Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمگیر معاشرہ کی ترقی اور آئیڈیل نظام کی ضرورت:حصہ دوئم

February 15, 2015 1 1 min read
Courts
Preview
Preview

تحریر: رانا ابرار

انسان اور حیوان کی زندگی میں اصول کا فرق ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ہم دیکھیں ایک مشاہدہ کریں تو ایک جانور کو یہ فکر نہیں ہوتی ہیکہ اس نے صبح کیاکھا یا ہے اور شام کو کیا کھائے گا؟ ۔جیسے ایک شیر نے صبح ہرن کھایا ہے اور اسکی یہ تمنا نہیں ہو گی کہ جب بھوک لگے گی تواگلی بار وہ بکری ڈھونڈ کر کھائے گا۔ ایسا نہیں اسکو جو ملنا ہے اس نے وقت کے مطابق اسکا شکار کرنا ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس انسان اپنی منصوبہ بندی کے مطابق چلتا ہے میں نے یہ کھایا ہے تو اگلی بار میں یہ کھائوں گا ، رنگ برنگ کے پکوان اسی تبدیلی کا نتیجہ ہیں ۔جانور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں جو اس نے اپنی مرضی سے لا کر کے اپنے رہن سہن میں ترقی کی ہو۔ اس کے برعکس انسان نے کی ہے۔ انسان کے پاس ایک ضابطہ ہے جو کہ جانور کے پاس نہیں ہے۔

جیورٹس کے مطابق یہ ضابطہ انسان نے خود (Man made Laws) بنایا ۔ وقت اور حالات کے مطابق اپنی ضروریات زندگی کے ساتھ یہ بھی سیکھا کہ اس نے دوسروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے اور پانی میں ڈوبنے لگا تو اس نے تیرنا سیکھا ، آگ جسکو پوجتا تھا ، جب تک اسکو سمجھ نہیں تھی لیکن جب اسکو سمجھ آئی تو اسی پر قابو پا لیا اور اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ غرض وہ سب سیکھا جو وہ خود نہیں جانتا تھا ۔ اور اپنی طاقت اور اختیار کا بھی اندازہ لگا لیا ۔ لیکن اس کے برعکس جانور جیسا شروع سے زندگی گزار رہا ہے آج بھی ویسا ہی ہے ۔ کیا یہ سب کچھ انسان نے خود بخودسیکھا؟۔ اسکی کسی نے رہنمائی نہیں کی۔ میں اس چیز کا قائل نہیں ہوں خودبخود کچھ ہواہو!۔۔میرا یہ ماننا ہے ہر ایک چیز کے پیچھے ایک چیزہے اورہر نئی چیزکا سابقہ کے ساتھ ربط اور تسلسل ہے جب تک فطرت کے قوانین کا ربط قائم ہے اس وقت تک مادے کی ترقی اور شعور کی ترقی بھی چلتی رہے گی کیوں کہ یہ بھی ایک زنجیر کی طرح ہے اور اس میں ایک کنکشن ہے ۔اس کنکشن میں جو بھی نئی چیز شامل ہوتی ہے وہ اصل سے جا ملتی ہے۔

ایک فرق ہے جانور اور انسان کے اندر، جانور آزادانہ زندگی گزارتا ہے اگر تو انسان اصولوں اور ضابطوں کا فرمانبردار ہے تو انسان ہے نہیں تو اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔کائنات میں جہاں تک بھی انسان کی نگاہ احاطہ کرتی ہے ترقی صرف انسان نے کی ہے باقی ہر چیز جوں کی توں ایک نپے تلے اصول کے تحت کام کر رہی ہے۔فطرت کے قوانین میں کوئی تبدیلی کا باعث بنے تو کیا ہوگا؟ تباہی اور خاتمہ۔ ہر چیز ایک طرح کی قید میںہے۔حدود اور قواعد میں بڑے تناسب کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں۔ ایک انجانی طاقت نے یہ سارا نظام باندھ رکھا ہے۔ انسان کے پاس شعور کی طاقت ہے جس کی وجہ سے اس نے اپنی خوبیوں اور خامیوں میں فرق کرنا سیکھا ہے، یا کہ خالق کی طرف سے سکھایاگیا۔کیوں کہ اسکو اس کائینات میں فری ہینڈ دیا جس مقام کی اسے ضرورت ہے اس پا لے۔

انسان نے طہ کیا کہ اگر وہ خود پر ایڈمنسٹریشن نہیں لگائے تو پورا معاشرتی نظام تباہ ہو جائے گا۔تب سے انسان نے اپنی حدود کا تعین کیا اب جس کا شعور اس مقام پر ہو کہ اس کو پتا ہو کہ میں نے کس طرح خود کو قابو کرنا ہے تو درست ہے وہ ایک آزاد شخص ہے۔نہیں تو جو انسان اس مقام پر نہیں تو وہ تو اپنی خواہشات اور مفاد کے حصول کے لئے کسی چیز کی تمیز نہیں کرے گا۔اس لئے انسان نے قوانین بنائے جن کے اندراس نے سب سے بنیادی کام ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کا ایک معیار بنایا تا کہ ہر کسی کو پتا ہو کہ کیا حدود ہیں ۔ Ignorance of Law is not Excuse” ” اس فقرے میں بڑی خوبصوتی ہے ان کئے لئے جو حدود کی خلاف ورزی کو روشن خیالی کہتے ہیں۔

