Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمی یوم مادری زبان اور اردو زبان سے لاتعلقی

February 20, 2018February 20, 2018 0 1 min read
Madri Zaban
Madri Zaban
Madri Zaban

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
ہر زمانے اور ہر عہد میں، ہر قوم کے درمیان اپنی مادری زبان کی اہمیت رہی ہے اور جس قوم نے اپنی مادری زبان کو اپنی زندگی کا اہم حصّہ بنایا، اس قوم نے ترقی کے منازل طئے کئے ہیں ۔ویسے کسی کا قول یہ بھی ہے کہ جس قوم کے وجود کو ختم کرنا ہو ، تو پہلے اس کی زبان ختم کر و ۔ اس تناظر میں آج یعنی 21 فروری کو عالمی سطح پر منعقد کئے جانے والے یوم مادری زبان کا ہم ایک عمومی جائزہ لیں تو ہم یہ پائینگے کہ دراصل اپنی زبان،اپنی تہذیب،اپنے تمدن،اور اپنی قدروںسے والہانہ لگاؤہی کسی بھی مہذب قوم کی علامت ہے اور بنگلہ زبان کے چاہنے والوں نے اپنی مادری زبان سے جنون کی حد تک عشق کرنے کی شاندارمثال قائم کی ہے ۔ یہ ان کی اپنی مادری زبان سے والہانہ لگاؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ ان لوگوں نے اقوام متحدہ کو اپنی مسلسل جد وجہدسے مجبور کر دیا کہ وہ ہر سال عالمی سطح پر یوم مادری زبان منعقد کرنے کا فیصلہ کرے ۔چنانچہ17 نومبر1999 ء کو عالمی سطح پر یوم مادری زبان منائے جانے کے اعلان کے ساتھ ہی سن 2000 ء سے ہر سال 21فروری کو’ عالمی یوم مادری زبان’ کے انعقاد کا اقوام متحدہ نے سلسلہ شروع کر دیا ۔ جس پر پوری طرح سے عمل کیا جا رہاہے ۔ ‘عالمی یوم مادری زبان’ کے سلسلے میں کئی چونکانے والی معلومات ہمیں اس طرح ملتی ہیں کہ ، اردو زبان کو جب غیر منقسم پاکستان میں قومی زبان تسلیم کیا گیا تو اس کے خلاف ( سابق ) مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت، مشرقی پاکستان میں اردو کی بجائے بنگلہ زبان کو قومی زبان کو درجہ دے، لیکن حکومت پاکستان ان کے اس مطالبہ پر رضامند نہیں ہوئی ۔ جس کی مخالفت میں احتجاج اور مظاہروں نے وہاں زور پکڑ لیا ۔ ان احتجاج اور مظاہرے کو روکنے کے لئے حکومت وقت نے بہت سخت قدم اٹھائے ،جگہ جگہ لاٹھی چارج کئے گئے اور بعض جگہ مشتعل ہجوم پر گولیاں بھی چلائی گئیں ، جس سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے چار طلبہ کی موت واقع ہو گئی۔ ان طلبہ کی اموات نے احتجاج کرنے والوں کو مذید مشتعل کر دیا اور ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی مادری زبان کا حق لے کر رہینگے، اور حکومت پاکستان کے فیصلہ کے بر خلاف مشرقی پاکستان میں 29 فروری 1956 کو بنگلہ زبان کو وہاں کی قومی زبان بنائے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔

مادری زبان کی یہ چنگاری ایسی پھیلی کہ پورا ملک آگ اور خون میں بدل گیا اور آخر کار 1971 ء میں صرف زبان کی بنیاد پر ملک منقسم ہو گیا ۔ محبان اردو اورمجاہدین آزادی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوئے اور اپنے وجود کو بنگلہ دیش کے طور پر منوا لینے کے ساتھ ساتھ مادری زبان کے لئے جان کی قربانی دینے والوں کو ان لوگوں نے فراموش نہیں کیا بلکہ ان کی یاد میں ڈھاکہ میں ایک شاندار یاد گار ‘ شہید مینار’ قائم کر ہر سال ان کی قر بانیوں کو یا د رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر ‘ یوم شہادت ‘ منایا جاتا ہے۔ اپنی مادری زبان کے تئیں ان کایہ خلوص ، یہ جذبہ اور یہ محبت صرف اپنے ملک تک محدود نہیں رہا، بلکہ لندن اور سڈنی وغیرہ میں بھی ‘ شہید مینار ‘ کی تعمیر کرائی گئی اور ہر سال 21 فروری کو ان یادگار میناروں کے ذریعہ اپنی نئی نسل کو اپنی مادری زبان کے لئے ایثار و محبت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

