Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ابو ظہبی افغان امن مذاکرات مفید قرار

December 22, 2018 1 1 min read
Zalmay Khalilzad
Zalmay Khalilzad
Zalmay Khalilzad

تحریر : قادر خان یوسف زئی

افغانستان میں قیام امن کے لئے ابو ظہبی کا اہم مذاکراتی دور مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ”افغانستان کے لیے میری سوچ یہ ہے کہ افغانستان وہ ملک ہوگا جہاں امن ہو، ایسا افغانستان جو کامیاب ہو، وہ افغانستان جو اپنے لیے خطرے کا باعث نہ بنے، یعنی افغانوں کے درمیان امن برقرار ہو، اور ایک ایسا افغانستان جو بین الاقوامی برادری کے لیے خطرے کا باعث نہ بنے، چونکہ میں افغانستان کی نمائندگی کرتا ہوں، اس لیے خاص طور پر یہ کہ وہ امریکہ کے خطرہ نہ بنے”۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے زلمے خلیل زاد جب سے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی نامزد ہوئے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے متحرک نظر آتے ہیں۔

یہاں تک کہ افغان طالبان جو ہمیشہ امریکا پر عدم اعتماد کرتا ہے ، لیکن زلمے خلیل زاد کی نامزدگی پر کہا تھا کہ ”بلاشبہ اب وہ وقت ہے، جس طرح روس نے افغانستان میں شکست اور ناکامی کے بعد ایک ریٹائرڈ افسر’وارنسوف’کو بھیج کر یہ ٹاسک دیا کہ وہ افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے لیے محفوظ راستوں کا تعین کریں۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ خلیل زاد کی ذمہ داری بھی ورانسوف کے جیسی ہے۔ ان کی آمد کا مقصد امریکا کی محفوظ واپسی ہے”۔زلمے خلیل زاد افغانستان کے شہر مزار شریف میں 22مارچ 1951کو پیدا ہوئے ۔ ایک تاجر، ماہر بین الاقوامی امور اور سفارتکار ہیں۔ جارج بُش کابینہ میں امریکا کے جانب سے سفیر برائے اقوام متحدہ مقرر رہے۔ اس کے علاوہ امریکی سفیر برائے افغانستان اور پھر امریکی سفیر برائے عراق بھی مقرر ہوئے۔ زلمے خلیل زاد امریکی وائٹ ہاؤس، سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور پینٹاگون میں امریکی پالسی تشکیل دینے والے کمیٹیوں کے رکن بھی رہے ہیں۔تاہم زلمے خلیل زاد نے جب دوحہ قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر میں ملاقات کا دوسرا دور کیا تو افغان طالبان نے زلمے خلیل زاد کو سنجیدہ کوشش کرنے اور افغانستان کے زمینی حقائق کو سمجھنے والا قرار دیتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ۔پاکستان بھی زلمے خلیل زاد کے کردار سے مطمئن اورقیام امن کے لئے مثبت سوچ رکھنے والی شخصیت سمجھتے ہیں۔

ماسکو کانفرنس کے انعقاد پر بھی افغان طالبان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کانفرنسوں کے انعقاد کو تنازعہ کے حل کی جانب مثبت قدم سمجھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ کیونکہ جنگ کا مسئلہ ہمیشہ افہام وتفہیم اور سیاسی تعامل کے ذریعے حل ہوتی ہے۔ یہ کہ امریکی حکومت نے بھی اس کانفرنس کو اپنا نمائندہ بھیجا تھا، تو یہ بہترین اقدام ہے۔ امید ہے کہ مخالف پہلو مستقبل میں اس سے اعلی سطح اور مؤثرناک طور پر اس افہام وتفہیم کے منصوبے میں شرکت کریں اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچ جائینگے،تاکہ اپنی قابض افواج کی خروج سے اس جنگ کو ختم کردے ۔”صدر ٹرمپ نے جب پاکستانی وزیر اعظم کو خط میں افغان طالبان سے مذاکرات کرانے کے لئے تعاون کی درخواست کی تو مراسلے میں زلمے خلیل زاد سے تعاون کا بھی ذکر کیا گیا۔

