Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 5, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ دہرا معیار ۔۔۔

February 4, 2012 0 1 min read
Tariq
Tariq
Tariq

پاکستانی عدلیہ کی داستان بھی انتہائی دلچسپ اور عجیب و غریب ہے کیونکہ اس کے دامن پر مہم جوئوں کو آئینی جواز عطا کرنے کے فیصلوں کے اتنے بڑے بڑے داغ ہیں جس نے اس ادارے کی توقیر اور عزت و وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سچ یہی ہے کہ عدلیہ پاکستان میں فوجی مہم جوئی کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ اسے سندِ جواز بھی عطا کرتی رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں مارشل لاء کا نفاذ کرنا اور اقتدار پر ناجائز قبضہ جمانا ایک معمول کی کاروائی بن کر رہ گئی ہے۔ فوجی جنتا کا جب جی چاہا اس نے ما رشل لاء لگا کر سیاست دانوں کی کھٹیا کھڑی کر دی۔جسٹس منیر کا وہ تاریخی فیصلہ جس نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے شب خون کی تو ثیق کر کے ا سے سندِ جواز عطا کی تھی پوری پاکستانی سیاست کو آلو دہ کر گیا اور شب خونوں کا ایک ایسا سلسلہ چل نکلا جس نے پاکستان میں جمہوریت کو کبھی بھی پنپنے نہیں دیا۔ شب خون نہ بھی ہو تو اس کا خوف سیاست دانوں کو چین سے سونے نہیں دیتا ۔ ایک انجانے خوف سے ان کا دل دھڑکتا رہتا ہے کیونکہ شب خونوں نے بڑی بھیانک روائتوں کو قائم کیا ہے لہذا سیاست دانوں کا خوف زدہ ہونا سمجھ میں آ سکتا ہے۔ سیاست دانوں کی باہمی لڑائیاں تو ہر جمہوری ملک میں ہوتی ہیں اور ہونی بھی چائیں کیونکہ اقتدار کے لئے لڑا ئی ایک فطری عمل ہے اور سیاست اپنے وسیع تر مفہوم میں جمہوری انداز میں اقتدار کے حصول کی جدو جہد ہو تی ہے ۔ ایسی لڑا ئیاں ہم بھارت جیسے ملک میں بھی اکثرو بیشتر دیکھتے رہتے ہیں لیکن نہ تو وہاں پر کو ئی شب خون مارتا ہے اور نہ ہی کسی سیاست دان کا عدالتی قتل کیا جاتا ہے بلکہ معاملات جمہوری انداز میں آگے بڑھتے رہتے ہیں جو آخرِ کار اتفاقِ رائے پر منتج ہو تے ہیں اور یوں وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنا سفر جاری و سار ی رکھتی ہے۔
١٩٧٣ کے آئین کے خا لق ذولفقا ر علی بھٹو کے ذہن میں ان شب خو نوں کی ایک خو فناک تاریخ بھی تھی اور فوجی جنتا کے اقتدار پر قبضہ کی بے لگام خوا شیں بھی تھیں جس کئے پیشِ نظر انھوں نے ١٩٧٣ کے آئین میں دفعہ چھ کا خصوصی اندراج کیا تا کہ اس دفعہ کی موجو دگی کے خوف سے فوجی جنتا شب خون کی مہم جوئی سے رک جائے اور جمہوری نظام اپنی جڑیں مضبوط کرسکے لیکن ایسا بوجوہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ فوجی جنتا کی اقتدار پر قبضے کی حدود فرا موش خواہشوں کے آگے بندھ باندھنا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔دلچسپ بات یہ ہے کی ذولفقا علی بھٹو کی اپنی حکومت نہ صرف جنرل ضیا الحق کے شب خون کا نشانہ بنی بلکہ جنرل ضیا الحق نے ذولفقا علی بھٹو کو سزائے موت دے کر اپنے راستے سے بھی ہٹا دیا اور یوں گیارہ سالوں تک بلا شرکتِ غیر ے پاکستان پر حکومت کرتا رہا اور اپنے مخالفین کو چن چن کر اذیتیں اور سزائیں دیتا رہا۔سپریم کورٹ نے جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کو جائز بھی ٹھہرایا اور ذولفقا ر علی بھٹو کی پھانسی کا کارنامہ بھی سر انجام دیا اور پھر جنرل ضیا الحق کے ساتھ مل کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔جیلیں ،کوڑے، پھانسیاں اور مارشل لائی سزائیں روز مرہ کا معمول تھیں اور پاکستانی عدلیہ نے جی بھر کر پی پی پی کے ساتھ اپنا حساب بے باک کیا ۔ فوجی جنتا تو بے رحم تھی لیکن عدلیہ نے جس سنگد لی کا مظاہرہ کیا وہ بھی کچھ کم نہیں تھا۔دنیا کی ساری برائیاں پی پی پی کے جیالوں میں تھیں اور دنیا کی ساری پارسائی جنرل ضیا الحق کے حا شیہ برداروں میں تھیں۔ پی پی پی کے جیالے برائی کی علامت تھے اور جنرل ضیا الحق کے حواری پارسائی اور  نیک نامی کا علم تھامے ہوئے تھے ۔ قابلِ نفرین تھے جیالے لہذا ایسے لوگوں کو سزا دینا بھی ضروری ہوتا ہے اور جیالوں کو جی بھر کر سزائیں دی گئیں تا کہ معاشرہ ان کے وجود سے پاک ہو جائے لیکن یہ جیالے نجا نے کس مٹی سے بنے ہو ئے تھے کہ سزائیں سہتے جا تے تھے اور اپنے قائد کے نام کے نعرے بلند کر کے اس سے اپنی وفائوں کی تاریخ بھی رقم کرتے جاتے تھے ۔پاکستانی تاریخ میں ایسی محبت نہ کسی نے دیکھی نہ کسی نے سنی ، یہ محبت اپنے رنگ میں بالکل یکتا ہے اور تاریخ کا ایسا درخشاں باب ہے جس پر پوری قوم ہمیشہ فخر کرتی رہیگی۔ جرات و بہادری کے کارنامے ہر دور میں ہر طبقے سے اپنا خراج وصول کرتے ہیں۔ ابتدا میں کسی خاص گروہ کی بہادری اور دلیری ا پنے مخصوص گروہ کے ساتھ منسلک رہتی ہے لیکن وقت کا پہیہ آنے والے زمانوں میں اسے پوری قوم اور پوری انسانیت کا اثاثہ بنا دیتا ہے۔ ذولفقا علی بھٹو اور جیا لوں کی مارشل لائوں کے خلاف عظیم جمہوری جدوجہد اب پوری پاکستانی قوم کا فخر بن چکی ہے۔ بھگت سنگھ کی بہا دری اور جی داری اب کسی خاص قوم، زبان، مذہب اور قبیلے تک محدود نہیں بلکہ وہ بر ِ ِ صغیر پا ک و ہند کی آزادی کا ایک ایسا ا ستعارہ ہے جس کا نام سارے فخر و ناز سے لیتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
١٩٧٣ کے آئین میں دفعہ چھ کا خصوصی اندراج عدلیہ سے اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ شب خون مارنے والے جرنیلوں کے شب خون کو غیر آئینی قرار دے کر انھیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نے کا حکم صادر فرمائے لیکن عدلیہ اپنی اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے ہمیشہ قاصر رہی ہے۔دفعہ چھ کی موجودگی میں فوجی مہم جوئی آئین شکنی ہے اور اس کی سزا موت ہے لیکن پاکستانی عدلیہ نے کبھی بھی فوجی جنتا پر  دفعہ چھ کا اطلاق نہیں کیا۔ جس فوجی جرنیل نے حکومت پر غیر آئینی قبضہ کیا عدلیہ نے اسی کے ہاتھو ں پر بیعت کر کے حلف بھی اٹھا لیا اور اس کے سا تھ محوِ سفر بھی ہو گئے۔ایسے پی سی او ججز کی فہرست بہت طویل ہے جو آئین کی حفاظت کرنے کی بجا ئے طالع آزمائوں کے ہمنوا بن گئے تھے اور انھیںآئینی شیلڈ عطا کی تھی لیکن پھر بھی پارسا ٹھہرے۔ افتخار محمد چوہدری اور خلیل رمدے اس کارواں کے وہ بڑے نام ہیں جھنوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر آئینِ پاکستان سے بغاوت کی تھی ۔سوال یہ ہے کہ جب عدلیہ آئین سے غداری کی مرتکب ہو جائے تو اس کا احتساب کیسے کیا جائے۔ مقافاتِ عمل کا قانون دنیا کی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے ہر ذی روح کی مڈھ بھیڑ ہو تی ہے۔ اپنے اپنے کرموں کا پھل اور اپنے اعمال کا حساب اسی مقا فاتِ عمل کا شاخسانہ ہے جس کی بدولت دنیامیں جوابدہی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو پھر اس کی سزا بھی ضروری ہے اور پاکستان میں تو عدلیہ نے کھلے عام آئین شکنی کا ارتکاب کیا ہے تو پھر عدلیہ کو کٹہرے میں کھڑا کون کرے گا؟عدلیہ کے معنی اگر یہ ہیں کہ قانون و انصاف اور آئین کو پسِ پشت ڈال کر من پسند فیصلے کئے جائیں تو پھر جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا ہے وہ سب جائز ٹھہرے گا لیکن اگر انصاف کے معنی جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے تو پھر اس بات کا تعین کر نا ضروری ہے کہ یہ کلمہ حق کیوں بلند نہ کیا گیا؟