Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عورتوں کے عالمی دن پر عورت کی توہین

March 13, 2019 0 1 min read
Woman
Woman
Woman

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

بابا جی کھیت میں بھینس کو ہل میں جوت کر ہل چلا تھے اور بیل صاحب چھپر کے نیچے آرام فرما رہے تھے ایک سیانے کا ادھر سے گذر ہوا تو پوچھا یہ کیا الٹی گنگا بہہ رہی ہے بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے اور بیل چھائوں میں آرام کر رہا ہے بابا جی نے کہا یہ بی بی شہر سے آئی ہے اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کر بھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے لہذا تم پہلے دن اپنے مالک سے حقوق کی بات کرنا اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں۔

میں نے کہا بیل تو ہل جوتتا ہے اس نے کہا میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں چنانچہ میں نے اسے جوتنے پر لگا دیا اب یہ خوشی خوشی ہل بھی چلاتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے بیل کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں اس لیے وہ صرف آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے یہ تو تھی ایک بابے کی کہانی لیکن ایک اور بابا جی نے تو حد ہی کر دی جو عورتوں کی حقوق کی محفل میں گھسے بیٹھے تھے ان سے جب خاتون اینکر نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں یہ مطالبات صحیح ہیں ؟تو انہوں نے فرمایا بالکل جائز ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ کم مطالبے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں جب تک نکاح ختم نہیں ہوگا عورت پر سے ظلم ختم نہیں ہو سکتا (پہلے تو میں نے سمجھا میرے کان خراب ہیں غلط سن رہے ہیں میں نے وڈیو ریوائنڈ کی تو بابا جی کے یہی الفاظ تھے اور اس نے وضاحت کی 1825 میں نکاح انگریز نے مسلط کیا تھا جیسے انگریزی مسلط کی ورنہ اس سے پہلے ہندوستان میں نکاح کا کوئی تصور نہیں تھا ،میں تو حیران رہ گئی اتنا حیران تو میں ان پلے کارڈ کو دیکھ کر نہیں ہوئی جو ان خواتین نے اٹھا رکھے تھے ،ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا۔

میں آوارہ میں بد چلن ،ڈوپٹہ تمہیں پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو ،میں کھانا گرم کر دونگی اپنا بستر خود گرم کر لو نا قابل بیان تحریریں ان کارڈز پر لکھی تھیں کیا یہ انتہا ہے؟نہیں میرے خیال میں یہ مرض اب بڑھتا جا رہا ہے پچھلے سال لاہور کی نیشنل یونیورسٹی میں طالبات نے ایک شرمناک کام کیا تھا اور دیواروں پر لکھا کہ مجھے کوئی شرم نہیں میں کیوں چھپائوں مجھے کوئی احساس کمتری نہیں یہ تصویریں کچھ میگزین اور اخباروں نے چھاپیں لیکن سوشل میڈیا پر ایک سائٹ نے اس کی بہت حوصلہ افزائی کی میں تب ہی سمجھ گئی تھی اب یہ کام رکنے والا نہیں کیونکہ اس کی فنڈنگ باہر سے ہو رہی تھی اور ہو رہی ہے اس لیے وہ سائٹ بڑے دھڑلے سے چل رہی ہے میں یہ نہیں کہتی کہ عورت کو حقوق نہ دیے جائیں لیکن حقوق کی نوعیت کیا ہے پہلے اس کو سمجھیں عورت کو پسند کی شادی کا حق دیں تعلیم کا حق دیں وہ جاب کرنا چاہے تو بھی کرے اس کو وراثت میں حصہ دیں وہ بیمار ہو تو اس کا علاج کروائیں شوہر بچوں کی تعلیم و تربیت میں اس کا ہاتھ بٹائے وہ الگ گھر لینا چاہے تو شریعت میں اس کی کوئی پابندی نہیں یہ مطالبات تو سرے سے تھے ہی نہیں بلکہ یہ عورت پن سے آزادی کے مطالبات تھے یہ گھر اور خاندان کے تصور کو تباہ کرنے والے مطالبے ہیں یورپین کلچر آج اپنے آزاد معاشرے اور خاندان کی تباہی کو رو رہا ہے۔

وہ اس خاندانی نظام کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جس کو وہ اپنے ہاتھوں سے کھو چکے ہیں انہوں نے اس حسرت کو اس طرح نکالا ہے کہ این جی اوز بنا لی ہیں جن کو فنڈنگ کی جاتی ہے کہ وہ ایشیا میں خصوصا پاکستان میں جا کر اس کا پرچار کریں کہ پاکستان کی عورت بہت ظلم کا شکار ہے کہتے ہیں ایسی ہی کچھ این جی اوز کی عورتیں کسی گائوں میں گئیں اور ایک عورت سے کہا تم کیا سارا دن گھر میں بکری کی طرح بندھی رہتی ہو ہمارے ساتھ چلو اس ظلم سے چھٹکارہ حاصل کرو اس عورت نے کہا کیسا ظلم؟ میرا شوہر میرے اور بچوں کے لیے محنت سے روزی کماتا ہے خود ایک جوڑے میں گذار دیتا ہے میرے لیے نئے نئے کپڑے لاتا ہے میں اس کا انتظار کرتی ہوں وہ آئے تو مجھے ان کپڑوں میں دیکھ کر تعریف کرے اگر تم مجھے بکری سمجھتی ہو تو تم گھر سے باہر بندھی ایک گدھی کی طرح ہو جسے کوئی بھی اپنے کام کے لیے کھول کر لے جا سکتا ہے اور کام نکلنے کے بعد واپس باندھ جاتا ہے ۔۔۔

