Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بلوچستان عالمی سامراج کی نئی شکار گاہ

February 15, 2012 0 1 min read
Balochistan
Balochistan
Balochistan

کہتے ہیں عمومی تاثر اصل حقائق سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، جب ایک تاثر عوام کے دل و دماغ میں راسخ ہو جائے اور دل میں شکوک و شبہات کی آکاس بیل پھیلا دے تو محض زبانی لفاظی اور لایعنی دعوں سے یہ تاثر زائل نہیں کیا جا سکتا، ایسی صورت میں گوشواروں اورحقائق ناموں کا کھیل ایک مضحکہ خیز تماشا بن کر رہ جاتا ہے، بلوچستان گزشتہ کئی عشروں سے ایسے ہی تاثر کا شکار ہے، عمومی تاثر اور ارباب اقتدار کے حقائق ناموں میں بہت فرق ہے، ہمارے ارباب اقتدار کا خیال ہے کہ بلوچستان کی فضابغاوت اور غداری کے جراثیموں کیلئے بہت ساز گار ہے مگر بلوچستان کے رہنے والے اِس سے متفق نہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب ہم اپنی محرومیوں کا تذکرہ کرتے ہیں،اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا رونا روتے ہیں اور آئین میں دیئے گئے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم پر بغاوت اور غداری کا الزام لگادیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا احساس محرومی محض تخیلاتی نہیں، یہ احساس محرومی اپنے اندر ٹھوس وجوہات رکھتا ہے،اہلیان بلوچستان کے پاس اپنی محرومیوں کی ایک طویل فہرست ہے،جب وہ وکالت پر آتے ہیں تو کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، پاکستانی عوام کی اکثریت بلوچستان کے اِس دکھ کو سمجھتی ہے، مگر طاقت آزمائی کو کمال فن سمجھنے والے ہمارے ارباب اقتدار نہیں سمجھتے، وہ ہر منظر کو جرم بغاوت اور شورش کی عینک سے دیکھتے ہیں۔

آج بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی تاریخ برسوں پرانی ہے، بلوچستان کئی عشروں سے سلگ رہا ہے، مری، مینگل اور بگٹی قبائل کے خلاف کئی آپریشن ہوچکے ہیں، ڈاکٹر شازیہ کے واقعے اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے حالات بگڑتے چلے گئے اور احساس محرومی کی برسوں سے سلگتی آگ، شعلوں سے قومی و لسانی عصبیت اور مملکت سے بغاوت کے خوفناک الا میں تبدیل ہوگئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب امریکہ نے بھی بلوچستان کی آگ بھڑکانے کیلئے باقاعدہ کاروائی شروع کر دی ہے، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کو بھارت اور اسرائیل کا اندورنی معاملہ قرار دینے والے امریکہ کو بھی اب بلوچستان کی فکر لاحق ہوگئی اور بلوچستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے، نئی حکمت عملی کے تحت امریکی وزارت خارجہ اور سی آئی اے کے پاکستان ونگ میں بلوچستان واچ ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے، دوسری طرف امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی عوامی سماعت کے ذریعے کہہ رہی ہے کہ بلوچستان ایک ایسا شورش زدہ علاقہ ہے، جس میں پاک فوج ،نیم فوجی اور خفیہ ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سرخیل ہیں،آٹھ فروری کواوور سائٹ اینڈ انویسٹیگیشن کیلئے ذیلی کمیٹی کے تحت ہونے والی سماعت کے دوران پانچ ماہرین نے اپنے بیانات کمیٹی کو جمع کرائے، جن میں واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹان یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹین فیئر، امریکی فوجی تجزیہ نگار اور مصنف رالف پیٹرز جو جون 2006میں آرمڈ فورسز جرنل میں ایسا نقشہ شائع کرچکے ہیں جس میں ایران اور پاکستانی بلوچستان کو افغانستان کے مخصوص علاقے پر مشتمل گریٹریا آزاد بلوچستان دکھایا گیا تھا اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کیلئے ڈائریکٹر علی دایان حسن بھی شامل تھے، علی دایان حسن کی تجویز تھی کہ اغواماورائے عدالت قتل اورغیرقانونی گرفتاریاں روکنے کیلئے حکومت پاکستان پردباو ڈالاجائے، جبکہ اِس موقع پر امریکی ماہرین اور حکام نے فوج، آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف سی پر پابندیاں لگانے اور تعلقات ختم کرنے کی تجاویزدی اور مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں حالات معمول پر لانے کیلئے امریکہ پاکستان پر دبا ڈالے اور پاکستان سے پوچھے کہ بلوچوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیا جا سکتا۔

