
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کسی بھی ملک کی ترقی میں صحت مند معاشرہ اور اخلاقی اقدار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ بات محمد علی جناح یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوہاب نے صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ صحافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوںنے کہا کہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق اچھے لوگ پیدا کئے جائیں۔تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلباء میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیں ۔انہوں نے کہا کہ محمد علی جناح یونیورسٹی اس ضمن میں اپنا کردار بخوبی ادا کررہی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ معاشرے کی نشو ونما اور ملک کی ترقی و ترویج کے لئے صحافی برادری کا بھی اہم کردار رہا ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
آج پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی بناء پر ہی لمحے لمحے کی خبریں اور حالات سے آگاہی صحافی برادری کی جہد مسلسل کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کے لئے عام آدمی میں بھی اخلاقی اقدار کی خواہش کا ہونا ضروری ہے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن مبشر میر نے کہا کہ صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن نے بڑے پیمانے پر ویلفیئر کی کوشش نہیں کی صرف صحافیوں کے بچوں کی ضروریات کے لئے ان کو وظائف دیئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں حوصلہ افزائی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔آپ کوئی قابل تعریف کام کریں اور اسے سراہا نہ جائے تو مزید بہتری کی توقع نہیں رکھنی چاہیے لیکن جب کسی بھی اچھے کام کو سراہا جائے تو اس کی صلاحیتوں اور انرجی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بنیادی چیزیہ ہے کہ آپ کے چہرے پر اس بات سے خوشی آئے کہ آپ کی محنت کو سراہا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک ہے۔اس لئے اس خطرناک ترین شعبے میں کام کرنے والے صحافیوں کو پزیرائی کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے وسائل پیدا کئے جائیں تاکہ صحافیوں کے خاندانوں کو کسی بھی برے وقت میں سپورٹ کیا جاسکے ۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نام سے ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد صحافیوں کی مدد اور پزیرائی تھی۔انہوں نے کہا کہ بینکار صحافت کو منفی شعبہ گردانتے ہیں اس لئے ان کو کسی بھی قسم کے کریڈٹ کارڈ یا کوئی پروڈکٹ حاصل کرنے کی سہولت نہیں دی جاتی لیکن اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس نے اس طرح کی کوئی منفی فہرست نہیں بنائی۔ صحافت کو باقاعدہ ایک شعبہ تصور نہیں کیا گیا ہے اور اس شعبے کو منوانے کے لئے تمام صحافی تنظیموں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ40سے 50سال کے دوران اسلام آباد کے منظور نظر صحافیوں کو وزیر اعظم یا صدر کے ساتھ غیر ملکی دوروں پر بھیجاجاتا ہے ۔ان تمام امور پر کو ایک سنجیدہ پالیسی کے تحت ہونا چاہیے اور ملک کے دیگر شہروں کے صحافیوں کو بھی موقع دینا چاہیے۔
کرنل مختار بٹ نے کہا کہ ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے میرے زمانے میں جنگ ،انجام اور نئی روشنی اخبار آیا کرتے تھے جس میں ہر 7سے 8دن کے بعد یہ سرخی ہوتی تھی کہ پاکستان شدید خطرات سے دوچار ہے جبکہ اب بھی اسی طرح کی سرخیاں اخبارات کی زینت بنتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ناامیدی گناہ ہے اس لئے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔صرف پاکستان میں ایسا ہے کہ صحافیوں کو تنخواہ نہیں دی جاتی جبکہ پوری دنیا میں ایسا ہرگز نہیںہے ۔پاکستان میں اس حوالے سے کسی سسٹم کی پاسداری نہیں کی جاتی ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فرسودہ نظام کو تبدیل کیا جائے اورایسا پاکستان کے 18کروڑ عوام مل کر کرسکتے ہیں لیکن ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔معلوم ہونے کے باوجود ایک ظالم کو ووٹ دیتے ہیں جب تک عوام نہیں جاگیں گے تبدیلی نہیں آسکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے غیر ملکی ثقافت کو اپنالیا ہے ۔