موسم
تحریر : شاہد شکیل ایک محاورہ ہے کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے لیکن یہ سننے میں کبھی نہیں آیا کہ بدلتی ہے زمیں…
تحریر : شاہد شکیل ایک محاورہ ہے کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے لیکن یہ سننے میں کبھی نہیں آیا کہ بدلتی ہے زمیں…
تحریر: پروفیسر رفعت مظہر ہمارے کچھ سیاستدان اور لکھاری ہرکام میں کیڑے نکالنے کے موذی مرض میں مبتلاء ہیں ۔یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کے…
کہاں میں عمر اپنی جاودانی لے کے آیا ہوں یہاں میں آسماں سے عمر فانی لے کے آیا ہوں کہوں کیسے کہ میں یادیں سہانی…
نہ حاکمی کے لئے اور نہ ہی شاں کے لئے جہاں میں آیا ہے تو صرف امتحاں کے لئے کسک ہے سوز ہے آہ و…
کس معصوم ادا سے سویا ہے یہ ننھا سا وجود آسماں بھی اس پہ رویا ہوگا اے میرے معبود بار بار آنکھیں چھلک جاتی ہیں…
تحریر : ڈاکٹر محمد ظفر حیدری جَزَی اللّٰہُ الْمُرَوَّجَ کُلِّ خَیْرٍ، لِنُصْرَةِ عَمِّ خَیْرِ الْاَنْبِیَائِ کِتَاب لِّلْھُدیٰ اَقْویٰ دَلِیْل، بِہ اَسْوَدْتَ وُجُوْہُ الْاَدْعِیَائ اللہ رب…
مہینوں کا سلطاں ،ہے یہ ماہِ رمضاں کہ تکمیلِ ایماں، ہے یہ ماہِ رمضاں ہلال آگیا ہے نظر آسماں پر جو برلائے ارماں، ہے یہ…
کچھ دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ جیو اور جنگ کی لڑائی میں خان صاحب کو نہیں ان کی پارٹی کے لوگوں کو سامنے آنا…
ہم نے ”گرگٹ” نہیں دیکھا اور نہ ہی ہمیں علم ہے کہ یہ رنگ کیسے بدلتا ہے البتہ پاکستانی سیاست دانوں کو دیکھ کر کچھ…
پرانی کتاب، پرانے کھلونوں اور پرانے دوستوں سے انسان کی بہت سی یادیں وابستہ ہوتی ہیں جو وقتاً فوقتاً اس کو بچپن کی یاد دلاکر…
چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیں ہم آسماں سے غزل کی زمین لائے ہیں وہ اور ہوں گے جو خنجر چُھپا کے لائے ہیں…
آسماں ، بادل کا پہنے خرقہ دیرینہ ہے کچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہے چاندنی پھیکی ہے اس نظارہ خاموش میں صبح صادق…
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے ، تو نہیں جہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں…
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں…
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے یا میرا؟ اگر ہنگامہ ہائے…
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی…
دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ ترا بحر پر سکوں ہے یہ سکوں…
ہے وہی آسماں، زمین وہی ماہ و انجم اسی طرح روشن کہکشاں اب بھی مسکراتی ہے پھول کلیاں مہک رہی ہیں یونہی بعد مدت کے…
لو، خدا حافظ تمہیں کہنے کی ساعت آ گئی دل کو تھا جس بات کا دھڑکا وہ نوبت آ گئی ٹوٹ کر برسی گھٹا تجھ…
دل اُداس رہتا ہے بارشوں کے موسم میں بن تمہارے اب جاناں آسماں برستا ہے لوگ ساتھ ہوتے ہیں پیار کے جزیرے میں میں بہت…
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کر گرا…
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے وہاں…
جناب والا کہ یہ سات منزلہ صندوق؟ کسی مکان کے لیے ھے کہ لا مکان کے لیے؟ جناب اس کا اگر ایک پٹ اکھیڑ سکیں…
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اُترے جام ہو…
Start typing to search...