یہ ساری تو عورت کی سوچنے کی باتیں ہیں نا لیکن بہت سی عورتیں اس کو نا سمجھی میں الٹ مطلب لیتی ہیں ٹھیک ہے غیرت کے نام پر قتل کو ہم بھی ظلم سمجھتے ہیں لیکن اس کا سدباب آپ پیریڈ کے پیڈ دکھا کر تو نہیں کر سکتیں ناں ناہی ننگی ہو کر اس ظلم کو ختم کر سکتی ہیں بلکہ آپ تو مرد کو جواز مہیا کر رہی ہیں کہ ہمیں اپنے حقوق نہیں صرف کپڑوں اور شرم و حیا سے آزادی چاہیے دو سو سال پہلے بھی انگریزوں نے اپنی عورتیں بادشاہوں کے حرموں میں داخل کی تھیں جو ان کو ان کے حقوق بتاتی تھیں کہ مشرقی مرد خود تو سینکڑوں عورتیں رکھتے ہیں لیکن اپنی عورتوں کو گٹھڑیوں کی طرح برقعوں میں باندھ کر رکھتے ہیں یہ سن سن کر وہ بیگمات بھی باغی ہوئیں اور سقوں ،مالیوں ،غلاموں کے ساتھ منہ کالا کرنے لگیں آہستہ آہستہ اس طرح کر کے انگریزوں نے بادشاہتیں ختم کیں کیونکہ کسی بھی معاشرے کی تباہی میں عورت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جس طرح نیک عورت دنیا میں جنت بنا سکتی ہے اسی طرح بھٹکی ہوئی عورت دنیا میں ہی جہنم کا مزہ چکھا سکتی ہے۔

اگر انگریزی کلچر اتنا ہی فائدے مند ہوتا تو وہاں ”ڈی ٹیکٹو” کمپنیاں وجود میں نہ آتیں وہ ہزاروں پونڈ اور ڈالر دے کر اپنے شوہر یا بیوی کی جاسوسی نہ کرواتے صرف عدالت میں طلاق کے لیے ان کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس سے بے وفائی کر رہی ہے یا کسی عورت کا شوہر کسی اور عورت میں ملوث ہے طلاق حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی جاسوسی کرانے سے اسلام میں یہ اچھی بات نہیں کہ عورت کو مرد پسند نہیں تو وہ خلع لے لے اور مرد بیوی چھوڑنا چاہے تو وہ تین طلاقیں دے کر پلا چھڑا لے کہاں مغرب کی طرح ایک دوسرے سے جان چھڑانے یا انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قتل کی پلاننگ کرتے پھریں بے شک ہمارے ہاں یہ قتل زیادہ نظر آتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ باہر کے ملکوں میں اس کی پابندی ہے۔

آپ معاشرے کی گھنائونی تصویر میڈیا پر عام نہیں کر سکتے اس لیے وہ اچھے کام تو دکھاتے ہیں برائیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں وہ اپنی ساری برائیاں ہمارے ملکوں میں پھینک جاتے ہیں اور ہمارے دین کی کی ساری اچھی باتیں لے کر ہم پر ہی رعب ڈالتے ہیں اٹھارہ سال کی عمر وہ ہوتی ہے جب ہم اپنی اولاد پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ یہ سب سے خطرناک عمر ہوتی ہے جبکہ مغرب میں لوگ اہنے اٹھارہ سال کے بچے بچی کو گھر سے نکال دیتے ہیں تاکہ وہ خود کما کر کھائے اب کس طرح کمائے یہ اس کی صوابدید ہے سب کچھ گنوا کر آپ نے کچھ پایا بھی تو کیا؟ شائد ہمارے ہاں بھی اب یہی آزادی کچھ طبقات کو چاہیے جو نہیں دیتے وہ ظالم اور پس ماندہ کہلاتے ہیں میں پ کو ایک چھوٹی سی مثال دوں کچھ عرصہ پہلے ہم میں پیتل اور تانبے کے برتنوں کا رواج تھا پھر سٹیل اور ماربل کے برتن رواج پانے لگے ایلومونیم کے برتنوں میں کھنا پکانا خطرناک سمجھا جانے لگا تو کھاتے پیتے خوشحال گھرانوں میں نان سٹک برتنوں میں کھانا بننے لگا اب یورپ امریکہ میں نئی تحقیق سامنے آرہی ہے کہ نان سٹک سب سے خطرناک ہیں جی اب مٹی کے برتنوں میں کھانا پکایا جائے وہ جو ہمارے دیہاتوں میں مٹی کے برتنوں میں کھانا بنا کرتا تھا وہ اب یورپ امریکہ کے پسندیدہ ہو گئے ہیں اب وہ مہنگے داموں مٹی کے برتن لے کر ان میں کھانا بناتے ہیں بلکہ جس ریسٹوران میں مٹی کے برتن استعمال ہوں وہ سب سے مہنگا ہوتا ہے اور یہ چیزیں میرا بیٹا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہے۔

