
تحریر: خنیس الرحمان
سخت دھوپ اور گرمی تھی ہر طرف قوم کی بقاء اور سلامتی کی دعائیں ہو رہیں تھیں کون جانتا تھا کے کچھ ہی لمحوں بعد ہمارا پیار چمن ایک اسلامی ایٹمی پاکستان بننے کو جا رہا ہے.آلات تو صبح ہوتے ہی نصب کرلیے گئے اور کنٹرول روم کی چیکنگ کا آخری مرحل کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ضروری چیکنگ کے بعد دس سے الٹی گنتی شروع ہوئی جیسے ہی ایک کہا گیا تو پورا مجمع تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا اور چاغی کا وہ بھورے رنگ کا پہاڑ پیلے رنگ کی شکل اختیار کر گیا.
آخر قارئین پاکستان کو کیوں اتنی مشقت کرنی پڑی کے اس نے چھ دھماکے کر کے عالم کفر کے غرور تکبر کو غرور میں ملا دیا.قارئین جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا تب سے ہی بھارتی اس چمن کو توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے ابھی پاکستان سنبھلا ہی نہیں تھا کا بھارت نے پاکستان پر1965ء میں دھاوا بول دیا لیکن پاکستان کی فوج کی کمی بھی تھی لیکن پھر بھی دشمن کو منہ کی کھانا پڑی ابھی وہ پہلے زخم بھولے نہ تھے 1971ء میں دوبارہ حملہ کرکے پاکستان کو دو لخت کر دیا.
اس موقع پر سعودی عرب نے پاکستان کو کہا کہ اب تم اگر اپنے بچے کھچے ملک کو بچانا چاہتے ہو تو تمہیں ایٹمی طاقت بنا ہوگا دوسری طرف بھارتیوں نے 1972ء میں ایٹمی دھماکے کرکے اپنے دشمنوں کو خبردار ہونے کا اشارہ دے دیا تھا اب اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم زوالفقار علی بھٹو نے ہالینڈ میں مقیم ایٹمی سائنسدان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور اس کے بعد ملک بھر میں ایٹمی پلانٹ قائم کیے گئے 1998 ء میں بھارت کی برسراقتدار جماعت BJPنے پاکستان کی طرف پانچ ایٹمی دھماکے کردیے اب پاکستان نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہو بھارتی جارہیت کا جواب دینے کا اعلان کر دیا۔
امریکہ کے وزیر اعظم بل کلنٹن نے پاکستان کو کھلی دھمکی دیتے ہوے کہا کہ وہ بھارتی جارحیت کا جواب مت دے اور ساتھ ساتھ ملک عظیم پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں یہ وقت تھا جس وقت کوئی ایک لیٹر تیل دینے کو تیار نہ تھا لیکن اس موقع پر مخلص دوست سعودی عرب نے پچاس ہزار بیرل تیل فی دن کے حساب سے تین ماہ مفت تیل دیا جس سے پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکا لیکن آج جب سعودی عرب پر مشکل وقت آیا تو پاکستان کی پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں نے اسے شیعہ سنی کی جنگ اور پرائی جنگ کہنا شروع کردیا اور سعودی عرب کو جوقب دیتے ہوے سوچنے کا کہے ڈالا عاصفہ الحزم کو پرائی جنگ کہنے والے سنی شیعہ کی جنگ کہنے والے یہ سوچیں جنگ اسلام کی جنگ ہے کعبہ کو خطرہ ہے اور اس سے گنبد خضرہ کو بھی .
اس وقت جب پاکستان ایٹمی ملک بنا تو اس وقت سب سے زیادہ خوشی سعودیہ کو ہو ئی یہا ں پاکستان میں ایٹمی دھماکے کیے جارہے تھے اور وہا ں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اللہ کے حضور سجدے میں جھک گئے آج تما م مسلم دنیا کی ھمدردیا ں پاکستان کے ساتھ ہیں ہا ں ہاں یہا ں ایک واقعہ بھی عرض کیے دیتا ہوں ایک بھائی بتلاتا ہے کہ سعودی عرب میں ایک فلسطینی رو رو کر اللہ کے حضور پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔
میں نے عرض کی بابا جی فلسطین میں آگ لگی ہے اور دعا پاکستان کی سلامتی کیلیے کر رہے ہیں تو بزرگ کھنے لگے بیٹا پاکستان جہاد کا مرکز ھے اگر آج پاکستان سلامت رہا تو ہماری آزادی عنقریب ہے دیکھیے قارئین ایک طرف مسلم دنیا کی ہمدردیا ں ہیں اور دوسری طرف پاکستان کے میزائلوں بابر, غوری, حتف,رعد اور آبدوز سعد و ضرار اور برق براق سے عالم کفر بوکھلاہٹ کا شکا ر ہے یہی وج ہے کہ آج کوئی پاکستان کیجانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے اور ڈرون کلب میں بھی شامل ہوچکا ہے پاکستان سلامت رہے اور تاقیامت رہے.
تحریر: خنیس الرحمان
