
بحرین کی اعلی ترین عدالت نے بھوک ہڑتال کے باعث قریب المرگ بحرینی شہری عبدالہادی الخواجہ کو ڈنمارک کی حکومت کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔عبدالہادی الخواجہ کو پچھلے سال حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
انہوں نے اس سزا کو نا انصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جیل میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔خواجہ کی بگڑتی حالت کے باعث ڈنمارک کی حکومت نے بحرینی حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اس قیدی کو ملک بدر کر کے ڈنمارک روانہ کر دیں۔ڈنمارک کی یہ درخواست بحرین کے اعلی ترین قانونی ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے کی گئی جس نے یہ درخواست اتوار کو مسترد کر دی۔
ڈنمارک نے یہ درخواست عبد الہادی کے دوہری شہریت رکھنے کی بنیاد پر کی تھی۔ عبد الہادی ڈنمارک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا کہنا ہے کہ بحرینی قانون میں کسی قیدی کی اس طرح سے کسی دوسرے ملک منتقلی کی گنجائش نہیں ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک اہلکار نے بحرین کے ریاستی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملزموں یا مجرموں کو مخصوص حالات میں ہی دوسری ممالک کے حوالے کیا جاتا ہے۔ عبد الہادی کے معاملے میں ایسا کوئی حالات نہیں۔
خواجہ کی بیٹی زینب کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے پچھلے ساٹھ روز سے کچھ نہیں کھایا ہے جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے۔زینب کو بھی بحرینی حکومت اپنے والد کی رہائی کے لیے مظاہرہ کرنے پر دو مرتبہ گرفتار کر کے رہا کر چکی ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرین کی حکومت میں عبدالہادی الخواجہ کے معاملے پر متضاد رائے پائی جاتیں ہیں۔ بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔ادھر دوسری طرف وزیراعظم خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کا اصرار ہے کہ عبدالہادی الخواجہ کو رہا نہ کیا جائے۔
