
شام : (جیو ڈیسک) ہفتے کے دِن ہونے والی رائے شماری کے دوران سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر 30غیر مسلح فوجی مبصرین پر مشتمل ایک پیشگی دستے کی تعیناتی کے اختیارات دے دیے ہیں، جو کچھ ہی دِنوں کے اندر دمشق روانہ ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک پیشگی دستہ شام روانہ کرنے کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی ہے، جہاں سے حکومت اورحزب مخالف کے مابین غیر مثرجنگ بندی کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں تیزی آنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
یہ گروپ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان کی ثالثی میں پیش کیے جانے والے امن منصوبے پر عمل درآمد کے بارے میں اپنی رپورٹ دے گا۔ اِس میں حکومتی افواج کے شہری علاقوں سے انخلا اور اختلافِ رائے رکھنے والوں پر پر تشدد کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اِس میں باغیوں سے جنگ بند کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
جمعرات کو شامی افواج جنگ بندی پر رضا مند ہوگئی تھیں، لیکن دونوں، حکومتی اور اپوزیشن فورسز کا کہنا ہے کہ حملے اب بھی جاری ہیں۔
شام کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کو جاری کی جانے والی اپنی رپورٹوں میں فوجی اور سویلین ہلاکتوں میں اضافے کا ذمہ دار دہشت گرد گروپوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو قرار دیا۔
