Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عصر حاضر میں نوجوانوں کے ذمہ داریاں

January 15, 2020 0 1 min read
Youth
Youth
Youth

تحریر : مولانا محمد صدیق مدنی

چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کا معاشرہ بے شمار بیماریوں میں لت پت ہو چکا تھا،مثلا اس وقت ان کے پاس کوئی رہبر و پیامبر نہیں تھا بس جس فرد کے من میں جو آتا وہ اس کو کر گذرتاتھا۔اس معاشرہ میں بسنے والے اپنے متعلقین خواہ ان سے کتناہی بڑا خونی رشتہ نہ ہو اس کی تمیز کیے بنا وہ ان کے حقوق کو غصب کرتے ہوئے اپنی ذاتی منفعت و استراحت کے لیے سب کچھ کر گذرتے تھے۔اس معاشرے کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سے ایک اہم مسئلہ ملت کی مجموعی فلاح و بہتری کی سوچ و فکر کر نے والا کوئی فرد موجود نہ تھا۔اس معاشرے میں بھی بہت سے افراد انفرادی طور پرروحانی زندگی بسر کر رہے تھے ماسبق کتب کی روشنی میں اسی بات کو بیان کرتے ہوئے قرآن مجید نے کہا ہے ”ترجمہ۔”سب یکساں نہیں (انہی)اہل کتاب میں ایک جماعت قائم ہے(اس بات پرکہ) یہ لوگ اللہ کی آیتوں کی تلاوت اوقات شب میں کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ،یہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور اچھی باتوں کی طرف دوڑتے ہیں یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں۔(سورہ آل عمران ، ١١٣۔١١٤)

اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے ایسے افراداس معاشرے میں موجود تھے جو ذاتی اور انفرادی طور پر صالح الاعمال اور سلیم العقل تھے۔ مگر افسوس کہ وہ بحیثیت اجتماعی ،بہترانسانی معاشرے کے قیام سے یا تو عاجز تھے یا انہوں نے اپنے نیکو کار ہونے پر اکتفا کر لیا تھا۔
ساتویں صدی عیسوی کے اس انسانی معاشرے کی ان تمام کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کوئی مناسب و مؤثر قیادت میسر نہ آرہی تھی ایسے میں اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو یہ شرف بخشا کہ نبی مکرم رسول معظم ۖکی بعثت اور آخری امت کی بعثت فرمائی۔مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی رح فرماتے ہیں کہ ”ساتویں صدی میں جس خلاکوپوری صلاحیت اورقدرت کے ساتھ ملت اسلامیہ نے پرکیاتھا،وہ عالمی قیادت کا خلا تھا۔اس خلاکا پرہونا امت اسلامیہ کی بعثت کا کرشمہ ہے،جس کا ایک ایک فرد مینارہ نور،حامل ایمان ویقین تھا،جس نے ظلمتوں میں اپنی راہ پیدا کی(زمانے کا حقیقی خلاء ١٧) ”

امت اسلامیہ کی بعثت یعنی بھیجے جانے کے بہت سے ثبوت قرآن و حدیث میں موجود ہیں یہاں اختصار کے پیش نظراتنا عرض کروں گا کہ آنحضرت ۖ کے جلیل القدر صحابی حضرت ربعی ابن عامر فارس کے بادشاہ رستم کے دربار میں اسلام کا پیغام امن و آشتی لے کر جاتے ہیں تو اس پر رستم نے آپۖ سے سوال کیا کہ وہ کون سی بات ہے جس نے آپ کو اپنے علاقہ ترک کر کے یہاں آنے مجبور کیا؟تو حضرت ربعی ابن عامر نے جواب میں جوالہامی کلمات کہے وہ سونے سے نقش کرنے کے قابل ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں کوئی جاہ و منزلت ، دولت کی لالچ یا حکومت کرنے کا شوق یہاں کھینچ کر نہیں لایابلکہ”یہاں اللہ نے ہمیں بھیجا ہے تا کہ جس کو وہ چاہے اس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں،اور دنیاکی تنگی سے نکال کر دنیاکی وسعت میں داخل کریں،اور مذاہب و ادیان کی زیادتیوں سے نجات دلاکر اسلام کے انصاف میں داخل کریں”اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ دین اسلام نے جانوروں سے بھی بدتر معاشرے کی قیادت سنبھالی اور ان کی اصلاح و فلاح کا علم لہرایا۔یہ اسلام ہی کا امتیاز ہے، اسلام کے اس امتیازکو جاننے کے لیے اولین اسلامی حکومتوں کے حالات کو تفصیل سے پڑھاجاسکتاہے۔