مراسلہ موصول ہونے کے بعد امریکی خصوصی ایلچی پاکستان آئے اور پاکستان نے خصوصی طور پر ان سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ” امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ پاکستان افغان امن کے حوالے سے مدد مانگنے کیلئے ہی تھا”۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ ” امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان زلمے خلیل زاد خطے کے دورے کے دوران پاکستان، افغانستان، روس، ازبکستان، ترکمانستان، بیلجیم، متحدہ عرب امارات اور قطر جائیں گے، جہاں وہ مختلف سفارتی وفود اور حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ زلمے خلیل اس بات کی بھی کوشش کریں گے کہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کا تصفیہ تلاش کیا جائے”۔جبکہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ” وہ امریکی حکومت کی جامع ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں، ان کی ٹیم میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون، وائٹ ہائوس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے ارکان بھی شامل ہیں”۔

زلمے خلیل زاد کا زیادہ انحصار پاکستان پر ہے اس لئے تسلسل کے ساتھ حکومت سے بھی رابطے میں ہیں۔ ابو ظہبی کانفرنس کے بعد دوبارہ امریکی خصوصی ایلچی کا دورہ پاکستان اس بات کا اظہار تھا کہ زلمے خلیل زاد سنجیدگی کے ساتھ قیام امن کے لئے کام کررہے ہیں۔ کابل انتظامیہ بار بار اس نکتے کو اٹھاتی ہے کہ جو بھی مذاکرات ہوں اُن کی سربراہی میں کئے جائیں ، لیکن افغان طالبان اس پر متعدد بار واضح موقف دے چکے ہیں کہ کابل انتظامیہ کے پاس اختیارات نہیں، اس لئے امریکا سے ہی براہ راست مذاکرات کئے جائیں گے۔اقوام متحدہ کے لیے سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا ماننا رہا ہے ” کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی کمی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے دونوں جانب سے حالیہ گرمجوشی کے بارے میں کہا کہ ”میرا نہیں خیال کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں، حالیہ گرمجوشی یہ دیکھنے کے لیے ہے کیا وہ ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں اور دورے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں ایک سلوگن دیکھا جا رہا ہے کہ لٹس کلین اپ (Let’s Clean Up)”میرے خیال سے یہ ایک اچھا سلوگن ہے۔”
دنیا کی نظری ابوظہبی میں ہونے اہم ترین مذاکراتی دور پر ٹکی ہوئی تھی کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان سے جب سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے ، مذاکرات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے ۔ دوحہ قطر میں طویل مذاکرات اور امریکی اعلیٰ عہدے داروں کی دوحہ قطر سیاسی دفتر میں آمد کے بعد توقعات یہی ظاہر کی جا رہی ہیں کہ 2019کا سال افغانستان کے لئے اچھی خبر لا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکا کا کردار اہم ہے کیونکہ ماضی میں جب بھی مذاکرات کا عمل کسی متفقہ ایجنڈے کی جانب گامزن ہوتا تو ایسے واقعات رونما کردیئے جاتے جس سے تمام کوششیں رائیگاں چلی جاتی ۔ اس وقت امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اہم ترین دور چل رہا ہے۔

زلمے خلیل زاد مسلسل پاکستان اور کابل انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں بے یقینی کا اظہار کیا ہے کہ ” مذاکرات شاید کامیاب ہوں یا ناں ہو ں ”۔ کابل انتظامیہ کا کردار ابھی واضح نہیں ہے ۔ کابل سہملکی کانفرنس میں جب پاکستان کے وزیر خارجہ نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا تو ایک مرتبہ پھر کابل انتظامیہ نے پاکستان پر الزامات عاید کرنا شروع کردیئے ۔ جس سے مثبت فضا متاثر ہوئی ۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کے لیے ہفتے کو ایک روزہ دورے پر افغانستان پہنچے تھے۔ چینی وزیر خارجہ کے ہمراہ علاقائی سطح پر قیام امن کی خاطر اپنی نوعیت کی یہ دوسری کانفرنس تھی۔افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا اپنے پاکستانی ہم منصب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ امن کے حصول کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم امن کے لیے پاکستان سے نتیجے پر مبنی اقدامات اور مصالحتی عمل کے لیے اس کی مخلص حمایت چاہتے ہیں۔”اس کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے علاقائی کشیدگی کا ذمے دار کابل حکومت کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا، ”اگر افغانستان امن چاہتا ہے تو اسے پاکستان پر انگلیاں اٹھانا بند کرنا ہو گا۔”

ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں کابل انتظامیہ کا کسی فرد کو شامل نہیں کیا گیا ۔ اس کا واضح مقصد افغان طالبان کے اس مطالبے کو ماننا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ کابل انتظامیہ اور ان کی سرپرستی میں مسلح جنگجوئوں کی وجہ سے افغانستان میں بھارت شر انگیز انگیز کاروائیاں کررہا ہے۔ متعدد ایسے واقعات کابل میں رونما ہوئے جس کی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ۔ حالاںکہ داعش خراساں شاخ ہو یا امارات اسلامیہ کی جانب سے کئے جانے والے چھوٹے سے لیکر بڑے حملے تک ، کاروائی کی ذمے داری قبول کی جاتی ہے۔ بھارت اور کابل انتظامیہ میں شامل جنگجو ملیشیاء اور امن دشمن عناصر کی روز اول سے کوشش ہے کہ پاکستان کے کردار کو محدود و تنہا کرتے ہوئے تمام ناکامی کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالا جائے ۔ تاہم پاکستان نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال ہونے پر عالمی برداری کو کئی مواقع پر آگاہ کیا۔

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعا ت میں افغان سرزمین میں موجود دہشت گردوں کی نشان دہی کی اور شواہد فراہم کئے۔ جب کہ کابل انتظامیہ محض بے بنیاد الزامات ہی عاید کرتی رہی ہے۔ بھارت کی ایما پر کابل انتظامیہ کے کردار سے پاکستان کو جتنے تحفظات ہیں اس سے زیادہ افغان طالبا ن کو ہیں ۔ افغان طالبان بھارت کو متنبہ کرچکے ہیںکہ وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ مل کر عام شہریوں پر بمباریاں بند کرے اور افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔کابل انتظامیہ کے رویئے سے امریکا مطمئن نہیں ہے اور کئی مواقع پر کابل انتظامیہ کی تضحیک وسرزنش کرچکا ہے ۔ جس پرکابل پارلیمنٹ کے کئی اراکین نے سخت احتجاج بھی کیا کہ” امریکا کیا ہمیں غلام سمجھتا ہے کہ اس کا ہر فیصلہ ہم پر تھوپ دیا جائے گا اور ہم تسلیم کریں گے”۔ کابل انتظامیہ میں امریکی مداخلت سے خود کابل حکومت کی انتظامیہ بھی نالاں نظر آتے ہیں۔

افغان طالبان نے ابوظہبی مذاکرات کے بعد اپنے ایک اعلامیہ میں امارات اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لئے انتظامیہ اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کو افغانستان سے باہر نکالنے کے لئے ان کا ساتھ دیں ۔ افغانستان کی سرز مین پر بیرونی جارحیت کو 17 برس نہیں بلکہ 27دسمبر1978 سے غیور قوم پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ 39برس کی ایک ایسی طویل جنگ جو عالمی قوتوں کے مفادات کے خاطر افغان عوام پر مسلط کی گئی ۔ سوویت یونین سے امریکا تک صرف اپنے مخصوص مفادات کے لئے خطے کے اہم ترین ملک میں لاکھوں انسانوں کو ہلاک اور پورے مملکت کا انفرااسٹرکچر تباہ کرچکے ہیں۔ محبت، وفا اور بہادر عوام کی سرزمین پر اتنا بارود گرایا گیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ آج امن کے نام پر جنگ مسلط کرنے والا امریکا اپنی مملکت کی طویل ترین جنگ سے باہر نکلنے کے لئے ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہے جس میں اپنے ناکامی کو کامیابی ثابت کرسکے ۔ امریکا نے اپنی فروعی مقاصد کے لئے جہاں افغانستان کو برباد کیا تو دوسری جانب اس کے شر سے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔خاص طور پر پاکستان نے سوویت یونین کی جنگ میں امریکا کا ساتھ دے کر پرائی جنگ کے شعلوں سے اپنے گھر میں آگ لگائی ۔ آج پاکستان اُس آگ کو بجھانے میں مصروف ہے جس کی آبیاری ماضی میں غلط پالیسیوں کے تحت کی گئی تھی۔