اسی طرح برگر اور سافٹ ڈرنک وہاں سکولوں کی سطع پر بین ہو چکے ہیں جبکہ ہمارے بچے برگر کے بغیر زندگی نامکمل سمجھتے ہیں وہاں ہر ایک کو انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں چھوٹے بچوں کو الائو نہیں ہمارے بوڑھے بچے جوان ساری ساری رات نیٹ سے استفادہ کرتے ہیں وہاں اب کوشش کی جاتی ہے کہ زمین میں گوبر کی کھاد ڈال کر فصلیں اگائی جائیں جبکہ ہمیں انہوں نے نائٹروجن اور فاسفورس کھادوں پر لگا رکھا ہے وہ پھلدار درختوں اور سبزیوں پر زہریلی سپرے نہیں کرتے نہ ہی پھلوں کو مصنوعی طور پر پڑی لگا کر پکاتے ہیں ہم سپرے والی سبزیاں اور تیزاب سے پکے پھل کھا کھا کر اپنے معدے جلا بیٹھے ہیں ان کے فریجوں میں فریز کرنے کا سسٹم ہی نہیں ہوتا اس لیے آپکو دو چار دن سے اوپر پکا کھانا نہیں مل سکتا جس طرح ہم مہینوں کے فریز کیے کھانے اور گوشت سبزیاں کھا کر کینسر کے مریض بن رہے ہیں اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ دو دو سال پرانے گوشت یہاں لے آئے ہیں اور انگلش کھانوں کے نام پر ہمیں کھلا کر ہماری آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا ثبوت کراچی میں دو بار آپ کو بچوں کی ہلاکت سے مل چکا ہے جہاں ایک مشہور ریسٹوران میں 2015 سے پڑا گوشت استعمال کیا گیا تھا۔

کسی دن میرا جسم میری مرضی والی خواتین بھی اسی طرح اپنی مرضی سے ہلاک ہو نگی وہاں کی مارکیٹس میں شام ہوتے ہی دکانوں سے سبزی اٹھا کر جلا دی جاتی ہے ہمارے ہاں گٹر کا پانی چھڑک کر ہفتوں بیچی جاتی ہے تو ہم ان کی اچھی باتوں کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟ صرف بری باتیں کیوں اپناتے ہیں ؟ اس لیے کہ ہمیں بری باتیں رواج دینے کے پیسے ملتے ہیں ہمارے وزیر ان کی ہر متروک چیز اپنے ملک میں جہاز بھر کر لے آتے ہیں صرف کمیشن کے چکر میں اسی لیے وہ ہمارا خاندانی نظام تباہ کر رہے ہیں کہ ہم مادر پدر آزاد ہو کر اپنی حیا اپنی عزت آبرو سب گنوا بیٹھیں پھر یہی لوگ ہمارا مذاق بنائیں تو اے میری بہنو ،بیٹیو صرف اس خوف سے آزادی حاصل کرو جو تمہیں کمتری میں مبتلا رکھتا ،اتنا سر نہ اٹھائو کہ تمھارے باپ،بھائیوں کے سر جھک جائیں اولاد کی تربیت ماں کرتی ہے بیٹوں کی تربیت اس طرح کرو کہ وہ اپنی بیوی کو ساتھی سمجھے غلام نہیں بیٹیوں کی تربیت اس طرح کرو کہ انہیں بیٹوں سے کمتر نہ گردانو ،بیٹیوں کے حصے کا کھانا بیٹوں کو نہ دو دونوں کو ایک نظر سے دیکھو ،ایک جیسی تربیت کرو صنفی تفریق عورت کو مرد کا باغی بنا دیتی ہے بیٹی کی شادی کرتے وقت اس کی رائے کو اولیت دو ،کبھی اسے سسرال میں دشمنی کا سبق دے کر نہ بھیجو کبھی اسے شوہر کو انگلیوں پر نچانے کا گر نہ سکھائو اس میں دونوں خاندانوں کا بلکہ پورے معاشرے کا بھلا ہوگا ورنہ ہمرے سر شرم سے یونہی جھکتے رہیں گے۔

Mrs Khakwani
Mrs Khakwani

تحریر : مسز جمشید خاکوانی

Share this:
Tags:
demand Mrs Khakwani rights Training woman World احساس تربیت تعلیم حقوق عالمی دن عورت مطالبہ
Ch Imtiaz Barsi
Previous Post دکھی تو ہم بھی ہیں
Next Post امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات میں ’حقیقی پیشرفت‘
Negotiations

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close