Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دنیا بدل گئی ہے

July 10, 2021 0 1 min read
Corona Vaccine
Coronavirus
Coronavirus

تحریر : عائشہ یاسین

2019 کے آخر تک وقت کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ ہم نے دنیا کے قدم سے قدم ملانے کے لئے بھاگنا شروع کردیا تھا۔ کب دن چڑھتا تھا اور کب رات ہوجاتی تھی خبر نہ ہوتی۔ زندگی ایک ریس کی مانند بھاگ رہی تھی۔ وقت کی کمی کا شور ہر طرف برپا تھا کہ 2020 کا سورج طلوع ہوتے ہی قدرت نے اپنے لائحہ عمل میں تبدیلیاں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ریل کی پٹری پر بھاگتی ہوئی بے ہنگم زندگی کو کسی نے زنجیر کھینچ کر روک دیا۔ دنیا بھاگتے بھاگتے پتھر کے سل کی طرح جم گئی۔ جہازوں نے آسمانوں پر کمند ڈالنا چھوڑ دیا۔ سڑکوں پر چار پہیوں کا شور تھم گیا۔ انسان جو گلوبلائزیشن اور ون ولیج کی باتیں کیا کرتا تھا، اوردور دراز دنیا کے نقشے پر اپنا نشان ثبت کر رہا تھا اچانک اپنی رفتار کو لگام دے کر جمود میں آگیا۔ بھائی چارہ، مساوات، رنگ و نسل کے تنازع سے انکاری لوگ دوبارہ اپنے مذہب، ذات پاک،نسلی امتیاز اور تعصب کا شکار ہوگئے۔ ایک نا ختم ہونے والی بحث شروع ہوئی۔ دنیا میں اپنی ڈھاک جمانے کی بحث، اس دنیا پر حکمرانی کی بحث، جو لوگ انسان کی جسمانی اور نفسیاتی آزادی کے لئے کوشاں تھے وہی لوگ لوگوں کی غلامی کے متمنی دکھائی دیے۔ 2020 سے لے کر اب تک تمام حالات ایک ہی تناظر میں مبتلا ئے حال ہیں کہ اب دنیا کا کیا ہوگا؟ یہ وباء جس نے بنا کسی تفریق کے پوری دنیا کو اپنا یرغمال بنا رکھا ہے کیا کوئی اس کو لگام ڈال پائے گا۔

2020 کے شروع میں جب اس وباء نے اپنے پاؤں گاڑنے شروع کئے تو ساری دنیا ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ خاص کر ترقی یافتہ ممالک اور ان کے رہنے والے اس بات پر اٹل تھے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا کوئی سازشی پھندا ہے جو دنیا کے لوگوں کے لئے تیار کیا گیاہے اور یہ ففت جرنیریشن وار سے جڑی کہانی ہے جو کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت تیار کی گئی ہے۔ لوگ اس بات پر یقین رکھتے رہے کہ یہ وباء کے بنانے والوں کے پاس اس وباء کا علاج بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں چائنہ، امریکہ اور بھارت میں بڑی بحث جاری رہی۔ الزام تراشیاں اور ثبوت فراہم کئے گئے۔ اس سارے معاملے میں پاکستان اور ایران کا نام بھی شامل رہا۔ برطانیہ اور روس بھی موضوع بنے۔ سب سے پہلے اس وباء نے چین اور پھر اٹلی میں تباہی پھیلائی اور یہ انکشاف ہوا کہ یہ مرض عمر رسیدہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ تمام تناظر سے ہٹ کر یہ بات بڑی حیران کن رہی کہ دنیااتنی ترقی کرنے کے باوجود اس مرض کی ہیئت اور مزاج کو سمجھنے میں ناکام نظر آرہی تھی۔ تمام ممالک کے لئے یہ ایک چیلینج کے طور پر سامنے آئی۔ یہ وباء کیسے پھیلی اس کا حتمی جواب ابھی تک مل نہیں سکا۔ امریکہ اورچائنا کے درمیان یہ بحث جاری رہی کہ یہ سازش ان کی خود ساختہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے رہے۔ پہلا کیس چائنا کے شہر وہان سے بر آمد ہونے کے شواہد ملے تو کچھ عرصے بعد پہلا کیس کا انکشاف برطانیہ سے ملنے کا بتایا گیا۔ ان تمام مراحل میں دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ کاروبار رک گئے، گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہوگئی، جہازوں نے اڑنا چھوڑ دیا اور دنیا ایک ویران جگہ بن گئی۔ جہاں آدمی آدمی سے کترانے لگا اور خود کو گھروں محصور کرنے کا پابند ہوگیا۔ ترقی کا پہیہ رک گیا۔ سائنس مجبور ہوگئی۔ انسان آسمان سے گر کر زمین پر رینگنے لگا۔