عصرحاضرکے مسائل
عصر قدیم کا معاشرہ جس طرح بے پناہ امراض کے سبب متعفن ہوچکاتھا آج عصر حاضرکی صورتحال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔آج معاشرے کا ہر فرد اپنی انفرادی دنیوی زندگی اچھی سے اچھی بسر کرنا چاہتاہے، ہ بناکسی تمیز و چھان بین کے تمام وسائل مادیہ کا جائز و ناجائز استعمال کرکے اپنی ذاتی زندگی بہتر اور اچھی بسر کرناچاہتاہے۔ یعنی اچھی گاڑی،اچھاگھر،بینک بیلنس،سماج میں بڑاعہدہ و بڑانام ،یہ سب کچھ حاصل کرنے کی فکر میں منھمک ہے۔اگر چہ یہ امر اسلام کی نظر میں مکمل طور پر معیوب نہیں ہے ہاں البتہ اسلام اتنی دعوت فکر ضرور دیتاہے کہ آپ نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جو وسائل حاصل کیے ہیں ان کے حصول کا واسطہ و طریقہ جائز ہونا چاہیے اور دوسرا یہ کہ اگر آپ کو اللہ نے آپ کی محنت کی بدولت عنایات و عطایات سے نوازا ہے تو ایسے میں اللہ کے احسان مند رہیں اپنی اس کامیابی کو ذاتی تفاخر و بالادستی کے لیے استعمال نہ کریں،اور اسی طرح اپنے حلال مال کو خرچ کرنے میں اسراف و تبذیر سے احتراز کریں۔اور سب سے بڑھ کر اپنی زندگی کے مکمل ضابطہ حیات میں اس اللہ واحد کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لیں جس کی عنایات کی بدولت آپ دنیا میں بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں۔
میں اس مقام پر عصر حاضرمیں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ذکر کرنا چاہتاہوں۔ویسے تومسائل کی بہت طویل فہرست ہے مگر اختصار کے پیش نظر میں چند اہم مسائل کی جانب اشارہ کروں گا۔اولاًقیادت کا فقدان ثانیاًمادیت میں غلو پر مبنی سوچ و فکر،ثالثاًذمہ داری کا عدم احساس، رابعاًاخلاقی پستی ،خامساًاجتماعیت کی عدم دستیابی اور سادساًعصرحاضرکی ضرورتوں سے ناواقفیت۔

