Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اکمل خان ایک انمول ہیرا

March 17, 2014March 17, 2014 0 1 min read
Waseem Raza
Conference Of Parties
Conference Of Parties

خدشات کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے کیونکہ مسلسل تلاش کے باوجود وہ مجھے کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ آل پاکستان پارٹیز کانفرنس بلونیا والے اے پی سی کی نیا کو مخاصمتوں کے بھنور سے تو کسی نہ کسی طرح نکال لائے تھے لیکن آج ایک ایسے کہنہ مشق ماہر نظامت کی ضرورت تھی جو اس نیا کو کامیابی دوسرے کنارے پر پہنچا سکے۔ خدشہ تھا کہ کوئی حاسد یا مخالف شرارت کا تیر تقریب کے دوران نہ کھینچ مارے۔ اصل امتحان ابھی تھوڑی دیر بعد شروع ہونے والا تھا، میں نے تجسس کی کمانیں دوبارہ چڑھائیں ، ہر طرف لیڈر ہی لیڈر تھے اور ان کے درمیان خال خال سٹیج کو سنبھالنے کا فن جاننے والے بھی یعنی چھوٹے بڑے لیڈروں کو ان کی خوبیوں خامیوں سمیت چلانے والے ماہرین نظامت ۔میں سب کو جانتا تھا۔سٹیج سج چکا تھا۔ آج ان میں سے تو کسی کے بھی بس کی بات ہیں ، میرے دل نے کہا۔ میری نظریں تھک ہار کر ناکام واپس لوٹیں تو میں انھیں ساتھ لیکر ہال کے ا ندر داخل ہوا اور چپ چاپ ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ پھر چند لمحوں بعد میرا زہن بے ا ٹلی کی پاکستانی تقریبات کی تاریخ کی جگالی کرنے میں مصروف ہو گیا ، میں میکانیکی انداز میں ایک اور برے تجربے کیلئے اپنے آپ کو تیار کر رہا تھا۔

مجھے اب اس تقریب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی، نا جانے کیوں میرا با یاں ہاتھ سیاہ کوٹ کی اندر والی جیب میں جا کر مالبوورو ریڈ کی کنواری ڈبیا کو سہلانے لگا جس کی ابھی تک سیل بھی نہیں کھلی تھی ، مجلس شروع ہو چکی تھی ۔ میں جھنجلاہٹ اور بے دلی سے اٹھ کر با ہر جانے ہی والا تھا کہ ایسا لگا جیسے زمین نے میرے پاوں سختی سے پکڑ لئے ہوں۔ میں نے اپنے ارادے کے ٹوٹنے کا سبب جاننے کیلئے اپنے حواس بحال کئے تو میری نظریں بے اختیار سٹیج کی طرف اٹھ گئیں جہا ں سے آواز آرہی تھی آج آپ نے جس طرح درد ے دل کا مظاہرہ کیا ہے شاید یہ یورپ کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہو، یوں لگتا ہے بلونیا والوں نے آپکی شکل میں زمین پر ستاروں کو بلایا ہے میں ٹھٹک کر رہ گیا ، یوں لگا چند جملوں میں کہی گئی وہ چھوٹی سی بات دل سے نکلی اور دل میں جا بیٹھی ہے۔ ا نتہائی شستہ اردو ، لہجے کا زیروبم نہا ئت متناسب، آواز کے اتار چڑھاو پر مکمل کنٹرول ، اور سب سے بڑھ کر لفظوں کا انتخاب ،لفظ ایسے کہ ایک سے بڑ ھ کر ایک۔ ‘یہ آدمی کرے گا’ ہاں ،یہ کر سکتا ہے میرے دل نے گواہی دی۔ لیکن یہ ہے کون؟

