
سارے رشتے بھلائے جائیں گے
اب تو غم بھی گنوائے جائیں گے
جانیے کس قدر بچے گا وہ
اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے
اس کو ہو گی بڑی پشیمانی
اب جو ہم آزمائے جائیں گے
جون یوں ہے کہ آج کے موسی
آگ بس آگ لائے جائیں گے
زخم پہلے کے اب مفید نہیں
اب نئے زخم کھائے جائیں گے
شاخسارو! تمہارے سارے پرند
اک نفس میں اڑائے جائیں گے
ہم جو اب تک کبھی نہ پائے گئے
کن زمانوں میں پائے جائیں گے
جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اب اس کا سود کھائے جائیں گے
آگ سے کھیلنا ہے شوق اپنا
اب ترے خط جلائے جائیں گے
ہو گا جس دن فنا سے اپنا وصال
ہم نہایت سجائے جائیں گے
جون ایلیا
