Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

افغان مہاجرین کی باعزت واپسی

March 1, 2018 1 1 min read
Afghan Refugees
Afghan Refugees
Afghan Refugees

تحریر : قادر خان یوسف زئی
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جرمنی کے شہر میونخ میں جاری تین روزہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ مختلف شدت پسند گروپ افغان مہاجرین کیمپوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں ہونے والی چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں بھی خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ خطے ملکوں کے انفرادی طور پر نہیں بلکہ مشترکہ طور پر کاوشوں سے ترقی یافتہ بن جاتے ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی ہر طرح کی پناہ گاہوں کو ختم کردیا ہے تاہم دہشت گردوں کی موجودگی کے نشانات ملتے ہیں جو 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ موثر سیکیورٹی ہم آہنگی نہ ہونے اور افغان مہاجرین کی موجودگی کا دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جاری آپریشن ردالفساد کے باعث ان کا سراغ لگایا جارہا ہے اور انھیں نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔پاکستان میں افغان مہاجرین کی چار عشروں سے موجودگی کا مسئلہ مسلسل ملکی سلامتی کے لئے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

پاکستان اس وقت قانونی و غیر قانونی طور پر 30لاکھ سے زاید افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین میں پناہ دے چکا ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے ہمیشہ نرم خوئی اور کشاد دلی کا مظاہرہ کیا اور انہیں پاکستان میں کسی بھی حصے میں نقل و حرکت و کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔افغان مہاجرین کے لئے معاشی دوازے کھلے رکھے اور کسی بھی مرحلے پر افغان مہاجرین کے ساتھ ریاست نے کبھی سخت رویہ اختیار نہیں کیا ۔پاکستان نے کئی مرتبہ افغان مہاجرین کے واپسی کی توسیع کی مدت میں اضافہ کیا ۔ کئی بار ڈیڈ لائن دی ۔ لیکن امریکا سمیت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے پاکستان کو درپیش مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ کابل حکومت کا رویہ پاکستان مخالف ہے اور کوئی بھی ایسا موقع ضائع نہیں کرتا جس میں پاکستان کو نقصان پہنچانے سمیت کسی بھی قسم کی دشنام طرازی اختیار نہ کی جاتی ہو۔پاکستانی ریاست نے ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لیا اور قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے علاوہ غیر قانونی مہاجرین کو بار بار تاکید کی کہ وہ اپنا اندارج کرائیں ۔ پاکستان کی جانب سے اختیار نرمی کا ہمیشہ غلط مطلب لیا گیا۔ لیکن پاکستان کا اولیّن مقصد یہی رہا ہے کہ چار عشروں سے رہنے والے افغان مہاجرین کی جتنی خدمت کی ہے اُسے رائیگاں نہ ہونے دیا جائے۔پاکستان میں موجود افغان مہاجرین دونوں ممالک کے لئے ایک سفیر کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھے جانے والا رویہ دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات کا تعین بھی کرتا ہے۔