جب امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی میں بلوچستان کے مسئلے پر عوامی بحث و مباحثہ کا تذکرہ امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کی پریس بریفنگ میں زیربحث آیا، تو انہوں نے خارجہ امور کی کمیٹی کی سماعت کو امریکی حکومت کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بہت سے خارجی امور پر سماعت کا اہتمام کرتی رہتی ہے، ایسی سماعتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی حکومت کسی ایک موقف کی حامی ہے یااس کی توثیق کرتی ہے، اِس سوال کے جواب میں کہ کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ امریکہ بلوچستان کی آزادی کے مطالبے کا حمایتی نہیں ہے، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھاکہ اِس معاملے پر ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے، امریکہ بلوچستان کی آزادی و خودمختاری کا حامی نہیں،امریکی حکومت بلوچستان کی تمام جماعتوں پر زور دیتی ہے کہ اپنے اختلافات کا پرامن اور قابل قبول سیاسی حل نکالیں، جبکہ امریکی دفتر خارجہ کے معتبر ذرائع کہتے ہیں کہ امریکی حکومت بلوچستان کی موجودہ صورت حال کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے، بلوچستان کے مسئلے پر امریکی طرزعمل کے بعض پہلوں پر پاکستان نے قومی اور ملکی مفادات سے آہنگ موقف اختیارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکہ سمیت کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی، امریکی کانگریس کمیٹی میں بلوچستان کے معاملات پر امریکی ارکان کی بحث پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھاکہ کسی ملک کو پاکستان کے اندرونی معاملات اور قومی خودمختاری میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان نے اپنی تشویش سے واشنگٹن کو آگاہ کردیا ہے، دوسری طرف ارکان سینٹ کا کہنا تھا کہ امریکی کمیٹی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگرکرنے کی کوشش کرے،ا مریکی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،پاکستان اپنے معاملات خود نمٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی طرف سے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اِس مسئلے کو امریکہ کے سامنے اٹھائے، حکومت پاکستان اور سینٹ کی طرف سے اِس حوالے سے ایک سخت پیغام دیا جائے کہ ہم کسی بیرونی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