1:قیادت کا فقدان
جیسا کہ میں ماسبق میں ذکر کرچکاہوں کہ اسلام کی آمد کا مقصد ہی انسانیت کو بہترین ،پاک صالح ،خداترس اور انسان دوست اور اللہ تعالیٰ سے خشوع وخضوع رکھنے والی قیادت کی فراہمی تھی۔اسلام نے انسانیت کو جو قیادتیں فراہم کیں ان کی مثالیں پیش کرنے کی آپ کے سامنے اگر چہ ضرورت نہیں مگر بطور یاد ہانی کہ چند شخصیتوں کی مثال پیش کرتاہوں۔آنحضرت ۖکے جانشین اول سیدناصدیق اکبر نے منصب خلافت سنبھالتے ہی جو خطبہ دیاتھاوہ انسان دوستی پر مبنی تھا اس میں آپۖ نے فرمایاتھا کہ میرے نزدیک آپ میں سے طاقتور اس وقت تک کمزور ہے جب تک میں غریب کا حق اس سے نہ لے لوں اورآپ میں سے کمزور اس وقت تک میرے نزدیک طاقت ور ہے جب تک میں اسکوطاقت ور سے اسکا حق نہ دلادوں” دین اسلام سے محبت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ آپ نے جب وفات النبیۖکے بعد فتنوں کو دیکھا اور ان فتنوں کی سرکوبی کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرنے مشکلات و مسائل کی جانب توجہ دلائی، اس وقت آپ نے فرمایا کہ ”اینقض الدین وانا حی”کہ(انسانیت کے عالمگیر اور متوازن نظام حیات یعنی) دین اسلام میں کمی کی جائے اور میں زندہ ہوں یہ امر محال ہے۔سیدنا عمر فاروقجن کے زمانہ خلافت میں فتوحات فارس و روم کی شکل میں اسلام کی سلطنت میں اضافہ ہوا۔خشیت الٰہی اوراحساس ذمہ داری ان میں اس قدررچی بسی تھی کہ وہ فرماتے تھے کہ ”دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکھا مرجائے تو کل روز قیامت عمرکو کیا جواب دے گا” اسلام کے پیام عالمگیر کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے اپنی جدوجہد صرف کرنے والے حضرت عقبہ بن نافعنے فرمایاتھا کہ یہ سمندر حائل نہ ہواہوتا تو میراقافلہ برابر چلتاچلاجاتایہاں تک کہ آخری کنارے تک میں اسلام کا پیغام آفاقی پہنچا چھوڑتا۔عصر حاضرکا سب سے بڑاچیلنچ جس سے مسلمان برسرپیکار ہیں وہ قیادت کی عدم دستیابی ہے۔عالم اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی دولت سے نواز رکھا ہے مگر باوجود اس کے آج مسلم حکمران اغیار کی خوشنودی کے لیے اپنی تمام تر خدمات پیش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں پر ذلت مسلط ہوچکی ہے۔جس اسلام نے انسانیت میں قیادت کی کمی کو دور کیا تھا آج وہ ہی قیادت کی کمی کا شکار ہیں۔

