Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دیکھو یہ میرے زخم ہیں

December 16, 2018 0 1 min read
Dhaka Fall
Dhaka Fall
Dhaka Fall

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

١٦ دسمبر ہر سال آتا ہے اور ہر سال مجھے بہت سے اور لوگوں کی طرح دکھی کر دیتا ہے اے پی ایس کے بچوں کا دکھ شامل ہونے کے بعد یہ سال پہلے سے بھی زیادہ غمگین کر دیتا ہے اس روز یوم شہدائے اے پی ایس اور یوم شہدائے مشرقی پاکستان کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دن دہشت گرد بھی پاکستان کو کچوکے لگانے کی بھرپور کوشش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ پاک شیطان کے شر سے بچائے۔

میں اس وقت پندرہ سال کا تھا۔دسمبر کی طویل سرد راتوں میںے میں لٹکائے باغبانپورے گجرانوالہ کی گلیوں میں پھرتا۔رات کو شکر گڑھ کی جانب سے آنے والے مہاجرین کی ٹرالیوں میں سے سامان اٹھاتے اور ان کی مدد کرتے یہ رضا کار قومی جذبے سے سر شار تھے۔١٩٦٥ کی جنگ کو گزرے چند سال ہی ہوئے تھے۔بابا ابرا ہیم شیخ سے ہم جنگ کے بارے میں ماہرانہ تبصرہ مانگتے وہ چوک میں اپنی دکان میں بیٹھ کر ہمیں بتاتے کہ ہماری فوجیں توی کے پل کے پاس پہنچ چکی ہیں۔

ہم بابا جی سے پوچھتے توی جموں سے کتنا دور ہے ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ توی کا پل کراس کرنے کے بعد جموں آ جاتا ہے۔میں بہت سوال کیا کرتا تھا کہا چا چا جی کیا اس رات ہماری فوجیں توی پار کر جائیں گی وہ کہتے لئے گھنٹے دو گھنٹے کی مار ہے۔میں رات سویا سونی کے ریڈیوسے میں سننا چاہتا تھا کہ ہماری فوجوں نے توی پار کر لیا ہے وہ دشمن کو شکست دے کر جموں شہر میں داخل ہو گئیں ہیں۔لیکن افسوس یہ خبر نہ سن سکا۔مغربی پاکستان میں جنگ تین دسمبر کو شروع ہوئی قیصر ہند قلعے کو فتح کر لیا گیا تھا یہ قلعہ جنرل مجید ملک کی قیادت میں فتح ہوا۔اس دسمبر کی سیاہ راتوں میں دوستوں کے ساتھ مل کر دن میں شہری دفاع کی تربیت حاصل کرتے شام کو کھانا کھا کر گلیوں میں نکل جاتے کہیں لائٹ جل رہی ہو تو گھر والوں سے اپیل کرتے کہ جنگ میں آپ کی جانب سے کوئی چھوٹی سی غلطی ملک کا بڑا نقصان کر سکتی ہے۔یہ جنگ ہوئی کیوں ؟یہ سوال آج کی نسل ہم سب سے پوچھتی ہے؟

میں تو اس ہولناک دن کو یاد کر کے اب بھی اداس ہو جاتا ہوں۔اس روز آپا یاسمین فاروقی اور نوجوان احمد کی دعوت تھی وہ اس سولہ دسمبر کو شہدائے اے پی ایس کے نام سے منانا چاہتے تھے۔میں نے کہا اس دن شہدائے مشرقی پاکستان کو بھی یاد کیجئے۔میں اس ١٦ دسمبر کے سیاہ دن کو یاد کرتا ہوں تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔بے جی میری وردی استری کر کے رکھی ۔کوئلے والی استری کو سنبھال کر کہنے لگیں بیٹا تمہاری وردی تیار ہے۔میں بلک بلک کے رو پڑا اور کہا بے جی یہ وردی اب رہنے دیں ہم ہار چکے ہیں پاکستان کے مشرقی بازو پر ہندوستانی فوجوں نے قبضہ کر لیا ہے۔میری سادہ ماں اس لئے پریشان ہو گئیں کہ اس کا پاکستان پر فدا ہونے والا بیٹا غمگین ہے۔میں گھر سے مسجد مدنی چوک کی طرف بڑھا ۔ڈاکٹر شمس دین کی دکان پر آل انڈیا ریڈیو چل رہا تھا مکیش کی آواز میں گانے کی آواز میرے پردہ سماعت کو پھاڑ رہی تھی۔آج کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کیجیت رے گائو خوشی کے گیت رے جھوم جھوم کے۔۔میرا جی چاہا کہ اس ریڈیو کو توڑ دوں لیکن یہ بھی ممکن نہ تھا۔بھینس کا چارہ لانا میری ذمہ داری تھی نہ میں نے کھانا کھایا اور نہ ہی میری بھینس نے۔