جب میونخ سیکورٹی کانفرنس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے جانب توجہ مبذول کرائی تو کابل کی جانب سے صدر اشرف غنی کا بیان بھی جاری ہوا ۔افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ” ہم افغان مہاجرین کو واپس لانے کیلئے تیار ہیں تاہم پاکستان دو سال کی مہلت دے دے،یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ مہاجرین خطے میں عدم استحکام کی وجہ ہیں۔کابل میں افغان صدارتی محل میں سویت فوج کے افغانستان سے انخلا کے 29 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ میری اولین ترجیح ہے کہ آئندہ 24 ماہ میں پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس لایا جائے، ہمارے اس اقدام سے یہ تاثر ختم ہوجائے گا کہ افغان مہاجرین خطے میں امن و استحکام کے قیام میں ایک رکاوٹ ہیں۔اشرف غنی نے کہا ہم نے عزم کرلیا ہے اب پاکستان کو موقع نہیں دیں گے کہ وہ الزامات لگائے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ مہاجرین کی وجہ سے ہے، ہم ان افراد کو بھی افغانستان واپس لائیں گے جو اپنے ملک آکر دوبارہ پاکستان گئے یا دیگر ممالک میں جانے کی کوشش کی۔”پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کا مطالبہ بھی نہایت احترام سے کیا جاتا ہے ۔ ورنہ جن جن ممالک میں افغان مہاجرین نے پناہ لی ہوئی ہے اس کا اندازہ صرف ایک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں جرمنی سے صرف 14 افغان مہاجرین کی جبری واپسی کے لئے خصوصی طیارہ استعمال کیا گیا ۔یعنی پاکستان میں مہاجرین کو مزید مہلت دینے کے مطالبات کرنے والے مغربی ممالک چند افراد کو بھی اپنے ملک میں پناہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پوری دنیا میں سب سے مہاجرین کو پناہ دینے والا دوسرابڑاملک ہے۔ ایران میں بھی لاکھوں کی تعدا د میں مہاجرین نے پناہ لی ہوئی ہے ۔ لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران میں افغان مہاجرین کو نقل و حرکت کی قطعی اجازت نہیں ہے۔