بنگلہ زبان کے چاہنے والوں کی اپنی مادری زبان سے کس قدر والہانہ لگاؤ ہے، اس کا اندازہ ان کی آپس میں کی جانے والی گفتگو، ان کا ادب ، ان کی صحافت ، ان کی تہذیب اور ان کی درسی و مذہبی کتابوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ مادری زبان صرف بول چال کی زبان نہیں ہوتی ہے بلکہ اس زبان میںاپنی تہذیب، تمدن، ثقافت اور قدروں کی جڑیں پیوست ہوتی ہیں ۔ جو شخصیت کی تعمیر و ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جو لوگ اپنی مادری زبان کی اہمیت نہیں سمجھتے اور نسل در نسل منتقل ہو رہی اپنی زبان کی امانت کی حفاظت نہیں کر پاتے، ان کے سامنے، ایک ایسا وقت آتا ہے ، جب وہ اپنی قوم ، تہذیب ، ثقافت اور قدروں سے الگ تھلگ پڑ جاتے ہیں ا ور ان کی اور ان کے بچوں کی کوئی شناخت نہیں بن پاتی ہے۔

اس سیاق و سباق میں اب ہم اپنی مادری زبان اردو کے منظر نامہ پر ڈالیں تو ہمیں مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ حالانکہ کچھ لوگ اس اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بلند بانگ دعٰوے ضرور کرتے ہیں ۔ لیکن جو تلخ حقائق ہیں ، وہ اس کے ٹھیک برعکس ہیں ۔ گزشتہ پندرہ برسوں سے اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21 فروری کو عالمی سطح پر’ یوم مادری زبان ‘کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بہت سارے ممالک میں اپنی اپنی مادری زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے طرح طرح کے لائحہ عمل تیار کئے جاتے ہیں ، جن پر پورے سال بھر بہت سنجیدگی سے کا م کیا جاتا ہے ، لیکن افسوس اس دن یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی اس دستک کا اردو والوں پر کوئی اثر نہیں ۔کوئی تحرک ، کوئی عمل نہیں ۔ جس کا نتیجہ کیا ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ معاصر نسل اردو زبان سے لا تعلق ہو تی جا رہی ہے اور ان کی آنے والی نسل کی مادری زبان کیا ہوگی ، موجودہ منظر نامہ سے یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

