
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہی دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جائوں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
کسلیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مِری آخری محبت ہو
جون ایلیا