یہ وار پراکسی وار سے کچھ الگ ثابت ہوئی۔ معیشت کے اعتبار سے اقتدار کا خاکہ بدل رہا ہے۔ طاقت ور ممالک کی گرفت اب کمزور پڑ رہی ہے۔ لگتا ہے کہ دنیا کی حکمرانی کی ڈور اب نئے ہاتھوں میں جانے والی ہے۔ بھارت جو کہ دنیا کے سوپر پاور ممالک کے لیے کام کرتا رہا ہے اس کی اپنی سر زمین اس وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ امریکہ، انگلینڈ، اٹلی، فرانس، جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک اس کے وار سے بدحال ہوچکے ہیں۔ جی سیون اب تنزل کا شکار ہے۔ چائنہ نے اپنی ساخت بحال کرلی ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا جاری ہے۔ بارڈر سیل ہوچکے۔ پاکستان پر اللہ کا کرم ہوا۔ اس وباء نے پاکستان پر وار کم کیا اور ہم ان مشکلات میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہے جیسے یہ بڑے ممالک ہوئے۔ اب دنیا کا نقشہ بدل گیاہے۔ جغرافیائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے ایک نیا رنگ اختیار کیا ہے۔ جہاں اس وباء نے انسانوں کو نفسیاتی مسائل سے دوچار کیا وہیں ماحولیاتی تباہ کاریوں میں بھی خاطر خواں اضافہ ہوا۔ گلوبل وارمنگ نے شدت اختیار کرلی اور سردی و گرمی کا تناسب قدرے مختلف ہوچکا۔ اس تبدیلی کے باعث زراعت کے شعبے میں اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ جغرافیائی اعتبار سے فصلوں کی کاشت اور نشو ونما میں فرق آیا۔ بارشوں اور سیلاب نے دشواریاں کھڑی کی۔ انڈیا میں آنے والے طوفان نے گجرات کو نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب چائنا میں بن موسم برسات اور برف باری نے موسم کے تفریق کا عندیہ دیا۔

لوگوں کے مزاج کے ساتھ ہی دنیا کے تمام عوامل میں تبدیلی آچکی ہے۔ دنیا کی تاریخی اوراق میں یہ بات ضرور لکھی جائے گی کہ جب حضرت انسان نے حد سے تجاوز کرنا شروع کیا اور ایسی ایجادات کا ارادہ کیا جس سے خود کو خدا سمجھنے لگا تو کچھ ایسے معاملات اور غلطیاں کر بیٹھا جس سے دنیا کا چرکھا رک گیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ایک انسانی سازش ہے یا اللہ کی طرف سے سجایا گیا ایک سبق، دنیا نے ایک ایسا وقت ضرور دیکھا جس میں تمام تر سائنسدان بے بس دکھائی دیے۔ چاہے یہ امریکہ کی چال ہو یا بل گیٹس کا ڈرامہ، پر تیسری دنیا کے رہنے والوں کے لیے بڑا کڑا وقت ثابت ہوا۔ روزگار اور صحت کے مسائل اور تعلیمی نظام برباد ہوگئے۔ ہماری نوجوان نسل نفسیاتی دباؤ کا شکار رہی۔ آگے بڑھنے اور تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی نے ہمارے نوجوانوں کو ایک بڑے چیلینج میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اس کا ادراک کسی کو بھی نہیں۔ سائنسدانوں، محققین اور تاریخ سازوں کے ہاتھ کچھ بھی رقم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ دنیا کی ترقی و تنزلی کے کون سے مدارج مستقبل قریب میں رائج ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