2:مادیت میں غلو پر مبنی سوچ و فکر
عصرحاضرمیں جس طرف نظر ڈالی جائے وہیں پر ہر فرد ،ہر جماعت ،ہر قوم پرمادیت کی سوچ و فکر کا غلبہ نظرآتاہے۔سید ابولحسن علی ندوی فرماتے ہیں کہ” فکر بڑی نعمت بھی ہے اور بڑاعذاب بھی۔ہروقت گھر کی فکر،زیادہ کمائی کی فکر،دولتمند بننے کی فکر ،زیادہ ترقی کرنے کی فکر،تو یہ تمام فکریں خدا کا عذاب ہیں لیکن ملت کی فکر خداکی بڑی نعمت ہے یہ درد اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو عطافرماتاہے جن پر اس کا کرم ہوتاہے۔یہاں تک کہ لوگ ایسے آدمی پر رحم کھانے کے لیے کہتے ہیں کہ اسکو کسی وقت چین نہیں ہروقت ملت کے غم میں ڈوبارہتاہے۔ مسلمان خدائی فوج دار ہے مسلمان کو کب فرصت ،مسلمان کے لیے کہاں کا عیش(اسی جانب توجہ دلاتے ہوئے نبی اکرمۖ نے فرمایا تھا”الدنیا سجن المؤمن ”یعنی دنیا تو مومن کے لیے قید خانہ ہے،
جیسے ایک قیدی قید خانے میں زندگی تو گزارتا ہے لیکن اسے بے چینی لاحق رہتی ہے اسی طرح مومن اس دنیا میں زندگی تو گزارتا ہے لیکن اسے دارِ آخرت کی بے چینی لا حق رہتی ہے)مادیت میں غلو پر منبی جوفکریں ہم پر سوار ہوچکی ہیں اسی( ملت)کی فکرکے نہ ہونے کے سبب سے ہیں اگر یہ ایک فکر نصیب میں آجائے تو سب فانی فکروں سے نجات مل جائے(ملت کے نوجوان اور ان کی ذمہ داریاں١٩) ”مولانا روم نے اپنی مثنوی میں ایک عبرت آموز واقعہ تحریر کیاہے ، فرماتے ہیں کہ ”کل رات کا واقعہ ہے کہ ایک ضعیف العمر آدمی چراغ لیے شہر کے گرد گھوم رہے تھے اور اندھیری رات میں کچھ تلاش کر رہے تھے میں نے کہاحضرت سلامت آپ کیا تلاش کر رہے ہیں وہ فرمانے لگے مجھے انسان کی تلاش ہے میں چوپایوں اور درندوں کے ساتھ رہتے رہتے عاجز آگیاہوں۔میراپیمانہ صبر سے لبریز ہوچکاہے اب مجھے ایسے انسان کی تلاش ہے جو خدا کا شیر اور مرد کامل ہو۔میں نے کہا بزرگوار اب آپ کاآخری وقت ہے انسان کو آپ کہاں تک ڈھونڈیں گے اس عنقاکا ملنا آسان نہیں۔میں نے بھی بہت ڈھونڈا ہے لیکن نہیں پایا۔ان بزرگ نے جواب دیا کہ میری ساری عمر کی عادت یہ ہے کہ جب کسی چیز کو سنتاہوں کہ وہ نہیں ملتی تو اس کو اور زیادہ تلاش کرتا ہوں۔تم نے مجھے اب اس بات پر آمادہ کر دیا ہے کہ میں اس گم گشتہ انسان کو اور زیادہ ڈھونڈوں اور اس کی تلاش سے باز نہ آؤں(آدمیت سے بغاوت از سید ابوالحسن ندوی)”

3:احساس ذمہ داری
آج انسانوں بالخصوتفریح کے لیے آئے ہیں اور پھر مر کر ختم ہوجائیں گے۔آخرت کے انجام کی کسی کو کوئی فکر نہیں ، کوئی نہیں جانتا بلکہ جاننا بھی نہیں چاہتاکہ اس کے پیداکرنے کا مقصد اصلی کیا ہے کیوں کہ اگر وہ یہ جان لے گا تو اس سے ذمہ داری نبھانے کا مطالبہ کیا جائے گا اور آج کا انسان اپنا کام کرنے کو بالکلیہ تیار نہیں۔قرآن پاک میں اللہ عزوجل نے واضح الفاظ میں انسان کی تخلیق کے مقصد کو بیان فرمادیاہے ”وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون(سورہ الذاریات٥٦ )”اور نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگربندگی کے لیے۔بندگی یہ نہیں ہے کہ نماز ،روزہ ،حج ادا کرلیا اور چند خوشی غمی کی رسوم کو پورا کر دیا بلکہ عربی جاننے والے سمجھتے ہیں کہ بندگی کا مفہوم برا وسیع ہے، انسان کی ساری کی ساری زندگی اللہ تعالی کے سامنے تسلیم ہو جانا ہی کامل بندگی ہے۔اسی طرح انسان پرلازم ہے کہ وہ خودزندگی کے الہی ضابطہ حیات یعنی اسلام پر چلے اوراپنے قرب و جوار میں بالخصوص اور ساری انسانیت تک بالعموم اسلام کے پیغام کو پہنچانے کی جہد مسلسل کرے۔اس فرض سے ہر وہ آدمی سبکدوش نہیں ہو سکتا جو دعویدار ہے اس بات کا کہ اس نے محمد عربیۖ کے پیغام کو مکمل طور پر قبول کر کے اسلام کو اپنی دنیوی زندگی کا کامل ضابطہ حیات مان لیا ہے۔

