Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمی یوم نسواں اور خواتین کا استحصال

March 7, 2019 0 1 min read
World Women Day
World Women Day
World Women Day

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

زمانہ قدیم سے خواتین پر ہو رہے ظلم اور استحصال کے خلاف رہ رہ کر آواز اٹھتی رہی ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لئے خواتین لڑائیاں بھی لڑتی رہی ہیں۔ جس میں بڑی کامیابی اس وقت ملی ، جب اقوام متحدہ نے ان کے ساتھ ہو رہی زیادتیوں اور غیر منصفانہ عمل کو ختم کرنے کے لئے ہر سال یوم خواتین کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ کئی دہایوں سے اقوام متحدہ کے اعلان اور کئے گئے فیصلے کے مطابق 8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم نسواں کا انعقاد ، اس کی اہمیت کے پیش نظرتقریباََ پوری دنیا میں کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مرد اساس ہمارے سماج اور معاشرے میں خواتین کو جو حقوق اور انصاف ملنا چاہئے تھا ، وہ اب تک نہیں ملا ۔ مردو ںکی برتری حاصل شدہ سماج میں، خواتین کے اندر،اپنے ساتھ ہو رہے ظلم ، تشدّد اور استحصال کے خلاف ،آواز بلند کرنے کی پہلے ہمّت تھی ، نہ حوصلہ تھا اور نہ ہی جرأت تھی۔لیکن دھیرے دھیرے یہ ضرور ہوا کہ اپنے حقوق کے لئے خواتین سرگرم عمل ہیں ۔ ورنہ پہلے تو امریکہ جیسے ملک میں خواتین کو ملک کے اندر ہونے والے انتخاب میں ووٹ دینے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔

8 مارچ 1857 ہی عالمی سطح پر وہ اہم تاریخی دن ہے ، جب امریکہ کے ایک کپڑا مِل میں مزدور خواتین نے کام کے اوقات کو 16 گھنٹے سے 10 گھنٹہ کرنے اور اجرت بڑھانے کے لئے پہلی بار صدائے احتجاج بلند کی تھی . اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور آخر کار ان مزدور خواتین کو 1908 ء میں جد و جہد کا صلہ ملا ۔ 8 مارچ 1915 کو اوسلو (ناروے) کی عورتوں نے پہلی عالمی جنگ میں انسانی تباہی و بربادی پر سخت ردّ عمل کا اظہار کیا تھا ۔ 8 مارچ 1917ء کو روسی خواتین نے امن اور بقائے باہمی کے لئے آواز اٹھائی۔ دھیرے دھیرے یہ 8 مارچ عالمی سطح پر خواتین کے لئے حق ، خود اختیار ی اور عزت و افتخار کے پیغام کا دن بن گیا اورمسلسل خواتین کے مطالبات نے اقوام متحدہ کو آخر کار مجبور کر دیا اور اس نے خواتین کے حقوق اور انصاف کے لئے8 مارچ 1975 ء سے 8 مارچ1985 ء تک عالمی خواتین دہائی کا اعلان کیا کہ اس دہائی میں عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ ہو رہے ناروا سلوک ، ظلم ، تشدّد، بربریت، جنسی استحصال اور نا انصافی کو ختم کرکے انھیں حقوق انسانی کا تحفہ دینے کے ساتھ ساتھ قومی اوربین ا لاقوامی سطح کی ترقیٔ رفتار میں شامل کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کی ایسی کوششوں سے ترقی یافتہ ممالک میں مثبت نتائج دیکھنے کو ملے ، لیکن دوسرے بہت سارے ممالک بشمول بھارت میں عالمی خواتین دہائی بس ایک رسم ادائیگی بھر رہی ۔

حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کے حقوق اورانصاف کے لئے گزشتہ چند دہایوں میں بہت ساری کوششیں ہو ئی ہیں۔ جان اسٹوارٹ مل جیسے مفّکر نے انسانی آزادی کے تصور کو ظاہر کرتے ہوئے حقوق نسواں کی طرف داری کی اور سچ کو سچ کہنے کے لئے حوصلہ اور جرأت کو وقت کی ضرورت بتایا تھا۔

