
پاکستان(انجم بلوچستانی) لاہور بیورو اور مرکزی آفس برلنMCB یورپ کے مطابق تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ اور پاکستان عوامی تحریک کے چیرمین شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ” کے نعرے کے تحت مینار پاکستان،لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسے میںتقریباً دو ملین مرد و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”میں اللہ تعالیٰ اور قرآن مجید کو گواہ بنا کر حلف دیتا ہوںکہ مینار پاکستان کے جلسے کے تمام اخراجات دنیاکے ٩٠ ممالک میں پھیلے تحریک کے مراکز، رفقاء ا ور عوام نے برداشت کئے۔ کسی ملک، ادارے یا ایجنسی کی ایک پائی بھی اس میں شامل نہیں ہے۔ اس اجتماع کی غرض و غایت آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے، نہ جمہوریت کا خاتمہ ۔میرا پہلا اور آخری مفاد ملک اور اٹھارہ کروڑ عوام ہیں۔”انہوں نے آئین کے آرٹیکلز 38،9،3 اور آرٹیکل 218کی کلاز ٣ عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ” ہم الیکشن آئین کی شرائط کے مطابق چاہتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو آئین کی ایک ہی شق یاد ہے کہ 90دن میں الیکشن ہونا چاہئے،مگر باقی شقیں بھی قابل احترام ہیں۔ الیکشن آرٹیکل 218 کی کلاز 3 کے تحت کرائے جائیں۔ جس کے مطابق الیکشن ہر لحاظ سے ایماندارانہ ہو،منصفانہ ہو، غیر جانبدارانہ ہو،قانون کے مطابق ہو ، کوئی ناجائز طریقہ استعمال نہ کیا جائے تاکہ کرپشن کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔الیکشن کمیشن کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ان باتوں کے انتظامات کرے۔ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں غلط کردار کے لوگوں کیلئے کوئی جگہ نہ ہو۔ ” انہوں نے الیکشن کمیشن کے بے دست و پا ہونے کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ” موجودہ نظام انتخاب میںالیکش کمیشن کے پاس الیکشن کیلئے اپنے بندے مقرر کرنے تک کے اختیار نہیں، وہ پولیس اور فوج کی مد دکے باوجودالیکشن کی ہیرا پھیری پر قابو نہیں پاسکتا۔اسکے لئے اس نظام کو تبدیل کرنا ہوگا ۔”انہوں نے الیکشن آئین کے تحت کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاست کو مسترد کر دیا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے میڈیا کے ذریعہ پھیلی غلط فہمی دور کرتے ہوئے کہا کہ” ہم سیاست کے خلاف نہیں لیکن سیاست کے نام پر ملک میں جو گھناؤنا کھیل ہو رہا ہے اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔میرا ایجنڈا پاکستان سے الیکشن ختم کرانا نہیں،الیکشن کو درست کرنا ہے۔
موجودہ سیاست میں جوڑ توڑ ،گالی گلوچ اور اگلا الیکشن جیتنے کے علاوہ کوئی ترجیح نہیںہے، لیکن اب ایکشن ری پلے نہیں ہو گا۔ہم کرپشن واستحصال سے پاک ایسا الیکشن چاہتے ہیں،جس میں لوگ آزادانہ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ جس میں مزدورکا نمائندہ مزدور ہو کارخا نہ دار نہ ہو،کسان کا نمائندہ کسان ہو زمیندار نہ ہو،جس میںغریب کا نمائیندہ غریب ہوسرمایہ دار نہ ہو اور اسمبلی کی سیٹوںکے ٹکٹتین اور چار کڑوڑمیں نہ بکتے ہوں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹرطاہر القادری نے کہا کہ ”آئین کے مطابق انتخابی نظام درست نہ ہوا تو لوگ اس الیکشن کو قبول نہیں کریں گے۔موجودہ نظام کو درست کرنے کیلئے دس جنوری تک اٹھارہ دن کی مہلت دیتا ہوں ورنہ 14جنوری کو 4 ملین افراد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ،جہاں عوام کی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو گا ۔”انہوں نے حاضرین سے ہاتھ اٹھوا کر ان مطالبات اور مارچ کی تائید حاصل کی۔یہ کسی سیاسی جماعت کا پہلا جلسہ تھا جس میں صر ف پاکستانی جھنڈے لہرا رہے تھے۔
