
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے
بچھڑے تو نجانے حال کیا ہو
جو شخص ابھی ملا نہیں ہے
جینے کی تو آرزو ہی کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے
جو زیست کو معتبر بنا دے
ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے
خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کِھلا نہیں ہے
سرشاری رہبری میں دیکھا
پیچھے مرا قافلہ نہیں ہے
اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چُھونے میں تو آبلہ نہیں ہے !
پروین شاکر
