Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قربانی، دین کا جامع تصور

November 4, 2011 0 1 min read
eid ul adha
eid ul adha
eid ul adha

اور ہم نے انھیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم وفادار بندوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ قربانی مختلف اوقات میں مختلف طرح سے دی جاسکتی ہے اور آزمائش بھی مختلف وقتوں میں الگ الگ انداز سے لی جا سکتی ہے۔لیکن کامیابی ان ہی لوگوں کی مقدر بنتی ہے جو ہر حالت میں قربانی دینے والے اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رہنے والے ہوں۔پھر یہ کامیابی بس یہیں نہیں رک جاتی بلکہ اس کے اثرات آنے والی صالح نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہر چھوٹی اور بڑی آزمائش میں پورے اترنے والوں کا صلح۔
قربانی وقت کی اہم ترین ضرورت، امت مسلمہ آج جس دور سے گزر رہی ہے اِس دور میں ہر محاذ پر قربانی ادا کرنے والے مومنین کی ضرورت ہے۔ یہ قربانی کس طرح سے ادا کی جاسکتی ہے اور اللہ کی نصرت کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے اس کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے ایک فرد کو ہر جہت پر قربانی ادا کرنے کی ضرورت ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک فرد چند حیثیتوں سے قربانی ادا کر رہا ہو اور اس کے علاوہ دیگر محاذپر دینے کی ضرورت ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کہاں اور کس حد تک قربانی دے رہے ہیں اور مزیدکی کہاں ضرورت ہے۔ یہ محاذ اس طرح بیان کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا میں موجود عقائد و نظریات کو اسلامی تناظرمیں سمجھنے اور ان سے نتیجہ اخذ کرنے کے لیے جس تگ و دو اور انتھک جدوجہد کی ضرورت ہے اس کے لیے اپنے وقت کی قربانی دینا۔ اس سے قبل اس چیز کی قربانی کہ ہمیں اسلام کا جامع علم حاصل ہو جائے ،اس کے لیے ہمیں اپنے شب و روز کے وقت میں سے ایک مخصوص وقت متعین کرنا اور ایک طویل منصوبہ بندی کے تحت اس میں بتدریج آگے بڑھتے جانا۔ معاشرہ میں موجود رسم و رواج کو بس اس ہی حد تک اختیار کرنا کہ جو اسلامی معاشرہ کے قیام و استحکام میں مدد گار ہوں اور ان تمام رسوم سے پرہیز کرنا جو اسلامی معاشرہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہوں۔ اس سلسلے میں کسی بھی طرح کے سمجھوتے اور لچک سے پرہیز کرنا اور اس پر قائم رہنا۔ یہ استحکام اس ہی وقت ممکن ہے جبکہ ہم اسلامی معاشرہ سے واقفیت رکھتے ہوں۔ اسلام ایک مکمل نظام ِ حیات رکھتا ہے اور وہ زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے معاملہ میں رہنمائی دیتا ہے۔اس عقیدہ پر نہ صرف یقین رکھنا بلکہ جس مرحلے میں جب بھی معاملہ پیش آئے اس وقت اسلامی احکامات کو جاننا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔ اسلامی عبادات کو اختیار کرنا اور ان کو اپنی ذات،اپنے گھر، اپنے محلہ اور جہاں تک ممکن ہو قائم کرنے کے لیے سعی و جہد کرنا۔ یہ پانچ باتیں ہیں جن پر عمل کے لیے قربانی کی ضرورت ہے۔قربانی اس بات کا نام نہیں کہ بس جانور کو خرید کر ذبح کر دیا جائے بلکہ قربانی اس بات کا نام ہے کہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے قربانی کی روح اختیارکی جائے۔ توقع ہے اللہ تعالی ہماری قربانیوں کو قبول کرے گا اور ہمیں اپنے وفادار بندوں میں شامل کرے گا۔
قربانی ایک بتدریج عمل، ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا مطالع کیا جائے تو یہ بات نظر آتی ہے کہ جس عظیم قربانی کو انھوں نے ادا کر کے آئندہ آنے والی تمام نسلوں کے لیے ایک یاد گار بنا دیا۔پھر جس قربانی کو اللہ ربِ رحیم نے امت مسلمہ کے لیے ایک فرض ِ عبادت کی شکل میں طے کر دیا۔یہ قربانی کا پہلا اور آخری مرحلہ نہیں تھا۔ اللہ کے نبی حضرت ابراہیم  کی زندگی کا مطالع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی سراپا قربانی تھی۔آپ نے اپنے گھر،اپنے خاندان،اپنے ملک، اپنے معاشرہ اور اس کے رسم و رواج، اپنے عقیدہ اور وقت کے نظریات تمام ہی چیزوںکی قربانی دی۔پھر آپ  نے آتش نمرود میں کود کر اس بات کی وضاحت کر دی کہ دنیا میں اگر زندہ رہنا ہے تو اُس رب العالمین کے احکام پر عمل پیروی کرتے ہوئے رہنا ہے جس نے زندگی عطا کی ہے۔اور جب آپ نے یہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ زندگی اللہ ربِ رحیم کی مرضی کے مطابق ہی گزرے گی تو پھر رب ِ اعلیٰ نے مزید امتحان لے ڈالا اور کہا کہ اپنے بیوی اور بچوں کو اس آب و گیاہ وادی میں چھوڑو آئوجہاں اللہ کی رحمت کے سوا بظاہر کوئی آسرا نہیں۔