قابل تشویش بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کمیٹی نے اپنی سماعت کے دوران بلوچستان کی آزادی و خودمختاری کے مسئلے کو ایک عالمی مسئلہ بنا نے کا اہتمام کیا ہے جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ، تحقیقی ادارے، جامعات اور حکومتی اداروں نے بلوچستان کے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہے، جس سے بلوچستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کھل کر سامنے آگئی ہے، ایک طرف امریکی حکام یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے امریکی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، آج امریکہ کوپاکستان کے حالات پر بہت تشویش ہے، وہ آزاد بلوچستان کی بات کررہا ہے،امریکی دفاعی ماہرکہتے ہیں کہ بلوچوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیاجاتا،لیکن ہم ان سے سوال کرتے ہیں کشمیر اور فلسطین کے عوام برسوں سے حق خود ارادی اور آزادی کے متلاشی ہیں، کیا انھوں نے کبھی بھارت اور اسرائیل سے پوچھا کہ اس نے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیتا، ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی کانگریس کمیٹی میں باضابطہ طور پر بلوچستان کی آزادی پر غوروخوض انتہائی اشتعال انگیز اقدام ہے، جس پر وزارت خارجہ اور ارباب اقتدار کی جانب سے شدید رد عمل آنا چاہیئے تھا، مگر صد افسوس کہ ایک قرار داد مذمت کی منظوری قومی سلامتی سے جڑے اِس اہم مسئلے کا حل سمجھی گئی، دوسری طرف امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ وضاحت کہ امریکی کانگریس کمیٹی کو امریکی انتظامیہ کی تائید اور حمایت حاصل نہیں اور امریکہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ دیکھنا چاہتا ہے، عالمی رائے عامہ کو بے وقوف بنانے کے مترادف اور منافقت پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے، اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکہ کو بلوچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ بلوچستان کارڈکو افغانستان کے بارے میں پاکستان پردباؤڈالنے کیلئے استعمال کر رہا ہے، خود بری فوج کے سربراہ اِس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں کہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان تک رسائی بلوچستان کی بندرگاہوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جنرل کیانی نے امریکی کانگریس میں بلوچستان کے مسئلے پر بحث کو درست تناظر میں جوڑا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ بلوچستان میں امریکی دلچسپی بے سبب نہیں،محل وقوع کے اعتبار سے بلوچستان دنیا کا اہم ترین علاقہ ہے جوایران، مڈل ایسٹ، جنوب مغربی ایشیا اور سینٹرل ایشیا سے جڑا ہوا اور گوادر کی بندرگاہ سمیت تیل گیس اور معدنیاتی ذخائر کے ساتھ ساتھ بلوچستان کا اسٹریٹیجک محل وقوع عالمی قوتوں کیلئے اپنے اندر خصوصی کشش رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بلوچستان ایک طویل عرصے سے سی آئی اے، خاد، اوررا کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، امریکہ کی سونے چاندی و دیگر معدنی وسائل سے مالا مال اور جغرافیائی نکتہ نظر سے بے انتہا اہمیت کے حامل پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کواپنا خصوصی ہدف بنانے اور جدید ترین سہولتوں سے آراستہ گوادر پورٹ کے ذریعے دوبئی سے زیادہ سستی اور کم فاصلہ بندرگاہ کے حصول کی خواہش عریاں ہوکر سامنے آچکی ہے،اسی وجہ سے اس نے براہ راست بلوچستان میں انارکی اور قومی شاونزم کی لڑائی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے آج پاکستان کا یہ اہم اور حساس صوبہ عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور بلوچستان کے حالات بہت تیزی سے بگاڑے جارہے ہیں، حکومت کی جانب سے بلوچ عوام کی جائز شکایات کے ازالے میں کوتاہی کے نتیجے میں صورت حال ہر لمحہ ابتر ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بیرونی سازشی طاقتوں کو اپنا مذموم کھل کھیلنے کے موقع مل رہا ہے، اِس صورتحال سے ہر محب وطن پاکستانی سخت اضطراب میں مبتلا ہے، مگرہمارے ارباب اختیار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، حکومتی پالیسیوں نے بلوچستان کو ایک ایسی دلدل بنا دیا گیا ہے جس میں ریاست دھنستی جارہی ہے،اِس وقت جبکہ علیحدگی کی تحریک زوروں پر ہے اورامریکہ کی نظریں بلوچستان کے ذخائر اور گوادر جیسی اہم پورٹ پر جمی ہوئی ہیں،دوسری طرف بھارت جیسا ہمارا ازلی دشمن بلوچستان میں تخریب کاری کے جال بچھانے میں نہ صرف کامیاب ہو چکا ہے بلکہ بلوچستان کے پسے ہوئے اور مفلوک الحال عوام میں انتشار کا باعث بھی بن رہا ہے،ایسے میں ہر طبقہ فکر بالخصوص سیاسی رہنماں اور حکومت وقت کی ذمہ داریاں بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے چارہ گری اور ناراض بلوچوں کے زخموں پر مرہم کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آرہی، ہمارے حکمرانوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ بلوچستان کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ راکٹوں، لشکروں اور مارٹر گولوں کے خلاف ہونے کے باوجود، وہاں ریلوے لائینیں کیوں اکھاڑ دی جاتی ہیں، تیل کی پائپ لائینیں کیوں اڑادی جاتی ہیں،کیوں ریاستی اداروں کے ساتھ پنجہ آزمائی کی جاتی ہے، کیوں قومی انفرااسٹریکچر کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، حکومت کے ہوتے ہوئے کیوں متوازی حکومت قائم کی جاتی ہے، وہ کیا وجوہات تھیں جس نے مری،مینگل اور بگٹی قبائل کو سرکشی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا، کیوں لوگ گھروں،بستیوں اور محلوں کو چھوڑ پر غاروں اور پہاڑوں کی طرف نکل گئے ہیں، آج بلوچ نئی نسل اسقدر برہم کیوں ہے، کیوں یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلباآتش ِجوالہ بنے ہوئے اپنے دوسرے پاکستانی بھائیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، یہ سب کچھ کیوں ہوا، یقینا بلوچستان میں وقفے وقفے سے بھڑ کنے والے آتش فشاں اپنے اندرکچھ محرکات رکھتے ہیں، جس کی طرف کبھی بھی ہمارے ارباب اقتدار نے توجہ نہیں دی،پنجہ آزمائی اور طاقت کو ہرمسئلے کا حل سمجھنے والوں نے اصل مرض کے علاج سے پہلو تہی کرتے ہوئے بلوچستان کے دکھ کی دوا اور علاج سڑکوں، پلوں، ترقیاتی منصوبوں اور این ایف سی ایوارڈِ وآغازِ بلوچستان پیکیج تجویز کئے، جبکہ مسئلہ سڑکوں، پلوں اور ترقیاتی کاموں سے کہیں زیادہ باہمی اعتماد اور عزت نفس کی بحالی کے ساتھ بلوچ عوام قائم اس تاثر کو زائل کرنے کا جس نے حالات اس نہج پر پہنچادیئے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات طاقت سے نہیں، محبت، ہمدردی، رواداری اور انصاف کے قیام سے ہی درست کیے جاسکتے ہیں، لہذا ملک کی تمام سیاسی قیادت کو بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ بے انصافی کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ارباب اختیار کو سیاسی فہم تدبر سے کام لیکر بلوچستان کے حالات کو اِس نہج پر جانے سے روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے جو سقوط ڈھاکہ جیسے کسی دوسرے سانحہ پر منتج ہوسکتے ہیں، اِس نازک موقع پر ہم امریکی حمایت پر اطمینان کا اظہار کرنے والے اپنے ان ناراض بلوچ بھائیوں سیبھی استدعا کرتے ہیں کہ وہ بزرگ بلوچ سیاستدان سردار عطااللہ مینگل کی اِس بات پر ضرور غور کریں کہ اگر بلوچ پاکستان سے آزادی حاصل کرلیں گے تو وہ عالمی سامراج کے شکنجے میں پھنس جائیں گے۔

تحریر : محمد احمد ترازی

 

Share this:
Tags:
america Balochistan Pak Army pakistan بلوچستان پاک فوج
Previous Post عادووال میں صائم ویلفیئرٹرسٹ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام میڈیکل کیمپ کا انعقاد ہوا
Next Post ملک بھرمیں سردی کی شدت دو روز تک برقرار رہے گی
Cold

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close