شہری آبادیوں سے دور مہاجرین کو کیمپوں تک محدود رکھا ۔پاکستان اور ایران کے علاوہ متحدہ عرب امارات ، جرمنی ، امریکا ، آسٹریلیا ، آسٹریا، بھارت ، کینیڈا، سویڈن ، تاجکستان، قطر، شام اور ترکی میں بھی افغانی مہاجرین نے پناہ لی ہوئی ہے لیکن ان تمام ممالک میں مہاجرین کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔پاکستان نے سوویت یونین و افغان جنگ کے دوران 31لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی جبکہ غیر قانونی طور پر آنے والے مہاجرین کی تعداد اس سے کئی زیادہ تھی ۔ سوویت یونین کے جانے کے باوجود بھی افغان مہاجرین واپس اپنے وطن نہیں گئے ۔ جب 2001میں امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان میں جنگ مسلط کی تو اعداد و شمار کے تحت25لاکھ افغان مہاجرین نے اپنا اندارج کرایاتھا ۔ جبکہ 15لاکھ سے زاید مہاجرین ایسے تھے جنھوں نے خود کو قانونی طور پر رجسٹرڈ نہیں کرایا۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان کے مختلف حصوں میں 40لاکھ سے زاید افغان مہاجرین اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہ رہے ہیں۔جبکہ صرف15لاکھ افغان مہاجرین نے قانونی طور پر اپنی رجسٹریشن کروائی ہوئی ہے۔31 جنوری 2018کو مہاجرین کی واپسی کی آخری مہلت ختم ہوچکی تھی لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد وں پر60دنوں کی مزید منظوری دے دی گئی تھی ۔ جس کے بعد31مارچ2018کو پاکستان کی جانب سے دی جانے والی یہ مہلت بھی ختم ہوجائے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت واپسی پر زور کیوں ڈال رہا ہے اس کے اصل حقائق کیا ہیں ؟۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ افغان مہاجرین کی کثیر تعداد پُر امن ہے اور بحالت مجبوری اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی ۔ مزید یہ بھی ایک انسانی مسئلہ درپیش ہے کہ اس وقت لاتعداد افغانی ایسے بھی ہے جنھوں نے افغانستان کی شکل بھی نہیں دیکھی ۔ لیکن افغان مہاجرین کی خواہش بھی ہے کہ وہ واپس اپنے مادرِ وطن لوٹیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین ایسے بھی ہیں جو پاکستان میں رہ کر پاک۔ افغان تجارت میں بھاری سرمایہ کاری کرچکے ہیں۔ بھارت کی تجارت کے لئے پاکستان کی راہدری بھی استعمال کرتے ہیں ، اسمگلروں کے لئے پاکستان سُونے کی کان ہے ۔ وہ پاکستان میں رہ کر دولت کمانا تو چاہتے ہیں لیکن اپنے اہل و عیال کو افغانستان واپس نہیں لے جانا چاہیے۔ پاکستانی دستاویزات بنا کر خود کو پاکستانی ثابت کرنے کے لئے علاقائی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لینے کے لاکھوں جعلی ووٹوں کا اندارج کراچکے ہیں۔ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جو جعلی دستاویزات پر پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ افغان مہاجرین کو تین طبقات میں اگر تقسیم کیا جائے تو اس میں پہلا طبقہ ایسا ہے جو کیمپوں میں رہ رہتے ہیں یا کچی آبادیا ں بنا کر روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ۔دوسرا طبقہ ایسا ہے جس نے قانونی رجسٹریشن کا طریقہ اختیار کیا اور نارا کا شناختی کارڈ حاصل کرکے یہ سہولت حاصل کرلی کہ وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں رہ سکتے اور اپنا کاروبار سمیت جائیداد بھی خریدسکتے ہیں۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں جعلی دستاویزات کے ساتھ مقیم ہیں ، بھاری سرمایہ کر رکھی ہے ۔ اربوں روپے کاروبار میں لگا رکھے ہیں اور افغانستان کی سرزمین کو تجارتی مفادات کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان سے اجناس اور افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی دھندوں میں بھی ملوث ہیں ۔ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں اور پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین میں بھی بیٹھ کر سازشیں کرتے ہیں اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں میں سہولت کاری میں ملوث ہے۔پاکستان نے اپنی سرزمین سے شدت پسندوں کے ٹھکانے تقریباََ ختم کردیئے ہیں ۔ آپریشن رد الفساد بھی جاری ہے ۔ لیکن منفی سرگرمیوں میں ملوث عناصر افغان مہاجرین کی آڑ لیکر پاکستان اور افغانستان کے لئے بھی مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔پاکستان دراصل اسی جانب اقوام عالم کی توجہ مرکوز کرانا چاہتا ہے کہ لاکھوں مہاجرین میں اگر کوئی امریکا اور کابل حکومت کو مطلوب شخص چھپ جاتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل و دشوار گزار عمل ہے ۔ امریکا جدید ترین آلات و ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی قیادت و رہنمائوں کو جب تلاش نہیں کرسکتا تو پاکستان سے اس بات کی توقع کرنا کس طرح ممکن ہے کہ وہ لاکھوں ، کروڑوں انسانوں میں کسی “سوئی”کو تلاش کرے۔ پاکستان کی جانب سے افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی حدود میں پہلی مرتبہ باڑ و چیک پوسٹیں اور قلعے بھی اسی لئے تعمیر کئے جا رہے ہیں تاکہ آزادنہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکی اور دونوں ممالک کی عوام کو امن نصیب ہوسکے ،لیکن کابل و امریکی حکومت کی جانب سے عدم تعاون ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی امن کے قیام کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی مدد آپ کے تحت دفاعی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جہاں قیمتی جانوں کی قربانی دے رہا ہے تو کھربوں روپے کے اخراجات بھی پاکستانی معیشت پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی آڑ میں دہشت گردوں کا پناہ لینے کا بیانہ کسی مفروضات پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ افغانستان میں مضبوط ہونے والی عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے باقاعدہ پشاور کے قرب و جوار میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کے کیمپوں میں بھرتی کے لئے بقاعدہ پمفلٹ تقسیم کئے تھے اور پرکشش لالچ و جھوٹے پراپیگنڈے کرکے دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون میں وہ کالعدم جماعتیں بھی تعاون کررہی ہیں جنھیں فوجی آپریشن کے نتیجے میں افغانستان فرار ہونا پڑا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار ، لشکر جھنگوی العالمی، داعش سمیت کئی دہشت گرد تنظیموں نے کابل کی سرپرستی میں افغانستان میں ڈیرے بنائے ہوئے ہیں ۔ جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں براہ راست ملوث ہیں۔

