Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

افضل گورو کی پھانسی

February 9, 2014February 9, 2014 0 1 min read
Samjhauta Express
Indian Parliament
Indian Parliament

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے مبینہ ملزم افضل گورو کی پھانسی کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔وہ گیارہ سال تک بھارتی جیلوں میں قید رہے اور پھر اچانک انہیں انتہائی رازداری سے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ان کی پھانسی کی اطلاع کشمیری قوم کو بھارتی ٹی وی چینلز کے ذریعہ ملی اور پھر جموں کشمیر کے کونے کونے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کشمیریوں میں اس پھانسی کا اتنا شدید ردعمل تھا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے جموں کشمیرمیں سخت ترین کرفیو نہ لگایا جاتاتو کشمیر کا ہر چوک تحریر سکوائر کا منظر پیش کر رہا ہوتا۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز کی طرف سے سکیورٹی انتظامات اور درجنوں کشمیریوں کی شہادت کے باوجود ایک ماہ سے زائد عرصہ تک جموں کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آسکے اور نہتے کشمیری اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔محمد افضل گورو کی زندگی علم، فن اور جدوجہد سے عبارت تھی۔47 سالہ افضل گورو شمالی قصبہ سوپور کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے مقامی سکول سے 1986 میں میٹرک کرنے کے بعد ہائر سیکنڈری کیلئے سوپور کے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ میں داخلہ لیا۔جب کشمیر میں 1990 کے آس پاس مسلح تحریک شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھا۔ اسی اثنا میں انہوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ وہ جدوجہد آزادی میں بھرپور انداز میں شریک رہے اور پھر1991میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیکر وہاں سے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔افضل دہلی میں سات سالہ قیام کے بعد 1998میں اپنے گھر کشمیر واپس لوٹ آئے۔وہ وادی میں واپس لوٹ کر شادی کے بعد محض اپنے دوائیوں کے کاروبار میں مصروف تھے لیکن بھارتی فورسز کے ظلم و زیادتیوں کا عالم یہ تھا کہ ماضی میں جے کے ایل ایف کے ساتھ ملکر جدوجہد آزادی میں حصہ لینے پر انہیں ہر روز مقامی آرمی کیمپ میں حاضر ہونا پڑتا اور ٹاسک فورسز کی طرف سے جان لیوا زیادتیاں کی جاتیں۔اس دوران کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ان پر اتنا تشدد کیا گیا کہ انہیں مردہ حالت میں پھینک دیاجاتا رہا۔13دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور 15دسمبر کوانہیں ادویات لیکرسوپور جاتے ہوئے گرفتار کر لیاگیا اور بھارت لیجاکر جیل میں بندکر دیا گیا۔

افضل گورو کا معاملہ غیر منصفانہ اور شکوک و شبہات سے بھرا پڑا ہے۔پارلیمنٹ پر حملہ میں پانچ افراد کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا جن کے نام آج تک مکمل معلوم نہیں کئے جاسکے۔ گرفتاری کے بعد سے مئی 2002 تک افضل گورو کو کوئی وکیل فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے خلاف سب سے بڑی شہادت کے طور پر جو اعترافی بیان پیش کیا گیااور جس سے انہوںنے واضح طور پر انکار کیا’ اس کی قلم بندی کے وقت افضل گورو کا کوئی قانونی مشیر موجود نہیں تھا۔ 18 دسمبر 2002 کو افضل گورو، ایس آر گیلانی اور شوکت حسین کو پارلیمنٹ حملہ کیس میں سزائے موت سنا ئی گئی۔بعد ازاں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کے نتیجے میں ایس آر گیلانی اور افشاں گیلانی کو باعزت بری اور شوکت حسین کی سزائے موت کو 10 سال کی سخت سزا میں تبدیل کر دیاگیالیکن افضل گورو کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا جاتاہے۔استغاثہ کے 80 گواہان میں سے کسی ایک نے بھی یہ بیان نہیں دیا کہ افضل گورو کا کسی عسکری تنظیم سے کبھی کوئی تعلق رہا ہو یا اس نے کبھی کوئی معاونت فراہم کی ہو۔

Supreme Court Of India
Supreme Court Of India

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے وقت واضح طور پر یہ بات لکھی کہ اگر چہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیاجاسکا مگر معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے سزائے موت ضروری ہے۔افضل گورو کو اس کیس میں اپنے دفاع کے لئے صحیح معنوں میں وکیل دیاہی نہیں گیا۔کیس کے آغاز میں ہی اگر قانونی مشیر میسر آجاتا تو شاید یہ معاملہ اتنا آگے نہ بڑھتا۔خود بھارتی ماہرین یہ کہتے رہے ہیں کہ افضل کے خلاف مقدمہ ناقص تفتیش، واقعاتی ثبوت اور پولیس کی مشتبہ کردار کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔اس ساری صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ افضل گورو کی پھانسی انصاف کا خون اور عدالتی قتل تھاجس سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ بھارت سرکار کی طرح ان کی عدالتوں میں بھی انصاف کے پیمانے مسلمانوں اور ہندوئوں کے لئے الگ الگ ہیں۔بھارتی قانون میں یہ بات طے شدہ ہے کہ کسی شخص کو پھانسی دینے سے قبل اس کی ملاقات اہل خانہ سے کروائی جائے گی لیکن افضل کی پھانسی میں اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ جس وقت انہیں پھانسی دی جارہی تھی وہاں ایک ڈاکٹر ، ایک مجسٹریٹ اور جیل حکام کے چند افسران سمیت ایک مولوی صاحب موجودتھے جنہوں نے پھانسی کے بعد انکی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد دو دن پہلے تیار کی گئی لحد میں اتار کرانتہائی رازداری کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔

بعض بھارتی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ گورو کے اہل خانہ کوسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ انکی پھانسی کی اطلاع دے دی گئی تھی اور ان کے اہل خانہ میں سے کوئی لاش لینے ہی نہیں آیا اس لئے انہیں وہیں دفن کیا گیا ہے’ افضل کے اہلِ خانہ کے مطابق یہ بات سرے سے غلط ہے۔ پھانسی کے تین دن بعد تہاڑ جیل حکام کا وہ خط جو دہلی جنرل پوسٹ آفس سے ڈاک کے ذریعہ روانہ کیا گیا تھا’ موصول ہوا جس میں انہیں گورو کی رحم کی اپیل مسترد ہونے اور پھانسی دیے جانے کی اطلاع تھی۔ یہ ایک سنگین قسم کا مذاق تھا جو ان کے اہل خانہ اور پوری کشمیری قوم کے ساتھ کیا گیا۔ بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے’ اس نے لاشوں کو بھی اپنے ملک میں قید کر رکھا ہے اور پوری کشمیری قوم کے مطالبہ کے باوجود افضل گورو اور مقبول بٹ کے جسدخاکی واپس کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ایسے ملک کے عدالتی نظام سے انصاف کی کیا امید کی جاسکتی ہے جہاں پھانسیاں اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے دی جائیں اور جہاں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی جیسے درندوں کو تو ہیرو سمجھا جاتا ہو مگر اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کودہشت گردقرار دیکر پھانسی کے پھندوں پر لٹکا دیا جائے۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے مبینہ ملزم افضل گورو کی طرح ممبئی حملوں میں ملوث قرار دیکر پھانسی پر چڑھائے گئے اجمل قصاب کے کیس میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔دونوں پر دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے اور دونوں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ گورو کو چھ ماہ بعد وکیل فراہم کیا گیا تو اجمل کے کیس کے آغاز میں ہی بمبئی کی بار ایسوسی ایشن نے وکلاء کو کیس لڑنے سے روک دیا۔ جن وکلاء نے کیس لڑنے کا اعلان کیا ان پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے تشدد کیاجاتا رہا۔ وکیلِ صفائی عباس کاظمی کو تمام گواہوں پر جرح کے جرم میں فارغ کردیا گیا ، بار بار وکیل تبدیل کئے جاتے رہے اور قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ افضل پر پارلیمنٹ حملہ کیس میں صرف 197 دنوں میں سزا کا فیصلہ سنادیا گیاتو ممبئی حملہ کیس میں بھی6 مئی 2009 کو فردِ جرم عائد کی گئی اور 362 دنوں میں سزا کا فیصلہ سنا دیا گیا۔اجمل قصاب کا بھارت میں پھانسی کی سزا پانے والوں میں 309 واں نمبر تھا۔دسمبر 2012 تک بھارت میں 477 لوگ ایسے تھے جن کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی تھی لیکن عمل درآمد باقی تھا مگر اجمل کوانتہائی عجلت میں پھانسی دے دی گئی۔

بھارت کی اعلی عدالتوں نے افضل گورو کی پھانسی کے ذریعہ سے جس طرح اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ جمہوری روایات اور اقدار کی دعویدار بھارت سرکار قانون اور انصاف کو بالائے طاق رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔آخر میں ‘ میں یہاں ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ ہمیں بھارتی وزارت داخلہ کے سابق اعلیٰ افسر ستیش ورماکے اس بیان کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ ممبئی اور پارلیمنٹ حملے خود بھارت نے کروائے تھے تاکہ انسداد دہشت گردی قوانین مزید سخت کرنے کیلئے راستہ ہموار کیا جائے۔ ان کا یہ دعویٰ بہت زیادہ غور طلب ہے کیونکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا توپریونشن آف ٹیررسٹ ایکٹویٹیز ایکٹ(پوٹا) نامی قانون نافذ کیا گیا اور جب نومبر 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے تو ‘ان لافل ایکٹوٹیز پریونشن ایکٹ (یو اے پی اے)’ میں اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔

Samjhauta Express
Samjhauta Express

آر ایس مانی اس وقت شہری ترقیات کی وزارت میں اعلیٰ افسر تعینات ہیں جب کہ ستیش ورما ‘جونا گڑھ پولیس ٹریننگ کالج’ کے پرنسپل کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔یہ دونوں انڈیا کی انتہائی ذمہ دار شخصیات ہیں ان کی باتوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب یہ باتیں کھل کر واضح ہو چکی ہیں کہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجد، مالیگائوں اور دہلی ہائی کورٹ بم دھماکوں میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں ملوث تھیں اور پارلیمنٹ و ممبئی حملوں میں بھی بھارت سرکارکے ملوث ہونے کا اقرار کیا جارہا ہے تو ہمیں بھی محض بیرونی دبائو پر ممبئی حملوں کے الزام میں ذکی الرحمن لکھوی سمیت دیگر افراد کو جیل میں نہیں ڈالے رکھناچاہیے۔ یہ سخت نا انصافی اور پوری پاکستانی قوم کی توہین ہے۔قوم سوال کرتی ہے کہ کیا ان محب وطن رہنمائوں کو مظلوم کشمیریوں کی مددوحمایت کرنے اور دفاع پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لینے کی سزاد ی جارہی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ روش درست نہیں ہے۔ ملک و ملت کے دوستوں اور دشمنوں میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور انہیں فی الفور رہا کرنا چاہیے۔

تحریر: حبیب اللہ سلفی
برائے رابطہ: 0321-4289005

Share this:
Tags:
blood indian parliament justice Prisons افضل گورو انصاف بھارتی پارلیمنٹ پھانسی جیلوں خون
Mumtaz Awan
Previous Post افضل گورو شہید کا عدالتی قتل
Next Post گجرات کی خبروں کی تصویری جھلکیاں

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close