آج ٹاک شو میں برادر زاہد جھنگوی نے سوال کیا کہ مشرقی پاکستان سانحہ پر کچھ کہئے۔مجھے مشیر کاظمی کی نظم کا ایک بند یاد تھا۔جو لکھے دیتا ہوں چوبیس برس کی فرد عمل،ہر گھر زخمی ہر گھر مقتل،اے ارض وطن تیرے غم کی قسم ،تیرے دشمن ہم تیرے قاتل ہم پاکستان کے ٹوٹنے کی ابتداء کا ذکر کہاں سے کروں۔بنگالیوں کا پاکستان بنانے میں بڑا کردار تھا۔ان کی جد وجہد بھی عظیم تھی۔ادھر مغربی پاکستان میں آزادی کی لڑائی بھی زور سے لڑی گئی مگر وہاں زور شور سے معرکہ ہوا۔کہتے ہیں مجیب الرحمن جو بنگلہ بندو بنا وہ اپنے سائکل پر پاکستان کا پرچم لہرا کر نکلا تھا۔پھر راستے میں کیا ہوا اس کی جھلک اس کالم میں دیکھ لیجئے گا۔آئیے سچ بولیں ۔پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان کی سرکاری زبان اردو قرار دی گئی تو بنگالیوں کو اس وقت احساس ہوا کہ ہم اس وفاق میں انگریزوں کی غلامی کے بعد مغربی پاکستانیوں کے غلام ہو گئے ہیں۔بنگالی زبان کوئی بانجھ زبان نہ تھی۔

اس زبان میں ادب ثقافت کی آمیزش تھی۔بنگال کے دریائوں میں نائو اور کھوئیے کی داستانیں تھیں رابندر ناتھ ٹیگور تھا شاعری تھی غزل تھی۔بنگال کے پانیوں کی داستانیں تھیں محبت تھی پیار تھا۔حسن بنگال بنگال کا جادو تھا اور شاعروں کے قلم ان کی کہانیوں کے امین تھے۔ان سے ان کی زبان چھین لی گئی۔بعد میں دالمملکت کراچی سے اسلام آباد آ گیا۔سچ پوچھیں تقسیم پاکستان میں ہمالائی غلطیاں تسلیم کی گئیں۔کشمیر کو جبرا بھارت کی جھولی میں دے دیا گیا۔قادیانی چودھری ظفراللہ پاکستان کو تحفے میں ملا اس نے گورداس پور بھارت کو دینے میں رضامندی ظاہر کی خونریزی ہوئی۔مشرقی پاکستان ایک ہزار میل دور تھا۔اسے نظرئیے کی رسی سے باندھنے کی کوشش کی گئی لیکن افسوس یہ ہے کہ اسلامی نظرئے کی روح کو قتل کیا گیا۔بنگالیوں کی غلط اردو اور ان کی سیاہ رنگت کو مزحیہ عنوان دے دیا گیا۔عرفات کے میدان میں دئیے گئے خطبے کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ان کے پستہ قد اور اردو کے انداز تکلم پر لطیفے بنا دئیے گئے۔