یہ بات واضع ہے کہ جینے کے تمام اصول و ضوابط کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ اپنے مقاصد کو ترتیب دینے اور تابناک مستقبل کی جانب قدم اٹھانا کے لیے ایک مربوط نظام کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارا قیمتی وقت ضائع ہوچکا ہے۔ اب ہمیں پچھلے سال اور موجودہ سال کے نقصانات کا تخمینہ لگانا چاہیے اور بدلتے دنیاوی رویوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ تاکہ ہم ملکی بدحالی کو خوش حالی میں بدل سکیں۔ منظم منصوبہ بندی اور تمام سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کو ایک ساتھ ملکی استحکام کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی مخالفت میں وقت برباد کرنے کے بجائے ملکی سلامتی پر کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں کو مضبوط اور مستحکم لائحہ عمل دینا ہوگی۔ جو نقصان اس وباء نے ہماری معیشت کو پہنچایا ہے اس کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صاحب اقتدار لوگ اپنا کردار ادا کرے۔ جو ایوانوں میں موجود ہیں وہ اپنا حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے عوام دوست پالیسیوں کو منظور کرائیں۔ خاص کر ہمارا نوجوان طبقہ جو اس مدت میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس کی فلاح اور بہبود کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ادارہ قائم کیا جائے جہاں تعلیم کے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے وہیں تدریسی نظام کو رشوت اور شارٹ کٹ جیسی عوامل سے پاک کیا جائے۔

ہمین ملکی اور انفرادی طور پر ہر ممکن حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہے کیونکہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے؟ اس کا جواب ملنا ابھی بھی باقی ہے۔ سوال بہت سے ہیں جن میں اہم سوال ہماری آنے والی نسل سے متعلق سب سے اہم ہیں۔ ہمارے بچے جو اپنی آزادی کھو چکے ہیں کیا وہ اس شک و وسوسے والے ماحول میں پروان چڑھ پائیں گے؟ اگر ہاں تو وہ کونسے محرکات ہوں گے جن سے گزر کر ان کی ذہنی و نفسیاتی اصلاح ممکن ہوسکے گی؟ کیا نوع انسانی دوبارہ آزاد فضا میں سانس لے پائی گی؟ اپنوں اور پرایوں کو گلے لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلا پائے گی یا ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی کہ کہیں یہ وباء ان کو بھی نہ دبوچ لے۔

Corona Vaccine
Corona Vaccine

شاید دنیا واقعی بدل گئی ہے۔ انسان سے جینے کا حق لے لیا گیا ہے۔ کیا دنیا کی تعطلی کی وجہ یہ دنیاوی نا خدا ہیں؟کیا وہ طاقت کے حصول کے لیے انسانی جانوں کو استعمال کر رہے ہیں؟ کیا یہ ویکسین انسانوں کو کنٹرول کرنے کا آلہ کار ثابت ہوگی؟ کیا ویکسین ہمارے مستقبل کی بقاء کا ضامن ہوگا؟ کیا یہ ویکسین ہمارے دماغ پر قابو کرنے کی سازش ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہر ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ دنیا میں موجود ہر ایک شخص اس تکلیف میں مبتلا ہے کہ کب دنیا سے وباو ختم ہو اور وہ اسی طرز پر زندگی گزار سکے جب دنیا آزاد، بے فکر اور ہر شبہے سے پاک تھی۔ ہماری سوچ اور ہمارا عمل محدودیت کا شکار ہوچکا ہے۔ ہم مستقبل کے منصوبہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم وہ انسان ہیں جو دو سال پہلے تک ترقی کے میدان میں معرکہ سر کر رہے تھے پر آج ایک ویکسین کا محتاج ہو چکے ہیں اور ہر شخص ایک سوال کر رہا ہے کہ کیا واقعی دنیا بدل گئی ہے؟

تحریر : عائشہ یاسین

Share this:
Tags:
change Charges disclosure disease Governance World الزام انکشاف بدل حکمرانی دنیا وباء
Street Crime
Previous Post ظلم رہے اور امن بھی ہو
Next Post افغانستان کل اور آج
Afghanistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close