Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری حصہ دوئم

September 5, 2015 0 1 min read
Masjid e Nabawi
Masjid e Nabawi
Masjid e Nabawi

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
بنائے مسجد نبوی اور سعادت ِابوایوب
خانہ ابو ایوب میں جلوہ افروز ہونے کے کچھ عرصہ بعد سرور ِکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں مسجد بنانے کا ارادہ فرمایا اور اس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو ایوب کے گھر کے سامنے اس قطعہ زمین کاانتخاب کیا جہاں آپ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی۔اس زمین میں کھجور کے درخت تھے جن سے انصار مربد( چھوہارے) بنانے کا کام لیتے تھے۔اس زمین کے مالک بنو نجّار کے دو یتیم بچے سہل اور سہیل تھے ۔ ہادیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو بلا کر فرمایا، ”میں یہ زمین قیمت دے کر لینا چاہتا ہوں تا کہ اس میں خا نہ خداکی تعمیر کر سکوں۔”انصار نے عرض کی ، ”یا رسول اللہ ! اس زمین کے مالکوں کو ہم قیمت ادا کر دیں گے اور اسے اپنی طرف سے آپ کے لیے ہبہ کرتے ہیں۔اس کا صلہ ہم اللہ سے لیں گے۔”

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے جذبہ ایثار کی تعریف فرمائی لیکن زمین کی قیمت دینے پہ اصرار کرتے مالکان ِزمین سہل وسہیل کوطلب فرمایا۔دونوں سعادت مند بچوں نے عرض کی ، ”یا رسول اللہ!ہم یہ زمین حق تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے آپ کی نذر کرتے ہیں۔”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،”اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے ،میں یہ زمین بلا قیمت نہیں لوں گا۔ ” ان بچوں کی والدہ کو معلوم ہوا تو اس نے بھی قیمت لینے سے انکار کیا۔آخر سرور ِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب الرائے کے مشورہ سے اس زمین کی قیمت دس مثقال(پونے چار تولے)سونا متعین فرمائی۔قیمت متعین ہو جانے کے بعد میزبان ِرسالت کی قسمت کا ستارہ ایک اور بلندی پر چمکا اور حضور نبی کریم کی اس عبادت گاہ اور ابدی مقام فردوس ِعلیٰ کی قیمت آپ نے ادا فرمائی۔

Khaja Abdullah Ansari
Khaja Abdullah Ansari

اس کے بعد زمین ہموار کر کے مسجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا۔اس کے معماروں اور مزدوروں میں انصار ومہاجرین اصحاب ِرسولۖ کے ساتھ حبیب ِکبریا بھی بنفس ِنفیس شامل تھے۔سرور ِکونین کی زبان ِاقدس سے دعا نکل رہی تھی، اَللّٰھُمَّ لاَ خَیْرَ اِلاّخَیْرُ الْاٰخِرَةْ، فَاغْفِرِ الْاَنْصَارِ وَالْمُھَاجِِِِرَةْ،الٰہی کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔صحابہ کرام شہ ِ دوسرا سے التجائیں کرتے کہ حضور ہم غلاموں کے ہوتے آپ زحمت نہ کریں لیکن آپ تبسم فرما کر برابر کام کیے جاتے تھے۔اس موقع پر ابو ایوب انصاری پرجوش انداز میں یہ اشعارپڑھتے؛ لَئِنْ قَعِدْنَا وَالرَّسُوْلُ یَعْمَلْ، لذٰلِکَ فَالْعَمَلِ الْمُضْلَلْ، اگر ہم بیٹھ جائیں اور رسول ِاکرم کام کرتے رہیں تو یہ سخت گمراہی کی حرکت ہو گی۔اسطرح چند ماہ میں دنیا کی یہ مقدس ترین مسجد تعمیر ہو گئی جس کی بنیادوں میں اس عظیم المرتبت صحابی ٔرسول ِاعظم ۖکے عشق ومودت کی مہک شامل ہے۔

