Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مرض ایڈز سے پاک دنیا کے بڑھتے قدم

December 1, 2016 0 1 min read
World AIDS Day
World AIDS Day
World AIDS Day

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
یکم ڈسمبر کو عالمی سطح پر یوم ایڈس منایا جاتا ہے۔ اس دن صحت کی تنظیمیں، کالج اور اسکول کے طلباء ریلیاں نکالتے ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ حکومت کے پیغام کو عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایڈس کے مریضوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور پھر دنیا اپنی ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ 1995ء میں امریکی صدر نے یکم ڈسمبر کو عالمی یوم ایڈس قرار دیا تھا اور اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ادارہ صحت WHOکے ایڈس مشن میں کام کرنے والے دو صحافیوں بن اور نیٹر نے 1988ء میں پہلی مرتبہ عالمی یوم ایڈس منانے کی تجویز رکھی تھی جسے اقوام متحدہ نے قبول کیا اور امریکی صدر کے اعلان کے بعد باضابطہ طور پر ہر سال یکم ڈسمبر کو عالمی یوم ایڈس کی تقاریب کا ساری دنیا کے ممالک میں اہتمام کیا جا رہا ہے۔ایڈز کے خلاف عالمی یوم کے موقع پر ایچ آئی وی اور اس موذی مرض کے خلاف بر سرپیکار ایک اہم گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بالآخر ایڈز کے خاتمے کے آغاز تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ برس پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایچ آئی وی سے نئے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایسے ایچ آئی وی پوزیٹیو افراد کے مقابلے میں کم تھی جن کی رسائی ان ادویات تک ممکن بنائی گئی جو ایڈز سے بچنے کیلئے اب انہیں زندگی بھر استعمال کرنا ہوں گی۔ اقوام متحدہ کی ایڈز ایجنسی (UNAIDS) کے مطابق اس خطرناک وائرس سے بچائو کیلئے آگاہی پیدا کرنے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی ایڈز سے بچاو کی ادویات تک رسائی بڑھانے اور دیگر اقدامات کی بدولت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سال 2030ء تک دنیا سے اس جان لیوا بیماری کا خاتمہ ہو سکے۔ اس مہم کو ‘کلوز دی گیپ’ کا نام دیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ فی الوقت پوری دنیا میں لگ بھگ 4کروڑ افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جیسے تیسے جی رہے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق تجرباتی ایچ آئی وی ویکسین کی مدد سے پہلی بار انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، یہ ویکسین پہلے سے موجود تجرباتی ویکسین کو ملا کر تیار کی گئی ہے جسے تھائی لینڈ میں 16ہزار افراد پر آزمایا گیا ہے، ویکسین ٹرائل کا یہ اب تک کا سب سے بڑا تجربہ ہے ان 16ہزار افراد کا رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات ویکسین بنانے والے ماہرین کو پیش کرنا ایک نہایت ہی قابل تعریف و تحسین اقدام ہے کہ اس ویکسین نے ایڈز جیسی بیماری کو پھیلانے والے ایچ آئی وی وائرس کے انفیکشن کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کردیا ہے۔ اس تحقیق و ریسرچ کو اس سمت میں اب تک کی جانے والی بڑی کامیابی مانا جارہا ہے جس پر امریکی فوج کے ڈاکٹر اور تھائی حکومت کی مدد سے سات برس کام کیا گیا ہے اور اس میں اٹھارہ سے تیس برس کی عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے خود کو تجربے کیلئے پیش کیا جن میں ایچ آئی وی وائرس موجود نہ تھا۔

