
کشمیر (جیوڈیسک) لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم شہدا کشمیر اس عزم کے ساتھ منارہے ہیں کہ وہ حصول حق خود ارادیت تک اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے۔ 82 سال قبل آج ہی کے دن مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنٹرل جیل سری نگر کے احاطے میں بیس سے زاید کشمیریوں نیاپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جس جدوجہد آزادی کا آغاز کیا تھا اسی عمل کو جاری وساری رکھنے کے لئے کشمیری ہر سال تجدید عہد کے طور پر 13 جولایی کو یوم شہدائے کشمیر مناتے ہیں۔
ریاست جموں وکشمیر کی سیاسی تحریک میں جدوجہد میں جسمیں پھر لاکھوں آدمی شہید ہوئیاور آج بھی ہو رہے ہیں۔ ان 22 نوجوانوں کوسنگی کی قربانیوں کو سنگ میل کی حثیت حاصل ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران حصول حق خود ارادیت کے لئے کشمیری قوم نے ایک لاکھ سے زائد قربانیاں دیکر ساڑھے چار سو کے قریب قبرستانوں کو آباد کر کے شجر حریت کی آبیاری کی۔
یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے عوام نے ہر محاذ پر مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کا ساتھ دیا۔ 13 جولائی 1931 میں کشمیریوں نے قربانی دے کر جس تحریک کا آغاز کیا تھا کہ وہ آج بھی ایک نئے جزبے کے ساتھ مقبوض کشمیر کی حسین وادیوں میں جاری ہے۔