کامن سینس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کچھ چیزیں درست ہیں اور کچھ چیزیں غلط ہیں زیادہ تر لوگ وقت کے ساتھ اس بات کو مانتے ہیں ۔ لیکن معاشرتی علوم کے ماہرین کے مطابق صحیح اور غلط کے درمیان کی لائن معاشرہ طہ کرتا ہے ۔دو اقسام ہیں ایک (Social Control) معاشرہ افراد کے رویہ کے ساتھ اسکی ذہنی نشونما کرتا ہے دوسری قسم (Criminal Justice System) جس میں تنظیمیں، پولیس، عدالتیں، وغیرہ شامل ہیں جو قانون کے بیان کردہ اصولوں کی خلل اندازی سے متعلق ہیں جس میں کسی غلطی کو ٹھیک کرتے ہیں یا سزا دیتے ہیں۔ جرم کیا ہے اور منصفانہ نظام بھی معاشرہ طہ کرتا ہے۔ سوشیالوجسٹس جرم کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیںWhite-collar Crime)) اس کی انجام دہی معاشرے کے اونچے درجے کے افراد کرتے ہیں، (Corporate Crime) وہ غیر قانونی کام جو ایک تنظیم کرے یا اسکے عامل سر انجام دیں، (Organized Crime) کاروباری اشیاء کی غیر قانونی سپلائی وغیرہ ہے ۔

Courts
Courts

آگے جرائم کی دو اقسام بیان کرتے ہیں (Crime against Person) جن کا بلا واسطہ تعلق ہو تا ہے اشخاص سے ، (Crime against Property) چوری جیسے جرم جن کا تعلق اشخاص کی جائیداد وغیرہ سے ہو۔جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لئے پولیس اور عدالتیں ہوتی ہیں۔تاکہ مجرموں کو پکڑ پر سزا دی جا سکے ۔مہلک جرائم کی صورت میں سزائے موت تک کی سزا کا تعین بھی ضروری ہے ، جسکو (Capital Punishment) کہتے ہیں یہ سزا ڈیٹیرنٹ جیورٹس کی تجویز کردہ ہے۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم قانون کی فرماں روائی کیوں کرتے ہیں ؟۔کیا وجہ ہے؟۔بھئی یہ تو ہماری آزاد مرضی پر پابندی ہے اس سے احساس آزادی مجروح ہوتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں سب سے زیادہ اہم کردار وہاں کے ہیروز اور ولن ادا کرتے ہیں ۔معاشرہ رول ماڈل یاہیرو اس لئے پیدا کرتا ہے تا کہ لوگ انہیں یاد رکھیں انکا نام سالوں رہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور بات اگر یہ رول ماڈل نہ ہوں تو پھر کسی کو بھی اس بات کی فکر نہ ہو گی کہ لوگ کیا سوچتے ہیں ۔یہ ماڈل یا ہیروز ہمارے آئیڈل بنتے ہیں جن کی وجہ سے ہم میں بھی ان جیسا بننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور ہم ان کی عادات کو اپناتے ہیں تا کہ ان کے جیسے دکھائی دیں ۔معاشرہ اس لئے رول ماڈل پیدا کرتا ہے تا کہ ہم ان سے متاثر ہو کر ان سے روشنی لیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افراد کے اذہان کی نشونما کا کام کون سر انجام دیتا ہے کہ بھئی کون ہیرو ہے اور کون ولن؟۔

کون سے کام غلط ہیں اور کون سے کام سہی؟۔ یہ کام معاشرے میں موجود تنظیموں کی ذمہ داری ہے جو اسکو پورا کرتی ہیں معاشرے کے افرادکو ہیروز کی مثالوں کومشعلِ راہ بتاتی ہیں اورولن کردار سے نفرت کرنا سکھاتی ہیں ۔معاشرے کے اکثر افراد اپنے ہیروز سے ملے نہیں ہوتے لیکن پھر بھی وہ ان جیسا رول ماڈل بننا چاہتے ہیں ۔ ہم اتنا غور وفکر نہیں کرتے کہ کیا درست ہے او ر کیا غلط ہے ؟۔جتنا کہ ہمیں باور کروایا جاتا ہے !۔ تنظیموں اور مخصوص اداروں کی مرضی ہے جسے ہمارے سامنے چاہیں ہیرو بنا دیں اور جسے چاہیںولن بنا دیں ۔اگر معاشرے میں ایک شخص ہیرو ہے تو کسی دوسرے معاشرے میں وہ ولن ہو گا ؟ کیوں ایسا کیوں ہے ۔معاشرہ اسکا جواب نہیں دیتا ۔مسئلہ پتا کیا ہے بات یہ ہے کہ کوئی منصف نہیں جب تک انسان کے پاس ایک منظم سسٹم نہیں ہو گا اسوقت تک کوئی بھی معاشرہ فکری ترقی نہیں کر سکتا ۔صرف مادیی ترقی دنیا کے مسائل کا حل نہیں ۔اس سے اووپر ایک فکر اور منتظم کی ضرورت ہے۔

Rana Abrar
Rana Abrar

تحریر: رانا ابرار

Share this:
Tags:
model needs Society strengths system worldwide آئیڈیل ترقی ضرورت طاقت عالمگیر معاشرہ نظام
Blochastan
Previous Post لورالائی میں مسلح افرد کی فائرنگ سے دو افراد زخمی
Next Post اور اب فوجی عدالتوں کی مخالفت ؟؟
Army Public School

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close