Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

درداں دی ماری دلڑی علیل ہے!

April 2, 2015 0 1 min read
Zulfikar Ali Bhutto
Zulfikar Ali Bhutto
Zulfikar Ali Bhutto

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ بھٹو کوئی قوم نہیں ہے بلکہ یہ ایک بھارت کے گائوں کا نام تھا۔بھارت کے ضلع حصار کے قصبے سرسہ کے میں ایک گا ئو ں بھٹو تھا۔جو اب بھی دریائے سرسوتی کے کنارے آباد ہے۔ جب دریائے سرسوتی خشک ہوا، قحط پڑا ،وہاں کے مکین ہجرت کر کے لاڑکانہ میں آباد ہوئے۔بھٹوخاندان اس گاوں کی مناسبت سے بھٹو کہلایا۔ذوالفقارعلی بھٹو سر شاہنواز کے تیسرے بیٹے تھے ،شاہنواز کو برطانیہ نے سر کے خطاب دیا تھا ان کو ہند کی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل تھا ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے بمبئی اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ۔1950 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی میں وکالت کا آغاز کیا ،اور پھر 1953 میں ایس ایم لا ء کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے ۔ آپ کی شادی نصرت اصفہانی سے ہوئی جو کہ نسلا ایرانی تھیں ان کے والد مرزا اصفہانی کی کراچی میں کیمیکل کی ایک انڈسٹری تھی۔

انتہائی خوش شکل ،خوش لباس ،گیسو دراز،ذہین و فطین بھٹو کی شہرت ملک میں پھیلی تو ایوب خان نے 1958 کو بھٹو صاحب کو بطور وزیر اپنی کابینہ میں شامل کر لیا ۔ اکتوبر 1958 کو آپ کو وزیر تجارت بنا دیا گیا ۔جنوری 1960 میں اس کے ساتھ ساتھ آپ کو مزید محکمے مثلا اقلیتی امور ،ایندھن بجلی و قدرتی وسائل اور امور کشمیر کا قلم دان بھی سونپ دیا گیا ۔1962 کے آخر میں دسمبر میں پاک بھارت مذاکرات کے مندوب مقرر ہوئے ۔1963 میں وہ ملک کے وزیر خارجہ بنے ۔قائد عوام کو ہلال پاکستان کا اعزاز 27 جون 1964 کو دیا گیا ۔بھٹو ایک بہادر اور نڈر طبیعت کے مالک تھے ۔مفاہمت ،منافقت ،دوغلی پالیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔وہ سچ بات منہ پر کہنے کے عادی تھے ۔ایک بار جب وہ وزیر خارجہ تھے تو صدر جانس نے ان سے کہا تھا ،دنیا کے جس حصے میں اور جتنی دولت چاہیے لے لو اور ہماری راہ سے ہٹ جا ئو ،بھٹو نے جواب دیا ۔۔ہم بکا ئو مال نہیں ہیں ایک غیرت مند قوم ہیں۔

1966جنوری کی دس تاریخ کو صدر ایوب سے پہلا اختلاف ہوا جس نے بعد میں ان کی راہیں جدا کر دیں 10 جنوری 1966 میں معاہدہ تاشقند سے اختلاف کیا پانچ ماہ بعد اور 10 جون 1966 کو ایوب کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ۔پہلے تو انہوں نے معاہدہ تاشقند پر صرف اختلاف کیا تھا لیکن جب ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو وہ حکومت سے علیحدہ ہو گئے ۔ 30 نومبر 1967کو اپنے دو اڑھائی سو دوستوں کے ساتھ گلبرگ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جن میں ذوالفقار علی بھٹو،جے اے رحیم ، محمد حنیف رامے ،ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔بنیادی ارکان میں بھٹو کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا ۔بھٹو نے غریبوں کے حق میں انقلاب لانے کا اعلان کیا تھا ۔لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا ان کو لانے نہیں دیا گیا ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگا ضرو ر گئے۔ان کو ان کے حقوق سے آگاہ ضرور کر گئے ۔ وہ جب تک زندہ رہے پارٹی میں الیکشن نہیں کرواے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصول تھے۔ ۔اسلام ہمارا دین ہے ۔جمہوریت ہماری سیاست ہے۔سوشلزم ہماری معیشت ہے۔