ازواج و اولاد،کاروکسب
میزبان ِرسول نے حیات ِدنیا میں دو ازوا ج کو شرف ِزوجیت عطا کیا ۔آپ کی ایک زوجہ کا نام ام حسن بنت ِزید بن ثابت تھاجن سے ایک صاحبزادے عبدالرحمٰن متولد ہوئے جو جوانی ہی میں انتقال کر گئے۔دوسری زوجہ ام ایوب انصاریہ تھیں جو مشہور صحابیہ ہیں اور آپ سے کئی ا حا دیث ِمبارکہ مروی ہیں۔آپ حضور کے لیے کھانا تیار فرماتی تھیں۔آپ کے تین صاحبزادے ایوب،خالد اور محمد اور ایک صاحبزادی عمرة تھیں۔حضرت ابو ایوب کی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے بڑی کثرت اور ترقی عطا فرمائی۔دنیائے تصوف کے نامور بزرگ پیر ہرات، شیخ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری ،آپ ہی کی نسل سے ہیں۔

آپ کی اولاد سے دو بزرگ حضرت یوسف انصاری اور حضرت علائو الدین انصاری ہندوستان تشریف لائے۔ ہندوستان اور پاکستان کے انصاریوں کے مورث ِاعلیٰ یہی بزرگ ہیں۔آپ قبیلہ بنو نجار کے رئوسامیں سے تھے۔انصار بالعموم زراعت پیشہ تھے اور ان کی ریاست و امارت زمین اور باغات کی ملکیت سے مختص تھی۔آپ کے مکان سے متصل آپ کا ایک کھجوروں کا باغ تھا۔آپ اپنے خاندان میں آسودہ حال تھے۔اللہ رب العزت نے جہاں آپ کو دینی لحاظ سے عظیم مراتب عطا فرمائے وہیں دنیاوی لحاظ سے بھی اغنیا میں شامل کر دیا تھا۔
حکمراں بادشاہوں پہ سرکار نے
اپنے کوچے کاہراک گدا کر دیا

Tareekh e Madinah
Tareekh e Madinah

عشق ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت ابو ایوب انصاری اخلاق ِحسنہ کا پیکر تھے ۔آپ کی عظمت ِکردار کا سب سے نمایاں وصف عشق ِرسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا۔آپ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے انتہا عقیدت و مودت رکھتے تھے اور حضور آپ پر بے پناہ شفقت فرماتے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے گھر کو اپنا گھر قرار دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خورد و نوش کا اہتمام یہیں ہوتا تھا۔ ابو ایوب اپنے دست ِمبارک سے حضور کے لیے کھانا لایا کرتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان بھی آپ ہی کے ہاں سیراب ہوتے تھے ۔ابو ایوب اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے بکریاں ذبح کرتے اورمہمان نوازی کا اہتمام کرتے تھے۔ ہر کھانے سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابو ایوب انصاری کو حکم دیتے، ”ابو ایوب !پہلے میری لخت ِجگر فاطمہ کے لیے کھانا پہنچا آئیں۔”

ابو ایوب کی حد درجہ میزبانی پہ سرکار آبدیدہ ہو جاتے اور نمناک آنکھوں سے آپ کے لیے دعا فرمایا کرتے ۔حضرت ابو ایوب کے عشق ِرسالت کا یہ عالم تھا کہ کھانے میں جہاں سرور ِعالم کی انگشت ِمبارک کے نشانات ہوتے بہ خیال تبرک و اتباع ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی پر اپنی انگلیاں رکھ کر کھانا تناول کرتے۔سرور ِکونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت کی یہ کیفیت آپ میںتا دم آخر رہی۔وصال ِنبوی کے بعد عاشقان ِرسول روضہ اطہر دیکھ کر اپنے جذبات ِعشق ومحبت کو تسکین دے لیا کرتے تھے۔حضرت ابو ایوب بھی اکثر روضہ پاک پہ حاضر ہوا کرتے تھے۔مسند احمد ابن ِحنبل کے مطابق مروان بن حکم کی امارت ِمدینہ کے دنوں میں ایک دفعہ حضرت ابو ایوب انصاری روضہء اطہر پرحاضر ہوئے اورفرطِ محبت میں اپنا چہرہ ضریح ِاقدس سے مس کرنا اور رگڑنا شروع کیا ۔اتفاق سے گورنر مروان بھی وہاں موجود تھا ۔اس نے حضرت ابو ایوب سے مخاطب ہو کر کہا،”آپ کا یہ فعل خلاف ِسنت ہے۔”حضرت ابو ایوب نے جواب دیا ،’ ‘ مروان! میں کسی اینٹ اور پتھر کے ڈھیر کے پاس نہیں آیا بلکہ رسول اکرم ۖکی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوا ہوں۔”

