
چاند کے ساتھ مری بات نہ تھی پہلی سی
رات آتی تھی مگر رات نہ تھی پہلی سی
ہم تری یاد سے کل شب بھی ملے تھے لیکن
یہ ملاقات ملاقات نہ تھی پہلی سی
آنکھ کیوں لوٹ گئی خوف سے صحرائوں کو
کیونکہ اس بار تو برسات نہ تھی پہلی سی
اب کے کچھ اور طرح کی تھی اداسی ان میں
چاند تاروں کی یہ بارات نہ تھی پہلی سی
عشق نے پل میں بدل دی میری ساری دنیا
میں نے دیکھا کہ مری ذات نہ تھی پہلی سی
فرحت عباس شاہ