تجسس نے سر اٹھایا۔ میں نے جھٹکے سے کوٹ میں سے ہاتھ باہر نکالا اور کنواری ڈبیا پر لعنت بھیجتا ہوا لوگوں کی سفیں چیر کر آگے بڑ ھنے کی کوشش میں ہا تھ پاوںمار نے لگا۔ میں اس اجنبی شخص کے پاس جا کر اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا، مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ وہ کوئی عام آدمی نہیںہو سکتا ، وقت گزرنے لگا اور پروگرام آگے بڑھنے لگا جبکہ میں کھسکتا ہوا آہستہ آہستہ اسکے قریب ہونے لگا۔ آپ میں سے کوئی عام نہیں ، کوئی خاص نہیں ، سب برابر ہیں ، سب کو یکساں عزت دی جائے گی، میں انتظامیہ کی میٹنگز میں ذاتی طور پر شامل تھا ، میں کلمہ پڑھ کر ‘ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ ‘ کہتا ہوں کہ یہاں سب کو برابر ثابت کر نے کے لئے روائتی سٹیج نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیاتھا یہ بات میر ے پاس آپکی امانت تھی جوا ب میں نے آپ تک پہنچا دی ہے۔ کلمہ پڑھ کر اس نے ا یسی بات کیہ دی کہ دل صاف ہوگئے، چہرے کھل اٹھے، تالیاں تھیں کہ تھمنے کا نام لے رہی تھیں،وہ اجنبی کوئی جادوگر تھا ، مجمع کو اپنے ہا تھوں کی انگلیوں پر نچا رہا تھا،یوں لگ رہا تھا اس نے سب کو مسمر ائز کر رکھا ہے۔ میری اس کی ہر ہر ادا پر پوری پوری نظر تھی۔ وہ جب چا ہتا ہنساتا، جب چاہتا منٹوں میں رلا دیتا۔

اور جب ضرورت محسوس کرتا مجمع پر سناٹا طاری کر دیتا۔ میں نے محسوس کیا کہ ڈیوٹی کو نبھانے میں کیف محسوس کر رہا تھا ، مزا لے تھا، وہ اپنے کام کو ا نجوائے کر رہا تھا۔ انسان جب اپنے کام کو انجوائے کرنے لگے تو فن کی بلندیوں کو ضرور چھونے لگتا ہے۔ وہ اجنبی جسے میں جانتا بھی نہیں تھا ، غیر محسوس طریقے سے میرے بہت قریب آگیا تھا ، اور میرا دوست بن گیا تھا،بلکل اسی طرح جس طرح آزاد اخبار کا اعجاز احمد جو روم میں رہتا ہے میں جسے میں پچھلے بارہ سال سے جانتا ہوں، ہر دوسرے دن فون پر بات بھی ہوتی ہے لیکن میں آج تک اسے نہیں ملا ، مکان و مقام کی دوری کے باوجود اعجاز احمد میرا بیسٹ فرینڈ ہے اور میں اسکا۔ کون ہیںیہ صاحب ؟ مجھ سے مزید نہ رہا گیامیں متجسس بھی تھا اور بے چین بھی، میں نے قریب کھڑے اپنے ساتھی رپورٹر سے سے بے ا ختیار پوچھ لیا۔

کارپی والے حاجی الیاس صاجب کے عزیز ہیں ، انھی کے ساتھ آئے ہیں، آپ نہیں جانتے ؟میرے زہن پر پڑا منوں بوجھ یکدم اتر گیا، جسم ہلکا پھلکا ہوگیا ، دل کی کلیاں کھلکھلا اٹھیں۔اور نجانے کیوں ہونٹوں پر ایک موہوم سی مسکراہٹ کھیلنے لگی، زبان سے صرف یہی نکلا یہ تو اپنے ہی ہیں۔ میں جس تیزی آگے بڑھ رہا تھا اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پیچھے ہٹا،اور اپنی سیٹ پرسکون سے آکر بیٹھ گیا۔ تقریب میں تو مجھے پہلے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اب تو بلکل ہی ختم ہو گئی تھی۔ میرے ہاتھ ایک بار پھر مالبوورو ریڈ کی کنواری ڈبیا کی طرف بڑھا اور پیار سے اسے سہلانے لگا، میں نے نرمی سے آنکھیں موندھ لیں، میں ہلکے ہلکے سیل بند کنواری ڈبیا کو سہلاتا جاتا تھا اور گوورنمنٹ کالج لاہور کی اپنی اس کلاس فیلو کے بارے میں سوچتا جاتا تھا جس نے یک دن کالج ٹائم کے بعد مجھے اوول گراونڈ میں ملنے کی التجاکی تھی ،وہ میرے بارے میں کچھ مختلف طرح سے سوچتی تھی، مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔ اس دن میں کافی دیر تک اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر سہلاتا رہا۔ اور وہ مجھے آندھی فلم کا گانا تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں ، سناتی رہی۔