یہ امتحان پورا ہی کیا تھا کہ بڑھاپے کا سہارا ، مومن بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دینے کی آزمائش سامنے لاڈالی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں بھی ثابت قدم ٹھہرے۔معلوم ہوا کہ بڑی قربانیاں چھوٹی قربانیوں کے ادا کرنے کے بعد دی جاتی ہیں اور جس قدر بڑی قربانی میںجوبھی ڈالا گیا اس ہی قدر اس کی منزلت بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ اپنے رب اعلیٰ سے جا ملا اور بشارت حقیقت میں تبدیل ہو گئی۔غور فرمائیے ہم نے اب تک کس درجے کی قربانی ادا کی ہے اور قربانی کے کن مراحل سے گزرے ہیں ۔یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے کتنے قریب ہیں۔کیونکہ آزمائش اور قربانی ان ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
قبولیت قربانی۔ قرآن حکیم کہتا ہے اور انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا :میں تجھے مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا:اللہ تو متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے یہ ہے وہ معیار جس پر پورے اترنے والوں کی قربانی قبول کی جائے گی ۔جس میں ایک بات یہ کہ وہ متقی ہو ںاور دوسری یہ کہ وہ قربانی دینے میں مخلص ہوں،اور یہ اخلاص ہر نہج پر ضروری ہے ۔ سب سے پہلے ہم اللہ کے لیے مخلص ہوں اور اپنے رسول کے لیے مخلص ہوں، اپنے دین کے لیے مخلص ہوں، اپنی امت کے لیے مخلص ہوں اور ان سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے مخلص ہوں۔ ذات کے لیے مخلص، یعنی ہم اس بات پر یقین رکھنے والے ہوں کہ ہماری ذات کے ذریعہ انجام دیا جانے والا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے ہی انجام دیا جائے گا اور ہر کام سے رکنا اس بنا پر ہوگا کہ اللہ ہم کو رکنے کا حکم دیتا ہے۔اس تصورکے ساتھ انجام دی جانے والی ہر قربانی انشااللہ قبول ہوگی اور وہ ہمیں دنیا و آخرت میں مقبولیت کی منزلیں طے کروائے  گی۔ کہا کہ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں۔
مزیدکہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو، عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پہلی خوبی: وہ عقل رکھتے ہیں، نہ صرف عقل رکھتے ہیں بلکہ عقل کا استعمال ان ہدایات کی روشنی میں کرتے ہیںجو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئیں ہیں۔ دوسری خوبی : جب ان کے پاس نصیحت آجاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے گریز نہیں کرتے ،تذبذب میں مبتلا نہیں ہوتے،کاہلی اور تساہلی سے بچتے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں قبول کی جاتی ہیں۔اورتیسری خوبی یہ کہ ان لوگوں کو یقینِ کامل ہے کہ آخر کار اس زندگی کا اختتام ہونا ہے، آخرت کا دن آنا ہے، جزا اور سزا ملنی ہے، اور یہی وجہ ہے جس کے سبب وہ اللہ رب العالمین سے بخششیں طلب کرتے ہیں۔پھر کہا کہ اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہو سکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیااور وہ نیکوکار بھی ہے۔اور ابراہیم کے  دین کا پیرو ہے جو یکسو(مسلمان)تھے اور خدا نے ابراہیم  کو اپنا دوست بنایا تھا۔ یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فرد اپنی ذات اور اپنی عبادات کامکمل جائزہ لے سکتا ہے ۔اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر یہ بات بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ آیا ہماری عبادات قبول ہونے کے لائق ہیں یا نہیں!کہا کہ “زمین و آسمان کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ البقرہ۔
قربانی کا حکم تمام امتوں کے لیے۔ ربِ حکیم فرماتا ہے:”ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اس امت کے)لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔(ان مختلف طریقوںکے اندر مقصد ایک ہی ہے)پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اسی کے تم مطیع فرمان بنو(الحج)۔ معلوم ہوا کہ جس طرح نماز اور روزہ دوسری امتوں میں پر فرض رہے ہیں اسی طرح قربانی بھی امت مسلمہ سے قبل کی امتوں پر فرض کی جاتی رہی ہے۔ پس ہم وہی عبادات انجام دے رہے ہیں جو ابراہیم، اسحاق، موسیٰ اور عیسیٰ انجام دیتے آئے ہیں۔ پھر یہ جانور جو اللہ رب العزت نے نوازے ہیں اور جن کے ذریعہ کھانے اور پینے کی چیزیں میسر آئی ہیںاور جو مال و دولت کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ سب اللہ ربِ رحیم کی عنایت کردہ ہیں اس لیے لازم ہے کہ اس مال و دولت کو اللہ کی نظر چڑھایا جائے۔ اب اگر مال و دولت کسی اور شکل میں ہو تو بھی اس قربانی کو ادا کرنے کے لیے جانور کی قربانی کی جائے اور اُس یاد کو ہر لمحہ تازہ دم رکھا جائے کہ یہ عنایات اللہ کی عطا کردہ ہیں۔ لہذا ان کا استعمال بھی اللہ کی رضا اور اس کی مرضی کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