1967ء کے بعد 1980 ء میں کوپ ہینگن میں دوسری بین ا لاقوامی خواتین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور 1985 ء میں نیروبی میں خواتین کی ترقی کے لئے بہت ساری پالیسیاں اور حکمت عملی تیار کی گئیں ۔ 1992 ء میںخواتین اور ماحولیات کا جائزہ لینے کے لئے اس بات کو بطور خاص نشان زد کیا گیا تھاکہ خواتین اور ماحولیات ، ان دونوں پر تباہی کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا ماحولیات کے تحفظ میں خواتین کی حصّہ داری کی اہمیت کو بطور خاص سمجھا جائے۔

1993 ء میں یوم خواتین کے موقع پر انسانی حقوق پر منعقدہ، ویاناعالمی کانفرنس میں حقوق نسواں کے ایشو کو حقوق انسانی کی فہرست میں شامل کیا گیا اور خواتین پر ہو رہے تشدّد اور استحصال کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کا اعلان کیا گیا ۔ 1995ء میں منعقد چوتھی عالمی خواتین کا نفرنس میں خواتین کے وجود اور ترقی میں سدّ راہ بن رہے نکات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور ان کے سد باب کے لئے ‘ پلیٹ فارم برائے ایکشن’ اپنایا گیا ۔ جس پر پوری دنیا میں بہت سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا ۔ ایسی تمام کوششوںسے بہت سارے ممالک میں بہتر نتائج سامنے آئے ، لیکن افسوس کہ بھارت سمیت بہت سے ایسے ممالک ہیں ، جہاں ان کوششوں کی روشنی ، خواتین کے تئیں سطحی ذہنیت کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

خواتین کے جنسی استحصال کیخلاف سخت سے سخت قوانین بنتے رہے ہیں ، لیکن ان پر سنجیدگی سے کبھی بھی عمل در آمد نہیں ہو پاتا ، جس کی بنا پر خوف ِ قوانین ختم ہو چکا ہے ۔ ہماری حکومت اس وقت جاگتی ہے ، جب جلسہ، جلوس ، احتجاج اور مظاہرے زور پکڑتے ہیں ۔ 1980 ء میں آزاد بھارت میں پہلی بار خواتین نے متحّد ہو کر متھرا عصمت دری کے خلاف اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا تھا، جس سے حکومت اور انتظامیہ کو مجبور ہو کر متھرا جنسی زیادتی معاملہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے سنوائی کرنا پڑی تھی، ساتھ ہی ساتھ عصمت دری سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لئے بھی مجبور ہونا پڑا تھا۔ جو یقیناََ بھارت کی خواتین کے اتحاد اور جد و جہد کی بڑی کامیابی تھی۔ لیکن ان تمام کوششوں اور قوانین کے باوجود عصمت دری کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ جنسی زیادتی کی شکار عورتوں اور بچّیوں کا مستقبل کس قدر تاریک ہو جاتا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی لڑکیا ں عام طور پرموت کو گلے لگانے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں اور جو کسی وجہ کر خودکشی نہیں کر پاتی ہیں ، وہ زندگی بھر ،بے حِس سماج میں بے وقعت اور ذلّت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ زانی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کے بعد اسے بہت بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ دلی کی نربھیا اور کٹھوعہ (کشمیر) کی عاصفہ وغیرہ کے سانحات ان دنوں عام ہیں ۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ خواتین کے تئیں اب وہ رویۂ نہیں رہا جو پہلے تھا ۔ اب زندگی کے ہر شعبۂ میں خواتین اپنے وجود اور اپنی اہمیت کا احساس کر ا رہی ہیں، لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ خواتین کا شعبٔہ حیات مختلف طور پر استحصال ہو رہا ہے ۔ خواہ وہ دفاتر ہوں ، فلمی دنیا ہو، کھیل ،ادب و آرٹ کا میدان ہو یا سیاسی و صحافتی دنیا ہو یا جنگی حالات ہوں،مٹھ یاآشرم ہوں یا پھر لڑکیوں کے شیلٹر ہوم ہی کیوں نہ ہو ۔ ان تمام شعبوں میں خواتین کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے جیسے جیسے سانحات سامنے آ ئے ہیں ، وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے ہیں ۔ حال ہی میں کچھ آشرموں کے اور پھر بہار کے مظفرپور کے شیلٹر ہوم میں معصوم بچیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کا پردہ فاش ہوا ہے ، اس نے تو انسانیت کو بھی شرم سار کر دیا ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں جس طرح ‘ می ٹو ‘ مہم کے تحت خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو اجاگر کیا ہے، اس تحریک نے اچھے اچھوں کی پول کھول دی ہے ۔ یہاں تک کہ سب کی پول کھولنے والے صحافی رہ چکے اور وزارت کی کرسی پر براجمان ایم جے اکبر کو اسی جرم میں اپنی وزارت کرسی بھی گنوانی پڑی۔ سیاسی سطح پر تہلکہ مچانے والے صحافی ترون تیج پال کا پورا کیرئر اسی بنیاد پر تباہ ہو گیا اور ابھی تک وہ جیل میں سڑ رہے ہیں۔

