Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہر کوئی اپنی عدالت لگا رہا ہے کیوں ؟

January 15, 2013 0 1 min read
Dr Sarfraz Haider
Court
Court

کچھ سال پہلے ایک خبر نے سب کو چونکا دیا تھا کہ کراچی میں دو آدمیوں کو عین سڑک کے درمیان پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ سب پریشان تھے کہ یہ کیا ہوا ؟ کیوں ہوا ، کیسے ہوا ؟ تفتیش کرنے پر بتایا گیا کہ وہ دو آدمی ڈاکو تھے اور انہیں محلے والوں نے ڈکیتی کے دوران پکڑا اور اسے مارتے مارتے چوراہے پر لے آئے۔ تاکہ پولیس کے حوالے انہیں کیا جا سکے لیکن اتنے میں کچھ لوگ بولے کہ کیوں انہیں پولیس کہ حوالے کرتے ہو ، پولیس تو خود ان کے پیچھے ہوتی ہے چند روپے لے کر انہیں چھوڑ دے گی اور یہ ہمیں سے بدلہ لینے پھر آجائیں گے ، عدالتیں بھی انہیں سزا نہیں دیں گی کیونکہ ہوئی گواہ ہی نہیں ہو گا۔

اس لیے انہیں اسی جگہ پر نشان عبرت بنا دو بس پھر کیا تھا ایک دم ایک نوجوان گیا اور پٹرول موٹر سائیکل سے نکال کر لے آیا اور آنا فانا ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ان دو آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ میڈیا چیخا چلایا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کسی پر مقدمہ نہ بنا کیونکہ کہ ہزاروں لوگ اس عمل میں شریک تھے۔ اسی طرح کا دوسرا واقعہ پھر سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے ساتھ ہوا جو سب کو اچھی طرح یاد ہے۔ مقدمے کا کچھ نہیں ابھی تک بنا کچھ کے نزدیک وہ لڑکے بے قصور تھے اور کچھ کے نزدیک گناہگار تھے۔ لیکن اس بات سے قطع نظر فیصلہ سڑک پر کیا گیا جو میڈیا کئی دن تک چینلز پر دکھاتا رہا۔ ابھی ایک ماہ قبل بلوچستان میں یہی ہوا کہ پانچ غیرملکیوں کو پولیس اور دوسرے ادارئے کے لوگوں نے مل کر مارا کیا بنا اسکا ؟ کچھ نہیں۔

فیصلہ سڑک پر کیا گیا اور ابھی کچھ دن پہلے کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ایک نوجوان سرفراز شاہ کو مارا گیا ۔میڈیا نے خوب اس مرڈر کی فلم کو عوام تک پہنچایا ، مقدمہ بھی درج ہواسپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لے لیا لیکن ہو گا کیا وہی جو پہلے ہوتا آرہا ہے کہ مقدمہ ،کمیٹی اور بس لوگ اور میڈیا بھول جائے گا کیونکہ اتنے میں ان کے پاس باتیں کرنے کیلئے اس جیسا کوئی اور واقعہ آچکا ہو گا۔ آپ نے ان سب واقعات میں ایک چیز کو محسوس کیا ہوگا وہ یہ کہ تمام واقعات میں سڑک پر فیصلہ ہوتا نظر آیا ہے۔ ایسا کیوں ہو گیا ہے؟ کہ عوام رینجرز ، پولیس یہ سب فیصلہ سڑک پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اب مقدمے عدالت تک لے جانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ اس طرف بھی سوچنا چاہیے۔ ابھی موجودہ واقعے ہی کو لے لیں کہ رینجرز نے ایک نہتے شخص کو مار دیا ،تمام میڈیا رینجرز کے خلاف ہو گیا کہ رینجرز کیا کر رہی ہے۔