پاکستان اس بات کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دوہرائے گا ۔ اس عزم پر جہاں موجودہ حکومت قائم ہے تو اصل روح رواں عسکری قیادت نے پرائی جنگ کا ایندھن بننے سے انکار کرکے امریکا کی کئی خواہشات پر پانی پھیر دیا ہے۔ آج اس جنگ کے نتیجے میںقبائلی علاقوں کے دس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں ۔ 80ہزار کے قریب قیمتی جانوں کا نقصان ہوا تو 120ارب ڈالر کے مالی نقصان بھی پاکستان کے ناتواں کندھے پر آیا ۔ پاکستان کے پالیسی ساز وں کا بنیادی مقصد یہی رہا ہے کہ عالمی قوتوں کو اپنی ملکی سرحد سے دور رکھا جائے تاکہ کسی ممکنہ عالمی جنگ سے پاکستان متاثر نہ ہو ، لیکن سویت یونین جیسی عالمی طاقت کو روکنے کے لئے امریکا نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان کی یہ پالیسی کامیاب نہ ہوسکی کہ عالمی قوتوں کو پاکستان کے پڑوسی ملک میں داخلے سے روکا جا سکے ۔ سوویت یونین کے بعد امریکا مسلط ہوگیا اور اب امریکا کو افغانستا ن میں جہنم کا سامنا ہے ۔ نئی معاشی طاقت بننے والی مملکت اب چین متحرک کردار ادا کررہا ہے تو دوسری جانب ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ دینے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ، امریکی ایما پر افغان طالبان پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ امریکا کے جنگ بندی و عبوری حکومت کے فارمولے کو تسلیم کرلے۔لیکن افغان طالبان کا جو موقف 1978میں سوویت یونین کے خلاف تھا وہی موقف2018میں امریکا کے لئے بھی ہے کہ افغانستان سے نکل جائیں ۔

پاکستان مزید کسی عالمی پراکسی وار کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے اپنے جتنا اثر رسوخ استعمال کرسکتا ہے اپنے رسوخ کے مطابق کررہا ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشاں ہے ۔ گو کہبھارت نے افغانستان میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔ پاکستان کو داخلی و شدت پسندی اور سیاسی مسائل میں الجھا کر بھارت نے افغانستان میں اپنے رسوخ کو بڑھایا ۔ امریکا کی ایما پر سرمایہ کاری کی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے افغان عوام کے دلوں میں پاکستان کے خلاف تعصب پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان چار دہائیوں سے افغان عوام کی میزبانی کرنے والا دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جس نے افغان شہریوں کو پاکستانی شہریوں کی طرح پوری مملکت میں آزادی سے نقل و حرکت کرنے کی آزادی دی ، تجارت کے لئے بھرپور مواقع دیئے ۔ لاکھوں آبادی کا بوجھ برداشت کیا ۔ امن او امان کی بحالی کے لئے سختیاں جھیلیں ۔ لیکن پاکستان کی سیاسی صورتحال اور بے امنی نے خارجہ محاذ پر توجہ ہونے کے سبب بھارت کو موقع ملا اور ہند و انتہا پسند بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنے مذموم سازشوں کے ذریعے جال بُنا۔پاکستان اب اس جال کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے ۔ اگر اس بار قیام امن کی راہ میں پاکستان اور افغانستان میں شر پسند رکائوٹ بنے تو افغانستان ایک بار پھر امن کے راستے سے کافی دور چلا جائے گا۔

افغان طالبان نے سنجیدگی کے ساتھ قیام امن کے قابل قبول معاہدے کے لئے اصولی موقف اپنایا ہے۔ امریکا کا افغانستان میں جارحیت کا مقصد اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پورا ہوچکا تھا ، اصولی طور پر امریکا کو کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ افغانستان کی اُس عوام پر حملہ آور ہوتا جو سوویت یونین کی جارحیت کے بعد سنبھلنے کی کوشش کررہی تھی لاقانونیت اورافغانستان میں عبوری حکومت کی ناکامی کے بعد خانہ جنگیوں کو ختم کرنے کے لئے افغان طالبان نے مملکت کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے اپنی روایات کے مطابق حکمت عملی اختیار کی ۔ کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کو اپنے داخلی معاملات میں اثر انداز ہونے کی اجازت دے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن جن حکومتوں نے عالمی طاقتوں پر انحصار کیا تو اس کا حشر تباہی کے علاوہ کچھ اور نہیں نکلا ۔ امریکا شام سے مکمل انخلا کررہا ہے ، افغانستان سے بھی مکمل انخلا خطے کے مفاد میں ہے۔تاہم امریکا اور افغان طالبان کے درمیان کسی مفاہمتی فارمولے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ابھی بھی کئی صبر طلب مراحل باقی ہیں۔