افغان مہاجرین اپنی روایات کی بنا پر قبائلی طرز پر یکجا رہائش پزیر ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اسلام آباد جیسے حساس دارالحکومت میں بھی غیر قانونی افغان بستی موجود ہے۔ کراچی ، کوئٹہ میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین عام پاکستانی شہریوں سے بہتر حالت میں رہتے ہیں ۔ جبکہ پنجاب و کشمیر میں بھی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد رہائش پزیر ہے۔ لاہور، کراچی جیسے شہر میں بھی کئی بڑی بڑی کمرشل مارکیٹ میں اجارہ داری کرتے ہیں ۔ افغان مہاجرین جو چند جوڑے کپڑوں لئے پاکستان میں کسمپرسی کی حالت میں پناہ گزیں ہوئے تھے آج ہزاروں ایسے افغان مہاجرین خاندان ہیں جن کے بچے سُونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوتے ہیں۔ شاہانہ طرز رہائش اور مہنگی ترین تجارتی مراکز میں اربوں روپوں کے سرمایہ کار ہیں ، ایک عام پاکستانی کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ان افغان مہاجرین کے پاس اتنی وافر مقدار میں دولت کہاں سے آگئی؟۔ غربت کے مارے ان افغان مہاجرین کے پاس ایسی کونسی گیڈر سنکھی تھی کہ چند برسوں میں ہی ان کے مالی حالات تبدیل ہوگئے ۔ جن دوکانوں کا ایڈونس چند ہزار روپے ہوتا تھا وہ لاکھوں میں دے دیتے ہیں۔ جن دوکانوں کی قیمت صرف چند لاکھ تھی وہ کروڑوں روپے میں کس طرح خرید لیتے ہیں۔ کل تک جو شہر سے کچرا ٹھاتے تھے اور تنددوروں میں روٹیاں پکاتے تھے آج ان کے پاس بیش قیمت گاڑیاں اور ہوٹل کہاں سے آگئے؟۔افغانستان اور امریکا سے تو انہیں کوئی خصوصی امداد فراہم نہیں کی جا رہی تھی کہ کروڑ پتی ہوگئے اور مہمانوں نے میزبانوں کو اپنا ملازم بنا لیا ہے ۔ یقینی طور پر جلد دولت کے حصول کے لئے غیر قانونی طریق کار اختیار کئے ہونگے ۔ دید و شنید ہے کراچی کے مضافاتی علاقوںمیں جن مکانات اور زمین کی قیمت صرف چند ہزار روپے ہوتی تھی اور غریب خاندان کے لئے صرف سر چھپانے کا ذریعہ ہوتا تھا ۔ صرف چند برسوں میں وہاں عالی شان بلڈنگ بن چکی ہیں۔ زمینوں و مکانات کی قیمتیں آسمان سے بات کررہی ہیں ، کسی عام شخص کے لئے وہاں کرایہ پر رہنا کا مطلب ایسا ہی ہے جیسا کسی پوش علاقے میں رہا جائے۔پاکستان میں اربوں روپے کمانے والے یہ مہاجرین کیا پاکستان میں ریونیو یا ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں یا نہیں اس حوالے سے ایف بی آر بھی خاموش ہے۔ کیونکہ انکم ٹیکس سے بچنے اور اپنے کاروباری مالیاتی ذرائع بتانے سے بچنے کے لئے ان کے پاس مہاجر ہونے کا شناخت نامہ موجود ہے۔ بلکہ اب تو یہ ہورہا ہے کہ ان گنت افغان مہاجرین پاکستانی دستاویزات غیر قانونی طریقے سے حاصل کرکے یورپی ممالک چلے جاتے ہیں اور ان دستاویزات کو تلف کرکے با حیثیت افغان مہاجر اپنا اندارج کراتے ہیں ان کا جواز یہ ہوتا ہے کہ افغان طالبان ، داعش اور سیکورٹی فورسز کی بمباریوں کی وجہ سے ان کے علاقے محفوظ نہیں ہیں ۔ اس لئے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سیاسی پناہ دی جائے۔ گر غور کیا جائے تو لاکھوں نوجوان اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر کیا اکیلے ہی پناہ لینے، امریکا ، جرمنی، آسٹریا ، آسٹریلیا ، برطانیہ، عرب ممالک پہنچ گئے۔ انسانی اسمگلروں کو لاکھوں روپے کی رشوت دے کر نقل مکانی کی۔ متحدہ عرب امارات میں تین لاکھ مہاجرین ، جرمنی میں ایک لاکھ26ہزار، امریکا میں 90ہزار ، مملکت متحدہ میں 56ہزار، آسٹریلیا میں 19ہزا ر ، آسٹریا میں 18ہزار ، کینیڈا میں 16ہزارسے زاید افغان مہاجرین کی موجودگی کا ہونا غیر معمولی بات ہے۔افغانستان ایشیا کا ایک ملک ہے۔ جس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان واقع ہیں۔

