Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کل سے سبق لیتے ہوئے آج کی فکر کی جانی چاہیے

December 8, 2014 0 1 min read
Tariq Bin Ziyad
Tariq Bin Ziyad

تحریر : محمد آصف اقبال
711ء کا واقعہ ہے جب طارق بن زیاد نے صرف سات ہزار مسلمان سپاہیوں کے ساتھ اندلس میں قدم رکھااور وہ عظیم واقعہ نمودار ہوا جس نے تاریخ رقم کی۔ اندلس سمندر کے کنارے پر تھا اور آنے والی فوج پانی کے راستے آئی تھی،لہذا طے ہوا کہ یا تو فتح حاصل کریں گے یا پھر جام شہادت گلے لگائیں گے۔لہذاجن کشتیوں سے سمندر عبور کیا تھاانہیں جلا دیا گیا۔وادی لکتہ کے پاس ایک لاکھ عیسائیوں اوربارہ ہزارمسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی،جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔لیکن جلد ہی طارق محلاتی سازشوں کا شکار ہوا۔اور وہ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد جنہوں نے اندلس فتح کیا تھادربار خلافت میں ذلیل ہوئے۔بعد میں عبد العزیز بن موسیٰ نے اندلس کی فوج کی کمان سنبھالی اور انتہائی مضبوط قلعے تسخیر کیے ،لیکن اسے بھی حاسدوں کا شکار ہونا پڑا اور خلیفہ سلیمان نے حکم دیا کہ عبدلعزیز کا سر کاٹ کر دمشق روانہ کیا جائے۔ جرم یہ تھا کہ اس نے قانون بنایا تھا کہ اگر کوئی عیسائی غلام اسلام قبول کرلیتا تو اسے آزاد سمجھا جاتا اور اس کی آزادی کی ضمانت حکومت دیتی۔

اُس زمانے میں بے شمار غلام تھے چنانچہ اس کے چند روزہ دور میں اندلس کی مقامی آبادی کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔پھر یہ قتل دارالحکومت دمشق کی خلافت کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کا ذریعہ بنا۔اورساتھ ہی یمانی،قیسی،بربروں کے درمیان نہ صرف تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے بلکہ مسلمانوں کے اندر ہی خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ایسے موقع پر عیسائی غور سے اِس منظر کو دیکھتے رہے۔وہ کبھی کسی فریق کا ساتھ دیتے کبھی کسی کا۔یہاں تک کہ عبدالرحمن سوم کا سہنری دور آیا لیکن انہیں بھی اپنے دور میں عیسائی باغیوں اور فتنہ انگیزوں کے خلاف مسلسل کاروائی میں مصروف رہنا پرا۔علاوزہ ازیں اب مسلمان اندلس صرف اپنے دفاع میں لگے تھے،انہیں قدرت نے تبلیغ اسلام و توسیع سلطنت کا موقع دیا لیکن افسوس انہوں نے یہ موقع کھو دیاتھا۔عبدالرحمن سوم ہی کے دور میں مشہور جنگ الخندق میں مسلمانوں کو شدید ترین نقصان پہنچا۔جنگ عیسائیوں کے قلعہ سموار کے قریب ہوئی،اورتقریباً پچاس ہزار مسلمان خندق میں گر کر ڈوب گئے اور بھاگنے والے قتل ہوئے۔آخری ایام میں اموی خلیفہ ہشام ثانی اپنے حاجبوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا رہا۔حکومت ان کے حاجب چلاتے اور وہ خود شراب کی لذتوں میں غرق رہتا۔حاجب عبدالرحمن نے تو باقاعدہ لکھوالیا کہ وہ حکومت کرنے کا اہل نہیں رہا، اس لیے تمام اختیارات خلافت حاجب کو منتقل ہو گئے اور وہ نااہل بلآ خر قتل کر دیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جبکہ اندلس میں مسلمانوں کے اقبال کا سورج نصف انہار تک پہنچا ہوا تھا۔نہ اس دور سے پہلے اور نہ ہی بعد میں وہ عروج حاصل ہوا جو اُس وقت موجودتھا۔ لوگ مادی اعتبار سے خوشحال تھے، تجارت ترقی پر تھی،آبادی مہذب تھی، شہروں میں تفریح گاہوں اور باغوں کی کثرت تھی، غرناطہ، قرطبہ، بلنیسیہ، اشبیلیہ،طلیطلہ کے شہر اپنی مثال آپ تھے۔وادی الکبیر کے دونوں طرف تیس میل تک میوہ دار درخت ملک ملک سے منگواکر لگائے گئے تھے۔دارالحکومت قرطبہ کی تو شان ہی کچھ اور تھی۔آبادی ایک ملین تھی، مکانات کی تعداد بیس ہزار ،مساجد تین ہزار تھیں، حمام تین سو کے قریب تھے۔اسی طرح ایک اور خوبصورت مضافاتی بستی الزھرا تھی جہاں شاہی محلات تھے۔شاہی لائبریری میں چھ لاکھ تک جلدیں موجود تھیں، جامع مسجد قرطبہ اپنی وسعت اور خوبصورتی میں بے مثال تھی، اس کی چھت چودہ سو ستونوں پر کھڑی تھی، یہاں بہترین یونیورسٹی قائم تھی جہاں دنیا کے کونے کونے سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھانے آتے۔اس سب کے باوجود بدقسمت مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات کی قدر نہ کی،خوشحالی اور مادی عروج کے خوشنما مناظر میں گم ہو کر وہ ایسے غافل ہوئے کہ اپنے اصل مقصد کو فراموش کر بیٹھے۔اور محض امن و سکون کی خاطر متعصب عیسائی حکمرانوں کی من پسند شرائط پر دوستی کے معاہدے کرنے والے(حالانکہ اُن عیسائی حکمرانوں نے ہمیشہ ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی)مسلمان حکمرانوں کی غلطیوں، مقاصد سے انحراف اور عیش پسندی کی بہت بڑی سزا ملی۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ امراء نے بغاوت کرکے خودمختار سلطنتیں قائم کرلیں ،جو خود ہی ایک دوسرے سے آپس میں لڑتے رہتے۔آخر کار مسلمان اندلس بھر سے سمٹ سمٹا کر غرناطہ کی آخری مسلمان ریاست کی حدود میں جمع ہو گئے۔اتنے چرکے سہنے کے بعد ان میں بربر و عرب کا امتیاز مٹ چکا تھا، انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ دشمن کے نزدیک نہ وہ عرب تھے،نہ بربر، نہ یمانی، نہ شامی، فقط مسلمان تھے،اوریہی ان کا قصور تھا۔