Rangers
Rangers

لیکن کبھی آپ نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ رینجرز کی یہ سوچ کیوں ہو گئی ہے ؟ جن پانچ افراد نے اس لڑکے کو مارا ہے وہ پاگل تونہیں ہیں ، ان کی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی اس لڑکے کے ساتھ؟ رینجرز کی کوئی چیز بھی اس نے نہیں چرائی تھی، پھر کیا وجہ بنی کہ رینجرز نے ایک نہتے آدمی کو مار دیا ؟ سوچئے ، غور کریں کسی ماہر نفسیات کو بلایئے اور اس سے پوچھئے کہ یہ کیا ہواعوام ، پولیس ، رینجرز کے دماغوں کو ہو کیا گیا ہے کہ وہ سب فیصلے سڑک پر اور اون دا سپاٹ کر رہے ہیں ، ایک رائے یہ ہے کہ پولیس اور رینجرز اپنی حدوں سے آگے نکل گئے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی روکنے والا نہیں اپنے ادارئے کے سربراہ ان کے پیچھے ہوتے ہیں جن کی آشیرباد سے یہ سب ہوتا ہے۔ اپنے سیاسی دشمنوں کو پولیس مقابلے میں مارنے کا رحجان تو بہت پرانا ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ یہ محض پولیس اور رینجرز کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے جس کے نتیجے میں ان انتہائی اہم اداروں پر سے قوم کا اعتماد اٹھ جائے اور وہ ان کے دشمن ہو جائیں جیسا کہ اس واقعے میں ہو رہاہے کہ رینجرز کو بدنام کیا جا رہا ہے ایک ادارئے کی میڈیا پر انتہائی بے رحمی سے تذلیل ہو رہی ہے ہر کوئی رینجرز کو برا بھلا کہے جا رہا ہے ، حالانکہ یہ پورے کراچی کا ایک واقعہ ہے جس میں یہ سب ہوا یہ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہی رینجرز کے ہونے کی وجہ سے ہی تمام کراچی سکون کی نیند سوتا ہے ورنہ وہاں پر تو وہ حالات ہو گئے تھے کہ رات کو تو کیا دن کو بھی باہر نکالنا ناممکن تھا۔

انہی رینجرز کے ہوتے ہوئے وہاں پر جرائم پر قابو پایا گیا۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایک آدمی کے عمل کی ذمہ داری صرف اسی آدمی کی ہے جس نے وہ عمل کیا ہے ناکہ پورے ادارئے کی۔ مثال کے طور پر آرمی کے چیفس ایوب خان ، یحیی خان ، ضیاءالحق اور مشرف نے جو ملک پر قبصہ کیا وہ ان کا ذاتی فعل تھا اور ان کے اس فعل میں ان کے کچھ دوست بھی شامل تھے نا کہ تمام آرمی۔ان چاروں نے جو ملک کو نقصان پہنچایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن ان کے ذاتی فعلوں کی بنا پر آپ تمام آرمی کو گالیاں دیں برا بھلا کہیں تو یہ سرا سر غلط ہے۔ کیونکہ اگر یہ آرمی نہ ہو تو آپ ایک دن بھی سکون سے نہ رہ سکیں بلکہ کسی نہ کسی دوسری قوم کے غلام بن جائیں۔ یہ جو ہم آزادی کے ساتھ اپنے ملک میں رہتے ہیں صرف آرمی ہی کی وجہ سے ممکن ہے۔ ذاتی فعل کیا ہوتا ہے جیسے ہمارے معزز ادارئے یعنی عدالت اعظمی ہے اس میں بھی تو کچھ لوگ ایسے تاریخ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی پاورز کو استعمال کیا۔

PPP
PPP

کسی وقت میں صرف پیپلز پارٹی کہتی تھی کہ مولوی مشتاق نے بھٹو کو عدالت کے ذریعے قتل کیا لیکن اب تو پورے ملک کے عوام اور تمام سیاستدان چاہے گورنمنٹ کے ہوں یا اپوزیشن کے وہ بھی مان گئے ہیں کہ بھٹو کاقتل عدالتی قتل تھا۔ تو کیا اس بنا پر عوام کو اعتماد عدالت اعظمی پر نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے ایک جج نے بھٹو کو عدالت کے ذریعے قتل کیا تھا؟نہیں ایسا نہیں ہے پیپلز پارٹی کے لوگوں نے آج تک یہ نہیں کہا کہ عدالتی ادارئے نے بھٹو کو قتل کیا ہے بلکہ یہی کہا کہ جنرل ضیاء نے مولوی مشتاق کے ذریعے بھٹو کو قتل کیا۔ اگر ایک ادارئے کی عزت ہی نہ کی جائے گی تو وہ ادارہ کیا کام کرئے گا۔ اس لیے ہمیں جن لوگوں نے بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے ان برا بھلا کہنا چاہیے ناکہ اداروں کی تذلیل کرنے لگیں۔

