
تحریر: ناصر رضا چشتی
ڈاکٹر شاہد مسعود نے 11 اپریل 2015 کو نیوز ون چینل پر اپنے مقبول پروگرام End Of The Time میں بخاری شریف کی ایک مستند روایت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں ایک بار اصحاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری زمانے میں نجد کے کیا حالات ہوں گے۔ آپ نے ارشاد فرمایا اللہ ہمارے شام پر رحم فرمائے ہمارے یمن پر رحم فرمائے۔ دوبارہ پوچھنے پر بھی آپ نے یہی جواب دہرایا۔صحابہ کے تیسری بار پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ نجدمیں زلزلے تباہیاں رونما ہوں گی وہی سے شیطان سر نکالے گا۔
اس حدیث مبارکہ پر غور کرنے سے بہت سارے راز منکشف ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے جو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت ؑ کی قبروں کی مسماری اور اجساد مبارکہ کی توہین کے کھلے عام مرتکب ہو رہے ہیں۔
قیامت سے قبل ظہور پر نور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے تمام مسلمان متفق ہیں ماسوائے کچھ مخصوص لوگوں کے ایک قلیل گروہ کے جس نے ظاہراََ اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن پس پردہ یہود و نصاری کے اسلام دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔یہ لوگ نہ صرف امام علیہ السلام کے ظہور سے انکاری ہیں بلکہ ظہور امام مہدی ؑ کی مسلمہ حقیقت کے خلاف سازشوں میں بھی مصروف ہیں۔معروف حنفی علما عظام اور مورخین نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قرب ظہور کی علامات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ساری دنیا کو دانستہ طور پر کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔ عوام تک وہی معلومات پہنچائی جا رہی ہیں جن کو یہودی و نصاری ڈکٹیٹ کر رہے ہیں۔مستند احادیث و روایات سے یمن کا انقلاب ثابت ہے۔ یہاں سے ہدایت یافتہ پرچم سربلند ہو گا اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرے گا۔
زمانہ ظہور میں ہدایت کے لیے اٹھنے والے پرچموں میں سب سے زیادہ ہدایت والا پرچم یمن سے خروج کرے گا۔ اس سلسلے میں امت مسلمہ کو دانستہ طور پر ورغلایا جا رہا ہے اور ان قوتوں کو سچا ثابت کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے جویہود یت و صیہونت کے نصرت یافتہ ہیں اور ان کی مدد سے اہل اسلام کو تہ تیغ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔مستند کتب میں مذکور ہے کہ ظہور امام ؑ سے قبل جنگ و جدل کا دور دورہ ہو گااور اس وقت یمانی کا پرچم تم کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی دعوت دے گا پس وہی مسلمان ہو گا جو اس پرچم کے خلاف نہیں ہو گا۔
انہی ادوار میں ایک عالمی جنگ کی بھی پیش گوئی موجود ہے۔ روایت ہے کہ امام مہدی ؑ قیام نہیں فرمائیں گے مگر لوگ زلزلے، فتنہ و فسادات اور مصائب کے سبب سخت خوف و ہراس میں ہوں گے۔حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ مہدی ؑ کے ظہور سے پہلے سرخ موت اور بعد میں سفید موت ہے۔اس طرح ایک اور روایت میں ہے کہ تم مجھے حجاز کے بادشاہ عبد اللہ کے مرنے کی خبر دو میں تمھیں امام مہدی ؑ کے ظہور کی بشارت دیتا ہو۔
میرے بھائیوں ! یہ وقت اپنی آخرت بچانے کا ہے۔خدارا یہود و نصاری کے منفی پروپیگنڈہ کا حصہ بن کر خدا اور اس کے رسول کو ناراض نہ کریں۔ میری میڈیا سے وابستہ افراد سے درخواست ہے کہ وہ قارئین و ناظرین کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ یمنی لیڈر نے کہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ہم مسجد نبوی اور خانہ خدا کے احترام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔
ہم حرمین مقدس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے جبکہ یہود و نصاری کے مسلمان نما دوست اصحاب کرام رضوان اللہ علیہ ،انبیاء کرام علیہ السلام اور اہل بیت علیہ السلام کی قبروں کو بھی بموں سے اڑا رہے ہیں ان سب کی تفاصیل اور فلمیں آپ انٹرنیٹ پر آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ہم نے خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاضر ناضر جان کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔آپ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور بھرپور معلومات حاصل کر کے لوگوں تک صحیح معلومات پہنچائیں۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔
تحریر: ناصر رضا چشتی
nrchishti@gmail.com