4:اخلاقی پستی
زمانہ قدیم کی طرح عصرجدید کے معاشرے میں انسانوں کا باہمی تعلق مطلب پرستی اور مفاد ات کو سامنے رکھتے ہوئے قائم ہے۔ موجودہ دنیا کے انسان میں خداپرستی پر نفس پرستی غالب آچکی ہے ،آج کا انسان مادیت کا غلام بن چکا ہے،اس میں انسانیت کا احساس مٹ چکاہے ،ہر فرد جنسی خواہشات اور مادی ضروریات کی رومیں بہا جارہاہے کسی بھی وقت وہ ذراٹھہر کر یہ سوچنے پر تیار نہیں کہ اللہ نے اس کو معدہ و پیٹ کے ساتھ دماغ،دل اور روح بھی عطا کی ہے اور اس کی بالیدگی کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے اخلاقی اوصاف کو درست کرے اپنے دل میں پوری انسانیت کا درد پیدا کرے کیوں کہ انسانوں کی سوچ و فکر اور ان کے عمل کا اثر پوری کائنات کے اخلاق اور معاملات پر پڑتاہے۔اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمۖ کو معلم اخلاق بنا کر بھیجا تھا۔قرآن میں ارشاد ہے ”انک لعلیٰ خلق عظیم”یعنی آپ ۖکا اپنا فرمان ہے کہ” انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق”کہ میں اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیاہوں۔

5:اجتماعیت کی عدم دستیابی
مسلمانوں میں احساس ذمہ داری کا عنصر مفقود ہوگیاہے۔یوں جانا جاتاہے کہ ہم دنیامیں بس کھانے پینے ، لہوولعب میں وقت بربادکرنے ،شادی بیاہ،سیروموجودہ معاشرے کو ایک اہم عنصر جو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے وہ باہمی اتحاد و یگانگت کی عدم دستیابی ہے۔موجودہ معاشرہ متعدد طبقوں میں بٹ چکاہے یعنی ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر چکاہے۔اسی سبب سے دشمنان اسلام ہمیں گاجر ومولی کی طرح کاٹتے جارہے ہیں۔کیوں کہ اتحاد و اتفاق میں برکت ہے چرند ،پرند،حیوان اور انسان میں سے جو بھی اس کو اپنا لے اس میں فطرتی طور پر قوت و طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور دشمن کے دل میں انکا خوف گھر کرجاتاہے۔اسلام نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد و اتفاق اور آپس میں بھائی چارگی کی فضاپیدا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس پر ریاست اسلامیہ مدینہ میں آپۖ نے انصار و مہاجرین میں مواخات مدینہ قائم کر کے عملی ترغیب دی۔اسلام کے دامن عافیت میں پناہ لینے والے تمام افراد کو یکساں حیثیت مل جاتی ہے،شخصی امتیازات کے سبب مراتب کی درجہ بندی تو ہوسکتاہے مگربحیثیت مسلم ان میں کسی قسم کی تقسیم روا نہیں رکھی یہ صحابہ کرام کا تذکرہ فرماتے ہوئے ہمیشہ جمع کا صیغہ استعمال کیاہے۔کہ یہی لوگ کامیاب ہیںِیہی لوگ راشدہیں،یہی لوگ مومن ہیں وغیرہ مگر افسوس آج ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام کے پیغام کو ملکی،سیاسی،مذہبی،صوبائی،لسانی،قومی عربی و عجمی جیسی تقسیمات میں بانٹ کر ملت کی اجتماعیت پر شب خون مار چکے ہیں۔