وہ کراچی کے موسم سے تو آشناء تھے لیکن اسلام آباد کی سخت سردی نے انہیں بیمار کر دیا ۔بنگالی بیرو کریسی کو احساس ہو گیا کہ ہم آزاد تو ہوئے مگر اس آزادی کے نام پر ہمیں غلام بنا لیا گیا ہے۔وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا تھا اسے زبان کے نام پر توڑا جا رہا تھا۔یہ اس لئے نہیں کہ بنگلہ زبان بولنے والوں نے کوئی غلط اقدام اٹھایاْبلکہ مجھے کہنے دیجیے کہ اردو بولنے والوں نے ان کی حق تلفی کی۔ان پر اپنا کلچر نافذ کرنے کا جرم کیا۔بنگلہ دیش میں میں مقیم بہاری کمیونٹی جس نے اس کام میں حصہ لیا اس نے گرچہ بعد میں خون کے نذرانے دے کر اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا۔البدر اور الشمس میں یہی نوجوان تھے۔جماعت اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی تھے یہ لوگ۔جب نفرتوں کے بادل چھائے اور بنگالیبھارت کی جھولی میں جا بیٹھے تو ان نوجوانوں اور ان بہاریوں کی نسلوں نے لاجواب کردار ادا کیا جس کی قیمت وہ اب بھی چکا رہے ہیں۔
نفرتوں کو مہمیز دینے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے ان بھارت نواز ہندئوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ظلم کی داستانوں کے عنوان سے جھوٹے افسانے گھڑے۔بنگالی خواتین پر جنسی حملوں کی جھوٹی داستانیں گڑیں۔بعد کی تحقیات سے ثابت ہوا یہ سب کچھ فراڈ تھا جھوٹ تھا۔جس طرح عراق کے بخئیے اس جھوٹی کہانی سے جڑے ہوئے ہیں مشرقی پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی لیگ انتحابات جیت چکی تھی۔لیکن اس میں یہ بات شامل کر لیجئیے کے مشرقی پاکستان میں انتحابات خونی تھے۔انتحابات سے پہلے جماعت اسلامی کا جلسہ الٹا دیا گیا تھا۔مغربی پاکستان سے جانے والے لیڈران کو قدم نہیں جمانے دیا جا رہا تھا۔

جال جالو آگن جالو کے نعرے بھی لگائے گئے۔ستر کے انتحابات میں قومی اسمبلی کی ٣٠٠ نشستوں سے عوامی مسلم لیگ کو ١٦١ نشستیں مل چکی تھیں۔صوبہ مشرقی پاکستان میں ٣١٠ صوبائی نشستوں میں عوامی لیگ ٢٩٨ نشستیں جیت چکی تھیں اس نے قومی اسمبلی کے لئے ایک کروڑ انتیس لاکھ سینتیس ہزار ایک سو باسٹھ (12937162) ووٹ حاصل کئے جب کے پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان سے اکسٹھ لاکھ ارتالیس ہزار نو سو تئیس (6148923) ووٹ حاصل کئے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔مغربی پاکستان سے پیپلز پارٹی کو اکیاسی نشستیں ملیں وہ سندھ اور پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے کونسل مسلم لیگ،قیوم لیگ،جماعت اسلامی،جمیعت العلمائے اسلام،جمیعت علماء پاکستان کو بھی اسمبلی میں نشستیں ملیں۔

بھٹو نے یحی خان کو شیشے میں اتار لیا اس نے ذوالفقار علی بھٹو کو آئینے میں اتارا المرتضے لاڑکانے میں یحی خان خود گئے۔اور کہنے والے کہتے ہیں اگر لاڑکانے کے لان میں برگد کے درخت کو زبان ملے تو وہ بتائے گا کہ اسی کے سائے میں پاکستان کو توڑنے کا پلان بنا۔اس پر بہت لکھا جا چکا ہے لیکن میں نے جو دیکھا اور سمجھا اس کی بات کر رہا ہوں۔پاکستان کو توڑنے میں اگر میری بات سنی اور سمجھی جائے تو وہ ایک ٹرائکا کا کام ہے جو یحی خان،بھٹو،اور مجیب پر مشتمل ہے۔

پاکستان توڑنے میں چوتھا کردار اندرا گاندھی کا ہے۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ چاروں کا انجام عبرت ناک ہوا۔یحی خان اور اور اس کا کتا ہارلے سٹریٹ کے کسی گھر میں گمنامی کی موت مرے،بھٹو کو پھانسی ہوئی،مجیب اور اس کا خاندان بے دردی سے قتل کر دئے گئے یہ انجام تھا پاکستان کے قاتلوں گا۔

سولہ دسمبر کے اس سیاہ دن کو یاد کرتtا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہماری بیوروکریسی ہر سال رونا روتی کہ مشرقی پاکستان کے سیلاب ہماری معیشت پر بوجھ ہیں۔آج بنگلہ دیشی ٹکے کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی دو ٹکے کی حیثیت نہیں ہے۔ہمیں ہمارے حکمران لوٹ لے گئے۔بھارتی بالا دستی اور زیادتیوں کے باوجود مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے ہم سے آگے نکل گیا ہے۔

