
شام : (جیو ڈیسک)شامی حکومت کی جانب سے فوجوں کو شہری علاقوں سے واپس بلانے کے لیے مخالفین سے تحریری ضمانتوں کے مطالبے اور ان کے انکار کے بعد جنگ بندی کے منصوبے کی کامیابی کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔شامی حزبِ مخالف کا ماننا ہے کہ جنگ بندی کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ حزبِ مخالف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت جنگ بندی کرے گی تو وہ بھی لڑائی روک دیں گے۔
حزبِ مخالف کی مرکزی تنظیم فری سریئا آرمی کے کرنل ریاض الاسد کا کہنا تھا کہ ان کی فوجوں سے کسی تحریری ضمانت کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس امن منصوبے پر عملدرآمد نہیں کرے گی اور یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔اس سے پہلے حکومت نے جنگ بندی کی لیے دی گئی دس اپریل کی حتمی تاریخ سے دو دن قبل حزبِ مخالف سے تحریری ضمانتوں اور بیرونی حکومتوں سے حزب مخالف کو مالی امداد نہ دینے یا انہیں مسلح نہ کرنے کے وعدوں کا مطالبہ کیا تھا۔
شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان شرائط پر ہی ملک بھر میں کشیدگی کے لحاظ سے حساس علاقوں سے فوج واپس بلائیگی۔شامی وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ مندوب کوفی عنان نے ابھی تک کوئی تحریری ضمانت نہیں دی کہ مسلح گروہ جنگ بندی قبول کریں گیدوسری جانب شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تشدد کے واقعات میں تیزی آگئی ہے اور وہاں حکومت مخالف تحریک کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز پر تشدد کارروائیوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام میں زمینی صورتحال پر نظر رکھنے والیکارکنوں یا خفیہ نگران کے مطابق سنیچر کو حما کے علاقے لطمنے میں سرکاری فوج کی کارروائی میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔ حما سے ملنے والی ایک ویڈیو کے مطابق تیرہ افراد کو اجتماعی طور پر قتل کر دیا گیا۔اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے شامی حکومت کی جانب سے امن معاہدے پر اتفاق کرنے کے باوجود پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔
بان کی مون کے مطابق جنگ بندی کے لیے دس اپریل تک کی مہلت کا یہ مطلب نہیں کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حامی افواج ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھے۔بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فوجوں کو ہٹانے کے لیے آئندہ ہفتے ختم ہونے والی مہلت ختم ہونے سے قبل شامی فوج اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتی ہے اور تشدد کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