Mujahideen e Islam
Mujahideen e Islam

عشق ِآل ِرسول
حضرت ابو ایوب انصاری خانوادئہ نبوت کے تمام افراد سے پرخلوص عقیدت و مودت رکھتے تھے۔وصال ِنبوی کے بعد آپ ان چندا صحاب ِکبار میں سے تھے جنہوں نے کھل کرمولائے کائنات کا ساتھ دیا تھا۔آپ حضور کے خلیفہ برحق کے پرجوش رفیق و جانثار رہے۔اسی عشق ِآل رسول اور مودت فی القربیٰ کے باعث آپ شیر خدا سیدنا علی المرتضٰی اور پیغمبر اکرم کے دیگر اعزا میں انتہائی قدر و منزلت اور عزت و احترام رکھتے تھے۔

عبد اللہ ابن ِعباس اور ابو ایوب انصاری
جس زمانہ میں سیدناحضرت علی کی طرف سے حِبْرُالْاُمَّةْ حضرت عبداللہ ابن ِعباسبصرة کے گورنر تھے ،حضرت ابو ایوب انصاری ان سے ملنے کے لیے بصرة تشریف لے گئے ۔حضرت عبداللہ ابن عباس کو آپ کی تشریف آوری سے کمال درجہ مسرت ہوئی ۔انہوں نے بصرة میں اپنا مکان ساز وسامان سمیت حضرت ابو ایوب کی نذر کر دیا اور کہا کہ جس طرح آپ نے رسول اکرم کی میزبانی کے لیے اپنا گھر خالی کر دیا تھا اسی طرح میری دلی مسرت بھی اسی میں ہے کہ آپ کی میزبانی کے لیے اپنا گھر خالی کر دوںاور اس کے اندر جو مال و اسباب ہے وہ آپ کی نذر کر دوں۔

Madinatun Nabi
Madinatun Nabi

نقیب ِبنو نجّار ، دعائے حفظ
تعمیر مسجد نبوی کے دوران سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نجار کو ایک اور لازوال شرف عطا فرماتے ہوئے فرمایا، ”تم لوگ میرے ماموں ہو ، اس لیے بنو نجار کا نقیب میں خود ہوں۔”یہ سن کر بنو نجار فرط مسرت سے بیخود ہو گئے اور اس سعادتِ عظمٰی کو ہمیشہ کے لیے اپنا سرمایہ افتخار بنا لیا۔خاندان ِابو ایوب انصاری کے نقیب خود سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گئے اور انہیں لازوال شرف ِدوام بخشا۔ہجرت کے بعدمنافقین ِمدینہ اور یہودیوں نے کفار و مشرکین ِمکہ کے ساتھ مل کر اسلام و فرزندان ِتوحید کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔ابو ایوب انصاری ہتھیار بند ہو کر سرکار ِدوعالم کا پہرہ دیتے تھے اور حضور آپ کے لیے دعا فرماتے؛ ”ابوایوب ! خدا تمہیںاپنے حفظ و امان میں رکھے کہ تم نے اس کے نبی کی نگہبانی کی۔”اسی دعائے ختمی مرتبت کا اثر تھا کہ حضرت ابو ایوب انصاری زندگی بھر مصائب و آلام سے محفوظ رہے اور وفات کے بعد بھی صدیوں تک نصاریٰ ان کی قبر کی حفاظت و نگرانی کرتے رہے، حتیٰ کہ آج تک حکومت ِترکی قسطنطنیہ آپ کے روزئہ اطہر کی نگران ہے۔