ایمانی غذا کی فراہم، جس طرح ایک انسان کی رواں دواں زندگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو بھرپور غذا ملتی رہے ٹھیک اس ہی طرح ایک مسلمان کے دین، اس کی فکر، اس کی نظراور اس کے اعمال کو صحیح رخ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ایمانی غذائوں کا استعمال کرتا رہے جو اس کو وقتاً فوقتاًتقویت پہنچانے والی ہیں۔ یہ ایمانی غذا اُس صورت ہی میں حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس کا شعوری طور پر اہتمام کرے۔ اس کے لیے جہاں دن میں پانچ مرتبہ اللہ رب العزت کے سامنے حاضری ایک ذریعہ ہے تو وہیں اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادات کو ہر لمحہ بجا لانا بھی معاون و ممدو ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اہتمام بندہ مومن خوشی اور غم کے ہر موقع پر کرتا ہے۔ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کی جانب یہ عید الضحٰ کا واقع بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ ایک جانب مسلمان اللہ ربِ اعلیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہیں، اس سے تعلق برقرار رکھنے اور اس کے بتائے طریقہ پر عمل کرنے کا اظہار کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب اُن لوگوں کے ساتھ مل کر عید کی خوشیوں کو تقسیم کرتے ہیں جو عام دنوں میں اس قدر سیر ہوکر کھا نہیں پاتے جیسا کہ اس موقع پرصحت بخش غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ خوں بہانے اورخوشی منانے کے ساتھ ساتھ ایک عزم مسمّم کا عہد کیا جاتا ہے۔قربانی کے اعلیٰ ترین نمونہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اپنی جان اور مال اور صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ عہد صرف زبانی حد تک ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات انسان کے ظاہر و باطن دونوں پر پڑتے ہیں۔ اس طرح اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف مسلمانوں کو قوت حاصل ہوتی ہے جو ان کے اندر خدا پرستی کی توانائیاںتازہ بہ تازہ داخل کرتی رہتی ہیں تاکہ وہ برابر چست رہیں، فعال رہیں اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو جائیں۔کائنات اور اس کی ہر شے مستقل حرکت پذیر ہے اُس میں ٹہرائو نہیں اگر اس میں ٹھہرائو آ جائے تو یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے ٹھیک اسی طرح بندہ مومن ہر آن اپنے ایمان کو تازہ دم رکھنے میں متحرک رہتا ہے ۔یہی نشانی ہے اس بات کی کہ اس کی فکر اور اس کا عمل منجمد نہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ اس کی ہلاکت اور بربادی کا نتیجہ ہوگی۔نبدہ مومن اللہ کے رسول ۖ کی زندگی سے استفادہ کرتا ہے کیونکہ آپۖ کی زندگی تحریکیت کی غماز ہے۔آپۖ کے سامنے سیاسی حالات نے آنکھیں دکھائیں،وطنی مفاد آڑے آئے،وقت اور ماحول نے ساتھ دینے سے انکار کیا،مصلحتوں نے دامن پکڑا، مشکلات نے راستہ روکا،ہلاکتوں کا طوفان نمودار ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آواز میں کبھی کوئی پستی نہ آنے دی۔بس یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا عقیدہ جب تمام عقائد پر اثر انداز ہوتا ہے تو مسلمان کی راہ ہموار ہوتی ہے اور رکاوٹیں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔کیونکہ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر متنبہ کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ مومنین سے تمسخر کرتے ہیں۔لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے۔ قربانیاں ہمارے ایمان کو تازہ رکھنے میں مدد گار ہوتی ہیں، آئیے عہد کرئیے اور اٹھ کھڑے ہوئیے اس عزم کے ساتھ کہ ہم اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی زندگی کے شب و روز میں قربانیاں دیں گے اور اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے والوں میں شمار ہوں گے۔
تحریر :  محمد آصف اقبال، نئی دہلی

Share this:
Tags:
hajj Ibrahim muslims ابراہیم دین قربانی
lahore
Previous Post لاہور: شادی کی تقریب میں پولیس پر فائرنگ،3 زخمی
Next Post جو ڈینگی سے بچ گئے وہ بھوک اور غُربت سے نہ مر جائیں
Exceuseme

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close