہ ہو… بھارت نے انہیں چار اطراف سے گھیر رکھا ہے لیکن شاہ بیگم اور سعیدہ بیگم کے سامنے بے بس ہے… یہ مائیں اپنے جذبے کہاں سے لاتی ہیں…؟ جب اس کی کھوج کی تو سلسلہ صحابیات سے جڑا پایا اور میدان قادسیہ میں چار بیٹے لٹانے والی ماں ،حضرت خنسائ نظر آئیں۔ کون خنسائ؟جن کے والد اور بھائی ایک جنگ میں قتل ہو گئے تو وہ ان کے غم میں دن رات شعر کہتے کہتے شاعری میں کمال درجہ پا گئیں۔ سیدہ خنسائ اپنے بیٹوں کے ساتھ جناب رسول اللہۖ سے ملنے آئیں اور ان سب لوگوں نے بارگاہ رسالت میں اپنے اسلام کا اعلان کیا۔

ان کی زندگی میں ہی دور فاروقی آتا ہے ۔ زمانے کی سپرپاور ایران کے خلاف سب سے بڑا میدان قادسیہ سجتا ہے۔ سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا کے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ یہ نہایت کڑا امتحان تھا، ان کی اس امتحان میں کامیابی کی کوئی نظیر نہیں۔جب سیدہ خنسائ اور ان کے چاروں بیٹوں نے قادسیہ کی طرف جہاد میں نکلنے کا اعلان سنا تو یہ چاروں شیر نوجوان اپنے کچھارسے نکل آئے اور جنگی ہتھیار پہن لئے پھر اپنی شیرنی بڑھی ماں کے سامنے جا کھڑے ہوئے کہ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے راہِ خدا میں قربان ہونے کیلئے رخصت کرے۔ ماں کی آنکھیں بھر آئیں تووہ کہہ رہی تھی ”ان شاء اللہ ،جب صبح ہو گی تو صحیح سلامت تم جہاد کی طرف جاؤ گے اور نہایت بصیرت اور سمجھداری کے ساتھ اپنے دشمن سے مقابلہ کرو گے۔ جب تم دیکھو کہ لڑائی شروع ہو گئی ہے اور لڑائی کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

تو تم بھی لڑائی کی آگ میں بے دھڑک کود جاؤ اور بڑے بڑے جنگجوؤں اور سرداروں سے مقابلہ کرو اور تلوار کے جوہر دکھاؤ” پھر تاریخ نے دیکھا کہ مسلمان بہادر مجاہدین فتح یاب ہو کر قادسیہ سے واپس لوٹتے ہیں لیکن سیدہ خنسائ کے چاروں شیر جوان ان میں شامل نہیں ہیں۔ ان کی ماں معرکہ سے آنے والے مجاہدین کی طرف جا رہی ہے اور اپنے بیٹوں کے بارے معلوم کرنا چاہتی ہیں۔ ایک شخص جوان کی کیفیت جانتا تھا۔ سیدہ خنسائ اب انہوں نے دین اسلام کا دامن اپنی خوشی سے تھاما تھا وہ کسی صورت ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتی تھیں وہ اپنے مومن ہونٹو کے ساتھ سچائی سے فرما رہی تھیںخنسائ کے قریب آیا اور کہنے لگا بڑی اماں! تمہارے بیٹے شہید ہو گئے ہیں۔

وہ میدان جنگ میں آگے بڑھتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ واپس بھاگتے ہوئے مارے نہیں گئے ہیں، وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔اس موقعہ پر سیدہ خنسائ نے فرمایا”اس اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے مجھے ان تمام کی شہادت کا شرف بخش مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار اپنی رحمت کے ساتھ جنت الفردوس میں مجھے ان کے ساتھ اکٹھا کرے گا۔

جی ہاں! خنساء کی اسی روایت کو زندہ کرنے والی کشمیری مائیں آج بھی میدانوں میں اسی طرح ڈٹی ہوئی ہیں اور تاریخ دیکھ رہی ہے کہ بھارت پر غزوہ ہند کا خوف سب سے زیادہ سوار ہے اور وہ اس کے لئے اپنے شل اعصاب کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے لیکن میدان قادسیہ کی فاتح سیدہ خنسائ کی طرح ان شاء اللہ اس باربھی فاتح شاہ بیگم اور سعیدہ بیگم ہی ہیں۔ دیر ضرورہے لیکن اندھیر نہیں۔

Ali Imran Shaheen
Ali Imran Shaheen

تحریر: علی عمران شاہین

Share this:
Tags:
jail kashmir notorious Popular words الفاظ بدنام جیل کشمیر ماں مقبول
Minhaj-ul-Quran
Previous Post ڈنڈہ بردار انقلاب نہیں چاہئے
Next Post استقبال رمضان
Mohammad Asif Iqbal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close