کسی یورپی ملک خاص کر امریکا کی سرحد افغانستان سے نہیں لگتی ۔افغان مہاجرین نے ان ممالک میں جانے کے لئے یقینی طور پر ایران اور پاکستان کا راستہ اختیار کیا۔امن کا راستہ بھی پاکستان سے گزر کر افغانستان پہنچتا ہے ۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے پر ایک جامع پالیسی کو اپنا لیں ۔اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے باقاعدہ اخباری اشتہارات کے ذریعے افغان مہاجرین کے واپسی کے شیڈول اور مالی مدد کے ضمن میں تعا ون کا کہا جاتا ہے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل اچانک شروع نہیں کیا جارہا بلکہ اس کے لئے کئی برسوں سے بار بار باقاعدہ اعلانات کئے جاتے ہیں ۔ ایک بھی افغان مہاجرین اس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ پاکستان انہیں باعزت طریقے سے واپس افغانستان جانے کی درخواست کررہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے وتیرہ بنا لیاہے کہ وہ نارا کارڈ کی سہولت سے امداد وصول کرکے افغانستان چلے جاتے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصے میں واپس پاکستان آجاتے ہیں۔

کچی گنجلگ آبادیاں اور کیمپ کسی بھی مطلوب دہشت گرد یا شدت پسند کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونا قطعی خارج از امکان نہیں ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف تسلیم کرچکے ہیں کہ افغان جنگ کے حوالے سے چالیس برس قبل اختیار کی جانے والی پالیسی غلط تھی ۔ حکومت بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ پرائی جنگ میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا ۔ سیاسی جماعتیں کہہ چکی تھی کہ پرائے گھر میں آگ لگی تو اس کے شعلوں سے اپنا گھر بھی نہیں بچے گا ۔ آج ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان نے ڈھائی سو ارب ڈالر کین ناقابل ِ تلافی نقصان ، 60ہزارقیمتی قربانیوں دینے کے باوجود سوائے بد امنی و دہشت گردی کا تحفہ ہی پایا ہے۔افغان مہاجرین ایک اسلامی روایات اور خطے میں سینکڑوں برس کی مساوی ثقافتی اقدار کے ناطے ہمارے بھائی ہیں ۔ لیکن یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان پر جو افتاد پڑی ہوئی ہے اور عالمی طور پر سخت دبائو کا سامنا ہے اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے افغان مہاجرین کی جانب سے عالمی رائے عامہ بدلنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ، پاکستان کی حمایت اور مہمان نوازی کے حوالے سے کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے پاکستان پر الزامات کو وتیرہ بنا لیا گیا ہے ۔ بلا شبہ مہاجرین کی نئی نسل پاکستان میں پروان چڑھی ہے اور اپنے وطن نہیں گئی ہوگی ، لیکن مہاجرین کا واپسی کا سفر اپنا وطن ہی ہوتا ہے۔ افغانستان میں کابل حکومت اپنے زیر انتظام علاقوں میں انہیں پناہ دے سکتی ہے ۔ ان کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے اربوں ڈالرز ملتے ہیں ۔ آٹے دال کا بھائو انہیں بخوبی معلوم ہے ۔ بھارت کی زبان اپنے منہ میں رکھ کر دشنام طرازی اور الزام تراشی عادت ِ ثانیہ بن چکی ہے۔امریکا کے بلند بانگ دعوے آسمان کو چھو رہے ہیں ۔ ان حالات میں لاکھوں مہاجرین بھی پاکستان میں صرف دولت کما رہے ہیں ، لیکن کابل حکومت کی زبان درازیوں کے خلاف لب نہیں کھولتے ۔ پاکستان سے اظہار یک جہتی کے لئے عملی مظاہرہ ان کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آیا ۔ افغان مہاجرین کے عدم تعاون کے باوجودپاکستان نے انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔مہاجرین کو واپس جانے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے ۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، یہ کوئی جواز نہیں کہ افغان مہاجرین کا اربوں روپے کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔

