
امریکا(جیوڈیسک)امریکا اور برطانیہ میں موسم کی سختیاں جاری ہیں، امریکہ میں شدید سردی سے پندرہ سو پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ ادھر برطانیہ میں مسلسل بارشوں سے کئی علاقے زیر آب آگئے۔ کینیڈا میں بھی برفباری کا آغاز ہو گیا۔
سمندری طوفان سینڈی کے بعد سے امریکا کومیں موسمی آفات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی ریاستوں نیویارک، آرکیناس، اوکلوہوما، ٹیکساس، لیوزیانا، مسیسیپی اور الامابا میں تیز ہواں اور برفانی طوفان سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ برفانی طوفان کی وجہ سے ہزاروں پروازوں کی آمدورفت معطل ہے۔ کئی ریاستوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔
ریاست نیویارک میں آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مزید اٹھارہ انچ تک برف پڑنے کا امکان ہے۔ امریکا بھر میں برفباری سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر برطانیہ میں بھی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ برطانوی انوائرمنٹ ایجنسی نے اس سال انگلینڈ اور مڈ لینڈ میں ایک سو نو فلڈ وارننگ اور دو سو تیرہ الرٹ جاری کئے۔
برطانیہ میں رواں برس مجموعی طور پر ایک ہزار دوسو اکیانوے ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور یوں سال دو ہزار بارہ گذشتہ 100 برس میں سب سے زیادہ بارشوں والا برس ثابت ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس سال برطانیہ میں اگر چھیالیس ملی میٹر مزید بارش ہوئی تو یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ بارش والا سال ہو گا۔ دوسری طرف کینیڈا میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری سے معمولات زندگی سست ہوگئے۔ ٹورنٹو میں پندرہ سینٹی میٹر برف پڑی اور نظام زندگی کو معطلی سے محفوظ رکھنے کے لئے انتظامیہ نے سڑکوں کوفورا صاف کر دیا۔