PPP
PPP

طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت ایک سوال تھا کہ ایک نئی پارٹی کیوں ضروری ہے ؟اس کا جو جواب دیا گیا وہ قابل توجہ ہے ۔آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے مکمل اتحاد سے ساتھ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی بنیادیں اسلام کے بنیادی اصولوں پر استوار کی جائیں گی اور ہماری سیاسی ،معاشی،اور سماجی زندگی اسلام کے دینی و دنیوی اصولوں کی قوت سے رواں دواں ہوگی لیکن ایسا نہ ہو سکا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ بھٹو صاحب نے دن رات محنت کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان کی مقبول ترین جماعت بنا دیا۔ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے غریبوں کی بات کی ،غریبوں کے لیے سیاست کے دروازے کھولے ،عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے ،عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔غریبوں کے لیے روٹی ،کپڑا ،مکان کا نعرہ لگایا ۔اس طرح پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لے آئے قائد اعظم کے بعد عوام کے محبوب لیڈر بن گئے۔
1970 میں ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی ۔اس وقت سقوط ڈھاکہ ہوا 1971 میں مشرقی اور مغربی پاکستان الگ الگ ہو گئے ۔اسی سال وہ پاکستان کے تیسرے صدر بنے اور 14 اگست 1973 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ کیا اور خود وزیر اعظم بن گئے ۔اور بھارت سے مقبوضہ علاقے واگزار کرائے ، جس نے ان کو ملک مقبول ترین لیڈر بنا دیا ۔اس کے علاوہ 20 نومبر 1972 کو پاکستان کے پہلے ایٹمی ری ایکٹرکا افتتاح کیا ۔بھٹو جب اقتدار میں آئے تو ان کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا ،بھارت سے تعلقات بحال کرنا ،نوے ہزار سے زائد قیدی بھارت سے رہا کروانا،مضیب الرحمن جو ان دنوں قید تھے اور ملک میں ان کے حق میں تحریک چل رہی تھی ۔اس کے علاوہ بھارت کے قبضہ میں پانچ ہزار مربع میل زمین بھی تھی اسے واگزار کروانا ۔قائد عوام نے ملک کو ایٹمی ملک بنانے ،اسلامی بینک قائم کرنے،کہوٹہ پلانٹ کی تعمیر کرنے،ملک کو پہلا متفقہ آئین دینے ،نوے ہزار قیدیوں کو بھارت سے چھڑانے ،غریبوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ان ان کو ان کے حق دلانے جیسے کاموں کے لیے جہدو جہد کی ۔بھٹو نے غربا کی بات کی ان کے حق کے لیے آواز اٹھائی ،ملک کو قومی لباس سلوار قمیض دیا ،اس سے پہلے ملک کا کوئی قومی لباس نہ تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی جو کہ قومی جماعت تھی آج صرف سندھ تک سمٹ گئی ہے ۔مفاہمت کی سیاست کے لیے پیپلز پارٹی نہیں بنی تھی بلکہ غریبوں کے حق کے آواز بلند کرنے ان کے حقوق دلانے کے لیے۔روٹی ،کپڑا اور مکان ۔ایک انسان کی بنیادی ضروریات کا نعرہ لگایا گیا جس نے بے پناہ مقبولیت پائی ا س کے علاوہ پاکستان میں اسلامی نظام کے رائج کرنے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ ایک دور تھا جب پاکستان میں بھٹو کٹ جناب بھٹو کا ہیر اسٹائل مقبول ہوا تھا سر پر بڑے بڑے بال رکھنا بھٹو کٹ تھا اس وقت پاکستان کے نوجوان بھٹو کٹ میں اکثر دیکھنے کو ملتے تھے ۔بھٹو کے لاکھوں کارکن تھے جن کو جیالوں کا نام دیا گیا ۔بھٹو نے انقلاب غریبوں کے لیے ،نیا پاکستان کا بھی نعرہ لگایا اور بے پناہ غریبوں کی محبت پائی ۔کسان کا قائد بھٹو ہے ،مزدور کا قائد بھٹو ہے ،غریبوں کا قائد بھٹو ہے کے نعروں سے ملک گونج اٹھا ۔اگر کوئی اپنی ذات کے لیے نمود و نمائش کے لیے نام و شہرت کے لیے ،عہدہ و مقام کے لیے جہدو جہد کرے تو وہ ایسا بن سکتا ہے لیکن عظیم انسان بننے کے لیے اپنی ذاتیات سے ہٹ کر قوم،عوام ،انسانوں کے لیے جہدو جہد کرنی پڑتی ہے۔

Democracy
Democracy

ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے غریبوں کی بات کی ،غریبوں کے لیے سیاست کے دروازے کھولے ،عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے ،عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔غریبوں کے لیے روٹی ،کپڑا ،مکان کا نعرہ لگایا ۔اس طرح پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لے آئے قائد اعظم کے بعد عوام کے محبوب لیڈر بن گئے ۔پیپلز پارٹی کے عوامی منشور نے پاکستان کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا اور لوگ جوک در جوک اس میں شامل ہونے لگے ۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنا ہے ،ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جانے لگا ۔انہوں نے غریبوں کے لیے بہت سے منصوبہ جات شروع کیے ۔پھر جب 1977 میں انتخابات ہوئے تو بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی لیکن حزب اخلاف نے الیکشن قبول نہ کیے اور ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ اور 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لگایا ۔دو ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو محمد احمد خان کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا اور 18 مارچ 1977 کو انہیں قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی اس طرح 4 اپریل 1979 کو قائد عوام جو کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھا ان کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا ۔فیض احمد فیض نے بھٹو کی پھانسی کے بعد کہا۔

