
بیجنگ (جیوڈیسک) برطانوی خبر رساں ایجنسی سے مسلم طلبا نے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھیں یونیورسٹی کے پروفیسروں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ انکار کرنے پر انھیں سزا دی جاتی ہے۔
ایک طلب علم نے کہا، اگر آپ کو یہاں معمول کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے تو آپ کو روزے نہیں رکھنے ہوں گے۔ صوبے سنکیاناگ میں اقلیتی برادری اوغر آباد ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
یاد رہے کہ چین میں حالیہ حملوں کی ذمہ داری چینی حکومت نے اسلامی شدت پسندوں پر عائد کی تھی۔ سنکیانگ جس کا قدیم نام مشرقی ترکستان ہے وہاں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس انتہا پسندی کی وجہ چینی حکومت کی مسلمانوں کے مذہب اور ثقافت کے خلاف جبری پالیسیاں ہیں۔
پورے صوبے میں موجود یونیورسٹیوں میں روزہ رکھنے پر پابندی ہے اور کچھ ہسپتالوں میں تو مسلمان ملازمین کو روزہ نہ رکھنے کے معاہدوں پر دستخط کروائے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کئی سرکاری دفاتر نے رمضان کے دوران مسلمان عملے کے روزہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