بھٹو نے ٹوٹے ہوئے پاکستان کا اقتتدار سنبھالا۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں پولینڈ کی قرار داد کو جب پھاڑا گیا تو اسی وقت پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے وہ اخبار دیکھا جس کی سرخی تھی ادھر تم ادھر ہم۔ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو بدنام کرنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا۔جنرل ٹکا خان جو بعد میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے انہوں نے بندے نہیں زمین چاہئے کے نام پر جو کچھ کیا اس کا بھرنہ آپ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی پر نہیں ڈال سکتے۔جنرل نیازی نے سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے ہتھیار ڈالے۔لیکن میں اپنے قاری کو بتانا چاہتا ہوں۔قیدی نوے ہزار نہیں تھے۔یہ چھتیس ہزار تھے ان کے اہل خانہ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کی تعداد ڈال کر انہیں نوے ہزار بتایا گیا۔شکست شرمن ناک ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کچھ بھی ہو وہ ایک ایسے شخص کی رپورٹ تھی جو فوج سے کسی وجہ سے ناراض تھا۔

میں سمجھتا ہوں حقائق کو نئے سرے سے جانچنا ضروری ہے۔آپ کسی سینئر صحافی کے تھزیوں پر اپنی رائے قائم نہیں کر سکتے۔الطاف حسین قریشی ڈھاکہ فال سے پہلے ہمیں بتا رہے تھے کہ محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔مجیب شامی اور مجید نظامی بھی یہی کچھ بتا رہے تھے۔لیکن حقیقت یہ سامنے آئی کہ مشرقی پاکستان سلگ رہا تھا۔مجیب غدار تھا وہ اگرتلہ سازش کیس کا مجرم تھا جو ساٹھ کی دہائی میں پکڑی گئی تھی۔میاں نواز شریف صرف بغض فوج میں مجیب کو ہیرو بنا رہے ہیں۔ایسی کوئی حقیقت نہیں ہے مجیب اور بھٹو اور تیسرا لالچی جرنیل یحی یہ سب برابر کے مجرم ہیں اور چوتھی بیرو کریسی جس نے مشرقی پاکستان کو ہمیشہ بوجھ سمجھا۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ہم نے اکہتر کی جنگ میں ساتھ دینے والے بہاریوں کو اکیلا چھوڑ دیا ہم نے پھانسیوں پر جھولتے لوگوں کو جماعت اسلامی کے بندے سمجھا اور ہم ایک بار پھر اسی جرم میں مبتلاہیں میں نے نے گلگت بلتستان،بلوچستان،سندھ کے دیہی علاقے،جنوبی پنجاب،ہزارہ کے پی کے میں وہی زیادتیاں شروع کر رکھی ہیں۔کے پی کے کی ساری ترقی صوابی،مردان،چارسدہ،پشاور کے لئے ہے ہزارہ جائے بھاڑ میں ،جنوبی اضلاع کو خصم کھا جائیں،جنوبی پنجاب میں ایک بندے کے اوپر چوبیس روپے خرچ کرتے ہیں اور لاہور میں چھبیس ہزار،اسی طرح سندھ کے اضلاع موئن جو دڑو کے دور میں زندہ ہیں۔بلوچستان کو تو سوتیلی ماں بن کر ملا جا رہا ہے۔پروفیسر عنائت علی خان نے کہا تھا حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
لوگوں کے دلوں پر پٹی باندھئے۔قومی وسائل پسماندہ لوگوں اور علاقوں پر خرچ کریں۔نئے صوبے بنائیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہوں گا کہ قومی اداروں کی تذلیل نہ کریں۔میں کیا لکھا کیسا لکھا دوستو اس غم کے دن کے موقع پر شہدائے مشرقی پاکستان اور پشاور کو لکھے دیتا ہوں وہ پہلا زخم بھارت کی مدد سے کیا گیا اور دوسرا بھی اسی کی جانب سے۔باغبانپورے کی گلی چودھری برخوردار کا لمبا تڑنگا سیٹیاں بجاتا،بتی بند کرو جی کی آواز لگاتے اس افتخار نے آج آپ سے دکھ بانٹا ہے ۔عرض مدعا یہ ہے کہ اس پاکستان کو بچا لو۔یہ اب بھی کشمیر،فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا خواب ہے امید ہے ۔دوستو دیکھو یہ میرے زخم ہیں۔پاکستان زندہ باد۔

Engineer Iftikhar Chaudhry
Engineer Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

Share this:
Tags:
happiness iftikhar chaudhry nation pakistan terrorists wounds پاکستان خوشی دہشت گرد زخم قوم
Sheikh Mujibur Rahman
Previous Post مشرقی پاکستان کو پاکستان سے کن لوگوں توڑا
Next Post سقوط ڈھاکہ اور ہمارا ازلی دشمن
Saqoot e Dhaka

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close