Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

احتساب اور ریاست مدینہ (گزشتہ سے پیوستہ)

September 2, 2018 0 1 min read
Accountability
Accountability
Accountability

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں سادگی، احتساب اور ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا اعلان فرمایا تھا۔ سادگی کی ہلکی سی جھلک تو ہم اپنے پچھلے کالم میں نذرِقارئین کر چکے، اب کچھ ذکرریاستِ مدینہ اوراحتساب کا۔ خلفائے راشدین نے تیس سال تک حضورِاکرمۖ کے اقوال، افعال اور اعمال کے عین مطابق اسلامی ریاست کی سربراہی کا فریضہ سرانجام دیا۔ اِسی کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں اور یہی ریاستِ مدینہ تھی جس کے تصور کو وزیرِاعظم عمران خاں عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ریاستِ مدینہ تشکیل دے کر کپتان ”امیرالمومنین” بننے کے خواب دیکھ رہے ہوں تاکہ ووٹوں کی بھیک سے نجات ملے اور درگاہوں پر سجدہ ریزی کی ضرورت باقی بچے نہ تعویذگنڈوں کی۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اُن کے امیرالمومنین بننے پر بھلا کس کافر کو اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اُنہوں نے اپنے گرد جو ”ہجومِ مومنین” اکٹھا کر رکھا ہے، کیا وہ ریاستِ مدینہ کی تشکیل میں کپتان کے دست وبازو بنیں گے؟ ۔ کیاجہانگیر ترین، علیم خاں، شاہ محمودقریشی، فواد چودھری، بابراعوان، فروغ نسیم اور عثمان بزدار جیسے ڈال ڈال پھدکنے والے لوگ ریاستِ مدینہ تشکیل دیںگے یا پھر فیاض چوہان جیسے وزیر جس کی بدزبانی و بدکلامی اظہرمِن الشمس؟۔ کیا وہ لوگ ریاستِ مدینہ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیں گے جن کی ساری سیاست اُن کی ذاتی منفعت کے گرد گھومتی رہتی ہے؟۔

بھان متی کا یہ کنبہ قوم کا آزمودہ اور عوام اِن سے آزردہ، اِن سے خیر کی توقع عبث۔ خود کپتان صاحب کا یہ عالم کہ اُن کے یوٹرن مشہور، نرگسیت معروف اور غیرپارلیمانی الفاظ مرغوب۔ وزیراطلاعات فوادچودھری نے کہا کہ وزیرِاعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک سفر کے لیے یا تو پچاس گاڑیوں کا پروٹوکول ہوتا اور سڑکیں بند کی جاتیں یا پھر ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جاتا کیونکہ وزیرِاعظم کی جان بہت قیمتی ہے۔ کپتان نے بھی کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ بجا ارشاد مگر ریاستِ مدینہ کے چار خلفائے راشدین میں سے تین شہید ہوئے پھر بھی نہ کوئی پروٹوکول اور نہ حفاظتی حصار۔ ایک دفعہ قیصرِ روم کا ایلچی امیرالمومنین حضرت عمر سے ملاقات کے لیے آیا۔ مدینہ پہنچ کر اُس نے ایک صحابی سے سوال کیا ”آپ کے شہنشاہ کا دربار کہاں ہے؟”۔ صحابی نے جواب دیا ”ہمارے ہاں کوئی شہنشاہ ہوتا ہے نہ اُس کا دربار۔ ہمارے ایک خلیفہ ہیںجو پتہ نہیں اِس وقت کہاں ہوں گے”۔ پھر ایک صحابی اُس ایلچی کو مسجدِنبویۖ تک لے گئے جہاں حضرت عمر مسجد کی صفائی کے بعد تھک کر وہیں چٹائی پر سو رہے تھے۔ ایلچی کے مُنہ سے بے ساختہ نکلا ”اصل شہنشاہ تو یہ ہیں”۔ لیکن ہمارے حکمران تو موت کے خوف سے اپنے چاروں طرف کئی حفاظتی حصار قائم کرتے ہیں اور بات کرتے ہیں ریاستِ مدینہ کی۔ لاریب موت تو برحق جوسات پردوں میں بھی آجاتی ہے۔ اگر موت کا اتنا ہی خوف ہے تو پھر وزارتِ عظمیٰ کا لالچ کیوں جہاں بقول فواد چودھری ہر وقت موت کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔

ایک دفعہ امیرالمومنین حضرت عمر نے مجمعے میں فرمایا ”لوگو! اگر میں اللہ اور اُس کے رسولۖ کے احکامات کے خلاف جاؤں تو تم کیا کروگے؟”۔ ایک صحابی اُٹھے اور کہا ”ربّ ِ کعبہ کی قسم میں تمہاری گردن اُتار دوں گا”۔ اِس جواب پر حضرت عمر نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اُنہیں راسخ العقیدہ مسلمانوں کا ساتھ حاصل ہے۔ عامی تو درکنار کیا کسی وزیر با تدبیر میں بھی اتنی ہمت ہے کہ وہ کپتان کے سامنے ایسی بات کرنے کی جرأت کر سکے؟۔ ہمارے وزیرِاعظم متواتر کڑے احتساب کی بات کر رہے ہیںلیکن شاید وہ احتساب بیگانوں کے لیے ہے، اپنوں کے لیے نہیںکیونکہ جو کچھ اُن کی ناک کے عین نیچے ہو رہا ہے، وہ زمانے کو تو نظر آتا ہے، کپتان کو نہیں، حالانکہ حساب تو اِس کا بھی ہونا ہے۔ آقاۖ کا فرمان ہے ”تم میں سے ہر ایک راعی ہے جس سے روزِ قیامت اُس کی بھیڑوں کا حساب ضرور لیا جائے گا”۔ سوال یہ ہے کہ کیا کپتان صاحب اپنی ”ٹیم” کے اعمال کے ذمہ دار نہیں؟۔ کیا اُنہوںنے وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جواب طلبی کی کہ وہ حکومتی ہیلی کاپٹر پر اپنے خاندان کو کیوں سیر کرواتے پھرے؟۔ حضرت عمربِن عبد العزیز نے تو اپنے خادم کو اِس بات پر ڈانٹ پلا دی تھی کہ اُس نے بیت المال کے تیل سے جلنے والا دِیا کیوں گُل نہیں کیا۔ لیکن یہاں تو عالم یہ کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِتعلیم بھی ایک پرائمری سکول کے افتتاح کے لیے حکومتی ہیلی کاپٹر پر تشریف لاتے ہیں اور باتیں ہو رہی ہیں ریاستِ مدینہ کی۔

اسلامی ریاست میں احتساب کا یہ عالم کہ ایک دفعہ فاطمہ نامی ایک عورت چوری کرتے ہوئے پکڑی گئی تو رسول اللہ ۖنے اُس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صحابہ اکرام نے عرض کیا کہ وہ عورت ایک طاقتور قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، اِس لیے دَرگزر فرمایا جائے۔ آپۖ نے فرمایا ”رَبّ ِ کعبہ کی قسم اگر اِس عورت کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا” (مفہوم)۔ یہ میرے آقاۖ کی تربیت ہی کا اثر تھا جو حضرت عمر نے فرمایا ”اگر کسی کی وجاہت کے خوف سے عدل کا پلڑا اُس کی طرف جھک جائے تو پھر اسلامی حکومت اور قیصر وکسریٰ کی حکومت میں کیا فرق ہوا؟”۔ کپتان باتیں تو بلاامتیاز احتساب کی کرتے ہیں لیکن جب معاملہ خاورمانیکا کی ذات تک جا پہنچتا ہے تو خاموشی میں ہی عافیت۔ خاتونِ اوّل بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا کے معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اَز خود نوٹس لینا پڑا۔ شنید ہے کہ خاورمانیکا پاکپتن میں پولیس ناکے پر نہیں رُکے جس پر پولیس نے اُن کا پیچھا کرکے گاڑی روک لی۔ مانیکا نے اِسے اپنی توہین گردانا اور معاملہ اعلیٰ ترین خاتون کے نوٹس میں لے آئے جنہوں نے احسن جمیل گجر کو حکم دیا کہ وہ وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کرے۔ عثمان بزدار نے فوری طور پر آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو اپنے آفس میں طلب کیا۔ جب وہ لوگ آفس پہنچے تو بقول رضوان گوندل وزیرِاعلیٰ نے احسن جمیل گجر کا تعارف اپنے بھائی کے طور پر کروایا۔ گجر نے نہ صرف رضوان گوندل سے تلخ کلامی کی بلکہ خاورمانیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کے لیے بھی کہا۔ رضوان گوندل کے انکار پر رات کے 12 بجے اُن کا تبادلہ کرکے او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہمیں یقین کہ ”بابا رحمت” مبنی بَر انصاف فیصلہ کریںگے۔ سوال مگر یہ کہ ریاستِ مدینہ تشکیل دینے کے دعویداروں نے عثمان بزدار کے خلاف کیا ایکشن لیا؟۔ امیرالمومنین حضرت عمر نے تو ایک عام شخص کی شکایت پر حضرت عمرو بِن العاص جیسے گورنر اور جید صحابی کو بھی کوڑے مارنے کا حکم صادر فرمایااور حضرت عمروبن العاص کی جان ہرجانہ دے کر چھوٹی لیکن عثمان بزدار کو تو کسی نے پلٹ کر پوچھا تک نہیں، دعوے پھر بھی ریاستِ مدینہ کے۔