مارننگ شوز میں ہماری اینکرزبن ٹھن کر آتی ہیں اور مردوں کے ساتھ ڈانس کرتی ہیں ۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شناخت ہر گز نہیں ہے لیکن یہاں پر کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اسلام شعائر کے مطابق انجام دی جارہی ہوں ۔ہر طرف چوری ،ڈاکے ،ٹارگٹ کلنگ کا دور دورا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب تبدیلی لانے کی بے حد ضرورت ہے اور اس تبدیلی میں پاکستان کے عوام کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فکر کی تبدیلی سے ہی معروضی تبدیلی آئے گی لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم کتاب دوستی سے انسان دوستی کی طرف بڑھیں ۔معروف صحافی نجم الحسن عطاء نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے تجاویز تو دی جاتی ہیں اور مسائل کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے لیکن ان کو حل کس طرح کیا جائے یہ کوئی نہیں بتاتا ۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تنزلی کی طرف جارہی ہے اور آج 30سال پہلے کے مقابلے میں کوئی ادیب ،مفکر نظر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ نصاب میں کوئی ایسی تعلیم نہیں دی جاتی جو عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکے لہذا ہمیں اس اپنے نصاب کو ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہم کتاب دوست نہیں ہوں گے علم دوست نہیں بن سکتے ۔ قرضوں اور زکوة سے ملک نہیں چلایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ بینکوں سے قرضے حاصل کئے جارہے ہیں اور ایک وقت وہ بھی آئے گا کہ مجموعی طور پر 70فیصد جائیدادیں بینکوں کے قبضے میں آجائیں گی ۔معروف صحافی اکرم کمبوہ نے کہا کہ موجود نظام گل سڑچکا ہے اور اذیت ناک ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان نفسیاتی طور پر احساس کمتری میں مبتلا ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان صحافیوں کو چھ چھ ماہ تنخواہ نہیں دیتے اور یہ لوگ بھی اس گلے سڑے نظام کا ایک حصہ بن چکے ہیں ۔میڈیا مالکان نہیں چاہتے کہ تبدیلی آئے کیونکہ اس تبدیلی کے باعث ان کی عیاشیاں ختم ہوجائیں گی۔عمران علی نے کہا کہ اللہ کو اپنے دل میں لائیں وہ ہمیں کبھی محتاج اور بے سہارا نہیں رکھے گا۔
اگر ہم اللہ کی حقیقت کو اپنالیں تو ہمیں اور ہمارے ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوسکتا ۔ضیغم ضیاء نے کہا کہ صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن دیگر تنظیموں سے زیادہ فعال ہے ۔ہم ہر طرح اس کو سپورٹ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل اچھی لیڈر شپ میں پنہاں ہے ۔جاوید شیخ نے کہا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہر آدمی اپنی استعداد کے مطابق کام کررہا ہے اور صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ ایوارڈز ایک اچھی کاوش ہے ۔شیر محمد کھاوڑ نے کہا کہ صحافی ان نامساعد حالات میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہے ہیں اور جب شہر میں ہنگامہ آرائی ہوتی ہے تو لوگ اپنے گھروں کی جانب جارہے ہوتے ہیں جبکہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے دفتر جانے کی فکر ہوتی ہے ۔معروف خاتون صحافی خورشید حیدر نے کہا کہ صحافت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس شعبے میں صحافی انتہائی مخلص ہو کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بھی مکمل تعاون کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ ملک کو تباہ کرنے والے عناصر کے خلاف متحد ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں تب ہی ان سے نجات مل سکتی ہے ۔میاں طارق نے کہا کہ اوپر سے لے کر نیچے تک تمام لوگ دانستہ اور نادانستہ طور پر کرپشن میں ملوث ہورہے ہیں جبکہ دانشور طبقہ کرپٹ حکمرانوں کی مدح سرائی میں لگا ہوا ہے ۔اس لئے ان سے کسی اچھی بات کی توقع نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک عام انسان کو کیا ٹھیک کریں گے یہ خود ٹھیک نہیں ہیں ۔تقریب کے آخر میں صحافیوں کے بچوں کے لئے تعلیمی وظائف کے چیکس اور تعریفی شیلڈز تقسیم کی گئیں ۔نظامت کے فرائض سمیرا نے انجام دیے ۔ آخر میں اکرم کمبوہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