AIDS
AIDS

امید کی جارہی ہے کہ شعور بیدار اور بہتر علاج کی سہولتوں کے ساتھ اس مرض پر بہت حد تک قابو پایا جاسکے گا اور ہماری آنے والی نسلیں اس موذی مرض سے پاک دنیا میں جی سکیں گی۔ مرض ایڈس HIV وائرس سے پھیلتا ہے۔ HIV یعنی (Human Immuno Deficiency Virus ) انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو نا کارہ بنا دیتے ہیں۔ یعنی انسانی جسم میں جراثیم سے لڑنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ HIV کی انتہائی حالت (AIDS) ( Immuno Deficiency Syndrome Acquired )کہلاتی ہے۔ یعنی اگر کوئی انسان HIV سے متاثر ہو جائے تو وہ فوری نہیں مر جاتا اگر وہ مخصوص دوائیں لے طاقت ور غذائیں استعمال کرے اور صحت مند زندگی گذارے تو آٹھ تا دس سال کے بعد HIV ایڈس کی حالت کو پہنچتا ہے۔ HIV کا وائرس انسانی جسم کے درجہ حرارت میں زندہ پہنچتا ہے۔ HIV کا وائرس انسانی جسم کے درجہ حرارت میں زندہ رہتا ہے۔ یعنی اسی گرمی کے مائعات خون و غیرہ میں زندہ رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈس کی ابتداء براعظم آفریقہ سے ہوئی اس کو پہلی مرتبہ 1981ء میں دریافت کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک ساری دنیا میں اس مرض سے 40ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اور 35ملین سے ذائد افراد جن میں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں اس مرض سے متاثرہ ہیں۔

عالمی یوم ایڈز کے موقع پر UNO کے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہارا سے ملحق افریقی علاقوں میں جہاں ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے وہاں عالمی سطح پر یہ بیماری دنیا کی چوتھی بڑی بیماری ہے ایک تہائی لوگ 14 سے 24 برس کی عمر کے ہیں جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس موذی مرض کی پکڑ میں آچکے ہیں۔ آج ساری دنیا میں اس مرض سے متاثرہ افراد میں بر اعظم افریقہ کا نمبر سر فہرست ہے جہاں کی 70%آبادی اس مہلک اور لا علاج مرض میں مبتلا ہے۔ افریقہ میں لوگ بوڑھے ہوتے ہی نہیں ہے اور اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 3040سال کی عمر میں وفات پا جاتے ہیں۔ نائجیریا :ہندوستان اور جنوبی ایشیائی ممالک کا نمبر افریقہ کے بعد ہے جہاں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ”معمولی معلومات” بھی نہیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ ، وسطیٰ افریقہ، مشرقی ایشیا میں ایسے لوگوں کی گنتی ایک اندازے کے مطابق 13لاکھ سے زائد ہے۔ شمالی امریکہ میں 7لاکھ ، مغربی یورپ میں 6لاکھ ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اور کریبین علاقوں میں چھ لاکھ سے زائد افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے۔

عالمی سطح پر ادارہ صحت اور دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے اس مرض کی روک تھام اور عوامی شعور کی بیداری کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے اقدامات غیر فطری ہیں۔ اور مرض پر قابو پانے کے بجائے اس کے مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ HIV وائرس آفریقہ کے بندروں میں پایا گیا تھا۔ اور وہ وہیں سے انسانی جسم میں منتقل ہوا۔ HIV وائرس کس طرح بندروں سے انسانی جسم میں داخل ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ انسان نے جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے غیر فطری طریقہ اختیار کیا اور ان بندروں سے خواہش کی تکمیل کی اور HIV ان میں داخل ہو گیا اور دیگر انسانوں میں پھیلتا گیا۔ ایڈز (AIDS) موجودہ دور کی ایک لاعلاج بیماری ہے۔ گویا یہ ایک قدرتی عذاب ہے جو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد زنا میں مبتلا ہونے والوں پر نازل ہوتا ہے۔ اس بیماری سے سارے عالم میں لاکھوں اموات واقع ہو رہی ہیں۔ اس میں مرد، عورت، نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں سبھی شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کو ایڈز کا تحفہ کس نے دیا؟ غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی اقوام کے فحش کلچر نے دنیا بھر میں ایڈز کو فروغ دیا ہے۔