آئین سے انحراف اور اپنے فرض سے روگردانی کیوں کی گئی ؟ اس کا حساب ضروری ہے اور اس قانون کا اطلاق ہر ایک پر بلا امتیاز ہونا چائیے تاکہ کوئی اس قانون سے ماورا نہ ہو سکے۔ اندھیر نگری چوپٹ راجہ کے فلسفہ کو خیر باد کہہ کر اصول و ضوابط کو مشعلِ راہ بنانا ہو گا تا کہ معاشرہ سیدھی ڈگر پر چل سکے ۔ سیاستدانوں کو ہر وقت سرِ دار کھینچ دینا تو انصاف نہیں ہے ۔ وہ تو ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگتے رہتے ہیں لیکن عدلیہ کے کچھ ایسے منصف جنھوں نے جان بوجھ کر ائین سے انحراف کر کے طالع آزمائوں کا ساتھ دیا ان سے حساب کون لے گا۔
عجیب اتفاق ہے کہ آئین کی دفعہ چھ کی حفاطت نہ کرنے والے، اس سے آنکھیں بند کرنے والے اور اس سے در گزر کرنے والے منصف آج جمہوری حکومت کے خا تمے کیلئے آئین کی دفعہ ٢٤٨ کے خلاف صف آرا ہو گئے ہیں جسکی حفاظت کیلئے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی ڈٹے ہوئے ہیں۔آئین کی دفعہ چھ کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آئین کی اس دفعہ کو توڑنے والے غا صب اور غدار ہیں لیکن کیا ہم نے انھیں غاصب قرار دے کر سزا کا حقدار ٹھہرایا تھا ۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ایسا کرنے والوں کے پاس فوجی قوت اور بندوقیں تھیں لہذا انکا کچھ نہیں بگا ڑا جا سکتاتھا ۔ اگر فوجی قوت سے ہی ڈرنا ہے تو پھر انصاف کی مسند پر بیٹھنا کارِ چہ دارد ۔آئین کی دفعہ ٢٤٨ صدرِ پاکستان کو فوجداری مقدمات میں استثی عطا کرتی ہے اور اس استثنا کا عَلم وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اٹھا یا ہوا ہے لیکن  باعثِ حیرت ہے کہ عدلہہ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اس عَلم کو پھینک دینے کا حکم صادر فرما رہی ہے ۔آئین کی حفا ظت وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی آئینی ذمہ داری ہے اور نھیں اس ذمہ داری سے ہر حال میں عہدہ برائء ہو نا ہے۔سوال حکومت کی رخصتی یا جیل جانے کا نہیں ہے سوال آئین کی بالا دستی کا ہے اور اس بالادستی کو ہر حال میں بالا دست رکھنا ہو گا کیونکہ آئینِ پاکستان وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اسی بالا دستی کا تقاضہ کر رہا ہے۔ دفعہ چھ کو توڑا جائے تو آئینی اور اگر دفعہ ٢٤٨ کا پاس کیا جائے تو توہینِ عدالت۔ وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کاا ستدلال یہ ہے کہ آئین میں واضح درج ہے کہ صدر کو دفعہ ٢٤٨ کے تحت استثنی حاصل ہے اوروہ اسی دفعہ کی پیروی کر رہے ہیں لہذا توہینِ عدالت کا سوال کہاں اٹھتا ہے۔دفعہ چھ کو توڑنے والے آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے والے اور اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے والے آئینی حکمرن ٹھہرائے جا سکتے ہیں تو پھر دفعہ ٢٤٨ کا تحفظ کرنے والے توہینِ عدالت کے مجرم کیسے بن سکتے ہیں؟ لیکن یہ سب کچھ ان عدالتوں میں ہوتا ہے جھنیں ہم آزاد عدلیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
تحریر :  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

Share this:
Tags:
Army pakistan tariq پاکستان جمہوریت عدلیہ
eid milad
Previous Post عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Next Post ڈان ٹو برلن فلم فیسٹیول میں دھوم مچانے کو تیار
don 2

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close