ALLAH
ALLAH

لیکن دشمن سے رحمدلی کی امیدیں وابستہ کرنے والوں کو وقت اور تقدیر نے کبھی نہیں بخشا۔جب مواحدین کی خلافت ختم ہوئی اور اسلامی اندلس کی مختلف چھوٹی بڑی مملکتیں آپس میں ٹکرانے لگیں تو انہیں اسی قسم کی غلط فہمی ہوئی تھی، یہ غلط فہمی اس وقت دور ہو گئی جب دشمن نے لالچ،جھانسہ اور سازش کے بعد ایک کے بعد دوسری ریاست کو تر نوالہ بنانا شروع کیا۔اندلس کے مسلمانوں پر فتنوں کی ژالہ باری شروع ہو گئی تھی۔کبھی کبھی دنیا میں بھی دوزخ کا نقشہ قوموں کو دکھایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”یہی وہ دوزخ ہے جس کے متعلق تمہیں بتادیا گیا تھا”(القرآن)۔ اور پھر اپنے آخری سوسالوں میں غرناطہ کے حکمرانوں نے طاقتور عیسائی حکمرانوں کی زیادہ سے زیادہ خوشامد اور نئے سے نئے ایسے معاہدے کرکے اپنے اقتدار کا بچائو کیا جن میں غیرت اسلامی کو دائو پر لگادیا گیا۔امیر یوسف محمد ابن الاحمر نے جب محمد ہشتم کی فوج کو شکست دے کر غرناطہ میں قدم رکھا تو اس نے اپنا فرض سمجھا کہ اپنے عیسائی آقائوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلائے تاکہ انہیں ان کی طرف سے کسی قسم کی شکایات کا موقع نہ ملے۔چنانچہ اس نے عیسائی حکمرانِ قسطلہ کو خط لکھا:”میں یوسف محمد ابن الاحمر بادشاہ غرناطہ تمہارا مطیع و فرمانبردار، عقیدت و نیاز مندی کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں سیدھا غرناطہ آیا اور یہاں کے تمام امراء اور علما نے مجھ کو اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔

یہ دن مجھ کو خدا کے فضل اور تمہاری عنایت و مدد سے نصیب ہوا ہے”۔یہاں تک کہ غرناطہ کی کشتی میں جگہ جگہ سراخوں نے بڑے شگاف کی شکل اختیار کر لی۔اور ان حالات میں غرناطہ ایک طرف نزع کی حالت میں آخری ہچکیاں لے رہا تھا تو وہیں مسلمان عظیم المیے سے بے خبر آپس میں لڑ رہے تھے۔سکرات موت تک کی کہانی میں کوئی نئی بات نہ تھی، وہی کچھ ہوا جو ہمیشہ کسی قوم کو مرگ کے جانگسل لمحے میں پیش آتارہا ہے۔1489ء میں فرڈی نینڈ نے قلع بسط کا محاصرہ کیا۔مسلمانوں نے مختصر مزاحمت کے بعد یہ قلعہ عیسائیوں کے حوالے کر دیا۔فرڈی نینڈ نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے جان ومال کو نہیں چھیڑا جائے گا لیکن طاقتور معاہدوں کی کب پروا کرتے ہیں۔فرڈی نینڈ نے قلعہ میں داخل ہوکر قتل عام کا حکم دیا اور مسلمانوں کی تمام جائیداد حملہ آوروں میں بانٹ دی۔اب اسی غرناطہ میں مسلمان محاصرے میں تھے۔ابو عبداللہ پر ملکہ ازابیلا اور فرڈی نینڈ کے ٹڈی دل متحدہ لشکر کی یلغار ہو چکی تھی۔یہ وہی ابو عبداللہ تھا جس نے باپ کے خلاف اقتدار کے لالچ میں بغاوت کی تھی،چچا الزاغل کے ساتھ جنگیں لڑی تھیں،مسلمانوں کو آپس میں لڑایا تھا،ہمیشہ عیسائیوں سے مدد کی بھیک مانگتا رہا تھا اور اب وہی عیسائی حقِ ہمسائیگی اچھی طرح ادا کرنے کے لیے غرناطہ کے قلعہ کے درازوں پر دستک دے رہے تھے۔عیسائیوں نے مجبور نہیں کیا تھا لیکن ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن ابوعبداللہ نے ساٹھ دن کی مقررہ معیاد سے پہلے ہی 2جنوری1492ء کو غرناطہ دشمن کے حوالے کر دیا۔یکم جنوری اور 2 جنوری کی درمیانی شب مسلمانوں کے لیے قیامت کے مناظر کی رات تھی تو وہیں ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈی نینڈ کے لیے یہ عید کی رات تھی۔مصنف ایس پی اسکاٹ لکھتا ہے:2″جنوری1492ء کی تاریخ میںجب شاہی خاندان اپنا زرق برق لباس پہنے مسرت نعروں کے ساتھ قصر الحمرا کی طرف بڑھا تو الحمرا کا دروازہ آہستگی سے واہوا۔چند خوبصورت نوجوان گھوڑوں پر سوار آداب بجانے کے لیے آگے آئے، انہوں نے رنگا رنگ ریشمی ملبوسات پہن رکھے تھے۔ان کے ہتھیاروں اور زربکتروں میں جواہرات چمک رہے تھے۔ان استقبال کرنے والوں میں سب سے آگے بدقسمت ابو عبداللہ اور باقی سب اس کے امرا تھے”۔آج فاتحِ غرناطہ کو قصر الحمرا میں داخل ہوتے دیکھ ابو عبداللہ اپنے گھوڑے سے اترپڑا اور اس کے گھوڑے کی باگ تھام لی،ساتھ ہی اندلس کی آٹھ سو سالہ اسلامی روح پرواز کر گئی۔غرناطہ کی چابیاں کانپتے ہاتھوں سے دشمن کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ابوعبداللہ نے کہا:”یہ چابیاں اندلس میں عربوں کی حکمرانی کی آخری نشانی ہیں،آپ انہیں لے لیجیے کیونکہ خدا کی مشیت کے مطابق ہمارا ملک،مال اور جانیں سب آپ کی ملکیت میں ہیں”۔

واقعہ بطور تاریخ دانی نہیںپیش کیا گیا ہے۔مقصود یہ ہے کہ ملت آج جس بے راہ روی میں مبتلا ہے،بے مقصدیت جس کی پہچان ہے، اور اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری جس کی “شان “بنی ہوئی ہے ،اس پر توجہ دی جائے۔لازم ہے کہ اسلامی تعلیمات سے نہ صرف واقف ہواجائے بلکہ عمل بھی کریں ساتھ ہی اُن پیاسی روحوں کو اسلامی تعلیمات سے سیراب کیا جائے،جو مکتی کی آس میں معلوم نہیں اس ملک میں کیا کچھ کرتے ہیں۔کیونکہ مادی وسائل نہ کل کارآمد ہوئے اور نہ ہی آج کارآمد ثابت ہوں گے،جبکہ اسلامی اخلاق و اقدار کے فروغ میں فرد واحد اور بحیثیت پوری ملت سعی و جہد میں مصروف عمل نہ ہو جائے۔لہذا کل سے سبق لیتے ہوئے آج کی فکر کی جائے۔فکر کا پہلا قدم اسلامی تعلیمات سے وابستگی وعمل ہے۔تو وہیں دوسرا قدم قیام عدل کے لیے اپنی تن آسانیوں کو قربان کرنا ہے۔ممکن اس طرح نفرتوں کی دیواریں ٹوٹیں، آپسی محبت و اعتماد پروان چڑھے اور بحیثیت انسان بلا امتیار مذہب و ملت ہم دوسروں کے لیے کارآمد ثابت ہوجائیں!۔

Muhammad Asif Iqbal
Muhammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
Muslim sea Thought today Tutorials victory yesterday آج سبق سمندر فتح فکر کل مسلمان واقعہ
Previous Post بھمبر کی خبریں 8/12/2014
Next Post ہمیں اپنی ثقافت پر ناز ہے، دھرتی سے محبت کرنے والا سندھی ٹوپی اور اجرک پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا۔ امجد علی شاہ

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close