Stop Aids
Stop Aids

مغربی ممالک کے فحش ذہن رکھنے والے افراد (جن کا مخصوص گروپ ہے ) نے انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹ، فحش لٹریچر، عریاں فیشن شو، مختلف انگریزی و فحش بلو فلمیں ، سیریلز، نائٹ کلب شوز، فلموں میں ہیجان انگیز فحش مناظر، بوائے فرینڈ کلچر، گرل فرینڈ کلچر، آزادانہ جدید ثقافت کے نام پر غیر قانونی ناجائز تعلقات، ہم جنس پرستی کو دنیا کے کونے کونے میں مختلف منصوبہ بند طریقوں سے عام کرتے ہوئے دنیا کی مختلف اقوام کو ایڈز جیسی مہلک اور خبیث بیماری میں مبتلا کر دیا۔ دنیا کو فحش سماج میں تبدیل کرتے ہوئے مختلف مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے فحش گروپ نے عریانیت کو Pornographic Industry کے ذریعہ سارے عالم میں فروغ دیتے ہوئے کروڑہا روپے کمانے کا ذریعہ بنایا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں طوائفوں کا جال بچھا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں طوائفوں کو پناہ دیتے ہوئے Red Light Areas قائم کرتے ہوئے جسم فروشی کو قانونی ذریعہ معاش بنا دیا۔

مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے ‘ہم جنس پرستی، کی شادیوں کو عام کر دیا۔ ہم جنس پرستی ایک ایسا عمل ہے جسے جانور بھی پسند نہیں کرتے۔ لیکن مغربی کلچر نے ہم جنس پرستی کو اشرف المخلوقات میں عام کر دیا۔ ہم جنس پرستی کی وجہ سے قومِ لوط پر پتھروں کی بارش کی شکل میں قدرتی عذاب نازل ہوا لیکن موجودہ دور میں ہم اپنے اعمال کی وجہ سے قومِ لوط پر نازل ہونے والے عذاب سے بھی خطرناک قدرتی عذاب ‘ایڈز، کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دنیاتیسری جنگ عظیم کی شکل میں ایڈز کی وجہہ سے تباہ ہو رہی ہے۔

موجودہ دور میں مغربی عریاں کلچر نے دنیا کے تمام ممالک میں کم سن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا کر دیا، مغربی ممالک میں کم سن لڑکیوں کے حاملہ ہو جانے کے واقعات میں تیز رفتار اضافہ کر دیا۔ عریانیت کے سیلاب نے مقدس رشتوں کو بھی پامال کر دیا۔دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد انٹرنیٹ، عریانیت اور شہوانیت کو فروغ دینے میں ایک اہم ترین ذریعہ بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹ، فحش چیٹنگ نے دنیا بھر میں شادی سے پہلے شادی کے بعد غیر قانونی ناجائز تعلقات کو تیز رفتار ی سے عام کر دیا۔ حالانکہ انٹرنیٹ انتہائی مفید ایجاد ہے لیکن موجودہ دور میں اس کا غلط استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ اب تو سیل فون پر بھی فحش فلمیں ، فحش تصاویر ڈاؤن لوڈ کئے جا رہے ہیں۔ اس سے ہر گھر میں تباہی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ موجودہ حالات میں عریانیت اور شہوانیت کو فروغ دینے والے عوامل سے محفوظ رہتے ہوئے زنا سے بچنا بھی جہاد کے مماثل ہے۔

