
جو زندگی بچی ہے اسے مت گنوائیے
بہتر یہی ہے آپ مجھے بھول جائیے
ہر آن اک جدائی ہے خود اپنے آپ سے
ہر آن کا ہے زخم جو ہر آن کھائیے
تھی مشورت کہ ہم کو بسانا ہے گھر نیا
دل نے کہا کہ میرے در و بام ڈھائیے
تھوکا ہے میںنے خون ہمیشہ مذاق میں
میرا مذاق آپ ہمیشہ اڑائیے
اب کوئی بھی نہیں ہے کسی دل محلے میں
کس کس گلی میں جائیے اور غل مچائیے
اک لال قلعہ تھا جو میاں زرد پڑ گیا
اب رنگ ریز کون سے کس جا سے لائیے
جو حالتوں کا دور تھا وہ تو گذر گیا
دل کو جلا چکے ہیں سو اب گھر جلائیے
بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرع یہ جون کا ہے اسے مت اٹھائیے
جون ایلیا