مواخات ِمدینہ
مواخات ِمدینہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری کو حضرت مُصعب بن عمیر کابھائی بنایا۔رشتۂ مواخا ت میں گہری حکمت و مصلحت ایک تو یہ کہ مہاجرین کے دل سے غریب الوطنی کا احساس جاتا رہے ،دوسرے یہ کہ مہاجرین جو ابتلا و مصائب کی بھٹی میں پڑ کر کندن بن چکے تھے اور جن کی تربیت و اصلاح سرور ِعالم نے خود فرمائی تھی،اپنے نومسلم انصار بھائیوں کی تربیت کر سکیں تا کہ وہ بھی ہادیٔ اکرم ۖ کے صحیح معنوں میں مزاج شناس بن جائیں ،چنانچہ مواخات فرماتے حضور ۖنے دونوں بھائیوں کے مزاج اور رجحان ِطبع کا خاص خیال رکھا۔

Msa'ab bin Umayr
Msa’ab bin Umayr

حضرت ابوایوب انصاری اپنے خاندان میں آسودہ حال اورانصار کے سابقون الاولون میں سے تھے ۔قبول ِاسلام کے بعد اپنے خاندان کے معلم بن گئے ۔ ہادیٔ اکرم کی میزبانی کی سعاد ت ِعظمٰی حاصل کی اور راہِ حق میں کسی موقع پر بھی اپنی جان و مال پیش کرنے سے روگرداںنہ ہوئے۔آپ کے مواخاتی حضرت مُصعب ،عمیربن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالداربن قصی بن کلاب بن مرةاورخُناث بنت ِمالک کے فرزند، قریش کے آرمیدہ و آسودہ خانوادے کے چشم وچراغ ،ناز و نعم میں پلے کہ آپ کا شمار مکہ کے رعنا و خو ش پوش جوانوں میں ہوتا تھا۔نفیس و قیمتی لباس پہنتے اور عمدہ خوشبو استعمال فرماتے تھے۔پائوں میں زری حضرمی جوتا ہوتا ۔آپ کی صورت و پوشاک ہی عمدہ نہیں تھی بلکہ سیرت و اخلاق بھی نہایت پاکیزہ تھے۔مہاجرین ِحبشہ میںسے تھے۔

ہجرت کے مصائب نے ان کی رعنائی و خوش پوشی کو خواب و خیال بنا کر رکھ دیا ۔بوسیدہ و موٹا لباس پہنتے جس میں کئی پیوند لگے ہوتے۔بدن کی نرم و نازک کھال موٹی اور کھردری ہو گئی ۔چہرہ اتر گیا ۔ رنگ برگ ِخزاں رسید ہ کی طرح پیلا پڑ گیا لیکن سینے میں قلب ِمومن دھڑک رہا تھا جس نے اپنے آقا و مولا کی خدمت اور زہد و فقر کی زندگی کو عیش و تنعم پر ترجیح دی۔ایک دن یہ برادر ِابوایوب دربارِ رسالت میں اس شان سے حاضر ہوئے کہ ان کے پاس ستر پوشی کے لیے صرف ایک بوسیدہ چادر تھی جو کئی جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور ایک جگہ اس پر کھال کا پیوند لگا ہوا تھا ۔سرور ِکونین ۖ نے آپ کو دیکھا تو آبدیدہ ہو کر فرمایا،”میں نے جب اس نوجوان کو دیکھا تھا تو اس وقت مکہ میں کوئی بھی اس سے زیادہ ناز و نعم کا پروردہ و خوشحال نہیں تھا لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت پر اس نے اپنے تمام عیش و آرام کو قربان کر دیاہے۔” مَارَأیْتَ بِمَکَّةْ اَحْسَنَ لُمَّةْْ وَلاَ اَنْعَمَ نِعْمَةَمِنْ مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر۔

ابو محمد حضرت مُصعب بن عمیر نے حضور کی صحبت ِاطہر سے فیض حاصل کیا اور جلد ہی عالم ِدین و فقیہ سمجھے جانے لگے۔ علم کے بحر زخّار، حلم و انکسار ی میں یکتا ،شیریں مقالی و بلند اخلاقی کے باعث عوام میں مقبول ہوکرمُصْعَبَ الْخَیْر کہلانے لگے ۔اہل ِمدینہ کی درخواست پہ اسلام کے پہلے داعی اور معلم بن کر مدینہ تشریف لے گئے۔نبوت کے تیرہویں سال تہتر مردوں اور دو عورتوں کے ہمراہ حج کے موقع پر مکہ آئے اور بیعت ِعقبہ ثانیہ سے مشرف ہوئے۔دو ہجری میں جنگ ِبدر کے تین سو تیرہ نفوس ِقدسیہ میں سے تھے اور مہاجرین کا علم تھامے جانبازی کا حق ادا کر دیا۔تین ہجری میں غزوئہ احد کے ثابت قدم مجاہدین میں سے تھے اور بلند آواز سے نعرہ بلند کیا، ”میں رسول اللہ کا علم سرنگوں نہیں ہونے دوں گا۔”

