
ایک آفت ہے وہ پیالئہ ناف
کیا قیامت ہے وہ پیالئہ ناف
اب کہاں ہوش ہم کو حشر تلک
کہ سلامت ہے وہ پیالئہ ناف
جون بابا الف کا ہے ارشاد
کارِ وحدت ہے وہ پیالئہ ناف
شب خرابات میں رہا یہ سخن
دل کی رخصت ہے وہ پیالئہ ناف
زندگی آرزو کا قامت ہے
نافِ قامت ہے وہ پیالئہ ناف
اس کی جنبش ہے تشنگی انگیز
حشرِ حالت ہے وہ پیالئہ ناف
زندگی ہے شرابیوں کی حرام
قدرِ حرمت ہے وہ پیالئہ ناف
کوئی اس کی رسد نہیں جز رنگ
خونِ حسرت ہے وہ پیالئہ ناف
جون ایلیا