دیا تھا صبح مسرت نے ایک چراغ ہمیں
اسی کو تم نے سر شام کھو دیا لوگو

ایک سیاست دان نواب احمد رضا خان جو کہ پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کے والد تھے انہیں لاہور میں 11نومبر کو قتل کر دیا گیا تھا ان کے قتل کا مقدمہ ایک منتخب وزیر اعظم پر ہوا اور اس کو اس ناکردہ قتل کی سزا میں پھانسی سنا دی گئی ۔پاکستان کی تاریخ کا اپنی نوعیت کایہ واحد کیس ہے ۔ اگر اس کیس کی لوجک کو سامنے رکھا جائے تو ملک میں ہر وزیر اعظم کو پھانسی ہونی چاہیے ۔شائد ایسی ہی کوئی بات تھی بھٹو کے دل میں جب انہوں نے ۔۔درداں دی ماری دلڑی علیل ہے ۔سرائیکی شاعری کے نغمے کا یہ ٹکڑا بھٹو نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی دفاعی تقریر میں کہا تھا ۔بھٹو صاحب کو 17 مئی 1978 کی صبح کوٹ لکھپت جیل لاہور سے راولپنڈی سینٹرل جیل میں لایا گیا ۔4 اپریل 1979کو ان کو پھانسی دی گئی اس دوران ان سے ملنے والوں کا ریکارڈ موجود ہے 342 ملاقاتیں ہوئیں جن میں جیل کے عملے کا ریکارڈ درج نہیں ہے اس دوران ان کی مختلف افراد سے ملاقاتیں ہوں اور آخری ملاقات محترمہ بے نظیر سے درج ہے ۔کہنا یہ ہے کہ ان کو اپنی بیٹی سے بے پناہ پیار تھا ۔بھٹو سے آخری ملاقات محترمہ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی 3 اپریل 1979 کو ہوئی اور دوسرے دن 4 اپریل 1979 کو قائد عوام کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔ان کی تدفین لاڑکانہ گڑھی خدا بخش میں ہوئی ۔
اس دن پاکستان کے بہت سے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔بھٹو کو شہید کر دیا گیا اور شہید زندہ ہوتے ہیں ،بھٹو عوام کے دلوں میں زندہ رہا اس کی عوام میں بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے اس کی بیٹی بے نظیر دو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم بنی اور ایک دفعہ ان کے داماد آصف علی زرداری بھی پانچ سال حکومت کر چکے ہیں ۔آج بھی بلاول ز رداری بھٹو اپنے نانا کی عوام کے دلوں میں جو بے پناہ عقیدہ ہے اس کے بل بوتے پر سیاست کے میدان میں اترا ہے اور وزیر اعظم بننا چاہتا ہے ۔لیکن یہ فیصلہ وقت کرے گا کہ بھٹو کو پھانسی سے قتل کیا گیا یا اس کے جانشین اسکے بنائے ہوئے منشور پر نہ چل سکے اور بھٹو کو انہوں نے مار دیا ۔بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی بیٹی 2 مرتبہ باپ کی مقبولیت کے باعث وزیراعظم بنیں اور پھر تیسری مرتبہ بھٹو کے داماد آصف علی زرداری نے 5 سال حکومت کی۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت نے بدعنوانی’ باعث بھٹو کی پارٹی کو صرف ایک صوبائی پارٹی بنا دیا ہے ۔ بھٹو کی پیپلز پارٹی جو اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے ۔ لیڈر آف دی اپوزیشن اس پارٹی سے ہے چیرمین سینٹ اس پارٹی کا ہے ۔لیکن ”مفاہمت کی پالیسی” کے تحت پیپلز پارٹی نے موجودہ حکومت سے سمجھوتہ کر رکھا ہے۔اب اسے نئے جذبے اور اصلی منشور کے ساتھ دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

Akhtar Sardar Chaudhry
Akhtar Sardar Chaudhry

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال

Share this:
Tags:
larkana law Negotiations people zulfikar ali bhutto ذوالفقار علی بھٹو قانون قوم لاڑکانہ مذاکرات
Duska
Previous Post ریٹائرڈ سکول ٹیچر نے ملی بھگت کر کے شاملاٹ اراضی پر قبضہ کر لیا
Next Post لاہور : مصطفیٰ کانجو کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close