6:عصرحاضر کی ضرورتوں سے ناواقفیت
موجودہ دور میں ایک اور امر جس کا ہم مسلمانوں کو سامنا ہے وہ یہ کہ وقت کے تقاضوں اور ضروریات سے بے پرواہ ہوچکے ہیں۔اس امر میں کوئی دورائے نہیں کہ اسلام تاقیامت انسانیت کی راہنمائی کے لیے آیاہے اس پر لب کشائی کی اجازت کسی کو نہیں البتہ زمان و مکان کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دعوت کو اسی پیرائے میں پیش کرنے کی ممانعت بھی ہر گز نہیں کی گئی۔قرآن پاک میں بڑی صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ترجمہ۔’کہ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت و دانائی اور موعظ حسنہ خوش اسلوبی کے ساتھ دعو ت دیں۔ (سورة النحل ١٢٥)
موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ،انسان چاند پر اپنی کمند ڈال چکاہے،عمل اور تجربہ کے بنا کسی بات کو کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ حضورۖ اور آپ کے صحابہ کی طرح اسلام کی دعوت کو پورے عالم میں پہنچانے کے لیے دعوت کے اسلوب پر از سر نو داعیان دین غور کریں۔آج کا معاشرہ دوحصوں میں منقسم ہے یا تو وہ عصرحاضرکے تقاضوں سے سر ے سے ہی واقف نہیں اگر واقف ہے بھی تو اس سلسلے میں کام کرتے وقت حکمت و دانائی کے عطیہ سے خالی ہے اور دوسرا جو عصر حاضرکے تقاضوں سے واقف تو ہے مگر وہ مغر ب کی اندھی تقلید میں ہی اپنی نجات و بھلائی محسوس کرتاہے ہمارے معاشرے میں غالب عنصر اسی دوسرے طبقے سے ہیں۔ اس دوسرے طبقے کے زاویہ فکر کو درست کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو کام میں لانے کے لیے اور پوری انسانیت کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے میں جس امر کا پیش نظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہاپنے اسلوب دعوت کو درست کیا جائے۔سید ابولحسن علی ندوی فرماتے ہیں کہ انبیا کی دعوت اور اصلاحی تحریکات کی دعوت میں فرق یہ ہے کہ بعض تحریکیں اوردعوتیں ایمان بالآخرت کی ترجمانی بہت اچھی طرح کرتی ہیں اور بہت تفصیل کے ساتھ اور دلنشین اندازو طریقہ پر اس کی حکمتوں اور زندگی پر اس کے خوشگوار اثرات اور اخلاقی نظام میں اس کی اہمیت کا ذکر کرتی ہیں،لیکن ہر ذہین شخص محسوس کرسکتاہے کہ یہ آخرت کا صرف ایک اخلاقی ضرورت اور ذریعہ اصلاح و تربیت کے طور پر استعمال ہے اس لیے کہ اس کے بغیر بہترسماج اور صالح معاشرہ کا قیام مشکل ہے،یہ کوشش بعض وجوہ سے لائق تحسین ضرور ہے مگر انبیاء علیہم الصلوٰات والتسلیمات کے طریقہ فکر اور طریقہ عمل انکی سیرت و کردار اور ان کے خلفا و نائبین کے طریقہ زندگی سے کھلے طورپر مختلف ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ انبیاء ایمان و وجدان،احساس و شعور اور ذوق و شوق کا نام ہے ،وہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جو انسان کے تمام احساسات و جذبات کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے جبکہ اصلاحی تحریکیں اس کو قانونی حیثیت سے تسلیم کرنے کی ظاہری شکل ہے۔انبیا ء آخرت کا ذکر اس وقت کرتے ہیں جب بے ساختگی ،لذت،لطف و کیفیت کو محسوس کر لیں اور اس کی دعوت بڑی قوت ،گرم جوشی،اور یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں دوسری جانب اصلاحی تحریکوں کے لوگ اخلاقی و سماجی ضرورت کے بقدر اسکا ذکر کرتے ہیں،اور قومی اصلاح اور اخلاقی تنظیم کے جذبہ سے اسکی دعوت دیتے ہیں۔ (معرکہ ایمان و مادیت١٠٨،از سید ابوالحسن ندوی)

مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں
عصرحاضرمیں نوجوانوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں ویسے تو ان کی فہرست طویل ہے کیوں کہ تاریخ شاہد ہے کہ نوجوانوں کا کردار اور ان کی ذمہ داریاں ہر دور میں مسلم رہی ہیں اسلام کی دعوت کو عروج ملنے میں بھی نوجوانوں کا بڑاکردار ہے۔نوجوانوں کی اہمیت اسلام میں مسلم ہے اسی لیے آپۖ نے اپنی حیات کے اواخر میں جس لشکر کو تیار کروایا اس کی قیادت باوجود جلیل القدر صحابہ بشمول سیدنا عمر فاروق کی موجودگی میں اس وقت کے بمشکل اٹھارہ سالہ نوجوان حضرت اسامہ بن زید کو سونپی۔محمدصدیق مدنی کا کہنا ہے کہ دنیامیں اب تک تمام برپاہونے والے انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی انہی کا کردار عیاں نظر آتاہے۔خود برصغیر سے انگریز کے انخلاء اور تحریک آزادی میں نوجوانوں کے کردار کوکسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔نوجوانوں کی اہمیت کا احساس و ادراک علامہ اقبال میں بدرجہ اتم موجود تھا اس لیے انہوں نے اپنے کلام کا وافرحصہ نوجوانوں سے متعلق تحریر کیا وہ فرماتے ہیں
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند
نوجوانوں کی ذمہ داریوں اور ان کے کردار پر بہت سے لوگوں نے لکھاہے مگر سب سے زیادہ مفصل انداز میں قرآن پاک نے بیان فرمایاہے سورہ کہف کا نام ہی ان نیک نوجوانوں کے واقعہ کی جانب اشارہ کرنے کے لیے اللہ نے رکھاکہ جو اپنا سب کچھ اللہ کے لیے قربان کر چکے تھے۔اسی طرح حضرت لقمان علیہ السلام نے قرب وفات اپنے بیٹوں کو جو نصیحت کی قرآن پاک نے واضح بیان فرمادیاحضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو سات باتوں کی وصیت کی۔

ا۔توحید کی دعوت
اے میرے بیٹوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا بیشک شرک بھاری ظلم عظیم ہے۔یعنی زندگی میں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو اللہ کو پکارنا
ب۔اللہ کی ذات باریک بین ہے۔(سورہ لقمان١٥)

اے میرے بیٹے !اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر پھر وہ بھی کسی چٹان میں یا آسمان میں ہویازمین میں ضرور لائے گا اور بیشک اللہ باریک بین اور خبیر ہے۔سورہ لقمان(16
”اے بچے نماز قائم کر”(سورہ لقمان١٧)
”اے میرے بیٹو نماز قائم کرنا”کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ سے براہے راست مدد طلب کرنے کاواحد ذریعہ ہے۔
د۔امربالمعروف اور نھی عن المنکر کا فریضہ
”وامربالمعروف والنھی عن المنکر ”سورہ لقمان(١٧)
” نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا”۔یہ فریضہ ا? تعالیٰ نے آنحضرتۖکے صدقے ملت اسلامیہ کو عطافرمایاہے کیوں کہ یہ امر اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہے
ھ۔مصائب و مشکالات پر صبر کرنا
”والصبر علی مااصابک ان ذٰلک من عزم الامور”(سورہ لقمان١٧)
جومصیبت تم پر آجائے اس پر صبر کرنا بیشک یہ عزیمت کے کاموں میں سے ہے۔انسان کوزندگی میں مصائب و مشکالات میں سے گذرنا پڑتاہے تو ایسے میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔اسلام نے مشکالت پر صبر کرنے کی بڑی اہمیت بیان کی ہے۔
و۔کبر و غرور سے اجتناب کرنا
”ولاتصعر خدک للناس ولاتمش فی الارض مرحا ،ان اللہ لایحب کل مختال فخور”(سورہ لقمان١٨)
”اور لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا،اورزمین پر اترا کے نہ چل کسی تکبر کرنے والے اور شوخی بگھارنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا”
ز۔ رفتار و آواز میں اعتدال
”واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکر الاصوات لصوت الحمیر”(سورہ لقمان١٩)
”اوراپنی رفتار میں میانہ روی پیدا کر اور آواز کو پست رکھ بیشک آوازوں میں سے بدتر آواز گدھے کی ہے”