اب مارا سرفراز شاہ کو چار یا پانچ لوگوں نے ہے اور ہم تقاضا کر رہے کہ کہ آئی جی ، ڈی جی رینجرز استعفی دیں ، بھئی کیوں ؟ کیا آئی جی نے یا ڈی جی رینجرز نے اپنے سٹاف کو کہا ہے کہ وہ لوگوں کو سڑکوں پر ماریں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے وہ سربراہ ہیں اپنے اداروں کے وہ ایسا کیوں کریں گے جس کی بنا پر ان کے محکوں کی بدنامی ہو۔اس لیے آپ انہیں پکڑیں انہیں برا بھلا کہیں جنہیں نے یہ فعل کیا ہے ناکہ پورے ادارئے کو اب ہم ڈاکٹر ہونے کی بنا پر ایک اندازہ لگاتے ہیں جو صیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی کیونکہ ہم لوگوں میں رہتے ہیں ان کو سنتے ہیں تو ایک رائے یہ بھی ہے کہ پولیس ، رینجرز یا عوام کا اعتماد عدالتوں پر سے اٹھ گیا ہے کیونکہ مقدمے کے اتنے لمبے پراسس کو یہ اب ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ ہر ایک کو جلدی ہے انصاف کی ،جس کے پاس اختیارات ہیں وہ کہتا ہے کہ میں خود ہی جج بن کر یہاں پر انصاف کردوں،جیسا کہ پہلے دو واقعات میں ہوا کہ عوام نے خود سڑک پر ردعمل کیا اور دونوں جگہوں پر عوام کوملوث صرف ایک جملے نے کیا کہ یہ ڈاکو ہیں انہیں اگر پولیس کے حوالے کروگے تو یہ عدالتوں میں سے آسانی سے نکل جائیں گے۔

اس لیے انہیں عبرت کا نشان بنا دو بس پھر یہی ہوا جو ہونا تھا عوام نے آگ لگا دی یا ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ سوچیں کیوں ؟ اس لیے کہ عوام کا پولیس اور عدالتی نظام پر اعتماد ختم ہو گیا۔ کیا ابھی کسی گاؤں شہر میں ایسا واقعہ ہو تو کیا عوام اسے مارے گی یا پولیس کے حوالے کرے گی ،برا نالگے توبات کہوں کہ عوام مارے گی۔ کیونکہ عوام ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے اداروں پر سے اعتماد ختم ہوگیا ہے اب لوگ اپنے فیصلے اپنے ہاتھوں سے کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیسا ابھی کچھ دن پہلے سیشن جج کی موجودگی میں عدالت کے اندر دوبھائیوں کا مار دیا گیا کیوں؟ وہ ضمانت لینے آئے تھے دوسری پارٹی کو یہ منظور نہیں تھا کہ وہ ضمانت پر جائیں اس لیے فیصلہ گولی کے ذریعے کیا گیا ناکہ عدالت ذریعے کروایا گیا۔

ہمارے ایک جاننے والے مسعود صاحب ہیں۔ تین سال سے ان کا مقدمہ عدالت میں لگا ہوا ہے مقدمہ کیا ہے مکان کے قبضے کا ، مسعود کا یہ دعوی ہے کہ اس نے مکان کا بیعانہ دے دیا ہے اس لیے وہ مکان اس کا ہی ہے باقی رقم لے کر مالک وہ مکان میرے حوالے کردے۔ تین سال سے اس کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ مکان کے مالک نے مکان میں کچھ ایلٹریشن کروانی شروع کر دی تو مسعود وہاں چلا گیا کہ اس کی تو مقدمہ عدالت میں ہے آپ اس کو نہ چھیڑو۔ بس کیا تھا تو تو میں میں ہوئی بات ہاتھا پائی تک پہنچی اور نوبت یہاں تک آئی کہ انہوں نے مسعود کو اچھا خاصا مارا بس پھر کیا تھا مسعود نے پستول نکالی اور فائر کھول دیا ،اب یہاں قسمت کہیں یا خداکی کرنی کہ جن کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھے وہ بچ گئے اور دو نوجوانوں کو موقعہ پر گولی لگی ایک تو وہیں دم توڑ گیا دوسرا زخمی ہسپتال میں پڑا ہے۔ یہ کیوں ہوا ؟ جلد بازی کی بنا پر ؟ یا غصے پر قابو نہ پانے کی بنا پر ؟ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عدالتی نظام کی بنا پر۔ جہاں پر فیصلے ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اور لوگ اپنے فیصلے یوں سڑکوں پر کرنے لگے ہیں۔