بنیادی طور پر HIV چار طریقوں سے پھیلتا ہے۔
1 }HIV سے متاثرہ عورت یا مرد سے غیر محفوظ جنسی تعلقات کے نتیجہ میں
}HIV2 سے متاثرہ مریض کا خون کسی صحت مند انسان کو چڑھانے سے
3 }ایڈس کے متاثرہ مریض کیلئے استعمال کی گئی سوئی یا بلیڈ دوسرا استعمال کرنے سے
4 }ایڈس سے متاثر حاملہ عورت سے پیدا ہونے والے بچے کو
ایڈس ایک متعدی مرض نہیں ہے یہ ہوا، پانی، غذا، مکھی، مچھر سے نہیں پھیلتا، متاثرہ شخص کے استعمال کردہ حمام، بیت الخلاء اور تولیہ سے نہیں پھیلتا۔ ایڈس کے مریض کیساتھ اْٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور رہنے سہنے سے نہیں پھیلتا۔ دنیا میں 90 فیصد ایڈس غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیل رہا ہے۔ باقی 10% دیگر تین ذرائع سے پھیل رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایڈس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور ریاست آندھرا پردیش ایڈس سے متاثرہ مریضوں میں ہندوستان سب میں سر فہرست ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایڈز کے مطابق عالمی سطح پر اس مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں بھی واضح کمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ایڈز کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیش رفت کی وجہ دواؤں کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا بھی ہے۔ اس سالانہ رپورٹ میں تازہ ترین اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ایڈز سے سب سے زیادہ ہلاکتیں 2005 میں ہوئی تھیں اور یہ تعداد 23 لاکھ تھی، جو اب کم ہو کر 2011 کے اختتام تک 17 لاکھ رہ گئی ہے۔ 2010 میں ایڈز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ لاکھ تھی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 34 ملین افراد ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں عالمی برادری کی ایڈز کے خلاف اجتماعی کوششوں کو انتہائی مناسب اور شاندار خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دنیا بھر میں آ پس کے تعلقات یا انتقال خون سے پھیلنے والے انتہائی خطرناک مرض میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔ 2011 میں ایڈز میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد 25 لاکھ ریکارڈ کی گئی جو 2001 کے مقابلے میں بیس فیصد کم تھی۔ ادارے نے اس کمی کا کریڈٹ عالمی برادری اور ان حکومتوں کو پیش کیا، جن کی خصوصیت کی وجہ سے اس مرض کے بارے میں مختلف النوع معلوماتی اور حوصلہ افزا سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس کمی کا سہرا مختلف دوا ساز اداروں کو باندھا گیا، جن کی ریسرچ سے ایسی شافی دوائیں تیار کی گئیں ، جن کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا افراد کی قوت مدافعت کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ رپورٹ میں گلوبل کمیونٹی کی صحت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بدستور ایڈز کے مرض کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران مدافعتی دواؤں اور معلوماتی سرگرمیوں سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں جو بیس فیصد کمی پیدا ہوئی ہے ، اس کو ایک شاندار اجتماعی کوشش قرار دیا۔

دنیا کی اقوام میں مرض ایڈس کا جائزہ لیا جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آتا ہے کہ مسلمان قوم میں مرض ایڈس کم پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ نعرہ دیا جا رہا ہے کہ ”اسلامی زندگی اپناؤ ایڈز سے بچو” کیونکہ خوفِ خدا نہ ہونے ، صفائی کا خیال نہ رکھنے ، شراب نوشی کے بعد نشہ کی حالت میں جنسی بے راہ روی کا شکار ہونے کے سبب ایڈس آسانی سے فاحشہ عورتوں سے مردوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اور ان مردوں سے ان کی بیویوں میں اور بیویوں سے اْن کے بچوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ مرد اپنی بیوی سے وفاداری نبھائیں۔ لیکن نعروں سے کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ ہندوستان میں ٹرک ڈرائیور ان پڑھ دیہاتی، گھروں سے لمبے عرصہتک دور رہنے والے فوجی اور اس قسم کے لوگ جنسی بے راہ روی کا شکار ہو کر ایڈس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایڈس کے بارے میں مکمل جانکاری ہو تب ہی ایڈس سے بچاؤ ممکن ہے۔ نوجوان نسل میں اخلاقی تعلیمات خوف خدا اور صحت مندی کے اصولوں کی تعلیم دی جائے تو ایڈس کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس نے حضور اکرم ۖ کی تعلیمات کے ذریعے واضح کر دیا کہ جب بچہ شادی کی عمر کو پہنچے تو اس کی شادی کر دینا چاہئے اگر کوئی شادی کی قدرت نہ رکھے تو اسے مسلسل روزے رکھنے چاہئیں تاکہ اس کی نفسانی خواہشات پر قابو پایا جا سکے۔ انسان کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں جن کی تکمیل کے لئے اگر اسے شادی جیسے جائز راستے نہ ملے تو وہ غیر محفوظ اور غیر اخلاقی جنسی تعلقات کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور وہیں سے اس کی بربادی کا راستہ کھل جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہندوسماج میں خوف خدا نہ ہونے اور شادی کے لئے جہیز اور کٹنم کے نام پر اور ذات پات اور برادری کے نام پر شادی کو موخر کیا جا رہا ہے اس لئے ان کے بچے بے راہ روی کا شکار ہو کر ایڈس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اس لئے سماجی سطح پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں شادی کی عمر کو کم کیا جائے اور لڑکی کی شادی 18تا21سال میں اور لڑکے کی شادی 21تا 25سال میں کی جائے اور سماج سے کٹنم کی لعنت کو دور کرنے کے لئے سماجی اور مذہبی ادارے آگے آئیں۔ مسلمانوں میں بھی جہیز کی لعنت کے سبب شادی میں تاخیر ہو رہی ہے۔تاہم مسلمانوں میں بچپن میں لڑکوں کی ختنہ کی سنت سے بھی ایڈس سے بچاؤ میں 99%تک کامیابی مل رہی ہے۔ ختنہ کی سنت سے بہت سے بیماریوں سے بچا جاتا ہے اس لئے آج غیر مسلموں خاص طور سے راجپوتوں اور دیگر اقوام میں ختنہ کی سنت کو عام کیا جا رہا ہے۔ اور دیگر ممالک میں بھی اس کے طبی فوائد دیکھ کر اسے اختیار کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایڈس کے موقع پر جہاں کہیں سمینار جلسے اور معلوماتی پروگرام منعقد ہوں اس بات پر زور دیں کہ اسلامی تعلیمات خاص طور سے شادی کو آسان بنانا اور ناجائز رشتوں کو غلط قرار دے کر مجرموں کو سخت سزا دینا اور خوف خدا کے ساتھ پاک صاف زندگی گذارنا ہی ایڈس کے مرض کا موثر علاج ہے۔