آج اردو زبان کا جو منظر نامہ ہے۔ ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالتے ہیں ، اس سلسلے میں زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے شیو پرساد سنہا ( سابق جج ، الٰہ باد ہائی کورٹ ) کے 30 مارچ 1968میں منعقدہ بہار اردو کانفرنس کے موقع پر دیئے گئے ان کے افتتاحیہ خطبہ کا ایک حصّہ پیش کرنا چاہتا ہوں ، انھوں نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ: ” زبان کے سلسلے میں راجند پرشاد ، عبد الحق معاہدہ آزادی سے پہلے 1938 میں پٹنہ میں ہوا تھا ، جس کی رو سے یہ قرار پایا تھا کہ اردو بخط فارسی اور ہندی بخط دیو ناگری ہندوستان کی زبان ہوگی۔ جس کو ہندوستانی زبان کہا جائے گا ۔ لیکن راجندر پرساد جی نے خود اس معاہدہ کو اس طرح توڑا کہ جب 1950 ہندوستان کی زبان کا مسئلہ پارلیامنٹ میں پیش ہوا تو ہندی کے حق میں اور اس کے خلاف میں برابر ووٹ آئے ۔ لیکن پارلیامنٹ کے صدر کی حیثیت سے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعہ ہندی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا ” ۔ المیہ یہ رہا کہ 77 کے مقابلے 77 ووٹ حاصل کرنے والی زبان ہندی کو قومی اور سرکاری درجہ دے دیا گیا اور اس کے فروغ کے لئے سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی طور پر بھی خوب خوب عملی کوششیں ہوئیں ۔ جو فیصلہ کے مطابق یقینی طور پر اس کا حق تھا ، لیکن افسوس 77 کے مقابلے 77 ووٹ حاصل کرنے والی زبان ‘اردو’ کے تمام حقوق کو نہ صرف ختم کر دیا گیا بلکہ اس کے خلاف بیانات دے کر ، تحریک چلا کر اور عملی جد و جہد کر کے بے وطن ہی نہیں بلکہ جلا وطن کرنے مزموم کوششیں بھی کی گئیں ۔ اردو کو صرف مسلمانو ں کی زبان ثابت کر کے اس زبان کو بھی وہی درجہ اور حیثیت دینے کی کوششیں جاری ہیں ، جو یہاں کے مسلمانوں کو دیا گیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی ایسی کوششوں کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اردو آج لائبریریوں اور مدرسوں میں پناہ گزیں ہے۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب کوئی کھلم کھلّا اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ یہ زبان ہندو، مسلم ، سکھ عیسائی کے اتحاد و اتفاق کی علامت ہے اور ہر صاحب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہ اردو ہی زبان ہے جس نے اپنی گود میں لے کر، دیا نرائن نگم، پنڈت رتن ناتھ سرشار، پریم چند، چکبست، فراق، سدرشن ، جوش ملسیانی، ترلوک چند محروم، آنند نرائن ملّا ، کرشن چندر، بیدی، رام لعل، جگن ناتھ آزاد، شانتی رنجن بھٹا چاریہ، وشو ناتھ طاؤس، دیوندر اسر، دیوندرستیارتھی، کالی داس گپتا رضا، تارا چرن رستوگی، گوپی چند نارنگ، کشمیری لال ذاکر، بلراج ورما ، رام لال نابھوی،گوپال متّل ،رتن سنگھ، گیان چند جین ، جوگندر پال ، مالک رام ، بلونت سنگھ ، کرشن موہن ، موہن چراغی، مانک ٹالہ ، اوپندر ناتھ اشک، راج نرائن راز، شباب للت، نریش کمار شاد، فکر تونسوی، کنھیا لال کپور، بلراج کومل، کمار پاشی، گربچن چندن، جمنا داس اختر، گلزار زتشی دہلوی، شرون کمار ورما وغیرہ وغیرہ کے فکر و خیال کو آفاقیت بخشی اور شہرت و مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا کر ان کے نام نامی کو چاند تاروں کی مانند درخشندہ بنا دیا ۔ اب کوئی بتائے کہ اردو اگر مسلمانو ں کی زبان ہے تو پھر ان لوگوں کو ذات اور مذہب کے کس خانے میں رکھا جائے گا۔

اردو والوں کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی ملے ستّر سال ہو گئے ، لیکن اب تک قومی سطح پر’ یوم اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ طۓ نہیںہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21 فروری کو عالمی سطح پر مادری زبان کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے ۔ اگر ہم اردو والے اسی’ عالمی یوم مادری زبان ‘کے انعقاد کے موقع پر اپنی مادری زبان کے سلسلے میں محاسبہ کریں تو بہت سارے نکات ایسے سامنے آئینگے، جن پر سنجیدگی سے عمل کر کے ،اس کے بہترنتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے اردو زبان سے محبت کرنے والے خواہ وہ جس شعبہ حیات سے منسلک ہوں ، انتظامیہ، عدلیہ، تعلیم ، صحافت ، تجارت غرض جو جہاں ہے، وہ اپنی اس مادری زبان کو اپنی زندگی میں شامل کر اپنے آنے والی نسل کے لئے محفوظ کر پائینگے۔اگر ایسا نہیں ہو پاتا ہے تو پھر اس بات کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ کسی قوم کو ختم کرنا ہے تو پہلے اس کی زبان ختم کر دو اور افسوس کہ ہم اسی جانب گامزن ہیں۔

Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ:9934839110

Share this:
Tags:
language nation Urdu World Day اردو عالمی یوم قوم لاتعلقی
Cholistan Jeep Rally
Previous Post امن کا پیغام چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی
Next Post حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں : گورنر سندھ
Mohammad Zubair

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close