ابو ظہبی کانفرنس کو لیکر مغربی میڈیانے خود ساختہ ایسی خبریں بھی جاری کیں کہ جیسے افغان طالبان عبوری حکومت کی تشکیل ، جنگ بندی پر رضا مند ہوچکا ہے اورامریکا کا افغانستان سے انخلا ٹرمپ کی خواہشات کے مطابق ہوگا ۔ لیکن افغان طالبان نے مغربی میڈیا اور کابل انتظامیہ کے زیر اثر ذرائع ابلاغ میں جاری ان خبروں کو خود ساختہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید اور مذمت کی ہے۔ افغان طالبان نے واضح طور پر کہا ہے کہ ابو ظہبی مذاکرات کے بعد نتائج کا حتمی وقت کئی ہفتوں اور کئی مہینوں پر محیط ہوسکتا ہے ۔ قبل ازوقت بے بنیاد خبرو ں سے بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ابو ظہبی مذاکرات اختتام پذیر ہوچکے ہیں ۔ دونوں فریقین زیر بحث ایجنڈے پر دوبارہ مذاکرات کا اعلان افغان صدراتی انتخابات سے قبل کرنے کی امید ہے ۔امریکا 2019 میں صدارتی انتخابات میں اپنے من پسند امیدوار کی حمایت، جنگ بندی کے لئے ابتدائی معاہدہ کرنا چاہتا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنا امیدوار نامزد کردیں۔ لیکن افغان طالبان انتخابی عمل کو مسترد کرتی ہے اور جنگ بندی کا معاہدہ اس وقت تک کرنے کو تیار نہیں ہے جب تک غیر ملکی افواج افغانستان چھوڑ نہیں دیتی۔تاہم امریکی صدر کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد 2019 میں افغانستان مسئلے کے حل کے لئے کافی پر امید ہیں۔ 20 دسمبر تک انہوں نے اہم ممالک کے دورے بھی کئے اور دوبئی میں گزشتہ دنوں اہم کانفرنس بھی ہو چکی ہے۔ اس وقت روس، ترکی، جرمنی، چین اور وسط ایشائی ممالک افغانستان میں قیام امن کے لئے سرگرم ہیں۔

پاکستان، افغان طالبان کے ساتھ امریکا کی براہ راست مذاکرات کے لئے سہولت کاری میں تعاون کی درخواست پر اہم کردار ادا کررہا ہے۔ لیکن امریکا کا غیر لچک دار رویہ تمام عمل کو ناکام بنا سکتا ہے۔ افغان طالبان کی عسکری قوت و طاقت مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔ داعش کی وجہ سے ایران اور روس سمیت کئی اہم ممالک کا افغان طالبان کے ساتھ مکمل تعاون حاصل ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جاچکی ہے کہ مفاد عامہ کے کسی منصوبے کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ افغان طالبان، افغانستان کی تقسیم کا فارمولا بھی رد کرچکے ہیں۔27 دسمبر 1979 کو سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ 9 سال 51 دن تک سوویت یونین کو ایسے مزاحمت کاروں کا سامنا ہوا، جنہوں نے 15 فروری 1989 کو سپر طاقت سمجھنے والی قوت کو شکست و ریخت سے دوچار کیا۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے سوویت اتحاد کی افغانستان پر دھاوا بولنے کی مخالفت کی۔ خاص کر تمام اسلامی ممالک نے اس کی سخت مخالفت کی اور 34 اسلامی ممالک نے باقاعدہ قرارداد میں مطالبہ بھی کیا تھا کہ سوویت اتحاد جلد از جلد افغانستان سے افواج واپس نکالے۔بیشتر اسلامی ممالک نے افغان مجاہدین کی امداد کی۔لیکن اب اسلامی ممالک امریکا کو انخلا کے لئے دبائو دالنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک کو ایک بار پھر افغانستان میں امریکا فوجیوں کی واپسی کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہوگا ْ۔بالخصوص افغان عام شہریوں پر امریکی بمباریوں سے ان گنت ہلاکتوں کو روکنا انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی اہم فرائض میں شامل ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
abu dhabi afghanistan forces Peace talks useful ابو ظہبی افغانستان افواج امن مذاکرات مفید
Noor Jehan
Previous Post گائے گی دنیا گیت میرے
Next Post چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات
Shah Mehmood Qureshi – Ali Raza Syed Meeting

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close