مرض ایڈس کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا اور ہو گا بھی نہیں کیونکہ سچی خبر دینے والے مخبر صادق پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیۖ کے ارشادات میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ اگر کسی قوم میں زنا کاری اور بد کاری عام ہو تو اس قوم میں ایسی بیماریاں پیدا ہوں گی جن کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔ اور آج ہم یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ اور دین اسلام پر چلنے والے مسلمانوں میں یہ مرض نہیں کہ برابر ہے۔ اس لئے ہرسال یوم ایڈس کے موقع پر ہم واضح طور پر یہ اعلان کریں کہ ”اسلامی تعلیمات اختیار کرو ایڈس سے بچو”۔ ہماری نوجوان نسل کو ایڈس سے بچانا اسلئے ضروری ہے کہ کل کے ذمہ دار شہری بننے والے ہیں۔ انہیں ملک کی ترقی کے مختلف کام کرنے ہیں۔ اگر یہ نسل ایڈس سے متاثر ہو جائے تو ملک کیلئے کام کرنے والے لوگوں کی کمی ہو جائے گی۔ اچھے افراد کی قلت ہو جائے گی۔ آج ٹیلی ویڑن اور انٹر نیٹ کے مضر اثرات سے بھی ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان میں دینی تعلیمات کو عام کرنے اور ان میں خوف خدا کا جذبہ پیدا کرنا بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایڈس کے بارے میں صحیح معلومات رکھیں۔ اور ان معلومات کو گاؤں گاؤں میں عام کریں۔ اسطرح دیہاتیوں کو ایڈس کے بارے میں جانکاری حاصل ہو گی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایڈس کے خلاف مہم کو اخلاقیات کے دائرے میں رکھ کر چلائے۔ ایسی کوئی بات اور کام نہ کریں جس سے نوجوانوں کے جذبات مشتعل ہو جائیں اور وہ غلط راستے پر چلنے لگیں۔ NACOاور دیگر ادارے اگر ان باتوں کو اپنی مخالف ایڈس مہم میں شامل کریں تو امید ہے کہ اگلے چند سال میں ایڈس کی روک تھام میں اچھے نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ بہر حال ایڈس جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اس آگ کو آگے بڑھ کر بجھانا سب کی ذمہ داری ہے۔ اور اس مرض سے بچنے کا واحد حل اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنا ہے۔

Aslam Faroqui
Aslam Faroqui

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد

Share this:
Tags:
AIDS disease rallies United Nations World اقوام متحدہ دنیا ریلیاں قدم مرضِ
Cleaning Campaign
Previous Post ضلع وسطی میں 100 روزہ صفائی مہم کا آغاز، وسائل محدود، جذبہ لامحدود
Next Post مشین محلہ اثریہ روڈ پر ڈکیتی کرنے والے ملزمان گرفتار اسلحہ اور بھاری رقم برآمد
Jhelum

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close