Yathreb
Yathreb

یہ کہہ کر ایک ہاتھ میں برہنہ شمشیراور دوسرے میں علم لیے کفار پہ ٹوٹ پڑے ۔ان حالات میںابن ِ قمیة نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا اور داہنا ہاتھ شہید کر ڈالا۔حضرت مصعب نے فوراََبائیں ہاتھ میں علم لے لیا ۔ ابن ِقمیة نے بایاں ہاتھ بھی شہید کر دیا ۔انہوں نے کٹے ہوئے بازئووں کا حلقہ بنا کر علم کو سینے سے چمٹا لیا اور تہیہ فرما رکھاتھا کہ جب تک سانس ہے علم سرنگوںنہیں ہونے دوں گا۔ابن ِ قمیة نے ان پر نیزے کا ایسا بھرپور وار کیا کہ اس کی انی ٹوٹ کر مصعب کے علم و عشق سے معمور مقدس سینے میں رہ گئی اور وہ خالق ِحقیق سے جا ملے۔(بعدازاںابنِقمیة کو جنگلی پہاڑی بکرے نے سینگ مار مار کر پہاڑسے نیچے گراکرسپردِسقرکردیا)۔گرتے وقت ان کے بھائی ابو الروم بن عمیر نے علم سنبھال لیا اور لڑائی ختم ہونے تک اسلام کاپرچم تھامے حق ِشجاعت ادا کرتے رہے اورجنگ کے بعد اس علم کو سرنگوں کیے بغیر مدینہ لائے۔

شہدا کی تجہیز و تکفین کے وقت اصحاب ِکبار نے دیکھا کہ مکہ کے جوان ِرعنا ،برادر ِابو ایوب ،مُصعب بن عمیر چہرہ کے بل گرے ،خاک و خون میں غلطاں ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا جسد ِاطہردیکھ کر سورة مبارکہ احزاب کی آیت ِمبارکہ تلاوت فرمائی؛ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالصَدَقُوْا مَا عَاھَدُواْ اللّٰہَ عَلَیْہِصلے فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضیٰ نَحْبَہُ، وَ مِنْھُمْ مَنْ یَنْتَظِرُصلے وَمَابَدَّلُواْ تَبْدِیْلاً لاة ٢٣ مومنین میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا اسے سچ کر دکھایا ۔بعض ان میں اپنی مدت پوری کر چکے اور بعض ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا۔

پھر فرمایا ؛”میں نے مکہ میںتمہارے جیسا حسین و خوش لباس اور کوئی نہ دیکھا تھا لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے۔بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ تم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں میں ہو گے۔” پھر ان کی تکفین کاحکم دیا لیکن امبر اسقدرمختصرتھا کہ سر ڈھانپا جاتا تو پائوں کھل جاتے اور پائوں مستور کیے جاتے تو سر برہنہ ہو جاتا۔بالآخر سرکار ِدوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سر چادر سے ڈھانپ دواور پائوں کو گھاس سے چھپا کرشہید ِحق کو سپرد ِخدا کر دو۔صحابہ نے حکم کی تعمیل کی اور پیکر ِصدق و صفا ،برادر ِابو ایوب انصاری حق وصداقت کاعلم لیے تاریخ ِعالم کاسنہرا باب بن گئے۔

Dr Syed Ali Abbas Shah
Dr Syed Ali Abbas Shah

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
ریکٹر والعصر اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ

Share this:
Tags:
mosque tree انصاری درخت ڈاکٹر سید علی عباس شاہ مسجد
September 6th: Defense Day of Pakistan
Previous Post September 6th: Defense Day of Pakistan
Next Post چھ ستمبر تلک عشرة کاملہ 10 نشان حیدر 5 معرکے ، 1948 1958، 1965، 1971، 1999
Nishan -e- Haider

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close