
تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں
جو کوئی کام نہ ہو بس وہ کرنے لگتے ہیں
تمہارے آئینئہ ذات کے تصور میں
ہم اپنے آئینے آگے سنورنے لگتے ہیں
تمہارے کوچئہ جاں بخش کے قلندر بھی
عجیب لوگ ہیں ہر لمحہ مرنے لگتے ہیں
ہم اپنی حالتِ بے حالتی اذیت میں
نہ جانے کس کو کیسے یاد کرنے لگتے ہیں
بہت اُداس ہوں میں غم سدا نہیں رہتا
بہت اداس ہوں میں زخم بھرنے لگتے ہیں
انہیں میں تیری تمنا کا فن سکھاتا ہوں
جو لوگ تیری تمنا سے ڈرنے لگتے ہیں
یہاں میں ذکر نہیں کر رہا مکینوں کا
کبھی کبھی در و دیوار مرنے لگتے ہیں
جون ایلیا