ا ے پی سی کانفرنس زبردست کامیابی سے دوچار ہوئی، اٹلی سمیت یورپ میں دور دور تک اسکا ڈھنکہ بجا۔ حتی کہ پاکستان تک اس کی کا میابی کی بازگشت سنائی دی۔ کانفرنس میں سب کو ٹائم ملا ، سب خوش ہو کر گئے۔ کئی مواقع پر ماحول کشیدہ ہوا۔ لیکن اس نے معاملہ فہمی سے فضا کو سنبھا لا دیئے رکھا۔ ایک بڑے ٹی وی کے ایک چھوٹے سے نمائندے نے تقریب کے تحریر شدہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو اس ساحر نے اپنی خداداد صلاحیت اور قدرتی زہانت سے پیچیدہ صورتحال پر یوں قابو پایا کہ سب عش عش کر اٹھے۔ اے پی سی کی تقریب کی کامیابی کا کریڈٹ اگر شعبہ نظامت سے کسی ایک شخص کو جاتا چا ہیئے تو اس کا نام محمد اکمل خان ہے، وہ گزشتہ چند سالوںسے اٹلی کے شہر کارپی میں آباد ہیں۔ اٹلی کے تقریبا ہر شہر میں اپنی کا میاب اور انوکھی نظامت کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ ہر بڑی اور سنجیدہ تقریب میں ان کی سٹیج سیکریٹری کے طور پر خدمات حاصل کرنے میں فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ آج تک کے ان کے ریکارڈ سے ثابت ہے کہ تقریب کسی بھی موضوع یا کسی بھی نوعیت کی ہواکمل خان اس کی نظامت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

درمیانے قد اور گھٹے ہوئے جسم سے نمودار ہوتی ہوئی طویل قامت شخصیت کے مالک اکمل خان اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، وہ ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں، انگریزی، اٹالین، اردو، اور پنجابی زبانوں پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ وضع داری جو اب تقریبا عنقا ہو گئی ہے ، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے، لہجے کی شائستگی اور زبان و بیان پر مہارت کی وجہ سے وضع داری ان کی شخصیت میں پورے جوبن پر نظر آتی ہے، خاندانی نصب کا اس خوبی میں بڑا اہم حصہ ہے۔ سچے اور کھرے انسان ہیں۔ اکمل خان کا اگر کوئی دوسرا نام ہوتا تو خودداری ہوتا۔ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے مر جانے کو تر جیح دینے والے انسان ہیں۔ خود بھوکے رہ سکتے ہیں کسی کو بھوکا نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستان میںبہترین اور خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے کہ پردیس کاٹنے کے لئے بلاوا آگیا۔ خود کہتے ہیں ، ملک چھوڑنا میری بہت بڑی غلطی تھی۔ پردیس نے کہیں کا نہ چھوڑا ، گھونسلے سے گرنے اور بے گھر ہونے والا ساری عمر یونہی در بدر بھٹکتارہتا ہے۔

Akmal Khan
Akmal Khan

اکمل خان میں جو شخصی خوبیاں ہیں ان کا تو آج کے دور میں کوئی مول نہیں ۔الٹا آدمی کے لئے یہ خوبیاں ، خامیوں میں تبدیل ہو کر مصیبت بن جاتی ہیں۔ یہی کچھ اس باکمال انسان کے ساتھ ہوا ہے۔ ہر دم ہنسنے مسکرانے والا یہ خوش اخلاق انسان اٹلی کی معاشی کساد بازاری کا شکار ہو چکا ہے ، اکمل خان کو اگر فوری طور پر باعزت روزگارنہ ملا تو وہ ہم سب کو چھوڑ کر ا ور کاغذ کے پرزوں کا بوجھ اپنے سر سے اتار کر ہمیشہ کے لئے واپس ملک روانہ ہو جائیگا۔ اکمل خان چلا گیا تو اٹلی کی ایسوشی ایشن ازم میں نظامت کا باب یتیم ہو جائے گا !ہم جیسے جاہلوں میں اس جیسا قابل نہ جانے پھر کب آئے ؟ آئیے اکمل کو مل کر روک لیں ، اس کے یوں مایوس اور دلبرداشتہ ہوکر جانے کا گناہ کمیونٹی کے سر نہ لیں ۔ اکمل کا جانا ایک فردکا جانا نہیں، اپنی نوعیت کے ایک منفرد ہنر کا چلے جانا ہے، نظامت یا سٹیج سیکریٹری کے شعبہ میں اٹلی کے اندر معیاری سطع کے لوگ ہیں ہی کتنے؟ کیا اے پی سی میں آنے والی درجنوںتنظیموں میں سے کسی کے پاس اس زہین اور قابل انسان کے لئے کوئی کام نہیں، کوئی پراجیکٹ نہیں؟اب تو ہم جلسوں کی کامیابی کے لئے اکمل خان کو عجلت میں آواز دے لیتے ہیں اور وہ بے چارہ ملک کی خاطر بھاگا بھاگا چلا آتا ہے لیکن جب وہ نہیں رہے گا تو کس سے امید لگائیں گے کس کی راہ دیکھیں گے ،کس کو آواز دیں گے؟ تنظیم سازوں میں سے کی کبھی کسی نے اس سے پوچھا کہ دال دلیا کیسے چلتا ہے، ؟ ہمیں اپنی ماں کی یاد آئے تو کیسے سینہ چر تا ہے محسوس ہوتا ہے نا؟ ، کبھی سوچا ہے ہو سکتا ہے کہ اس کی ماں بھی دامن پھیلائے امید بھری نظروں سے بیٹے کی جانب دیکھ رہی ہو۔ اب تو اکمل خان کو بڑے بڑے لیڈروں کے وعدوں کا بھی کوئی قلق نہیں رہا۔وہ شکوہ ہی نہیں کرتا۔ کسی سے بھی نہیں۔