چند ماہ قبل 2018 ء کا نوبل امن انعام کی وجہ بھی خواتین کے ساتھ بڑھتے ظلم اور جنسی تشدد ہی بنا ہے ۔ 2018 ء کا نوبل امن انعام دو ایسی شخصیتوں کو ملا ہے ، جنھوں نے جنگ کے حالات میں جنسی مظالم اور استحصال کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔ ان میں کانگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینس مکویگے اور دوسری شخصیت نادیہ مراد ہیں ، جو عراق کی شہری ہیں اور جرمنی میں قیام پزیر ہیں ۔ 2014 ء میں داعش جنگجو ؤں نے نادیہ کے ساتھ تین ماہ تک جنسی تشدد اور ظلم کرتے رہے ، بڑی مشکلوں سے وہ اس قید و بند سے آزاد ہونے میں کامیاب ہوئیں ۔ ان پر ہونے والے جنسی تشدد کو بی بی سی کی ایک فارسی زبان کی نامہ نگار نفیسہ کہن ورد نے بے نقاب کیا ۔ جنسی استحصال کی شکار نادیہ اور صحافی نفیسہ نے جنگی حالات میں خواتین پر ہونے والے جنسی تشدد اور بربریت کے خلاف تحریک چلائی۔ اس دونوں کی دلیرانہ کوششوں سے عالمی سطح پر جنگ کے دوران ہونے والے جنسی ظلم و تشدد کے خلاف مؤثر رائے عامّہ تیار کرنے میں مددملی اور آخر کار ان مظالم کی شکار ہونے والی اس خاتون کو امن کے لئے نوبل انعام کا مستحق سمجھا گیا ۔

زمانے کی ستائی جانے والی خواتین کے لئے ، میروالا،پاکستان کی بہادر ، جانباز ، جرأت مند اور حوصلہ مند مختارن مائی اور جہادی عورت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے ۔جو پوری دنیا کی دبی کچلی اور نا خواندہ عورتوں کی نگاہوں کی مرکز بنی ہوئی ہے۔ عالمی یوم خواتین 2019 ء کے موقع پراقوام متحدہ نے 2030ء تک خواتین کو برابری کا حق دئے جانے، انھیں شانہ بہ شانہ نئی راہ دکھاتے ہوئے دنیا کے سامنے اسمارٹ بنا نے میں تعاون دئے جانے کا ہدف رکھا ہے ۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اس ہدف کو پورا کرنے میں سماج کے ہر طبقہ کا تعاون ملے گا اور بقول علّامہ اقبال ہم یہ کہہ سکیں گے کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ:09934839110

Share this:
Tags:
History justice rights truth women womens day World انصاف تاریخ حقوق حقیقت خواتین عالمی
Mother
Previous Post تھکن
Next Post بھارت کے لیے موجودہ صورتحال ایک ڈارئونا خواب
Narendra Modi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close