آج کا نوجوان دنیاکی رنگینی میں مستغرق ہوچکاہے ،مادیت کی دلدل میں دہنس چکاہے۔وہ اپنی ذمہ داریوں سے انتہا درجہ تک غافل ہوچکاہے لہوولعب میں وقت گذارنے میں سکون قلبی محسوس کرتاہے ،فلمیں ،ڈرامیں،فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرنے کو اپنی بلند ہمتی اور ترقی جانتاہے اور بات کرنے پر وہ اس مثل کی طرح ”چور الٹاکوتوال کو ڈانٹے”کا نمونہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اپنی ذاتی زندگی میں بااختیار ہیں اور ہم من چاہی زندگی گذارنے میں ہم مکمل آزاد ہیں باپ،استاد،دوست اور داعی کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے نجی و ذاتی معاملات میں مداخلت کریں۔لندن میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے حضر ت سید ابوالحسن ندوی نے فرمایا تھا کہ ”عزیزو!آپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آپ کو جنھوں نے یہاں بھیجا ہے ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ اچھے سائنس دان ،اچھے ٹیکنیشن،اچھے انجینیر،اچھے ڈاکٹر،اچھے آرٹسٹ اور مغربی زبانوں اور ادبیات کے ماہر بن کر جائیں۔اگر آپ نے صرف سائنس دان صرف انجینیراور صرف قانون دان بنے تو آپ نے ملک کو صحیح فائدہ نہیں پہنچایا،آپ کو ان علوم میں مجتھدانہ قابلیت پیداکرنی چاہیے کہ اگر آپ قانون کے طالب علم ہیں تو آپ کو اسلامی قانون پر عبور حاصل کرنا چاہیے اور دنیا کے اصول قانون کا گہرا مطالعہ کرکے اسلامی قانون کی برتری ثابت کرنی چاہیے ،آپکو اپنے ملکوں میں جاکر کہنا چاہیے کہ مغرب کاکس قدر براحال ہے وہ اس وقت پکے ہوئے پھل کی مانند ہے جو کسی وقت بھی گرنے والاہے۔اگر آپ نے مشرق جاکر کہا کہ مغرب سرتاپاخیر ہے اور سراسر بے عیب ہے تو آپ نے اپنی قوم کو دھوکادیا،اور ایک خلاف واقعہ بات بیان کی ،آپ کو یہاں سے واپس جاکراپنے بھائیوں کو بتاناہے کہ مغرب کے پاس کیا خوبیاں ہیں ؟اس کی قوت کاکیاراز ہے،اور ان کی زندگی کے کون سے پہلو قابل تقلید ہیں ؟اسی طرح مغرب کی کون سی بیماریاں ہیں،جو اس کو گھن کی طرح کھائی جارہی ہیں،وہ آج کس اخلاقی جذام میں مبتلا ہے ،ہمیں اس کی کن کن چیزوں سے احتراز کرنا ہے اور کون کون سی باتیں ہیں جن کی مشرق کو تقلید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Mohammad Siddiq Madani
Mohammad Siddiq Madani

تحریر : مولانا محمد صدیق مدنی
۔ مہتمم جامعہ بحرالعلوم الاسلامیہ چمن
پوسٹ بکس ٥ چمن ٨٦٠٠٠ پاکستان 03337752771

Share this:
Tags:
problem responsibilities Society Thinking youth ذمہ داریاں سوچ مسئلہ معاشرہ نوجوانوں
MSL
Previous Post مردان سپر لیگ
Next Post پاکستان اور دنیا میں اردو کے سفیر!
Urdu

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close