Lawyers Strike
Lawyers Strike

میرا آنا جانا عدالتوں میں لگا رہتاہے آپ یقین کرو کہ عوام کچہریوں میں کھڑے کھڑے ذہنی مریض ہوگئی ہے ۔خود سوچیں کہ ایک آدمی صبح آٹھ بجے سے پہلے کچہری پہنچاتا ہے ناجانے کتنی مصیبتوں کے بعد اور اسے کہاجاتا ہے کہ جج صاحب چھٹی پہ ہیں ، وکیل صاحب نہیں آئے،آج وکلا کی ہٹرتال ہے،تو اس کے دل ودماغ پر کیا بیتتی ہو گی۔ آپ سوچ نہیں سکتے کہ اس وقت وہ شخص کیا ہول فول بکتا ہے ،ادارئے کے خلاف ، ادارئے میں کام کرنے والے لوگوں کے خلاف،کچھ لوگ تو نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ، ایک جملہ جو میں نے اکثر کچہری میں کھڑے لوگوں سے سنا ہے کہ عدالتوں سے بہتر ہے کہ اپنے فیصلے سڑکوں پر کر لیے جائیں۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟صرف عدالتوں کے اندر قائم مقدمات کو ان کے ٹائم فریم کے اندر ختم نہ کرنے کی وجہ سے خدارہ نظام کو ٹھیک کریں اور لوگوں جلد فیصلے سنائیں کہیں ایسا نا ہو کہ لوگ خود سڑکوں پر فیصلے کرنے کو ترجیح دینے لگیں۔

جس کی وجہ سے ملک میں اور زیادہ افراتفر یحی ہو اور حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں۔ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی طرح تمام ماتحت عدلیہ کہ جج صاحبان کو بھی چایئے کہ وہ مقدمے کا فیصلہ جلد سنائیں ،تاکہ فریق مطمئن ہو جائیں جتنی مقدمے میں دیر ہوتی ہے اتنا ہی دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہوتے جاتے ہیں اور دشمنی بڑھتی ہے۔ مدعی اور مدعلیہ دونوں پریشان کھڑے ہوتے ہیں ،ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے میں ذلیل ہو گیا ہوں اتنے سالوں سے مقدمے میں پھنسا ہوں،بس گالیوں سے ہاتھا پائی اور یا تو ایک قتل ،یازخمی ،دونوں پارٹیاں فوجداری مقدمے میں اندر ، عدالتوں پر ایک اور مقدمے کا بوجھ ، کیوں ؟ وہی دیر کرو گے تو بات بڑھے گی مقدمے بڑھیں گے ، ٹینشن بڑھے گی ، عوام نفسیاتی مریض بنے گی اور فیصلے سٹرکوں پر کرنے کو ترجیح دے گی۔

جیسا کہ ایک وزیر صاحب ٹی شومیں کہہ رہے تھے کہ رینجرز کیوں نے ماریں لوگوں کو ،رینجرز پولیس مجرموں کو پکڑ پکڑ کر عدالتوں کے حوالے کرتی ہے عدالتیں انہیں دوسرے دن چھوڑ دیتی ہیں اور وہ مجرم ہمارے منہ پر آکر ہمیں کو کہتے ہیں کہ کیا کر لیا تم نے ؟ بس اب کچھ رینجرز اور پولیس کے نوجوان بھی جذباتی ہو جاتے ہیں اور فیصلہ اون دا سپاٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی تھی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچاتا کہ وہ خود جج بن کرفیصلے کرتا پھرے کہ کون مجرم ہے اور کون ظالم ،یہ فیصلے عدالتوں نے ہی کرنے ہیں۔ اس لیے ہماری چیف جسٹس سے گذارش ہے کہ وہ اپنی طرح ماتحت عدلیہ کو بھی حکم کریں کہ وہ فیصلے جلد ازجلد دیں تاکہ عوام عدالتوں پر اعتبار کرئے ناکہ اپنے فیصلے خود کرنے کی کوشش کریں۔

تحریر : ڈاکٹر سرفراز حیدر برلاس

Dr Sarfraz Haider
Dr Sarfraz Haider
Share this:
Tags:
court investigators petrol police prosecution Rangers پٹرول پولیس تفتیش رینجرز عدالت مقدمہ
Students Rally
Previous Post ربیع الائول کی آمد کی خوشی میں انجمن طلباء کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی۔تصویری جھلکیاں
Next Post کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف وزیرآباد کی تنظیموں کا احتجاجی مظاہرہ
Wazirabad Protest

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close