ہمارے وزیرِاعظم تو اپنے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں حاضر ہونا پسند ہی نہیں فرماتے۔ جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو، اُن کے وکلاء پہنچ جاتے ہیں جبکہ ریاستِ مدینہ میں امیرالمومنین قاضی کی عدالت میں بذاتِ خود حاضر ہوا کرتے تھے۔ امیرالمومنین حضرت علی کی ”زرہ ” گم ہو گئی۔ ایک دِن اُنہوں نے وہی زرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی۔ معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں پہنچا۔ قاضی صاحب نے حضرت علی سے گواہ طلب کیے۔ اُنہوں نے حضرت حسن اور اپنے غلام قنبر کو بطور گواہ پیش کیا۔ قاضی شریح نے غلام کی گواہی تو قبول کر لی لیکن حضرت حسن کی گواہی یہ کہتے ہوئے رَد کر دی کہ وہ حضرت علی کے بیٹے ہیں اور باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی۔ چونکہ دوسرا گواہ موجود نہیں تھا اِس لیے فیصلہ حضرت علی کے خلاف آیا۔ جب یہودی نے اسلامی نظامِ عدل کی یہ جھلک دیکھی تو پکار اُٹھا کہ زرہ حضرت علی ہی کی ہے۔ یہاں معاملہ مگر ”میٹھا میٹھا ہَپ ہَپ، کڑوہ کڑوہ تھو تھو” کے مصداق۔ فیصلہ جب میاں نوازشریف کے خلاف آتا ہے تو بلند آہنگ سے اُس کی تحسین کی جاتی ہے لیکن ایسا ہی فیصلہ جہانگیر ترین کے خلاف آنے پر اُسے دِل کے مزید قریب کر لیا جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ جہانگیر ترین تو تحریکِ انصاف کے اے ٹی ایم ٹھہرے۔

ریاستِ مدینہ کے خلفاء کا تو یہ عالم کہ حضرت عمر اناج کی بوری کندھے پہ رکھے بیوہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو غلام نے کہا ”یہ بوجھ مجھے دے دیجئے”۔ امیرالمومنین نے فرمایا ”کیا روزِ قیامت میرے گناہوں کا بوجھ بھی تم اٹھا لو گے؟”۔ اگر ریاستی انتظام و انصرام کا یہی عالم رہنا ہے تو پھر کپتان ریاستِ مدینہ کی تکرار چھوڑ ہی دیں تو اچھا ہے۔ جنرل ضیاء الحق بھی اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر 10 سال تک حکومت سے چمٹے رہے اور سیکولر ذہن رکھنے والوں نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ (نعوذ باللہ) دَورِجدید میں اسلامی نظام قابلِ عمل نہیں۔ اللہ نہ کرے کہ کپتان کے دَورِ حکومت میں زبانیں پھر دراز ہو جائیں۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
Accountability politics Prime Prof Riffat Mazhar state successful Votes احتساب ریاست سیاست کامیاب وزیراعظم ووٹوں
Malka
Previous Post گلیانہ میں تحفظ ناموس رسالت استحکام پاکستان اور اظہار تشکر کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا
Next Post ستمبر 65 ! پاک بھارت جنگ
Pakistan Defense Day 6th September

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close