عشق رنگ
تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی روز اول سے آج تک کروڑوں انسان اِس کرہ ارض پر اپنے اپنے وقت پر آئے اور مٹی کا…
تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی روز اول سے آج تک کروڑوں انسان اِس کرہ ارض پر اپنے اپنے وقت پر آئے اور مٹی کا…
یہ داغِ محبت ہے مٹا یا نہیں جا سکتا دل کے ٹکڑوں کو جلایا نہیں جاسکتا پھول کانٹوں سے بچھڑ کر مر جاتے ہیں خوشبو…
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا حبابِ موجہ رفتار ہے نقشِ قدم میرا محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بیدماغی ہے…
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بدم آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا…
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہو کچھ…
تیرے عِشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں Tere Ishq Ki Inteha Chahta Hoon
یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ یک رنگی و آزادی اے ہمتِ مردانہ یا سنجر و طغرل کا آئینِ جہانگیری یا مردِ قلندر…
نکتہ چین ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر…
بے تحاشا ہے تجھے یاد کیا اور بھلایا بھی بہت ہے تجھ کو ساری رونق ہی ترے دم سے ہے اور ترے بکھرے ہوئے غم…
چاند کے ساتھ مری بات نہ تھی پہلی سی رات آتی تھی مگر رات نہ تھی پہلی سی ہم تری یاد سے کل شب بھی…
عشق میں جیت ہوئی یا مات آج کی رات نہ چھیڑ یہ بات یوں آیا وہ جان بہار جیسے جگ میں پھیلے بات رنگ کھلے…
عشق جب زمزمہ پیدا ہو گا حسن خود محو تماشا ہو گا سن کے آوازہ زنجیر صبا قفس غنچہ کا دروا ہو گا جرس شوق…
آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں جانے کیا چیز کھو گئی…
یا مجھے افسر شایانہ بنایا نہ ہوتا یا میرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا خاکساری کے لیے گرچہ بنایا مجھے کاش خاکِ درِ جاناں نہ…
کیجیے نہ دس میں بیٹھ کر آپس کی بات چیت پہنچے گی دس ہزار جگہ دس کی بات چیت کب تک رہیں خاموش کہ ظاہر…
نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی اس محبت میں، میں اکیلی تھی عشق میں تم کہاں کے سچے تھے جو اذیت تھی ہم نے جھیلی…
مانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہے لیکن گھر کو جانے والا رستہ رکھنا پڑتا ہے تنہائی وہ زہر بجھی تلوار ہے جس…
جب وہ پشیماں نظر آئے ہیں موت کے سامان نظر آئے ہیں ہو نہ ہو اب آ گئی منزل قریب راستے سنسان نظر آئے ہیں…
جبیں عشق میں آسرا دینے والے مجھے بھیڑ میں راستہ دینے والے کرم جبرِ حالات کا ہے یہ ورنہ بڑے باوفا تھے دغا دینے والے…
عشق خدا کی دین ہے، عشق سے منہ نہ موڑیے چھوڑیے زندگی کا ساتھ ، دل کا نہ ساتھ چھوڑیے اپنے کہاں کے غیر آپ…
بے قراری گئی قرار گیا ترکِ عشق اور مجھ کو مار گیا وہ جو آئے تو خشک ہو گئے اشک آج غم کا بھی اعتبار…
درد بے کیف غم بے مزا ہو گیا ہو نہ ہو کوئی مجھ سے خفا ہو گیا بعدِ ترکِ تعلق یہ کیا ہو گیا ربط…
عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں پیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں سر پٹک کر درِِ زنداں پہ صبا نے یہ…
ابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئے سجا رکھا ہے گھر سارا تُو شاید لوٹ کر آئے بجز خاموشیوں تنہائیوں کے کچھ…
Start typing to search...