شبیر ککرالی صاحب، بشیر امرہ صاحب، محمد الیاس چوہان صاحب، اور آصف رضا صاحب اے پی سی میں مسائل کی جنگ تو اکمل خان نے آپ کے ساتھ ہو کر لڑی تھی تو کیا آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ آپ کے اس اہم ساتھی کو کیا مسئلہ درپیش ہے؟ حافظ جمیل جرال صاحب آپ کو بتانا ہے کہ ، اکمل خان نے ایک دن مجھ سے رابطہ کیا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے ، میں نے کہا فرمایئے تو معلوم ہے انھوں نے کیا کہا، سنیئے ! انھوں نے کیا کہا کہ پتہ چلا ہے کہ حافظ جمیل صاحب کے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں، براہ مہربانی میری طرف سے افسوس کی ایک خبر لگا دیجیئے، یہ ہے وہ کام جو اس نے مجھ سے کروایا۔ زرا سوچئے ، یہ کوئی اتنا بڑا کام ہے۔ افسوس ! وہ حساس انسان ہمارے بارے میں کس قدر سوچتا ہے اور ہم اس کے ایک معمولی سے کام کے لئے کچھ بھی سوچنے کے لئے تیار نہیں۔ میری اس تحریر کے لکھنے کے ارادے کے متعلق تو اکمل خان کو پتہ بھی نہیں ، ہوسکتا ہے میرے ساتھ آج کے بعد بات ہی نہ کرے ، ہمیشہ کے لئے نا راض ہو جائے کہ میں نے اسکا راز یوں سر عام فاش کیوں کر دیا؟ میں اس کی ناراضگی تو مول لے لوں گا لیکن کمیونٹی کی اس بے حسی پر خاموش نہیں رہوں گا ، اس کا ساتھ کبھی نہ چھوڑوں گا کیونکہ وہ ہمارا قومی فخر ہے ، وہ یہاں رہا تو اپنے جیسے کئی اکمل خان پیدا کر جائے گا۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے۔

چوہدری شریف چیمہ صاحب آپ کو تو اندازہ ہے کہ مجبوری میں ملک چھوڑ کر جانے کا دکھ کیا ہوتا ہے اس لئے آپ نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں جبکہ اکمل خان فی الوقت اپنے حالات کے خلاف لڑ رہا ہے۔ وہ جا رہا ہے آیئے اسے مل کر روک لیں! یوں ممکن ہے و ہ کل آپکی جدوجہد کا حصہ بن کا آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ ، کیونکہ مجھے یقین ہے اکمل خان کو ئلے کی سیاہ چٹانوںکے نیچے گھپ اندھیروں میں پڑا ہوا ایک ایسا انمول ہیرا ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔

Waseem Raza
Waseem Raza

تحریر:رضا وسیم

َِ

Share this:
Tags:
coal Diamond ہیرا
Pakistan Cricket Team
Previous Post ورلڈ ٹی: 20 پاکستان پہلا وارم اپ میچ آج نیوزی لینڈ کیخلاف کھیلے گا
Next Post فلم “گینگ آف گھوسٹس” کے نئے ڈائیلاگ پروموز جاری
Gang Of Ghosts

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close