
صنعاء (جیوڈیسک) یمن میں حوثی باغیوں نے مذاکرات کی مشروط پیش کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں حکومتی افواج سے برسر پیکار حوثی باغیوں کے سیاسی گروپ کے رہنماء علی الکاحوم کا کہنا ہے کہ اگر سعودی حکومت کی جانب سے فضائی بمباری روک دی جائے تو مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم شروع سے ہی مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن صدر ہادی المنصور سیاسی منظر عام سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ ان کی حکومت فضائی بمباری اور ٹینکوں کی مدد سے بحال نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک فضائی بمباری میں مصروف ہیں تو زمین پر باغیوں اور سرکاری فوج میں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ عدن پر کنٹرول کیلئے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان کئی روز سے گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ یمن کے علاقے متحارب میں مقامی قبائل نے بھی حوثی باغیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔
قبائل نے باغیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر تیار کیا ہے۔ عدن کےعلاوہ صنعاء، صعدہ، الحدیدہ اور تائز میں بھی گولہ باری کی جا رہی ہے۔ عدن شہرمیں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زائد ہو گئی ہے۔ شہر میں غذائی اشیاء اور پانی کی شدید قلت ہے۔ بجلی منقطع ہے اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔
