Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بد لتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

November 2, 2011 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یہ انتہائی بے رحم اور سفاک ہوتی ہے حصولِ اقتدار کی خاطر بڑے بڑے اصولو ں کا بلیدان دے دیتی ہے لیکن اقتدار کی دیو ی کو کسی بھی حالت میں نارا ض نہیں کرتی۔ اس کے اندر ن احسان مندی کے جذبات ہو تے ہیں اور نہ ہی ستائیش کا مادہ ۔ سیاست کے اپنے انداز ، ضابطے اصول اور روایات ہیں۔ اگر کسی کو میری بات کی صدا قت میں ہلکا سا بھی شک ہو تو ہ ہو تو اقتدا ر کی خا طر محلا تی سا زشو ں سے جنم لینے وا لی بے رحم داستانو ں سے میری بات کی صدا قت تک بہ آسانی پہنچ سکتا ہے۔ جب ذا تی مفا دات کو ضرب لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو عدو دو ست بن جا تے ہیںاور محسن عدو کی صفو ں میں نظر آتے ہیں گویا دوستی اور دشمنی کسی جو ہرِ خاص کی وجہ سے نہیں بلکہ مفادات کی یکجا ئی کی بدولت جنم لیتی ہے۔ سارے سکے ذاتی مفادات کی ٹکسال سے ڈھل کر نکلتے ہیں اور اپنا جلوہ دکھاتے ہیں پاکستانی سیا ست میں جنرل ضیا ا لحق اور جنرل پر ویز مشرف اسکی بڑی وا ضح مثا لیں ہیں ۔ جنرل ضیا ا لحق کو ذولفقا ر علی بھٹو نے آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دی جبکہ جنرل پر ویز مشرف میا ں محمد نوا ز شریف کے ہا تھوں آ رمی چیف کے عہدے پر فا ئز  ہو ئے لیکن د و نو ں جنر لو ں نے اپنے اپنے محسنو ں کے ساتھ جو سلو ک روا رکھا وہ تاریخ کے صفحا ت میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفو ظ ہوکر سیا ست کی بے رحمی کا سب سے بین ثبو ت بن چکا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) جنرل پرویز مشرف کی اکلوتی اولاد تھی جسے انھوں نے اپنے اقتدار کی خاطر تخلیق کیا تھا لیکن آج وہ اولاد چوہدریوں نے یرغمال بنا رکھی ہے اور جنرل پرویز مشرف در بدر دھکے کھا رہے ہیں ۔ چوہدری برادراں دن رات جنرل پرویز مشرف کی تسبیح  پڑھتے نہیں تھکتے تھے اور انھیں فوجی وردی میں سو بار صدر منتخب کروانے کا نعرہ لگا یا کرتے تھے لیکن آجکل جو نام انکی سماعتوں پر سب سے زیادہ ناگوار گزرتا ہے وہ نام جنرل پرویز مشرف کا ہے۔اسکی وجہ یہ نہیں کہ چوہدری سدھر گئے ہیں یا جمہوریت پسند ہو گئے ہیں بلکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ اب جنرل پرویز مشرف سے ان کو مفادات حاصل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آج کل وہ آصف علی زرداری کا طواف کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ طاقت کا منبہ اب جنرل پرویز مشرف کی بجائے آصف علی زرداری کی ذات ہے۔ ہم خیال گروپ اور بے شمار ٹینڈے ٹاسے ادھر ادھر ٹامک ٹویاں مار رہے ہیں کہ کوئی ا لہ دین کا چراغ ان کے ہاتھ بھی لگ جائے تا کہ ان کے بھی وارے نیارے ہو جائیں۔جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے یہ ساتھی اب جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں اور اپنے کردار کو ایسا مرصع  بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انسان کا نسانیت پر سے اعتماد اٹھ جائے۔ ماروی میمن ، سلیم سیف اللہ ۔انجینئر امیر مقام ۔ شیخ رشید احمد، سمیرہ ملک، ہمایوں اختر،محمد علی درانی،کشماللہ طارق، فیصل صالح حیات اوراس دھرتی کے کئی مفاد پرست سپوت مفادات کی نئی بساط پر اپنے اپنے  مہرے سجانے کیلئے بیتاب اور کسی نئے آشیاں کی تلاش میں سرگرداںہیں۔
آج کل میاں برادران کے اعصاب پر پی پی پی سوار ہے اور وہ پی پی پی کی مرکزی قیا دت کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کر رہے ہیں اور انھیں الٹا لٹکانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ان کی حالیہ مہم سے مجھے وہ این آر او یاد آگیاجسکی بدو لت میاں برادران موت کی کال کو ٹھری سے سعو دی عرب پہنچے تھے۔ میا ں برادران عدا لت سے سزا یا فتہ تھے اور موت ان کے با لکل سا منے کھڑی تھی لیکن انھو ں نے این آر او کا بھر پور فا ئدہ اٹھا کر جان بخشی کروا لی۔ جن لو گو ں پر میا ں برادران این آر او کے تحت مفادات حاصل کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں ان پر تو انکی اپنی حکو مت میں بھی کو ئی جرم ثا بت نہیں ہو سکا تھاجبکہ خود ان پر جرم ثابت ہوچکا تھا اور سندھ ہائی کورٹ نے انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ این آر او سے بھر پور فائدہ حاصل کرنے کے باوجودا ن کی تنقید ی تو پو ں کا رخ مخا لفین کی جا نب ہے اور این آر او کے نام پر لو گو ں کو دھو کہ دینے کی ناکام کو شش کر رہے ہیں۔سچ وہ نہیں جو وہ بیان کر رہے ہیں بلکہ سچ وہ ہے جسے بیان کرنے سے وہ گریزاں ہیں اور سچ یہی ہے کہ میاں برادران این آر او سے مستفید ہو کر رہا ہوئے تھے۔
1972 میں بھا رت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ذو لفقا ر علی بھٹو نے بھا رت کی اس شا طرا نہ چا ل کے سا منے سینہ سپر ہو جا نے کا فیصلہ کر لیا اور ایٹمی قوت کے حصو ل سے پاکستان کی سا لمیت کا بیڑہ اٹھا لیا ۔وہ شخصیت جو ایٹمی قوت کے حصو ل میں قا ئدِ عوام کے شا نہ بہ شا نہ کھڑی تھی وہ شا ہ فیصل شہید کی شخصیت تھی ۔ شاہ فیصل شہید پا کستان کو ایٹمی قوت بنا نے کے عظیم مشن کی خا طر سا مرا جی قوتو ں کے سا منے ڈٹ گے اور اپنی جا ن کا نذ را نہ پیش کر کے پاکستانی عوام کے خوا بو ں میں اپنے لہو سے رنگ بھر گے ۔پا کستا ن سے وفا اور ذو لفقا ر علی بھٹوسے دو ستی کی رسم کو انھو ں نے جس شا نِ بے نیا زی سے نبھا یا اس نے شا ہ فیصل شہید کی شخصیت کو عز ت و تو قیر کی نئی بلند یو ں پر سر فرا ز کر دیا ۔ ایٹمی قوت کے حصول میں ممکنہ رکا و ٹو ں اور عا لمی دبا ئو کے با و جو د انھو ں نے بڑی جرا ت سے حقِ دو ستی ادا کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ شا ہ فیصل شہید اور ذو لفقارعلی بھٹو شہید کا لہو ہے جو ایٹم بم کی صورت میں پاکستان کے اوپر سا یہ فگن ہے اور پاکستان کی بقا اور استحکا م کا ضا من ہے اور پھر یہ ا ن کے اسی نذرا نے کا اعجا ز ہے کہ پاکستان کا ہر شہری شا ہ فیصل شہید کی انمٹ محبت اپنے دا من میں سمیٹے ہو ئے ہے لہذا جب کبھی بھی بطلِ حجا ز کا نام ان کے لبو ں پر آتا ہے ا حسان مندی اور عقیدت مندی کا بحرِ بے کرا ں ان کی نگا ہو ں میں مو جزن ہو کر ان کی محبت اوردو ستی کا گواہ بن جا تا ہے۔
1977 میں پی پی پی اور پی این اے میں سیا سی محا ذ آرا ئی اپنے عرو ج کو پہنچ چکی تھی اور پا کستان آگ اور خون میں نہا رہا تھا لیکن سیا سی مصلحتو ں کے پیشِ نظر کو ئی ایک فریق ْ بھی پسپائی اختیار کرنے پر تیار نظر نہیں آ رہا تھا تو عین اسی وقت سعو دی سفیر ریاض الحطیب نفرتوں کی آگ بجھانے اور پاکستان کو ہنگامہ آرا ئی، تشدد اور خا نہ جنگی سے بچا نے کیلئے میدان میں کو دپڑے او ر اپنی سفارت کاری سے دو نوں فریقوں کو کسی عملی سمجھو تے کی جا نب لا نے میں اپنا کردار ادا کیا اور یہ کریڈٹ تو بہر حا ل سعودی  عرب کے کھا تے میں ہی لکھا جا ئے گا کہ پاکستان قومی اتحاد اور پی پی پی مذا کر ات کی میز پر مسا ئل حل کر نے پر رضا مند ہو گئے جس کے نتیجے میں ان کے درمیا ن ایک سمجھو تہ طے پا گیا لیکن چو نکہ پی این اے کے چند را ہنما ئو ں نے فو جی قیا دت سے سا ز با ز کر رکھی تھی لہذا ٥ جو لا ئی کو جنرل ضیا ا لحق نے بھٹو صا حب کی آئینی حکو مت کا خا تمہ کر کے اقتد ار پر قبضہ کر لیا اور ٤ اپریل کو بھٹو صا حب کو ایک جھو ٹے مقد مے میں سز ا ئے مو ت دے کر اپنے را ستے سے ہٹا دیا۔حسنِ اتفا ق د یکھئے کہ ١٢ اکتو بر ١٩٩٩ کو جنرل پر ویز مشرف نے میا ں محمد نوا ز شریف کی آئینی حکو مت کا خا تمہ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور طیا رہ سا زش کیس کے ذر یعے میاں صا حب پر وہی تا ریخ دہرا نے کی کو شش کی جو اس سے قبل جنر ل ضیاالحق قا ئم کر چکے تھے لیکن یہ تو سعو دی مدا خلت کا اثر تھا جس نے جنر ل پر ویز مشرف کو ایسی سفا کیت کو ر و بہ عمل لا نے سے رو کا لہذا ایک این آر او طے پا یا جسکی رو ح سے میا ں محمد نوا ز شریف دس سال کیلئے بمعہ اہل و عیال سعو دی عرب میں جلا وطن ہو گے۔ اٹھارہ اکتو بر ٢٠٠٧ کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے فقید ا لمثا ل استقبال نے میا ں محمد نوا ز شریف کو وطن وا پسی کیلئے نیا حو صلہ عطا کیا لیکن دس سا لہ معا ہد ہ پا ئو ں کی زنجیر بنا ہوا تھا مگر یہ سعو دی عرب کا دبا ئو تھا جسکی بدو لت جنرل مشرف نے میا ں صا حب کو واپس آنے کی اجا زت دے دی حا لا نکہ اس سے قبل میاں صا حب دو دفعہ پاکستان آنے کی کو شش کر چکے تھے جو نا کا می پر منتج ہو ئی تھی ۔قو می سطح کے دو بڑے را ہنما ئو ں کی وطن وا پسی نے جنرل پر ویز مشرف کے اقتد ار کو متز لز ل کر کے رکھ دیا۔چیف جسٹس کی بحا لی کی تحر یک پہلے ہی عوا می حلقو ں میں بیدا ری کی لہر پیدا کر چکی تھی لہذا عو ا می دبا ئو کے سا منے ٹھہر نا جنرل صا حب کیلئے ممکن نہیں تھا ۔ الیکشن کے نتا ئج نے جنرل پرویز مشرف کی آمریت کو زمین بو س کر دیا لہذا وہ ١٨ اگست ٢٠٠٨ کو قصرِ صدا رت خا لی کر کے ملک سے فرار ہو گئے ۔میا ں صا حب نے جنرل صا حب کی اقتدار سے علیحد گی کے بعد دفعہ چھ کے تحت ا نکی گرفتا ری اور ٹرا ئل کا مطا لبہ کر دیا اور اپنے مطا لبے کی راہ میں مزا ھم ہو نے والی ہر آواز کو ھدفِ تنقید بنا نا شرو ع کر دیااور اس تنقید سے پاکستان کا محسن ملک سعو دی عرب بھی محفو ظ نہ رہ سکا۔
جنرل بر ویز مشرف کے ما ر شل لا میں میا ں صا حب کیلئے زند ا نو ں کی سختیا ں بردا شت کرنا ممکن نہیں تھا لہذا ا نھو ں نے شا ہ عبدللہ سے دست بستہ در خو ا ست کی کہ انھیں زند انو ں کی سختیو ں، بھا ری بھر کم زنجیر و ں،جیل کی صعو بتو ں ، اور مار پیٹ کے غیر انسا نی فعل سے چھٹکا را دلو ا یا جا ئے۔شا ہ عبدللہ نے جنرل صا حب کو این آر او پر را ضی کر کے میا ں صاحب کی جان بچائی ۔جب پھا نسی کا پھند ہ سا منے نظر آرہا تھا اور بچنے کی کو ئی صو رت نظر نہیں آ رہی تھی تو اس وقت شا ہ عبد للہ ظلِ سبحا نی نظر آرہے تھے آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے لیکں جب ا قتدار کی دیوی مہر بان ہو گئی تو شا ہ عبد للہ کی مہر با نیا ں ملکی معا ملات میں مدا خلت نظر آنے لگیں اور انھیں اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دیا جا نے لگا۔محسنو ں پر بلا جواز تنقید کے نشتر چلا کرطو طا چشمی کی انتہا کر دی گئی ۔بد لتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کی اس سے بہتر مثا ل تلا ش کر نا ممکن نہیں۔  بقولِ غالب
ہر  اک   بات  پہ  کہتے  ہو  تم  کہ  تو  کیا  ہے۔۔۔۔تمہی  کہو  کہ  یہ  اندا زِ  گفتگو  کیا  ہےسعو دی عرب سے پاکستان کے اسلامی ثقا فتی اور تمد نی مر ا سم ہیں جو آزما ئیش کی ہر گھڑی میں پو رے اترے ہیں ما لی معا ونت کا معا ملہ ہو ،ایٹمی قوت کے حصول کا سلسلہ ہو یا تیل کی بلا معا وضہ سپلا ئی کا مسئلہ ہوسعو دی عرب ہمیشہ ہما رے شا نہ بہ شانہ کھڑا رہا ہے۔ سعو دی حکمر ان ہما رے سچے دوست بھی ہیں خا دم ا لخر مین بھی ہیں لہذا ہما را فخر وناز بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سعو دی عرب کے خلاف میاں صا حب کی بھڑکیں عوا می تائید حا صل کر نے میں بے اثر ثا بت ہو ئیںاور پا ک سعو دی دو ستی ہمیشہ کی طرح سر خرو ہوئی ۔ میا ں صا حب کے بے سرو پا نعرو ں کی وجہ سے سعو دی عرب نے میاں صا حب کو بلا کر معا ہدے کی پا سداری کا حکم سنا یا تو میا ںصاب کے غبا رے سے ہوا نکل گئی انھو ں نے مشرف کے خلاف تند و تیز تنقید سے ہاتھ بھی روکا ، دفعہ چھ کے مطا لبے پر خا مو شی بھی اختیار کر لی اور دس سالہ معا ہدے پر سرِ تسلیم خم بھی کر دیا۔ میاں صاحب کیلئے خفیہ ہاتھوں کا پیغام بڑا واضح تھا کہ خاموشی میں ہی آپکی عافیت ہے لہذا میاں صاحب وقتی طور پر خاموش ہو گئے اور اپنے سارے مطالبات کو فراموش کر دیا۔ انکی پر اسرار خاموشی سے انکے جمہوری قائد ہو نے کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ البتہ اپنے چاہنے والوں کو خوش کرنے کیلئے کبھی کبھی میاں صاحب جنرل پرویز مشرف کے ٹرائل کا مطا لبہ ضرور د ہرا تے ہیں تا کہ سند رہے اور عوام کو اس بات کا شک نہ گزرے کہ میاں صاحب نے اقتدار کی خا طر سودے بازی کر لی ہے اور مشرف کے ٹرائل کے اپنے مطالبے کو خیر باد کہہ دیا ہے حالانکہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ میا ں صاحب کے مطالبے میں کتنا دم خم ہے۔
آج کل میاں صاحب کو زرداری فوفیا ہو گیا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے صدرِ پاکستان آصف علی زردار ی کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ ٢٨ اکتوبر کومیاں برادران نے موچی دروازے میں صدرِ پاکستان آصف علی زردار ی کے خلاف جس طرح کی غیر مہذب زبان استعمال کی یہ ان کے ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ان کے اندازِ تکلم نے ان کی ذات کے اندر چھپی ہوئی نفرت کو آشکار کر دیا ہے۔ میاں برادران کو امید نہیں تھی کہ پی پی پی اپنے اتحادیوں کی مدد سے اقتدار کی مسند پر اتنی دیر تک فائز رہ سکتی ہے۔ پنجاب کی وزارتِ اعلی حاصل کرنے کے اور لوٹا کریسی کی مردہ روائت کو زندہ کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکو مت سے استعفے دے دئے تو وہ بزعمِ خویش یہ سمجھے ہو ئے تھے کہ پی پی پی کی حکومت چند دنوں میں گر جائے گی اور یوں اقتدا ر پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں گر پڑے گا لیکن صدرِ پاکستان آصف علی زردار ی نے اپنی سیاسی چالوں سے جس بے دردی سے میا ں برادران کی آرزئوں کا خون کیا اس سے میاں برادران سٹپٹا گئے ہیں اور غیر پارلیمانی حرکتوں پر اتر آئے ہیں ۔ پی پی پی سے زخم خوردہ ہونے کے ساتھ ساتھ عمران خان کی تحریکِ انصاف نے تحتِ لاہور پر قبضے کا آغاز کر دیا ہے اور ٣٠ اکتوبر کو تحریکِ انصاف کامینارِ پاکستان والا جلسہ ان کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔
میا ں برادران اقتدار اور ذاتی مفادات کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ سعودی  حکمران جنھوں نے جنرل پرویز مشرف سے ان کی جان بچائی دونوں بھائیوں نے انہی کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال شروع کردی۔ صدرِ پاکستان آصف علی زردار ی جنھوں نے ا نہیں پنجاب کی وزارتِ اعلی پلیٹ میں رکھ کر دی ان کے خلاف میاں برادران کے عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ جنرل ضیا الحق کا نام ان کی لغت سے ایسے غائب ہوا ہے جیسے اس نے کبھی جنم نہیں لیا تھاحالا نکہ میاں برادران کی سیاست کا باوا آدم ہی وہی تھا اور میاں برادران کی موجودہ حیثیت  جنرل ضیا الحق کی بدولت ہے۔ سابق صدرِ پاکستان غلام ا سحاق خان اور بہت سے دوسرے فوجی جرنیلوں سے میاں برادران کی باہمی آویزش احسان فراموشیوں کی داستان سنانے کیلئے کافی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جنھوں نے میاں برادران کی راہ میں پھول بچھا ئے اور اقتدار کی راہیں کشادہ کیں میاں برادران نے انہی کا سر قلم کرنے کی کوشش کی جس کا سب سے بڑا مظاہرہ آسف علی زرداری کے خلاف غیر اخلاقی زبان کا بے دریغ استعمال ہے۔ تحریر :  طا رق حسین بٹ (چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فو رم یو اے ای)

Share this:
Tags:
Nusrat bhutto pakistan TARIQ BUTT zardari آسماں پاکستان سیاست
asim
Previous Post سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس کل ہوگا
Next Post پی آئی اے نے اندرون و بیرون رعائتی ٹکٹ کی سہولت ختم کردی
pia

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close