پاکستان میں ہی رہ کر کمایا تھا تو پاکستان کے قانون کے مطابق عمل کریں ۔ قانونی سرمایہ ہے تو پھر پاکستان میں غیر ملکی تاجروں کی طرح باقاعدہ طریقہ کار اختیار کرلیں ا ن کی املاک و کاروبار پر کوئی قابض نہیں ہوگا ۔ رشتے داری انہوں نے اپنے رشتے داروں میں ہی کیں ہیں ، معدودے چند ہی ایسے ہونگے جنھوں نے اپنی رشتے داریاں کسی دوسری لسانی قومیت سے طے کی ہوں ۔ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ افغان مہاجرین نے پاکستانیوں سے شادیاں کیں ہیں ، افغان مہاجرین اپنی روایات کے مطابق اپنے قبائل میں ہی رشتے طے کرتے ہیں ۔ تاہم کسی پاکستانی سے بھی رشتے داری کی ہے تو اس کے لئے قانون میں گنجائش موجود ہے ۔ اپنی شہریت پاکستانی بنانے کے لئے بھی قانون موجود ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہیروئین و کلا شنکوف کلچر پاکستان کو کافی نقصان دہ گیا ہے لیکن جو حالات و عالمی دبائو اور امریکی فرمائشی پروگرام چل رہا ہے ۔ اس کے نقصانات سے پاکستان کی بقا وسلامتی کو ہی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ افغان مہاجرین کا مزید پاکستان میں نا خود ان کے لئے خطرات سے خالی نہیں ہے ۔ کسی بھی امریکا مخالف کی موجودگی کی اطلاع پر ڈرون حملے اور آپریشن میں قیمتی جانوں کا نقصان ان کے لئے دردناک بن سکتا ہے ۔ پاکستانی عوام نہیں چاہتی کہ چالیس برس تک جن کی مہمان نوازی کی اور بھائیوں سے بڑھ کر رکھا ،وہ کوئی بد گمانی رکھیں ۔ پاکستان کی تمام قومیتیں پختون ولی کو نہیں سمجھ سکتی لیکن افغان مہاجرین تو پختون ولی کو سمجھتے ہیں ۔ انہیں اب حتمی فیصلہ کرلینا چاہیے ۔ پاکستان عوام کی مشکلات کا ادارک کرنا بھی ان کا فرض ہے۔ پاکستان کو مزید آزمائش میں نہ ڈالنا پختون قوم کے مفاد میں ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
Afghan refugees camps pakistan افغان مہاجرین پاکستان قمر جاوید باجوہ کیمپوں واپسی
Senate Elections
Previous Post سینٹ انتخابات کی گھڑ دوڑ
Next Post کے پی کے میں درختوں کی حالت زار
KPK Trees

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close